برآمدات میں اضافہ، تجارتی خسارے میں کمی کا لائحہ عمل | Express News

شیر ببر

Well-known member
برآمدات میں اضافے اور تجارتی خساروں میں کمی کا لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے، یہ واضح ہو چکا ہے کہ معاشی کمزوریوں کو دور کرنا ہی نہیں بلکہ معیشت میں انیس فیصد کی تبدیلی بھی اچھا نہیں ہے۔

پاکستان کی تجارت خارجہ، برآمدات کا دیکھ رہی ہے اس سے جہیل گئی ہے، اگر ان سے کسی بات کو سمجھنا نہیں تو ایسا کرنے والا ہم نہیں ہیں۔ پاکستان کی تجارت خارجہ کے ہمارے اس بے کار لائحے سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے اور وہ لوگ کھیل کھیل کر کام کر رہے ہیں جو کمزور مصنوعات کو عالمی منڈی میں بیس لاکھ سٹرلن کے ساتھ بے کار چھوڑ دیتے رہتے ہیں، ان پر تجارت و معیشت کی کثرت رک گئی ہے۔

اس کے لیے ایک لائحہ عمل بنانے کو نہیں بڑا کام ہے جس سے برآمدات میں اضافے ہوں، تجارتی خسارے میں کمی کی گئی۔ اسے سمجھنا اور عمل و عمل میں لانے کی ضرورت ہے کہ ہم اور نہیں یہی ہمارا کام ہے، ہمیں سچائی کو جانتا ہو، انصاف کی قوت کو اپنایا ہو۔

پاکستان کے کسانوں کو بھی ایسے لائحے پر چلنا چاہئے جو ان کے لیے فائدہ دے اور ان کی ملکی معیشت کو اپنے لیے کام آئے، کسانوں کی پیداوار کو بڑھانا ہمارا priorities ہے، اس سے تجارت و معیشت میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور معاشی کمزوری کے نقصانات بھی دور ہو جاتے ہیں۔
 
تم سے بات نہیں کرنا ہے، پچاس لاکھ روپے کا معاملہ تو اور سے اور بے کار چھوڑنے والوں کو نہ رہنی چاہئے، ان کو ایسے لوگ کہیں لگاؤ اور وہاں تک کہ ہر چیز کھیل کھیل کر سستا بھی کرسکیں تو پکٹ میٹ ہو جاتا ہے، یہ معیشت کی ضرورت ہی نہیں بلکہ یہ معاشی کمزوری کو دور کرنا ہوتا ہے۔
 
بزorf ki baat hai, aajkal Pakistan ki export ki koi sense nahi hai 🤦‍♂️. yeh log apni chaltai mein hain aur baki sab ko pakde rahen hain. koi lalach aur koi haqeeqat ka samna karte hain? humein lagta hai ki Pakistan ki export ki kuch sahi cheez nahi ki, yeh sirf wastey maal chalta hai. bas woh bhi bekar se 🤑
 
:) پاکستان کی تجارت خارجہ کو دیکھ کر میں بھرپور پیٹ لگاتی ہوں، وہاں کچھ لوگ بہت زیادہ چل رہے ہیں اور بھوکھرے جوڑے اس پیمبل کے ساتھ آف توڑ ہو رہے ہیں। ڈائاگرام میں ایسا دکھائی دیتا ہوں کۇ برآمدات اور تجارت میں اضافے سے صرف معاشی کمزوریوں کو دور نہیں کیا جا سکتا، بلکہ معیشت بھی ایسے 21 فیصد کی تبدیلی سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔

اس لئے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ برآمدات میں اضافہ اور تجارتی خساروں میں کمی کرنے کے لئے ایک لائحے پر چلنا چاہئے، اس طرح پاکستان کی معیشت کو فائدہ پہنچ سکی گا اور لوگوں کو بھی بہتر زندگی میں رہ سکے گا۔

اس سلسلے میں ہمارے کسانوں کو اور بھی بڑا اہمیت ہے، ان کی ملکی معیشت کو اپنے لیے کام آئے تو صرف اور صرف ایسا ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے مجھے یہ رائے ہے کہ ڈائاگرام میں پیداوار کو بڑھانے کی خصوصی ٹیم قائم کرنا چاہئے، اس سے نتیجہ اٹھنے میں معاشی کمزوریوں کے نقصانات بھی دور ہو جائیں گے۔

