اللہ تعالیٰ کو شکامتی نہیں ، برطانوی جوڑا لیوس گیبریل ڈی اور انیوشی ایما کرسٹین نے راجستھان میں اسرائیلی مظالم کی تردید کرنے کے لئے فلسطین پر اسٹیکرز چسپاں کر دیں ہیں۔ ان اسٹیکرز پر ’’فلسطین کو آزاد کرو‘‘ اور ’’بائیکاٹ اسرائیل‘‘ لکھا گیا تھا۔
ان کے اس ایڈیاس کے ساتھ ساتھ فلسطینی پرچم اور اسرائیلی پرچم بھی بن چکے ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہوگا کہ انھوں نے یہاں کیسے آئے اور کیا کیا رہے گئے۔
انھوں نے یہاں ساتھ ہی اسرائیلی شہریوں کے لئے ایک پنسلڈر ہیں جس کی وجہ سے انھے مقیم بتائے جاتے ہیں۔ اس مقام پر سالانہ 10 ہزار اسرائیلی سیاح آتے ہیں اور یہاں کے لوگ انھیں پنسلڈر کی طرح سٹی نیشنل پارک سمجھتے ہیں۔
جب کچھ لوگ اسرائیلی شہریوں کو اس مقام پر کفیل اور راننے والا لگاتے ہیں تو انھوں نے بھی یہاں پر فلسطینی پرچم لگایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی پرچم اور نازی نشان بھی بن چکے ہیں۔
اس بات پر شک نہیں کہ بھارتی شہریوں کو اسرائیل کی تردید کرنے میں کسی کے لئے دیر نہیں کی جا سکتی ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ برطانوی شہریوں کو بھی اسرائیل کے حوالے سے دیر نہیں لگ سکتی ہے۔
یہ اچانک طور پر نکل کر کہنے کی ضرورت نہیں تھی کہ فلسطین پر اسٹیکرز چسپاں کرنا ایسی بات ہوگی جس پر لوگ ان کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ ان لوگوں نے فلسطینی پرچم اور اسرائیلی پرچم لگانا شروع کر دیا ہے جو واضح طور پر ایسے معاملات کو تباہ کر رہا ہے جس پر شہروں میں جوش بھڑka رہا ہے۔ یہ کہنا مشکل ہوگا کہ وہ اسی فلسطین کو آزاد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر انھوں نے اپنی جिंد گئی ہے؟ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اسرائیلی شہریوں کو اس مقام پر کفیل اور راننے والا لگاتے ہیں تو وہ بھی ان کے ساتھ آئے ہیں۔ یہ سب ایک طاقتور ماحولیاتی منظر ہو رہا ہے جو کسی بھی شہری پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
آج کے ایسے لوگ تو باقی نہ رہ گئے جو لوگ سوچتے تھے کہ یہ انٹرنیٹ پر کسی بھی بات کا موڑ چڑھانے کی جگہ ہو گیا ہے! اس نے مجھے محسوس کرایا کہ جب ایک عالمی شہر میں لوگ فلسطین پر اسٹیکرز چسپاں کر رہے ہیں تو یہ کیسے نہ آئیں گے؟ سچ مچ پریشانی ہی ہوسکتی ہے کہ آج کی تمدنیت کی ہمیشہ دیکھ رہی ہیں!
