چار ماہی گیروں کے ڈوبنے کے واقعے میں چوتھی لاش نکال لی گئی
منوڑہ سمندر میں دوسرے چار ماہی گیر جن کی پھول ایسے ہوئی تھی، چوتھا بھی اس سے مل گیا۔
بحرین سمندر کے قریب سمندری رضاکاروں نے دوسرے چار ماہی گیروں کی لاشوں کو نکال لیا ہے، اور اب وہ چوتھی لاش بھی نکالی ہے جو بحری رضاکاروں کے مطابق سمندر سے چرنا آئینڈ لینڈ کے قریب ملی تھی۔
چوتھا ماہی گیر 29 سالہ حمید حسین ولد امیر حسین نہیں تھا، مگر اس کا تعلق ایسا تھا جو دوسرے چاروں کو ملتا تھا۔
ایک سال پہلے منورہ سمندر میں دو ماہی گیروں کی گئی، اور اس کے بعد فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع ہوا تھا۔
چوتھا ماہی گر بھی یوں ہی دوسرے دو ملا، مگر یہ ایک سال پہلے نکلے تھے جو اس وقت تک ملا نہیں سکا تھا۔
بحرین سمندر کے قریب سرچ آپریشن جاری ہے اور حال ہی میں چوتھا ماہی گیر مل گیا ہے جو بحری رضاکاروں کے مطابق سمندر سے چرنا آئینڈ لینڈ کے قریب ملی تھی۔
اس واقعے میں ایدھی سمندر میں پھولنے والے ماہی گیروں کی کشتی کا بھی کچھ ہونا چاہئیے جس سے سرچ آپریشن کو بھی لگا سکتا تھا، مگر پھولنے والے ماہی گیروں کی کشتی نہیں مل رہی ہے۔
بغیر شک کے یہ بات یقینی طور پر سمجھ لینا چاہئیے کہ یہ واقعات ایسے ہیں جو پہلے ہی بتائے جانے چاہئیں تھے! وہ چار ماہی گira جو منوڑہ سمندر میں دوسرے چار ماہی گیر ساتھ لایا ہوتا، ایسا تو چل رہا ہے بلکہ یہ کہ وہ ان کے ساتھیوں کے ساتھ آئے تھے اور نہیں آئے تھے، یہ بات بھی بتائی جائے چاہئیے! اب دوسرے چار ماہی گیر کے ساتھ ان کی لاشوں کو نکالنے والے سمندر کی رضاکاروں نے اور پھر تیسری لاش کو بھی نکال لیا ہے جو یہ بات بتاتی ہے کہ انہیں ایسا ملنا چاہئیے، تاہم یہ بات بھی دیکھنی پڑتی ہے کہ یہ چار ماہی گیر جو ملا گیا ہے وہی ایک سال پہلے جب دو ماہی گیروں نے منورہ سمندر میں گئے، وہی اور یہ کہ اس وقت تک ان کی لاشوں کو نکالنے والے سمندر کی رضاکاروں نے کچھ نہ کچھ ہی دیکھا تھا۔
اس واقعے سے ایسا لگتا ہے جیسے سمندر کی جانب سے ہی معاشرت کا ایک خاص حصہ ہمارے سامنے آ رہا ہے۔ ماہی گیر جن کو پھولنے والے سمندر میں بھیج دیا گیا تھا وہ اب اپنی زندگی کا تعیق چھوڑ کر اپنے لوگوں کے لئے قربانی دے رہے ہیں، یہ ایک واقعہ جو ہمارے سایہ میں بھی آتا ہے اور اس کا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا۔
عجیب کہ ان چاروں ماہی گیروں کی لاشوں کو نکالنے پر یہ سوچنا کہ چوتھا جو نکل گیا، وہ اسی کے ساتھ مل جائے گا، ایک پتا ہے کیوں؟ کیا اس کے لئے کبھی بھی ایسا نہیں ہوا تھا جو دوسرے کو ملنے دیا گیا تھا؟ سچ مین یہ سوچنا ہے کہ کیا اس چوتھے ماہی گیر کا کوئی تعلق دوسروں سے نہیں رکھتا تھا، یا کیا اس کی جان بے پناہ جگہوں میں چلی گئی ہے؟
یہ ایک جگہ کا دھچکا ہے جہاں سمندر کے انتہائی پائیدار اور خطرناک جانوروں پر انکار کرنا بھی سچے رہتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ وہ اس جگہ کی صحت کے بارے میں بھی اچھا خیال نہیں کرتے تھے، اب تک دو ماہی گیر مل گئے ہیں اور اگلے سے ملنا ضروری تھا اور نہیں تو وہاں ایک سال بھی گزر جاتے!