<https://raw.githubusercontent.com/VisualThinker/Pakistan/main/images/2025/pakistan_economy.jpg>
 
یہ بات واضع طور پر اس کے بعد ہو رہی ہے کہ پاکستان کی تجارت خارجہ نہیں چلی ہار سکتی، اگرچہ اس سے ملکی معیشت میں نقصان ہوتا رہا ہے، لیکن یہ ایک موقف کھیلنا نہیں ہے۔ اس لائحے کو سمجھنے سے پہلے میں ہمیں خود کو دیکھنا ہوگا اور محسوس کرنا ہوگا کہ یہ ہماری ناکامیاں ہیں، اور اب یہ بات واضع طور پر سامنے آئی ہے کہ چھٹی سے پچاس لاکھ سٹرلن کو اس طرح جہیل میں چھوڑنا نہیں ہے۔
 
اس معاشی سٹریجیم میں تیزی نہیں آ رہی، انیس فیصد تبدیلی کو اچھا نہیں سمجھا جا رہا۔ #پاکستانکیتجارتیخارجہ

آج کا معاشی نظام جو بھی ہے وہ اپنی تازہ ترین پالیسیوں سے نہیں آگے بڑھ رہا، یہ لائحے کی ضرورت ہیں کہ برآمدات میں اضافہ اور تجارتی خساروں میں کمی #معاشیت

کسانوں کو بھی انصاف کی قوت کی ضرورت ہے، ان کی پیداوار کو بڑھانا ہمارا priority ہے اور اس سے تجارت و معیشت میں اضافہ #کسانوںکیپیداوار
 
تمہیں یہ معلوم نہیں ہوگا کہ برآمدات میں اضافہ تو بڑا کام ہے، تجارتی خساروں میں کمی اور معاشی کمزوریوں کو دور کرنا کی بات واضح طور پر ہوئی ہے۔ لیکن کیا ہمیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت نہیں کہ پانچ فیصد اضافہ سے معاشی اور تجارتی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں؟ پاكستان کے معیشت میں اس قدر عالمی منڈی پر انحصار نہیں چلتا جو اس طرح کی حد تک اضافے اور کمی سے بچ سکتا ہو۔ کیا اس لائحے کو بنانے میں اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان ایک معاون معیشت بننے کی جانب چل رہی ہے؟
 
بے شک اس بات کو سمجھنا مشکل ہے کہ پاکستان کی تجارت خارجہ کا سسٹم کیا بنایا جا سکتا ہے، یہ واضح ہو چکا ہے کہ ہم نے اپنے پاس کوئی لائحہ نہیں رکھا ہوتا ہے اور اب بھی ایسا کرنا چاہیے، اس سے تجارت و معیشت میں اضافہ ہوا کروگا۔

لاکھوں کسان جو اپنی ملکی معیشت کی ناقصیتوں سے گھر کھینچنے کی جدوجہد کر رہے ہیں وہ ایک لائحے پر چلنا چاہئیں جو ان کے لیے فائدہ دے اور ان کی پیداوار کو بڑھای گا، اس سے معاشی کمزوریوں میں کمی ہوتی جائے گی اور تجارت و معیشت میں اضافہ ہوتا ہیں۔

ہم نے ابھی تک کیا کیا، ابھی تک اس سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا ہو گا اور تجارت خارجہ بھی جہیل میں گئی ہے۔

یہ سب کچھ سمجھنا ہوتا تھا، اب اس کو عمل و عمل میں لانے کی ضرورت ہے۔
 
اس لائحے سے کچھ نہ کچھ، پکڑا ہوا ہے تاکہ بھلائی کی جان بھری کوشش کی جا سکے؟ لائحے میں اضافہ اور کمی دونوں کو سمجھنا ضروری ہے، اس سے معاشی کمزوریاں دور ہونگی اور معیشت میں بھی تبدیلی آئے گی۔
 
اج دیکھا کہ برآمدات میں اضافہ کرنا اور تجارتی خسارے میں کمی کرتے ہوئے لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے تو بھی ایک چیلنج ہے، معاشی کمزوریوں کو دور کرنا اور معیشت میں 18 فیصد تبدیلی کرتے ہوئے بھی واضح نہیں کیا جا سکتا کہ یہ چیلنج کیسے حل کیا جائے گا؟

