پشاور میں برفانی قیامت نے اس وقت تک زندگی کو تباہ کر رکھا جب تک سیکیورٹی فورسز نے اپنی بروقت اور مؤثر امدادی کارروائیوں کے ذریعے صورتحال کو قابو میں لے لیا۔
مسلسل برف بارش نے زمینی رابطے کو منقطع کر دیا، جس پر سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر ہنگامی ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا۔ شہر کی بنیادوں میں سماجی دھچکنے کی وجہ سے یہ آپریشن انتہائی اہم تھا۔
سیکیورٹی فورسز نے اپنے فوری اور محفوظ مہم جوں کے ذریعے شہر کے لوگوں کو سہارا دیا۔ انہوں نے ہنگامی حالات میں اپنی خواہشوں کے مطابق سہیں آپریشن جاری رکھے، جو کہ مسلہ حل کی سب سے اچھی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
تربیت یافتہ شہری مہموں نے سڑکوں کو بحال کرتے ہوئے تمام اہم زمراؤں کی مدد کی، جو کہ لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
امدادی کارروائیوں کے دوران لوگ نے اپنی گاڑیاں اور اشیاء کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا، جس سے وہ پھنسنے سے بچ گئے۔
خوبصورت کارروائیوں کی وجہ سے عوام کو دوسرے بار مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑنے والی صورتحال سے بھگتایا گیا۔
جس کے نتیجے میں لوگ اس مہم کی کوششوں کو بھرپور سراہ رہے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کو اپنے آپ کو ہمتدار بنانے میں کامیاب رہا ہے۔
برفانی قیامت کی وجہ سے زندگی بھی تباہ ہو گئی اور لوگ سہرانے کو دیکھ رہے ہیں۔ اس وقت تک کہ سیکیورٹی فورسز نے اپنی کارروائیوں سے صورتحال کو قابو میں لیا، یہ پورا شہر بھی دبا دیا گیا تھا۔
ہنگامی ریسکیو آپریشن کے دوران لوگ جو سماجی دھچکنے کی وجہ سے اپنے گھروں کو پہنچانے میں قیمتی وقت گزار رہے تھے، انہوں نے فوری طور پر سہارا حاصل کیا۔
تربیت یافتہ شہری مہموں نے ہنگامی حالات میں لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے میں مدد کی، اس کے بعد لوگ اپنی گاڑیاں اور اشیاء کو ایسے مقامات پر منتقل کر رہے تھے جahan سے وہ فاسل نہ ہو جائیں۔
اس مہم کی وجہ سے لوگ پہلی بار محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے اور ان کا لوٹنا بھی ممکن تھا، یہ سب اس وقت تک ہوا جب سیکیورٹی فورسز نے اپنی فوری کارروائیوں کی وجہ سے شہر کو پورا پکڑ لیا۔
یہ مہم لوگوں کے لیے ایک سہارا رہی اور یہ سب اس لئے ہوا کیونکہ سیکیورٹی فورسز نے اپنی کارروائیوں کے ذریعے ان کا سہارا حاصل کرنے میں بھرپور کوشش کی، اس لیے لوگ اس مہم کو بھرپور سراہ رہے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کو اپنی قوت کا احترام کر رہے ہیں۔
لگتا ہے کہ اس برفانی قیامت نے سیکیورٹی فورسز کو ان کی طاقت پر زور دینے کی ایک بڑی موکت دی ہوگی। ابھی جب ہنگامی حالات ہوئے تو اس سے پہلے کی کارروائیوں کا ان کے پہلی بار دیکھنا تازگی کا محسوس ہوا ۔
ایس لگتا ہے یہ سرگرمیوں کا پھیلاؤ اس وقت ایک کٹرنے کا ذریعہ بن گیا ہے جس کی وجہ سے عوام نے اپنی زندگی کو بہت زیادہ خرچ کر دیا ہے۔
