برس رہی ہے خُدا کی رحمت درِ عطا و کرم کُھلا ہے ! | ایک نئے برس کے ساتھ اﷲ کی شانِ رحمت کو اپنے وجود میں لایا جائے، جبکہ دنیا کے گناہوں کے ساتھ ہمیں ایمان و انصاف کے راستے پر چلنا ہو۔
قرآن مجید میں اﷲ کی شانِ رحمت کو بہت زبردست رشک دیا گیا ہے، جس سے انسان کو اﷲ کی رحمت کا راستہ معلوم ہوگا۔ اﷲ کی شانِ رحمت کے بارے میں مختلف مقامات پر تلاوت کی گئی ہے، جس میں اس کی کثرت، عموم، تسلسل اور دوام کی صراحت ہے۔
اﷲ کی شانِ رحمت کے بارے میں سیکڑوں مقامات پر تلاوت کی گئی ہے، جس سے انسان کو اﷲ کی رحمت کی کثرت اور عموم کی صراحت مل سکتی ہے۔
قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اﷲ نے اپنی شانِ رحمت کا ذکر کیا ہے، جس میں اس کی رحمت کی کثرت، عموم، تسلسل اور دوام کی صراحت ہے۔
قرآن میں بھی ایک سورت ’’سورۃ الرحمٰن‘‘ کے نام سے موسوم ہے، جس کا آغاز بھی صفتِ ’’رحمٰن‘‘ کے ذکر سے ہوا ہے، اور پوری سورت میں ابتدا سے انتہا تک اسی صفت کے ثمرات اور نمونوں کا بیان ہے۔
قرآن مجید میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے، جس سے انسان کو اﷲ کی شانِ رحمت کے بارے میں پہلے سے تین راز ملاتے ہیں۔
ا ﷲ تعالیٰ نے اپنی شانِ رحمت کا ذکر اپنے احکام سے بغاوت کرنے والوں اور گناہوں میں مبتلا افراد کو توبہ و استغفار اور اپنی طرف رجوع کا حکم دیتے ہوئے ان کو ناامیدی سے نکالا ہے اور اپنی رحمت کی امیدوں کی ڈور انھیں تھما دی ہے۔
اﷲ کی شانِ رحمت ایک بہت رشک دیتی ہے، جس سے انسان کو اﷲ کی رحمت کی کثرت اور عموم کی صراحت مل سکتی ہے، اور ایمان و انصاف کے راستے پر چلنا ہو۔
ا ﷲ کی شانِ رحمت بے حد و بے پناہ ہے، وہ نیکیوں کے ارادے ہی پر اجر عطا کردیتا ہے، اور ایک نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا بخشتا ہے، اور اخلاص کے تناسب سے یہ ثواب بڑھاتا جاتا ہے، حتیٰ کہ سات سو گنا تک پہنچا دیتا ہے۔
قرآن مجید میں اﷲ کی شانِ رحمت کو بہت زبردست رشک دیا گیا ہے، جس سے انسان کو اﷲ کی رحمت کا راستہ معلوم ہوگا۔ اﷲ کی شانِ رحمت کے بارے میں مختلف مقامات پر تلاوت کی گئی ہے، جس میں اس کی کثرت، عموم، تسلسل اور دوام کی صراحت ہے۔
اﷲ کی شانِ رحمت کے بارے میں سیکڑوں مقامات پر تلاوت کی گئی ہے، جس سے انسان کو اﷲ کی رحمت کی کثرت اور عموم کی صراحت مل سکتی ہے۔
قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اﷲ نے اپنی شانِ رحمت کا ذکر کیا ہے، جس میں اس کی رحمت کی کثرت، عموم، تسلسل اور دوام کی صراحت ہے۔
قرآن میں بھی ایک سورت ’’سورۃ الرحمٰن‘‘ کے نام سے موسوم ہے، جس کا آغاز بھی صفتِ ’’رحمٰن‘‘ کے ذکر سے ہوا ہے، اور پوری سورت میں ابتدا سے انتہا تک اسی صفت کے ثمرات اور نمونوں کا بیان ہے۔
قرآن مجید میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے، جس سے انسان کو اﷲ کی شانِ رحمت کے بارے میں پہلے سے تین راز ملاتے ہیں۔
ا ﷲ تعالیٰ نے اپنی شانِ رحمت کا ذکر اپنے احکام سے بغاوت کرنے والوں اور گناہوں میں مبتلا افراد کو توبہ و استغفار اور اپنی طرف رجوع کا حکم دیتے ہوئے ان کو ناامیدی سے نکالا ہے اور اپنی رحمت کی امیدوں کی ڈور انھیں تھما دی ہے۔
اﷲ کی شانِ رحمت ایک بہت رشک دیتی ہے، جس سے انسان کو اﷲ کی رحمت کی کثرت اور عموم کی صراحت مل سکتی ہے، اور ایمان و انصاف کے راستے پر چلنا ہو۔
ا ﷲ کی شانِ رحمت بے حد و بے پناہ ہے، وہ نیکیوں کے ارادے ہی پر اجر عطا کردیتا ہے، اور ایک نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا بخشتا ہے، اور اخلاص کے تناسب سے یہ ثواب بڑھاتا جاتا ہے، حتیٰ کہ سات سو گنا تک پہنچا دیتا ہے۔