برطانوی خاتون محقق اور ادیبہ اردوکی طرف کیسے راغب ہوئیں؟ - Ummat News

باز

Well-known member
پاکستان کے لیے ایلس ایمانویل لِزیا کا کام اور اس کی خدمات کو سراہنے والی تقریب

سید محمد علی خان

ادارہ فروغ قومی زبان کے زیر اہتمام برطانیہ سے تشریف لائی مشہور محقق اور ادیبہ اردو کی خدمات میں اس سے پہلے ہی سراہتے ہوئے آئے۔ برطانیہ کے شہر لندن میں ایڈوانس ٹھری فیلو شپ کے تحت ادارہ فروغ قومی زبان نے اسے ایک تقریب میں احترام سے ملاپ کیا۔

یہ تقریب آئین فیلو شپ کا ایک حصہ تھا جو اردو ادب، زبان اور ثقافت کو فروغ دینے والی تنظیموں کی طرف سے منعقد کی جاتی ہے۔ اس سے پہلے اس میں برطانوی کیمپس یونیورسٹی آف لندن کے صدر پروفیسر محمد سلیم مظہر، ڈاکٹر راشد حمید اور دیگر اہل قومی زبانوں کے ممبران نے شرکت کی تھیں۔

ایلس ایمانویل لِزیا ایک برطانوی محقق اور ادیبہ ہیں جو اردو ادب، زبان و ثقافت سے گہری محبت رکھتی ہیں۔ اس نے اپنی تعلیم کے دوران انگریزی میں انڈرگریجویٹ کی، بعد ازاں پاکستان سے لانچ کرنے کے لیے فراہم کیا تھا۔ اس نے اردو ادب اور زبان سیکھنی شروع کرکے گھریلو شاعری کو پڑھنا پڑھایا، پھر انگلینڈ میں داخل ہونے کے لیے اپنی تعلیم کا ماحول بدل دیا۔

اس نے خود کوشش کی اور اردو ادب کو اپنے تحقیقی کام میں شامل کرکے، ایک نئی دنیا بھی بنائی۔ اس نے اردو شاعری سے گہرا اثر حاصل کیا اور ان کی نظموں میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا، "میں نے انگریزی پڑھی تھی لیکن اردو شاعری سے جود ہوا، اس نے مجھے زبان میں رچایا اور مجھے اپنی قوم کے شاعروں کی طرف متعین کیا۔"

اس نے یہ بھی کہا، "میری دلچسپی اردو ادب سے ہی ہے اور مجھے اس زبان میں اپنی پوری زندگی گزارنے کی خواہش ہے۔"

ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ایڈوانس ٹھری فیلو شپ کے ممبر ادارہ فروغ قومی زبان نے ان سے تقریب میں ملاپ کیا۔

تقریب کے اختتام پر صدر پروفیسر محمد سلیم مظہر نے معزز مہمان ایلس کو خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، "جس کمٹمنٹ، لگن اور محنت سے آپ اپنا علمی و تحقیقی کام انجام دے رہی ہیں، میری شمل اساتذہ اور ڈاکٹرین کے ساتھ مستقبل میں یو بی ایس کا نام لیا جائے گا"

اس موقع پر برطانیہ میں اردو زبان و ادب، ثقافت کی تدریس و تحقیق کے شعبے کو اس ادارہ نے خود سے جوڑ دیا ہے۔
 
میتھو تھا ایک ایسی بات جو میں اچھی طرح سمجھ گئی ہے، جس کے لیے یہ تقریب بہت اچھی تھی۔ اردو ادب اور زبان کی دیکھ بھال کو ایسا ساتھ دینے والی تنظیموں کی طرف سے منعقد ہونے والی تقریbathe ایک اچھا خيال ہے۔

ایلس ایمانویل لِزیا کی قوم پرست فکر کی بات میں کچھ خاص ہے، اس نے اردو ادب کو اپنے کام میں شامل کرکے ایک نئی دنیا بنائی تھی۔ اس نے انگریزی سے اردو شاعری کی طرف جود کی اور اپنی زندگی بھر اس زبان میں گزارنا چاہتی تھی۔

