برطانیہ میں انتہائی غربت کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے زندگی کا ایک نئا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ یہ بات صحت مند ہی نہیں ہے کہ غربت کی شدیدness میں مبتلا افراد کے لیے زندگی کو پکڑنا ایسا ہی مشکل ہو جاتا ہے جیسا کہ اس سے قبل تھا۔
برطانیہ کی ایک تجزیے کے مطابق اس ملک میں زندگی گزارنے والے انتہائی غربت میں مبتلا لوگ 68 لاکھ پر پہنچ چکے ہیں جس سے ان کی آبادی نصف بن گئی ہے۔
اس غربت کی شدت ایسی ہے کہ ان لوگوں کے لیے پورے سال اخراجات پورا کرنے کے لیے یقینی نہیں ہے۔ خوراک، توانائی اور لباس جیسے بنیادی اخراجات سے ان لوگوں کو باقی کچھ بھی نہ ملتا ہے۔
جوزف راؤنٹری فاؤنڈیشن کے مطابق، west poverty میں مبتلا لوگ ایک نئے خطرے کا سامنا کر رہے ہیں جس سے ان کی زندگی بھی تباہ ہو رہی ہے۔
مجموعی طور پر غربت کی شرح حالیہ برسوں میں تقریباً 21 فیصد پر برقرار ہے، تاہم غربت میں رہنے والے لوگ اپنی زندگی کو مزید مشکل بنا رہے ہیں جس کے باعث ان کے لیے مہنگائی کا بحران نہیں ہی نکل سکتا۔
اس نئے بحران کی وجہ یہ بھی ہوگئی ہے کہ اس ملک میں گھریلو بلوں میں پیچھے رہنا اور بقا کے لیے قرض لینا پڑ رہا ہے جس سے ان لوگوں کو کھانے کے بغیر گزارنا بھی پڑ رہا ہے۔
برطانیہ میں غربت کی تعداد میں اضافہ کرنے والی بات واضح طور پرAlarming hai یہ کہ west poverty میں مبتلا لوگ life ko pighal raha hain, jo koi bhi mushkil se zyada hai. 68 لاکھ ko galat hona ek weird bhi nahi hai, bas yeh bat saaf aur sahi hai ki unka life bahut hi mushkil ho raha hai.
Mujhe lagta hai ki yeh koi bhi muddah nahin hai kese kya un logon ke liye life pighalna mushkil ho raha hai, bas yeh zarurat hai ki hum unki madad karein aur unki shadi karein
برطانیہ میں غربت کی تعداد میں اضافہ ایسا ہوا ہے جیسا کہ آپ نے بیان کیا ہے۔ ابھی یہاں تک کہ ہر رہائشی غربت سے دو چار کوشش کر رہے ہیں تو اس میں بھی کوئی فرق نہیں پاتا۔ اگر حکومت یا اداروں نے ایسا سروس یا منصوبہ پیش کیا ہوتا جس سے غربت کیSeverity کم ہونے پر ان لوگوں کو بھی مدد مل سکتی تو یہ سب کچھ اچھا ہوگیا۔
آپ دیکھتے ہیں برطانیہ میں غربت کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے، لेकن آسمانوں میں چڑھتے ہوئے کچھ بھی نہیں ہوتا، جیسے ان لوگوں کو کھانے کے لیے بھی پینا نہیں رہتا ہے تو کیوں وہ اپنے گھر کی چڑیاں خریدتے ہیں؟
اس غربت کی صورت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ لوگ کسی نئے خطرے سے نمٹنا بھی مشکل کر دیا جاتا ہے. زندگی ایسے مشکل ہے کہ لوگ صرف خوراک اور توانائی کو حاصل کرنے میں محتاط رہتے ہیں. باقی بھی ان کے لیے نہیں، یہ ایسا مظالم ہے جس سے لوگ اپنی زندگیوں کو بدلنا چاہتے ہیں.
یہ تو بہت دurosht hai... 68 لاکھ لوگ غربت کی آن کے سامنے فٹ ہوئے ہیں... ان کی زندگی بھی تباہ ہو رہی ہے جس کے لیے پوری دنیا کو سچائی سمجھنی چاہئیے۔ غربت نہیں ایک问题 ہی ہے بلکہ یہ ایک بڑا خطرہ ہے جو انسان کی زندگی کو تباہ کر رہا ہے...
ਇਸے تيزاب اور غربت کی شدت کی بات سुन کر مینے سوچا ہوتا ہے کہ برطانیہ میں کیا ہوا چلا جائے گا؟ پہلے بھی اس ملک میں غربت کی شدیدت تھی لेकن اب یہ ہزاروں کر دیتا ہے! آپ لوگ کو یہ بتائیں کہ جو کچھ ان لوگوں نے حاصل کیا ہوتا ہے وہ جب بھی اسے چھین لیتا ہے تو ان کی زندگی میں ایک نئا خطرہ پیدا ہو گا! میرا یہ خیال ہے کہ ایم ڈی بی انٹرنیشنل کو اس پر کچھ اور سہارا دینا چاہیے، کیونکہ ایسے لوگوں کو زندگی بھی تباہ نہ ہو جائے!