اس وقت کیا کرنے کی بات ہے؟ برطانوی جوڑا انہوں نے فلسطین پر اسٹیکرز چسپاڈیہ، یہ کیا کام کر رہے ہیں؟ وہ فلسطینی لوگوں کی آزادی کے لئے اور بائیکاٹ اسرائیل کے لئے اسٹیکرز چسپاڈہ کر رہے ہیں، یوں کہہ کر وہ لوگ جو اسرائیل سے دیر نہیں پاتے ان کی جانب متوجہ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی کوئی Surprise نہیں ہے، وہ جو اسرائیل سے دیر نہیں پاتے ان لوگوں کی جانب متوجہ ہونے کے لئے اس طرح کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسے چکر پھونٹا ہے کہ انھوں نے فلسطین پرچم لگایا ہے اور اسرائیلی پرچم بھی بنایا ہے، یہ تو آسان ہے لیکن اس کی وجہ سے کیا انھوں نے اسرائیل میں لوگوں کو آزاد کروانے پر کوشش کی ہی یا انھوں نے صرف اپنی لالچی پورا کروائی ہے؟
برطانوی جوڑا لیوس گیبریل ڈی اور انیوشی ایما کرسٹین فلسطین پر اسٹیکرز چسپاں کر دیں ہیں اور اب یہ سارے اسرائیلی مظالم کی تردید کرنے لگے ہیں، یہ تو بہت حیرانی کن۔ لگتا ہے کہ انھوں نے ان اسٹیکرز پر ایسی چیز لکھی ہے جس سے انھیں ہر کسی کی ناپسندیت میں رکھ دیا گیا ہے
ایسا محض سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ ان اسٹیکرز پر کیا لکھا گیا ہے ، ’’فلسطین کو آزاد کرو‘‘ اور ’’بائیکاٹ اسرائیل‘‘ لکھنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی پرچم اور اسرائیلی پرچم بھی بن چکے ہیں، یہ سب ایسا ہوتا ہے کہ لوگ تانے بhana لٹکیوں میں پھنس جاتے ہیں اور دوسروں کو بدنام کرنے والے بن جاتے ہیں، مجھے بھی ناچنا پڑا ہے
تھما کر ہی یہ لگتا ہے کہ لوگ تینوں ممالک کے واضح مظالم کو پہچانتے ہوئے اور ان پر چسپائی دیتے ہوئے نا کئی لوگ اسرائیل کی طرف کفیل بنتے جاکر انہیں فائدہ انداز کرتے ہیں۔ اُس کی تردید بھارتیوں اور برطانویوں سے تو پہلی ہی نہیں ہوسکتی۔ ایسا نا کئی لوگ کر رہے ہیں جو فلسطین پرچم لگاکر اُس میں مظالم کو چسپی دیتے ہوئے واپس بھاگتے جاتے ہیں...
اسٹیکرز چسپانے اور فلسطینی پرچم لگانا، یہ بھی تو ایک رائے ہو سکتا ہے، لیکن اس کے پِچھلے میں کیا ہوا تھا، یہ سوال کبھی نہیں ختم ہوتا۔ اس میں کسی نے بھی فائدہ نہیں لیا، ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے صرف فلسطینی شہریوں کا تحفظ کیا ہے؟ اور اس پرچم کی اہمیت کیا ہے؟ وہ لوگ جو بھارتی شہریوں کو اسرائیل کی تردید کرنے سے دیر نہیں لگا سکے، انھیں یہی انہیں ایک فائدہ ہوگا، لیکن فلسطینی شہریوں کے تحفظ میں وہ صرف ایک سایہ رہتے ہیں۔ اور انھوں نے یہاں پر اسرائیلی پرچم لگانے کی یہی رائے ہوگئی، جو کہ واضح طور پر فلسطینی شہریوں کے تحفظ سے ملاتی ہو۔
اس پرستاداروں کی بے حسی کا کیا مطلب ہے?! وہ فلسطین پر اسٹیکرز چسپاں کر کے کہتے ہیں "فلسطین کو آزاد کرو"، اس سے انھوں نے صرف اسرائیل کی انتقاد میں بدل دیا ہے۔ یہ تو وہی جھوٹی سرگرمی ہے جو پچھلے دینہوں سے جاری رہتی آ رہی ہے
اس بات پر شک نہیں کہ انھوں نے فلسطین پر اسٹیکرز چسپاں کر دیے ہیں لیکن کیا وہ انھیں آزاد کر سکتے ہیں؟ وہ سوچ سکتے ہیں لیکن اس بات کو پہلی بار سمجھنے میں لگنا اچھا گزر ہوگا۔
اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنی چاہئے کہ انھوں نے اسرائیلی شہریوں کے لئے ایک پنسلڈر ہی سٹال قائم کر دی ہے؟ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اس مقام پر سالانہ کتنی سیاح آتی ہیں اور انھیں کیسے سمجھا جاتا ہے؟
یہ تو بہت ہی غضبت انگیز ہے! ان لوگوں کی مدد سے یہ جگہ اب اسرائیلی مظالم پر چسپا دھبے کی جارہی ہے؟ اور اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی پرچم بھی لگی ہوا?! یہ تو نہیں رہا!
وہ انہیں کہتا ہے کہ فلسطین کو آزاد کرنا چاہیے، لیکن وہ اس کی فطرت کو سمجھتے نہیں? اور اسرائیل کو بھی ان ساتھ ہی سمجھتے نہیں?! یہ تو کس طرحPossible ہوگا؟
اور انہوں نے اسرائیلی شہریوں کے لئے ایک پنسلڈر بھی بنا دیا ہے! اور اس مقام پر یہ سب لگی ہوئی ہے?! یہ تو کس طرح چل سکتی ہے؟
اس بات پر شک نہیں کہ اسرائیل کی تردید کرنے میں دیر نہیں لگ سکتی ہے! لیکن یہ بتایا جاتا ہے کہ بھارتی اور برطانوی شہریوں کو بھی اس کی تردید کرنے میں دیر نہیں لگ سکتی ہے!