اس تقریب کے اختتام پر صدر پروفیسر محمد سلیم مظہر نے معزز مہمان ایلس کو خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس کمٹمنٹ، لگن اور محنت سے آپ اپنا علمی و تحقیقی کام انجام دے رہی ہیں میری شمل اساتذہ اور ڈاکٹرین کے ساتھ مستقبل میں یو بی ایس کا نام لیا جائے گا. یہ بات بھی اچھی ہے، اس سے اردو زبان و ادب کو اپنی اہمیت دی جاتی ہے۔
 
ایلس ایمانویل لِزیا کی تقریب منعقد کرنے پر میں خوش ہو گیا 🤩، یہ تو ان کے کام اور خدمات کو سراہنا ہی نہیں بلکہ ان کی دلچسپی اور محنت کو بھی دیکھا گیا تھا۔

انھوں نے اپنی زندگی میں اردو ادب، زبان اور ثقافت کے ساتھ گہری تعلقات بنائے ہیں اور انھوں نے اس شعبے کو بھی دنیا بھر میں لانے کی کوشش کی ہے، یہ تو ان کی خدمات کو سراہنا ہی نہیں بلکہ ان کی محنت اور کوشش کو بھی دیکھنے کو ملا اچھا۔
 
ایلس ایمانویل لِزیا کی خدمات کی تقریب میں شرکت کرنے والوں میں ایک اور شہرہ کوئی نہ کوا ہے! اس سے پہلے بھی ان کی خدمات کو سراہنا تھا، لیکن اب یہ تقریب بھی ہوئی اور ایسے لگ رہا ہے کہ پاکستان کی قومی زبان کو دنیا بھر میں اپنی جگہ دلا دی جائے گہ! #اردوبزبان #عصریتک #سلیمان #ایلسلیزیا
 
ایلس ایمانویل لِزیا کی خدمات کو سراہتے ہوئے تقریب میں پائی گئی ان کے جذبے اور دلچسپی سے ہم بھی متاثر ہو گیے 🤩

ان کی زندگی کا سفر انگریزی میں شुरू ہوا لیکن اردو ادب، زبان اور ثقافت سے گہری محبت رکھنے والی ایلس نے اپنی تعلیم کو بدل کر پاکستان میں لانچ کرکے اپنے کام کو شروع کیا ۔ اس کی قوت تحریر اور جذبے سے اردو ادب کو بھی ایک نئی طرف لے جानے کی کوشش کی گئی ہے

ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے تقریب میں ایڈوانس ٹھری فیلو شپ کے ممبر ادارہ فروغ قومی زبان نے ان سے ملاپ کیا ۔ اس کے اختتام پر صدر پروفیسر محمد سلیم مظہر نے معزز مہمان ایلس کو خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، "جس کمٹمنٹ، لگن اور محنت سے آپ اپنا علمی و تحقیقی کام انجام دے رہی ہیں، میری شمل اساتذہ اور ڈاکٹرین کے ساتھ مستقبل میں یو بی ایس کا نام لیا جائے گا"
 
ایلس ایمانวล لِزیا کو سراہنے والی تقریب میں انھوں نے کیا کہا ہے، یہ تو بہت گہرا اعزاز ہے اور مجھے لگتا ہے ایسے کام کی جس پر وہ انحصار کرتے ہیں اسے کرنے کا شکرہ مینہ۔ میں نے اپنی لائٹ کے جیسے ہی دھپنا شروع کیا تھا اور اب وہ لاکھوں کی لامبی روشنی میں پھیل رہی ہیں۔

میں انھیں یہی سمجھتا تھا کہ مجھے اردو ادب سے بے مظلوم رکھنا چاہئیے اور اب وہ سب کچھ کر رہی ہیں۔
 
اس تقریب میں شرکت کرنے والی تمام عرصہ کی اداروں اور محققین کا ایک لاتعداد ممبران تھے، لیکن آج ان سب سے پہلے ایڈوانس ٹھری فیلو شپ کے تحت ایلس ایمانویل لِزیا کو ملاپ کرنے کا موقع میں ہوا، اس سے قبل برطانوی محققین اور محققہوں کی تعداد بہت کم تھی۔
 