لوگ ان ہنگامی حالات میں کتنے زیادہ پرہیزم دیکھتے ہیں، جو کہ واقعیت کے خلاف ہے اور سیکیورٹی فورسز کی کوئی ضرورت نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ لوگوں کی رہنمائی کر رہے تھے۔
اس مہم میں بھی ایسا لگتا ہے کہ عوام نے اپنی معیشت کو زیادہ خرچ کیا ہے، جس کی وجہ سے وہ لوگ جو ہنگامی حالات میں فرار ہو کر گھروں میں آئے ہیں ان کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کے لیے زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
برفانی قیامت کی وجہ سے سinkiڈ گئی سڑکیں اب بھی پتلی ہیں…
اس مہم کا منصوبہ بنانے میں ان کی مدد نہیں کر سکا تھا… اور اب وہ سب سے پہلے سیکیورٹی فورسز کو دوسرے کے بعد اپنی مدد فراہم کر رہے ہیں।
اس مہم نے لوگوں کو شہر میں رہتے لے سہارہ دیا، لیکن اب وہ لوگ اس کا اعزاز بھی دیکھ رہے ہیں… جیسے لوگ یہ کہتے ہیں "یہ سیکیورٹی فورسز نے ہم کو سہارا دیا"…
یہ سب تو ان کی اچھائی ہے، لیکن یہ لوگوں کے دل میں بھی لگ رہی ہے۔
برفانی قیامت کا شکار ہونے پر سیکیورٹی فورسز نے اپنے کاموں کو بھرپور طریقے سے چلاایا ہے، یہ ان کی قوت اور تعاون کا ثبوت ہے . شہر کی بنیادوں میں سماجی دھچکنے کے بعد اس آپریشن نے شہروں کو زندگی سے ملازمت دی، یہ سیکیورٹی فورسز کا ایک بہترین تجربہ ہے۔
بصرت یہاں تو ایک واقعتائی صورتحال ہوئی، لیکن اس نے ان لوگوں کو بھی ٹیکسٹ میں چلایا جو محفوظ مقام پر گئے تھے ،اس کے لئے سب سے اچھا ہوتا کہ وہ جگہ سے ہٹ کر ٹھہر کر دیں ،ایسا تو کرو جو لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچائیں تاکہ ان کی زندگی بھی ساف اچھی رہے
برفانی قیامت نے پشاور کو بے حد تباہ کر دیا ہے اور لوگ پوری طرح محنت کر رہے ہیں اپنی زندگیوں کو بحال کرنے کے لئے۔ میرے خیال میں یہ کامیاب امدادی کارروائیاں ایسی تھیں جو لوگوں کو ہنگامی حالات سے بچانے میں ناجواب رہیں گی۔ کیا کسی گاڑی کی چابی لuta کرنا یا ہلچل پڑنے کے لئے لوگ محنت کریں؟ یہ سب سے آسان جواب اسکول جانے اور رونگی ماحول میں جینے والوں کی زندگی کو بھی تباہ کر دیا ہے۔
اس مہم کا کیا فائدہ ہوا اس نئے سسٹم کی تلاشی کرتے دیر رہ گئے؟ یہ لوگ ایک بار میں برف نہیں پھیلتے تھے، اب وہ ہنگامی حالات میں بھی چل پڑتے ہیں...
سڑکوں پر اور شہر کے منظر کو دیکھ کر یہاں کی زندگی لگ رہی ہی میرے لیے ایک نئی صورت ہے... محفوظ مقامات پر ہی لوگ نہیں پہنچتے، سڑکوں پر ان کا کوئی بھی کام نہیں ہوتا... یہ سب ایک جھوٹا ماحول بن رہا ہے...
برفانی قیامت نے پشاور کی زندگی تباہ کر دی، لیکن سیکیورٹی فورسز نے جلدی سے کام کر کے صورتحال کو قابو میں لے لیا . اگرچہ یہ آپریشن انتہائی اہم تھا، لیکن لوگوں کو یہ بھی پٹا ہوتا کہ ان کی زندگی کس خطرے میں تھی؟ . اس مہم نے شہر کی بنیادوں میں سماجی دھچکنے کو کبھی بھولنا نہیں دیا، حالانکہ ان لوگوں نے جو ہنگامی ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا، وہ جانتے تھے کہ اس میں سہارا اور مدد مل گییگی .
