برطانیہ کی انتہائی غربت میں مبتلا افراد کی تعداد میں اب ایک نئی ریکارڈ درجہ حاصل ہو گیا ہے جس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اس ملک میں غربت کی بھرپور حالت اب تک نہیں دیکھی گئی تھی۔
انٹرنیٹ پر یہ خبر پائی گئی ہے کہ برطانیہ میں انتہائی غربت میں رہنے والے افراد کی تعداد ایک ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے جس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ برطانیہ میں غربت کا کوئی حد تھی اور اس حد سے اب کہیں بھی نہیں جائے گا۔
برطانیہ میں انتہائی غربت کا شکار 68 لاکھ افراد ہیں جو کہ اس ملک کی آبادی کا نصف بنतے ہیں اور ان کی زندگی ایسی ہے جہاں ان کے پاس خوراک، توانائی کے بل اور لباس جیسے بنیادی اخراجات پورے کرنے کے لئے سالانہ کچھ سے بھی ہو نہیں رہتا۔
سعود کو یہ بات یقین دہانی ہے کہ ان لوگوں کی زندگی مزید مشکل ہو چکی ہے، اس لئے ان کی زندگی میں بھی ایسا نہیں رہ سکتا جیسے پچھلے برسوں میں تھا۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی واضح ہے کہ ان لوگوں کی زندگی ایک گھر کو ایک جگہ سمجھنا بھی مشکل ہے اور ان کے لئے ایسا ہی نہیں رہ سکتا جیسے اسے پہلے تھا۔
ان لوگوں کے گھرانوں میں بلوں کو ادا کرنا مشکل ہے اور ان کو قرض پر بھی رہنا پڑتا ہے، اس لیے یہ بات واضح ہے کہ ان لوگوں کی زندگی ایسی ہے جس سے ہر سال بھی کئی دیر تک خوف تھا اور نومتھا رہتا تھا۔
انٹرنیٹ پر یہ خبر پائی گئی ہے کہ برطانیہ میں انتہائی غربت میں رہنے والے افراد کی تعداد ایک ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے جس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ برطانیہ میں غربت کا کوئی حد تھی اور اس حد سے اب کہیں بھی نہیں جائے گا۔
برطانیہ میں انتہائی غربت کا شکار 68 لاکھ افراد ہیں جو کہ اس ملک کی آبادی کا نصف بنतے ہیں اور ان کی زندگی ایسی ہے جہاں ان کے پاس خوراک، توانائی کے بل اور لباس جیسے بنیادی اخراجات پورے کرنے کے لئے سالانہ کچھ سے بھی ہو نہیں رہتا۔
سعود کو یہ بات یقین دہانی ہے کہ ان لوگوں کی زندگی مزید مشکل ہو چکی ہے، اس لئے ان کی زندگی میں بھی ایسا نہیں رہ سکتا جیسے پچھلے برسوں میں تھا۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی واضح ہے کہ ان لوگوں کی زندگی ایک گھر کو ایک جگہ سمجھنا بھی مشکل ہے اور ان کے لئے ایسا ہی نہیں رہ سکتا جیسے اسے پہلے تھا۔
ان لوگوں کے گھرانوں میں بلوں کو ادا کرنا مشکل ہے اور ان کو قرض پر بھی رہنا پڑتا ہے، اس لیے یہ بات واضح ہے کہ ان لوگوں کی زندگی ایسی ہے جس سے ہر سال بھی کئی دیر تک خوف تھا اور نومتھا رہتا تھا۔