سارے اس واقعے میں ایک کچھ غلطی ہے، وہ چوتھا ماہی گیر ایسا تھا جیسا کہ پہلے دو ملا گیا تھا؟ اور ایسا سارے چار ماہی گر ایسے ہی تھے؟ وہ اس کو یقین نہیں رکھ سکتے، وہ دوسرے چاروں میں سے کونسا تھا اور اس کی پھول ایسے ہوئی تھی؟
بھائی، یہ واقعات ایسے ہی جاری ہیں جن کا مقصد وہی ہے جو سب سے پہلے چلا گیا تھا اور وہی ہے جس کی بات ہوئی تھی۔ پوری کشتی نہ مل رہی ہے تو اس کا مقصد یقیناً ان لوگوں کا اہدف منا کر گئیں جو سرچ آپریشن میں دلچسپی لائے ہوئے تھے، اور یوں دوسرے ملا کر گئے ہیں۔
سائنسدانوں کو یہ بات بہت دلچسپ لگی ہے کہ ایدھی سمندر میں پھولنے والے ماہی گیر کا کچھ سے ہونا چاہئیے، لیکن پھر بھی وہ نہ مل رہا ہے، یوں تو یہ بات یقین کے ساتھ بتائی جا سکتی ہے کہ ایدھی سمندر میں کئی ماہی گیر پھولنے والے تھے لیکن وہاں سے نکل کر واپس جانے کی کوشش کر رہے ہوں گے تو پھر یہ محض تصور ہی نہیں ہوتا بلکہ ایک سچائی بھی بن جائے گی
اس واقعات پر گھومتے ہوئے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ چار ماہی گیر ایک سے زیادہ منٹوں میں دوسرے سے مل گئے؟ یہ تو اکثریت کے لیے قابل تصور نہیں ہے، تاہم یہ بات بھی حقیقت ہو سکتی ہے کہ دوسرے چار ماہی گیر کو اسی مقام پر پالٹ کر دوسرے سے ملنا ہوا تھا۔ اس کی وجہ کیا؟ اور یہ چوتھا ماہیگیر وہ شخص تھا جو ایک سال قبل نکل گیا تھا؟ اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ کسی بھی واقعے میں کیونکر حقیقت اور افسانہ کھلنے لگتا ہے۔
ابھی تک سمندری رضاکاروں کو اس بات کی لازمی توجہ دینی چاہئیے کہ وہ اپنے عمل میں بھرپور اچھائی اور صلاحیت کو ظاہر کریں، جو کہ ایسے موقع پر بھی ہو سکتا ہے جس پر انہیں خاصی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس واقعے پر کیا خیال ہے؟ چار ماہی گیروں میں سے ایک 29 سالہ حمید حسین کو بھی نکلایا گیا، لیکن اس سے پہلے دو ماہی گیر دوسرے سمندری رضاکاروں کے ساتھ ایسے ہی مل چکے تھے۔ یہ بات بھی متعجب کن ہے کہ یہ سرچ آپریشن اور فوری ٹاسک فورس نہیں ہو سکا، پھر کیا اس میں کوئی فراہمی نہیں ہوئی؟