پشاور کی یہ مہم تو بلاشبہ ہنگامے کے وقت سے بھی زیادہ نہیں تھی۔ وہ لوگ جو اپنے گاڑیاں ہاتھوں سے کاٹ دیئے جبکہ دیگر لوگ اپنی گاڑیاں ایسی پہچان لگائیں جیسے وہ چھپے ہوئے ہیں، یہ سب بھی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کی گئی کارروائی کا حصہ تھا۔
میری رائے میں یہ مہم بہت ہی کامیاب رہی ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس میں بھی کئی دیر کی اچانک اور چیلنجنگ سٹریٹجیز کو شامل کرنا پڑا تھا۔
بھرپور مہم کی وجہ سے پشاور میں لوگوں نے صاف رہنے کے لیے کافی Relief مل چکا ہے. وہ ٹرولنگ اور بھیگڑوں سے بچ گئے ہیں، جو کہ ان سے دوسری بار موت کا سامنا کرنے والے لوگوں کی زندگی کو تباہ کر سکتی ہے. سڑکوں پر بھی ٹرولنگ نہیں رہی، جس سے انہوں نے اپنی گاڑیاں اور اشیاء کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا. یہ سارے کارروائیوڰچ بھرپور توجہ اور مہارت کے ساتھ ہوئی ہیں، اس لئے لوگوں کو بہت Relief مل گیا ہے.
برفانی قیامت کی وجہ سے شہر میں نصف عرصہ تک لگنے والی دھکے کی صورت حال کو منظم کرنا ایسا تھا جیسا کہ ہم بھی نہیں سوچتے تھے। سیکیورٹی فورسز کی ہنگامی ریسکیو آپریشن میں اس وقت تک قوت اور سرگرمی ہوئی جب تک ایک سے دو گھنٹے نہیں لگتے اور یہاں تک کہ عوام کو بھی اس کی ضرورت پڑنی شام کی پہلی رات میں ہوئی تھی۔
ہنگامی حالات میں اس نے میرے لئے ایک سہارا اور دلچسپی کا باعث بنا، جو کہ سیکوٹی فورسز کی کارروائیوں کو دیکھ کر انھیں بھی اس کے متعلق بڑی ترغیب ملی۔ اس صورتحال میں لوگوں نے اپنی زندگی کو ایسی طرح بنائا جیسا کہ یہ ایک سہارا ہوگا، جس پر ہم اچھا لگاتار کام کر رہے تھے۔
بے چینہ یہ شہر ان برفانی لہراتوں سے بچنے کے لیے ایسا ہی رہتا ہے جیسا کہ کہیں دوسری بار وہ پہلے کی طرح نہیں ہو سکتا. یہ صرف اور صرفSecurity Forcessa hi nahi raha, lekin unki safalta ka ek sahi urdu word hai – Samajhdari. Sabse pehle samajhdar police ko ek saath milna chaahiye, phir hamein apni zindagi ki surakshit karne ka khayal karna chahiye
کیوں یہ بات نہیں کہ برفانی قیامت سے پہلے بھی یہی صورتحال پیش آئی ہوگی؟ شہر کی بنیادوں میں سماجی دھچکنے کی وہی وجہ تھی جو اب بھی ہے، صرف کہ اس کا معاملہ تازہ ترین صورتحال سے تیز ہونے پر پتا لگا۔ سیکیورٹی فورسز نے ہنگامی آپریشن شروع کرنے سے پہلے ان کے لیے کیا اساتذہ کی تعلیم نہیں تھی؟
پشاور میں برفانی قیامت کی صورتحال جیسا لگتا ہے کہ یہ دیکھنا بھی نئی ہے۔ پہلی بار سنی ہوئی اس صورتحال نے لوگوں کو شدید دھچکا دیا اور وہ سب سمجھتے تھے کہ اس میں سہارا دینا مشکل ہو گا، لیکن سیکیورٹی فورسز نے اپنی کارروائیوں کے ذریعے ان کی hopes کو فون سے لگایا ہے اور اب وہ سب اس میں بھاگتے ہوئے ہیں۔
یہ تو بہت بھرپور کارروائیوں کا واقعہ ہوا ہے! سیکیورٹی فورسز کو اتنا انتہائی اہم آپریشن جاری رکھنا چاہئے تاکہ لوگوں کو کچھ معذور نہ بھگتایا جا سکے . میں انہیں ایسے ہی کہتا ہوں گا جیسے اچھے ہی ہیں - وہ پوری صورتحال کو قابو میں لانے میں کامیاب رہے ہیں، اور لوگ بھی ان کی مدد سے محفوظ مقامات تک پہنچ گئے ہیں .
میں یہ بھی کہتا ہوں گا کہ یہ آپریشن جاری رکھنا انتہائی اہم ہے، اس لیے لوگوں کو دوسرے بار مشکل حالات کا سامنا نہ کرنے کی صورتحال کے سامنے پہنچانے سے بھگتایا جا سکے ہیں. اس کی لازمی ضرورت ہوگی ہے!