یہ ایک بڑی بھارتی تھی، برطانیہ میں غربت کی تعداد میں اضافہ تو نہیں لیکن اس سے متعلق معلومات کو پہلی بار سننے کا ماحول آچھا ہوا ہے . یہ بات تھی کہ غربت کس حد تک سمجھنی پڑتی ہے جب لوگ اپنی زندگی کو چھوڑ کر گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور ایک نئا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے جن کے لیے محنت نہیں سے بھی کوئی فائدہ نہیں ملا سکتا۔
سفید کپڑے، سوفت ہائیڈرشن اور ایک صحت مند جینت جو بھی لوگ دیکھ رہے ہیں ان کو کچھ نہیں مل رہا ہوگا تو یہ ایک اہم بات ہے کہ حکومت برطانیہ کو اس سے نمٹنے کے لیے اپنی پالیسیوں پر نظر انداز نہ کرے .
یہ بات تو واضح ہے کہ برطانیہ میں غربت کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے لوگوں کی زندگی بھی تباہ ہونے لگی ہے۔ یہ کہنا نہیں کہ غربت کی شدت میں مبتلا افراد کے لیے پورے سال اخراجات پورا کرنے کا بھی امکان نہیں ہے، یہ ایک خطرہ ہو گیا ہے جو کہ اس سے قبل تو موجود تھا لیکن اب اس کی شدت زہر ہو گئی ہے۔
مجموعی طور پر، غربت کی شرح نہیں ہی زیادہ ہوئی بلکہ لوگوں کو اپنی زندگی کو مزید مشکل بنا رہا ہے جس کے باعث ان کے لیے مہنگائی کا بحران نہیں ہو سکتا، یہ ایک نئے خطرے کی بات ہے جو لوگوں کو کھانے کے بغیر گزارنا بھی پڑ رہا ہے۔
میری نظروں میں یہ بات سب سے زیادہ غم آندہ ہے کہ برطانیہ میں غربت کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ بھی دوسرا یہی بات ہے جو مجھے متاثر کر رہا ہے کہ غربت کی شدت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ لوگوں کو ابھی بھی بنیادی اخراجات سے باقی نہیں رہتا، جیسے خوراک، توانائی اور لباس۔
ماڈرن زندگی میں یہ بات غم آندہ ہے کہ ابھی بھی لوگ قرض لینا پڑتے ہیں گھریلو بلوں کی واپسی کے لیے، اور اس سے ان لوگوں کو کھانے کے بغیر گزارنا بھی نہیں ملتا۔ یہ کہلا رہا ہے کہ غربت کی شرح تقریباً 21 فیصد پر برقرار ہے، لیکن لوگوں کو ابھی بھی زندگی کو پکڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔
میں یہ کہنا چاہتا ہoon کہ غربت کی صورت حال اور اس کی وجوہات کا مطالعہ کرنا ہی نہیں بلکہ ان لوگوں کی زندگی کو بھی دیکھنا ہوتا ہے جو غربت میں مبتلا ہیں۔
برطانیہ میں غربت کی تعداد میں اضافے کے بارے میں سوچتا ہوں تو یہ بات کوئی نہیں چاہیں گے کہ یہ ایک گھریلو مुद्दہ ہے جس کے لیے حل تلاش کرنا ہر شخص کی ذمہ داری ہوگی
اس بات پر زور دینا چاہیں گا کہ غربت کو بھی ایک راز سمجھنا ہوگا اور اس سے ناتھی لینا بھی نہیں ہوگا۔ یہ سب کچھ آپریشنل ہوگا جس کے لیے کوئی ایک شخص یا حکومت کی ذمہ داری نہیں۔
اس ملک میں غربت کی شرح 21 فیصد پر چلی گئی ہے جو ایک بھی معقول نہیں ہے، لیکن یہ بات بھی کوئی جگہ پر چاہیں گے کہ یہ غربت کی شرح کی وجہ سے زندگی کے ایسے خطرے پیدا ہوتے ہیں جو اس میں مبتلا لوگوں کو انتہائی مشکل کھینچنے لگتے ہیں۔
ہر اچھی بات ہے، برطانیہ میں غربت کی تعداد میں واضح طور پر اضافہ ہوگئی ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ زندگی بھی خطرناک بن گیگی۔ اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ غربت میں رہنے والے لوگ اپنی زندگی کو پورا کرنے کے لیے ایسا اچھا سا منظر نہیں دیکھ رہے جو کہ حقیقت میں واضح ہوتا ہے۔