اس وقت بھی اس پر غور کرنا چاہئے کہ یہ کیا ماحول اور ثقافتی ماحول بناتے ہیں جو لوگ یہاں آتے ہیں اور انھیں اِس مقام پر کس طرح محسوس کرنا پڑتا ہے
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا اچھا ہوگا کہ اس کے اسٹیकरز کی طرف سے فلسطینی لوگوں کو سندسھ کرنے کی پھرک بھی نہیں ہو رہی تھی اور اب یہ اِسی طرح سے جاری ہیں
اس کے لئے یہ کہنا مشکل ہوگا کہ برطانوی جوڑا لیوس گیبریل ڈی اور انیوشی ایما کرسٹین کی یہ تائید اِس بات پر غور کرنے کے لئے ہے یا نہیں؟ اور یہ کیا بتاتا ہے کہ انھوں نے یہاں کیسے آئے اور انھینے کیا کیا رہے گئے?
برطانوی جوڑا لیوس گیبریل ڈی اور انیوشی ایما کرسٹین نے فلسطین پر اسٹیکرز چسپاں کر دیں ہیں، ابھی بھی یہ بات متوجه نہیں ہوگی کہ اسرائیل اور فلسطین کی پوری تاریخ کچھ دیر سے ٹھسپ ہوگئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ فلسطینی لوگوں نے بھی اپنے حق کو بتایا ہے، اب یہاں بھی انھوں نے اپنا دھنچक لگایا ہے۔ اس سے وہ لوٹا نہیں رہے گئے ہیں، اب یہ کہنا مشکل ہوگا کہ انھوں نے آس پاس کی صورتحال کو اس طرح سمجھ لیا ہے جس کے لئے بھارتی شہریوں کو تین سال سے دیر ہوئی ہے۔
اس سٹیکرز پر "فلسطین کو آزاد کرو" اور "بیکاٹ اسرائیل" لکھا گیا ہے، یہ تو ایک بڑی بات ہے لیکن انھوں نے بھی فلسطینی پرچم اور اسرائیلی پرچم بنا دیا ہے، یہ کس کا استعمال ہے؟ اور انھوں نے Israel میں مقیم اسرائیلی شہریوں کو بھی ایک پنسلڈر کی طرح پیش کیا ہے، یہ تو کیسے چلایا گیا?
اس فلسطین پر چسپاں کرنے والوں کی آج تک کی کوشش سے اسرائیل کی تردید ہوئی ہے؟ یہاں تک کہ وہی لوگ جو بیٹھتے ہیں تو فلسطینی پرچم لگا کر اس میں آزاد کرو اور بائیکاٹ اسرائیل لکھ رہے ہیں۔ یہ سارے لوگ وہیں بیٹھتے ہیں جہاں سالانہ 10 ہزار اسرائیلی سیاح آتے ہیں اور یہاں کے لوگ انھیں پنسلڈر سمجھتے ہیں۔ ایسا ہو رہا ہے تو وہاں پر فلسطینی پرچم اور اسرائیلی پرچم لگاکر کفیل اور راننے والا بن کر چلے جاتے ہیں۔ یہ لوگ ابھی بھارتی شہریوں کو اسرائیل کی تردید کرنے میں دیر نہیں لگ سکتی ہے تو کیسے؟
اس وارث کی بات تو آسمانوں میں ہوگی۔ انھوں نے فلسطین پر اسٹیکرز چسپاڈ کیئے ہیں اور ’’فلسطین کو آزاد کرو‘‘ اور ’’بائیکاٹ اسرائیل‘‘ لکھا گیا ہے۔ یہ تو ایک بڑا اعلان ہے۔ لیکن یہی نہیں، انھوں نے فلسطینی پرچم اور اسرائیلی پرچم کے ساتھ ساتھ یہاں ہونے والے لوگوں کو بھی اس کی توجہ دکھائی دی ہے۔
اس میں کوئی بات نہیں جو نہیں، Israel ki baat ko samajhna zaroori hai. Lekin sabhi logon ko is tarha ki cheez karna nahi chahiye. Koi bhi disha jise hum apne darr ke saamne khada ho kar apna manza hai, vah sabko milna chahiye.