یہ تقریب آئین فیلو شپ کا ایک حصہ تھا جو اردو ادب، زبان اور ثقافت کو فروغ دینے والی تنظیموں کی طرف سے منعقد کی جاتی ہے۔ اس میں برطانوی کیمپس یونیورسٹی آف لندن کے صدر پروفیسر محمد سلیم مظہر، ڈاکٹر راشد حمید اور دیگر اہل قومی زبانوں کے ممبران نے شرکت کی تھیں۔
ایلس ایمانویل لِزیا ایک برطانوی محقق اور ادیبہ ہیں جو اردو ادب، زبان و ثقافت سے گہری محبت رکھتی ہیں۔ اس نے اپنی تعلیم کے دوران انگریزی میں انڈرگریجویٹ کی، بعد ازاں پاکستان سے لانچ کرنے کے لیے فراہم کیا تھا۔
اس نے اپنے تحقیقی کام میں اردو ادب کو شامل کیا اور اس سے ایک نئی دنیا بنائی۔ اس نے اپنی دلچسپی کی اظہار کی۔
انہوں نے کہا، "میں نے انگریزی پڑھی تھی لیکن اردو شاعری سے جود ہوا، اس نے مجھے زبان میں رچایا اور مجھے اپنی قوم کے شاعروں کی طرف متعین کیا۔"
ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ایڈوانس ٹھری فیلو شپ کے ممبر ادارہ فروغ قومی زبان نے ان سے تقریب میں ملاپ کیا۔
تقریب کے اختتام پر صدر پروفیسر محمد سلیم مظہر نے معزز مہمان ایلس کو خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، "جس کمٹمنٹ، لگن اور محنت سے آپ اپنا علمی و تحقیقی کام انجام دے رہی ہیں، میری شمل اساتذہ اور ڈاکٹرین کے ساتھ مستقبل میں یو بی ایس کا نام لیا جائے گا"
 
ایڈوانس ٹھری فیلو شپ سے اعزاز پانے والی اور پاکستان کی قومی زبان و ادب کے لیے مہم ناکام تھیں، اس کی واضح جگہ اہل قومی زبانوں میں ہی رہی...

انہوں نے اپنی زندگی میں اردو ادب اور زبان کا تعلق یہاں تک لایا ہے کہ اب وہ لندن میں سے برطانوی پاکستان کو بھی اپنا گھر سمجھ رہے ہیں...

کیا کسی کی ایسی خدمات کی ایک تقریب سے دوسروں کو بھی محسوس کرنی چاہئے؟
 
ایلس ایمانویل لِزیا کی ایسی خدمات کیوں سراہی جارہی ہیں؟ وہ کہتے ہیں "میں نے انگریزی پڑھی تھی لیکن اردو شاعری سے جود ہوا" اس کی یہ بہت بڑی حقیقت ہے، ان کی لگن اور محنت سے انہوں نے اپنا علمی و تحقیقی کام انجام دے رہے ہیں
 
ایلس ایمانول لیزیا اپنی قوم پاکستان کے لیے ایک بڑی خواہش دلاتی ہیں اور اس کی تحریک کو دیکھتے ہوئے مجھے بھی محبت ہوتی ہے 🤗 وہ اردو ادب، زبان و ثقافت سے گہری محبت رکھتی ہیں اور اس نے اپنے تحقیقی کام میں اردو شاعری کو شامل کیا ہے جس سے نئی دنیا پیدا ہوئی ہے

اپنی زندگی میں وہ ہمیشہ ہی اپنے قوم کے شاعر اور شاعروں کی طرف متعین رہی ہیں اور اس کی محبت نے ان کو اپنی زبان میں رچایا ہے

اس لیے اس تقریب سے پہلے بھی مجھے اس بات کی خوشی ہوئی کہ اردو ادب اور زبان کی ترقی کی طرف بڑے بڑے اداروں نے اچھا کوشش کیا ہے اور اب ایلس ایمانول لیزیا کی سرگرمیاں اس توجہ کو بڑھا رہی ہیں
 
ایلس ایمانویل لِزیا ایک عجيب شخصت ہیں! وہ اردو ادب کی قیمتی کھوج کر رہی ہیں اور اس سے نہ صرف ان کی زندگی میں تمدن اور سمجھ دہی ہوئی ہے بلکہ دنیا بھی ان کی طرف مائل ہوئی ہے! وہ انگریزی سے اردو کی طرف آگے بڑھ کر رہی ہیں اور اس سے یہ نتیجہ نکلا ہے کہ اردو ادب کو پوری دنیا میں جانی جائے گا! 🌟
 