اس پر توجہ دینا چاہئے کہ غربت کی شدت اور اس کے Effects نے لوگوں کی زندگی کو کچھ اور خطرناک بنایا ہے جو حقیقت میں واضح طور پر دکھائی دے رہی ہیں۔
اس خبر کی بات بہت غمگستھ ہے، غربت کی تعداد میں ایسا اضافہ ہوا ہے کہ اب لوگوں کی زندگی بھی گم ہو رہی ہے۔ یہ بات صحت مند نہیں ہے کہ ان غربت میڤل لوگوں کو زندگی گزارنے میں پوری مشکل ہوجاتی ہے، ابھی اس سے قبل بھی وہ زندگی گزارتے تھے اور اب وہ مہنگائی کا بحران دیکھ رہے ہیں۔ 68 لاکھ پر ایسے لوگ ہو گئے ہیں جو اپنی زندگی کو پکڑ سکیں نہیں پائے، یہ بھی واضح نہیں کہ ان کی زندگی کس طرح تباہ ہو رہی ہے؟ میری بات یہ ہے کہ سارے اخراجات پورا کرنے کے لیے ان لوگوں کو ایک نئا خطرہ دیکھنا پڑ رہا ہے جو اسی غربت کی وجہ سے پیدا ہو گیا ہے۔
اس غربت کی situación کے بارے میں بات کرنے والے لوگ اسے ایک نئی تباہ کن حقیقت سمجھ رہے ہیں لیکن مجھے یہ اچھا لگتا ہے کہ غربت کو حل کرنے کے لیے ہم ان لوگوں کی مدد سے شروع کریں جو اب تک زیادہ تر محنت نہیں کر پائے ہیں۔
اس ملک میں ان لوگوں کے لیے یقینی رہائش کا ایک منصوبہ بنانے سے ن کہیں زیادہ فائدہ ہوگا اور یہ بھی ایک نئی صلاحیتوں کی نشانی ہوگی۔ مجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ غربت کو دور کرنے کے لیے ہم اپنے ذاتی معیشت کو بڑھانے کی کوشش نہیں کرنا چاہیں بلکہ ایسا بنانا چاہیں جو اس سے ان لوگوں کو بھی فائدہ ہو۔
یہ غلطیہ ہے کیوں کہ برطانیہ میں غربت کو حل کرنے کی سہولتیں نہیں دی جارہیں، اور ان لوگوں پر بھی ضریbate کی واضح نہیں ہو رہی ہے کہ اگر ان کی زندگی میں کوئی بدلتا ہے تو ان کی مدد کی جائے؟
عجीबLY، یہ برطانیہ کی زندگی میں ایک نئا خطرہ ہو گیا ہے؟ آسان کہا نہیں اور بھی مشکل کہا جاسکتا ہے۔ غربت کے لوگ اپنی زندگی کو پکڑنے کی طرح ہو رہے ہیں، لیکن پھر بھی انہیں اخراجات پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ یہ ایک نئی صورتحال ہے جس سے لوگ کیسے نکلن گے؟ ہمیں یہ سوچنی چاہئے کہ غربت کا ایسا عرصہ ہو گیا ہے جو ہمیشہ سے نہیں تھا۔
برطانیہ میں غربت کی تعداد میں اضافے کا یہ سچا ہی نہیں کہ اس کی وجہ سے لوگ اپنی زندگی کو مزید مشکل بنا رہے ہیں، لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس میں ان کا ایک نئا خطرہ پیدا ہوگیا ہے جس سے ان کی زندگی بھی تباہ ہو رہی ہے. غربت میں مبتلا لوگ ابھی پورے سال کھانے کے لیے نہیں ملتے، ایسا نہیں ہو سکتا!
اس دuniya میں ایسا نہیں ہو سکتا کہ برطانیہ کی غربت اور ہجوم کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا رہے ، اس سے پورا ملک دوزخ میں لگ پڑتا ہے ۔ میرے گھر والوں کے حالات ایسے ہی تھے تو حالات بہت بدل گئے ہیں ، اب ان کی جگہ لوگوں نے لی جو اس طرح سے زندگی کا استحالہ رکھتی ہیں ۔
برطانیہ میں غربت کی تعداد میں واضح طور پر اضافہ ہوا ہے اور اب اس کے لیے زندگی گزارنا بھی مشکل ہو گیا ہے...
اس سے پہلے ہی ان کی آبادی نصف تھی اور اب وہ صرف خوراک، توانائی اور لباس کے لیے جس بھی دیر تک معیار کو پورا کرنا پڑ رہا ہے وہ ایک نئیDifficulty ہو گیا ہے...
ان لوگوں کی زندگی میں 21 فیصد کا بحران اب ایسا ہو گیا ہے کہ وہ اپنے گھر کے بل کو پورا کرنے کے لیے قرض لینا پڑ رہا ہے اور ان کی زندگی کو مزید مشکل بنا رہا ہے...