سیر کرنے والے دوستوں کو برف ٹوٹنے سے ڈوبنا پڑا، ایک آئی سی جھیل میں
جمی جھیل نے اپنی لچک کو یقینی بناتے ہوئے ہزاروں میٹر کی اوسط بلندی پر سٹینڈ کرنا شروع کی، اس کے باوجود پھلوں پر زور دیتے ہوئے بھی اس سے ناکام رہتے ہیں اور اس کے بعد سیر کرنے والوں کو برف ٹوٹنے سے ڈوبنا پڑتا ہے جس کی وجہ سیلاب نہیں بلکہ ایک آئی سی میں موجود گھنٹے کا تیزہوں ٹوٹ جانا ہوتا ہے۔
وہ رہائش پرامن نہیں ہوتا جس لیے اس کی سیر کرنا بھی خطرناک بن جاتا ہے اور اگر گھنٹے کا ٹوٹنے سے پہلے سیر کرنے والے اپنی جان کو بچانے کی کوشش نہیں کرتے تو وہ ڈوب جاتے ہیں اور اس طرح برف ٹوٹ کر انہیں ڈوبنا پڑتا ہے۔
ایک آئی سی جھیل میں سیر کرنے والا دوست کا واقعہ پوری دنیا بھر میں سرچھا رہا ہے، اسی طرح ایک اور جھیل میں گھنٹے کی تیزہوں ٹوٹ کر برف ٹوٹ کر سیر کرنے والی دو فیملیز بھی ڈوب گئیں اور پھر پولیس اور فوج نے ریسکیو آپریشن کیا۔
موجودہ دور میں جھیلوں کا تعلق ایک یونیورسٹی کی اساتذہ کو ہوتا ہے، ان سے جھیلوں میں وہ ہزاروں فٹ پر چڑھ کر ٹریکلز کے ذریعے سیر کرتے تھے اور گھنٹا کی تیزہون پر جب پھنستے تو ٹوٹ جاتے، اس کے نتیجے میں ان کو ڈوبنا پڑتا ہے اور وہ ڈूब کر مر جاتے ہیں، اس لیے جھیلوں کی دیکھ بھال کے لیے نئی پالیسی لگائی گئی ہے۔
اس سلسلے میں بھارتی فوج نے آپریشن ریمنڈری کیا ہے، اس کے تحت انھوں نے جھیلوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے جس سے یہ پتہ چلے گا کہ کون سی جھیلیں خطرناک ہیں اور وہ اس طرح کی سیر کرنے والوں کو ایک مشورے پر رکھتے ہوئے آگاہ کیا جائے گا۔
جمی جھیل نے اپنی لچک کو یقینی بناتے ہوئے ہزاروں میٹر کی اوسط بلندی پر سٹینڈ کرنا شروع کی، اس کے باوجود پھلوں پر زور دیتے ہوئے بھی اس سے ناکام رہتے ہیں اور اس کے بعد سیر کرنے والوں کو برف ٹوٹنے سے ڈوبنا پڑتا ہے جس کی وجہ سیلاب نہیں بلکہ ایک آئی سی میں موجود گھنٹے کا تیزہوں ٹوٹ جانا ہوتا ہے۔
وہ رہائش پرامن نہیں ہوتا جس لیے اس کی سیر کرنا بھی خطرناک بن جاتا ہے اور اگر گھنٹے کا ٹوٹنے سے پہلے سیر کرنے والے اپنی جان کو بچانے کی کوشش نہیں کرتے تو وہ ڈوب جاتے ہیں اور اس طرح برف ٹوٹ کر انہیں ڈوبنا پڑتا ہے۔
ایک آئی سی جھیل میں سیر کرنے والا دوست کا واقعہ پوری دنیا بھر میں سرچھا رہا ہے، اسی طرح ایک اور جھیل میں گھنٹے کی تیزہوں ٹوٹ کر برف ٹوٹ کر سیر کرنے والی دو فیملیز بھی ڈوب گئیں اور پھر پولیس اور فوج نے ریسکیو آپریشن کیا۔
موجودہ دور میں جھیلوں کا تعلق ایک یونیورسٹی کی اساتذہ کو ہوتا ہے، ان سے جھیلوں میں وہ ہزاروں فٹ پر چڑھ کر ٹریکلز کے ذریعے سیر کرتے تھے اور گھنٹا کی تیزہون پر جب پھنستے تو ٹوٹ جاتے، اس کے نتیجے میں ان کو ڈوبنا پڑتا ہے اور وہ ڈूब کر مر جاتے ہیں، اس لیے جھیلوں کی دیکھ بھال کے لیے نئی پالیسی لگائی گئی ہے۔
اس سلسلے میں بھارتی فوج نے آپریشن ریمنڈری کیا ہے، اس کے تحت انھوں نے جھیلوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے جس سے یہ پتہ چلے گا کہ کون سی جھیلیں خطرناک ہیں اور وہ اس طرح کی سیر کرنے والوں کو ایک مشورے پر رکھتے ہوئے آگاہ کیا جائے گا۔