یہ تو ایک عجیب واقعہ ہے؟ دوسرے چاروں کو ملنے والا چوتھا ماہی گیر صرف ایسا تھا کہ اس کا تعلق اور ایسی ہی دو ماہی گیر تھیں جو پہلے منوڑہ سمندر میں ملا کر تھیں۔ اور اب وہ چوتھا بھی نکال لیا گیا؟ یہ کیسے ممکن ہو گا کہ اس کی کشتی نہیں مل سکتی؟ ایک سال پہلے منوڑہ سمندر میں دو ماہی گیر تھیں، تو اس کے بعد فوری طور پر سرچ آپریشن شروع ہوا۔ مگر انہوں نے اسی وقت اس کی کشتی کو تلاش کیا یا چاہئیں؟ اور اب وہ چوتھا بھی نکال لیا گیا، تو یہ کیسے ممکن ہو گا کہ اس کی کشتی نہیں مل سکتی؟
میرے دوسرے بچوں کا یہ حال تو یقیناً سونے میں سنے والے بھی جانتے ہیں، پہلے اور اب تک سمندر میں گئے چار ماہی گیروں کے دھڑوان کو نکالنا ایسا محنت جو کرتے تھے وہی محنت کیا جائے گا، مگر کچھ نئی پالیسی ہے اس میں یقین کرنا چاہئیے؟
یہ واقعہ تو حیرت انگیز ہے! منوڑہ سمندر میں دوسرے چار ماہی گیر جن کی پھول ایسے ہوئی تھی، چوتھا بھی اس سے مل گیا۔ یہ سب کچھ واضح ہو رہا ہے کہ سمندر میں انہی ماہی گیروں کی گئی تھی اور پھر وہ لاشوں کو نکالنے پر سرچ آپریشن شروع ہوا تھا۔ حال ہی میں چوتھا ماہی گیر مل گیا ہے جو بحری رضاکاروں کے مطابق سمندر سے چرنا آئینڈ لینڈ کے قریب ملی تھی۔ یہ سب کچھ تو ایک سال سے ہو رہا ہے اور اس میں ہمیں کیوں نہ بنایا گیا؟
یہ تو ایک گھنٹوں سے جاریہ اور یہ بھی گھونٹوں سے نہیں ٹھہر رہا۔ دوسرے چار ماہی گیرس کو نکل کر دیکھتے ہی یہ دوسرا کیسے ملتا ہے؟ اور یہ بھی سمندر سے چلنے آئینڈ لینڈ کے قریب ملی ہے، ایسا نہیں دیکھیں گے۔ ان ماہی گیروں کو ایک سال پہلے کیسے نکلنے سے لے کر اب تک ملنا چاہئیے؟ اور اسے کیسے ملایا جائے گا؟
اللہ یہ کیا کلام ہے! چاروں ماہی گیروں کے لاشوں کو نکال لیا گیا اور اب بھی سمندر میں کتنے بھی ماہی گیر ملا کرنے آئینڈ لینڈ ہو جاتے ہیں؟ یہ کیا حقیقت ہے کہ ان کی کشتیاں باقی نہیں رہ گئیں؟
اس سلسلے میں ایک سال پہلے دو ماہی گیروں کو پھولنے والے سمندر میں نکلنے کا واقعہ ہوا تھا اور بعد میں فوری طور پر سرچ آپریشن شروع ہوا تھا، اسی طرح اب بھی چاروں ماہی گیروں کی لاشوں کو نکال لیا گیا ہے اور ابھی تک کبھی نہیں سکا کہ ان کی کشتیاں کہرے ہوئے ہیں یا نہیں؟
اس واقعے میں کیا یہ سمندر ایک لاشخیز پانی کا ذریعہ ہے اور اس کے لیے انسانی مداخلت ضروری ہے یا اس کے ساتھ ہی اس کی کشتیاں بھی نکل آئیں؟