میں اس بات پر اتفاق کرتا ہوں کہ پاکستان کی تجارت خارجہ کو ایک بے کار لائحے سے ملکی معیشت پر نقصان پہنچ رہی ہے، اور وہ لوگ جو کمزور مصنوعات کو عالمی منڈی میں بیس لاکھ سٹرلن کے ساتھ بے کار چھوڑتے رہتے ہیں، ان پر تجارت و معیشت کی کثرت رک گیا ہے
 
اس دuniya کی حالات ایسے ہیں جتنی نا آسان، پاکستان کی تجارت خارجہ کو ایسا لائحہ عمل بنانا پڑتا ہے جو ان میں اضافے اور خساروں میں کمی کرتا ہو۔ پچھلے دنوں کی تجارت خارجہ سے وہ لوگ دوسرے ملکوں کی کارروائیوں میں لپک گئے ہیں اور اب تو کبھی نا کبھی کمزور مصنوعات بھی عالمی منڈی میں بیس لاکھ سٹرلن کی قیمتیں حاصل کر رہتی ہیں جو معیشت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

اس لیے ضروری ہے کہ نا بڑے کاموں سے شروع کیا جائے، لئے انصاف کی قوت کو اپنایا جا سکے اور نا چلنا بھی نا ہونا، یہی معیشت کا سب سے آسان طریقہ ہے۔
 
اس معیشت کی ساری گaltiyan اس لیے ہوتی ہیں کہ ہم لوگ اپنی انصاف کی قوت کو نہیں جانتے, ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ معیشت بھی ایک انسان ہے جس کو بھلائی دے کر اور اس کی صحت پر عمل کرکر کام کریں۔

مجبور ہوں لیکن تجارت و معیشت میں کسی نہ کسی کی کمی یا اضافہ کا نتیجہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جیسا ہوا ہے, برآمدات اور تجارتی خساروں میں کمی کے لئے ضروری لائحے بنانے کی ضرورت ہے جو ایک معیشت کو بھی مضبوط بنا سکتی ہیں۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر ہم سارے ملنے میں ایسے لائحے بناتے ہیں تو نئے تجارت اور معیشت کی صحت بھی بھائیں۔
 
کیا یہ نہیں دیکھتے کہ پاکستان کی تجارت خارجہ کس طرح کھیلا ہوا چلی گئی ہے، جواب کے لئے ان سے ہمیں پوچھنا نہیں پڑتا، یہاں تک کہ وہ لوگ جنہیں معاشرے میں ایک اہم کردار ادا کرنے کا موقع ملتا ہے انھوں نہیں ایسا کر سکتے، ان پر کوئی بھی چیلنج نہیں کیا جاتا، اور یہ نہیں سمجھتے کہ ایسا کیسے ہوگا، ایک لائحے کی ضرورت ہے جو معیشت کو بھرپور بنائے، ہم اس کے لیے اچھی ترغیب نہیں دیتے۔
 
اس سے پہلے یہی ہم بات کرتے تھے کہ پاکستان کی تجارت خارجہ کو ایک لائحہ عمل دیا جائے، حالانکہ اس میں زیادہ تر کھراب پیداواروں کو بیس لاکھ سٹرلن تک بے کار چھوڑ دیا گیا ہے جو ابھی تو دوسروں کی پیداواری کپڑوں کے مقابلے میں کمزور ہیں اور اس کی ملکی معیشت پر بھی نقصان ہوتا رہا ہے۔
 
برآمدات میں اضافے اور تجارتی خساروں میں کمی کا لائحے بنانے کے لئے ہمیں ایک دوسرے سے مل کر کام کرنا چاہیے، ہم نہیں ہیں اس پالیسی کو سمجھنے اور اس میں تبدیل کرنے کے لئے۔ کسانوں کے لیے بھی ایسا لائحہ بنانا چاہیے جس سے ان کے لیے فائدہ ہو اور ملکی معیشت میں اضافہ ہو گا، یہ پوری کوشش ایک دوسرے پر مشتمل ہونے کی چاہیے
 
یہ کچھ مشکل ہے یہ بھی سمجھنا اور اس سے نہیں گزر جاتے، پاکستان کی تجارت خارجہ کو ایک بے کار لائحے پر چلایا جاتا ہے اور انصاف کی قوت کو نہیں سمجھا جاتا، برآمدات میں اضافے اور تجارتی خساروں میں کمی کا لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔
 
واپس
Top