لیza ایک چھوٹی سی خبر ہے جو اردو ادب، زبان اور ثقافت کو بڑھانے میں اپنی فائد ہوا ہے۔ یہ محقق اور ادیبہ کا کام، ایسا ہی ہے جو نہیں ہوتا تھا۔ لکھنے والوں کو اس پر سنجیدگی ہونی چاہیے اور اس طرح کے کاموں کی سرाहनے کی ضرورت ہے، جو اردو زبان و ادب کو فروغ دیتے ہیں۔
 
ایلس ایمانویل لِزیا کو سراہنے والی تقریب میں ان کی خدمات کو بھی سراہنا چاہئے تاکہ اردو ادب اور زبان کے حوالے سے ہونے والے کاموں کی جانب لوگ مائل ہوں۔ اس نے اپنی تعلیم میں انگریزی شریک کیا اور بعد میں اردو ادب کو اپنے تحقیقی کام میں شامل کرکے ایک نئی دنیا بنائی ہے جس سے یہاں کیUniversities اور Research institutes کو بھی فائدہ ہوا ہو گا।

ان کی دلچسپی اردو ادب سے پوری ترجما ہے اور مجھے اس لئے بھی خुशی ہے کہ ان کی شائری سے یہاں کی Youth کو بھی اردو ادب میں مائل کرنا چاہئے، تاکہ یہاں کی زبان اور ثقافت اپنی پوری طاقت کے ساتھ کام کر سکے۔
 
ایلس ایمانویل لِزیا ایک بڑی تحریک چلا رہی ہے، ان کی محبت اردو ادب اور زبان سے نہیں ہوتی کہ اسے سراہنا پڑتا ہے، یہ دیکھنا جس ہوا دی ہے ایک نئی تحریک چل رہی ہے، لیکن ابھی بھی کچھ کام باقی ہے، ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے تقریب میں شرکت کرنے والوں کو بھی اس تحریک میں شامل ہونا چاہئے
 
ایسی باتوں پر غور کرو، ایلز ایمانویل لِزیا کو یہ تقریب سراہنے والی برطانیہ کی حکومت نے اپنی اپنی زبان میں دیکھا ہے، اور وہیں انہیں اپنی محنتوں کے لیے پیدل کرنا پڑا تھا۔ اس نے انگریزی میڰ پڑھی اور بعد میں اردو ادب کو اپنے تحقیقی کام میں شامل کرکے اپنی دنیا بھی بنائی ہے۔ لگتا ہے کہ وہ ایسا کام دہرائی رہا ہے جو انہوں نے شروع کیا تھا، نہیں کیونکہ اس کے بعد بہت سارے پاکستانی محقق اور ادیبہ یہی کام دیکھتے ہیں۔
 
اکھیں یہ واضح ہو گیا ہے کیوں کہ ہر ایسے شخص کو جن میں اردو ادب اور زبان سے گہری محبت ہوتی ہے، انھیں صرف ایک تقریب کے ذریعے ایک نئا درجہ فلاح دیتے ہیں تو یہ انتہائی معقول نہیں ہوگا… پھر ان سے کس طرح جوڑنے کی ضرورت ہے؟ ہمیں ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے یہ تقریب منعقد کرکے، ایسی ہی نئی اور بھرپور تقریبات منعقد کرنی چاہیے جو اردو ادب اور زبان کو فروغ دینے کے لیے ہمیشہ کے لیے اہم بن سکیں…
 
عکاسی کرتے ہوئے ایلس ایمانویل لِزیا کی دیرپا خدمات اور ان کی اردو ادب، زبان اور ثقافت کے قربت میں رہنا کا اعزاز ہم سب پر تھا۔ اس نے اپنی تعلیم و تحقیقی کاموں سے پاکستان کی قومی زبان کو انگلینڈ میں بھی نمایاں مقام دیا۔

ان کی دلچسپی اردو ادب، شاعری اور زبان میں ہے اور اس کا ایک نئا دور آ رہا ہے جس میں ان کی خدمات کو سراہنا بھی ضروری ہو گا۔
 
واپس
Top