امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر قبضہ کرنے اور برطانیہ اور ڈنمارک کو نشانہ بنانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ انھوں نے اپنی جانب سے امریکی کاروبار کے لیے پابندی لگائی ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آمریکہ برطانیہ اور ڈنمارک پر 10 فیصد ٹیرف کے ساتھ اپنے کاروبار کو ملازمت دے گا۔
یہ منصوبہ گرین لینڈ پر قبضے کے خلاف ڈنمارک اور برطانیہ میں ڈیپلوماسی میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ انھوں نے ایسا منصوبہ پیش کیا ہے جس سے یورپی ممالک کو غم و غضب سہارا ملے گا۔
ڈنمارک کی حکومت میں موجود رہنما انگر سٹوئیبرگ نے ٹرمپ کے منصوبے پر بھرپور تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ "امریکی معاشیات" کو "درون سے بدلنے" کے لیے "ایک نئی پلیٹ فارم" بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ڈینش ایم پی پیلے ڈریگسٹڈ نے بھی ٹرمپ کے منصوبے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ "بہت ہو چکا ہے"۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ "یورپی یکجہتی اور مزاحمت کے ساتھ ملنا چاہیے"۔
گرین لینڈ ایک خود مختار علاقہ ہے جو اس کی اپنی حکومت اور پارلیمنٹ ہے۔ یہ اپنے گھریلو معاملات خود چلاتا ہے - لیکن اس کی دفاعی پالیسی نہیں۔
امریکہ کے صدر ٹرمپ کا یہ منصوبہ توہین دے گا اور سہارا ملنے والے کو کمزور کرتا ہے۔ ڈینش ایم پی کا یہ بیان بہت سچ ہے کہ "بہت ہو چکا ہے"، اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ منصوبہ ٹرامپ کی معاشیات کو دیکھ کر بنایا گيا ہے جو آج بھی دنیا میں کسی طرح کے مظالم سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیڰ۔ یورپی ممالک کو ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
ہم ضرور ایک نیا راستہ تلاش کریں، لیکن اس پر بھرپور لائحہ درج کرنے کی آزادی نہیں ہونگی۔ یہ منصوبہ کچھ ہو سکتا ہے لیکن اس پر واضح بات کیاجئے۔
ایسا کیا لگتا ہے کہ آمریکہ بھرپور خوفزدہ ہو رہا ہے? وہ یورپی ممالک پر قبضے کی طرف جیسے ایسا لگتا ہے، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے کاروبار کو ملازمت دेनے کے لیے برطانیہ اور ڈنمارک پر 10 فیصد ٹیرف کے ساتھ لگای گئا ہے!
یہ منصوبہ گرین لینڈ پر قبضے کے خلاف ڈنمارک اور برطانیہ میں ڈیپلوماسی میں بھی اضافہ کرتا ہے، جس سے یورپی ممالک کو غم و غضب سہارا ملتا ہو گا!
ہرگز نہیں پتہ چلتا کہ آمریکہ کی ان پالیسیوں سے کیا فائدہ ہو گا? یہ سچ بھی کہنے میں ایسا نہ لگتا کہ وہ اپنی معاشیات کو ایک نئی پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں!
امریکہ کے صدر ٹرمپ نے ایسا منصوبہ پیش کیا ہے جس سے وہ اپنے کاروبار کو برطانیہ اور ڈنمارک میں بھی ملازمت دے سکے گا، یہ ان کی معاشیات کو بدلنے کا ایک طریقہ ہے؟ لگتا ہے وہ اس سے اپنی طاقت ظاہر کرنا چाहतے ہیں، لیکن یہ ان کی معاشیات کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے...
ایسا کیا بنے گا؟ امریکہ نے جو منصوبہ پیش کیا ہے وہ تو یورپی ممالک کو ایک اچھلے ساتھ نہیں دے گا بلکہ انھیں آگ لگا دے گا۔ 10 فیصد ٹیرف کے ساتھ شغل دینا تو ایسا بھی نہیں کیا جاتا، وہ لوگ پہلی چیز سے کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یورپی ممالک کو ایسے منصوبوں سے بھاگنے کی zaroorت ہے جو ان کی فہرست میں نہیں ہیں۔
اس منصوبے کے بارے میں بھی ایک پہل سے پہلی بات یہ ہے کہ کیا اس کا مقصد امریکی معیشت کو محفوظ بنانے کے لیے ہے؟ لگتا ہے کہ یہ صرف ایک اور طریقہ ہے جس سے وہ اپنی معاشی مافیا کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکہ کے صدر ٹرمپ کا منصوبہ تو بہت ہی خطرناک ہوگا، وہ اپنی جانب سے برطانیہ اور ڈنمارک پر یقینی طور پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن انھوں نے اس کی پوری کوشش کی بھی، وہ اپنی جانب سے ان ممالک کو آمریکی کاروبار کے لیے ملازمت دینا چاہتے ہیں۔ یہ تو دوسرے ممالک کے لئے بہت problematic ہوگا، کھاس کر اس کی پلیٹ فارم کو "امریکی معاشیات" سے بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انھوں نے گرین لینڈ پر قبضے سے بچنے کے لئے اس کی پوری کوشش کی اور یورپی ممالک کو غم و غضب سہارا ملنے کی کوشش کی، لیکن انھوں نے کسی بھی طرح کی معاشی یا سیاسی پلیٹ فارم سے بدلنے کی کوشش نہیں کی۔ ڈینچ ایم پی پیلے ڈریگسٹڈ کی تنقید کو سمجھنا چاہئے، وہ بہت ہی right ہیں، انھوں نے کہا ہے کہ "یورپی یکجہتی اور مزاحمت کے ساتھ ملنا چاہیے"، جسے سبھی کو اپنے لئے ایک priority بنانا چاہئے۔
امریکہ کے صدر ٹرمپ کے منصوبے پر ایسا لگتا ہے جیسے وہ اپنی آمریکی کاروباری طاقت کو باڑیں دیشیوں پر چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 10 فیصد ٹیرف کا یہ منصوبہ، برطانیہ اور ڈنمارک کو نشانہ بناتے ہوئے، یورپی ممالک پر قبضے کے خلاف اضافہ کر رہا ہے۔ لگتا ہے انھوں نے خود کو ایسے معاشی تعاقدات میں آگہ ہونے سے منع کیا ہے جو غم و غضب سہارا دیتے ہیں۔
امریکے صدر کے منصوبے سے یورپ کے حالات بدل گئے ہیں... ٹرمپ نے اس میں اپنے معاشی اور سیاسی غرض کا مظاہرہ کیا ہے... یوں تو 10 فیصد ٹیرف سے ملنے والی ملازمتوں کی بات کر رہے ہیں لیکن اسی وقت اس نے یورپی ممالک کو خود پر قبضہ کیا ہے... ابھی تو وہ اپنی ملکیت کی بڑھتے ہوئے سٹاک میں ہونے کے نتیجے میں یورپی ممالک کو اچانک اس طرح کا خطاب دیا ہے... ڈینش رہنما انگر سٹوئیبرگ کی بھرپور تنقید ایک سایہ میزبان ہو گئی ہے... لیکن یہ بات واضح ہے کہ امریکہ نے اب اپنی طاقت اور معاشی برادری کو دیکھ کر یورپی ممالک پر قبضہ کرنا شروع کیا ہے...
امریکہ کے صدر ٹرمپ کا منصوبہ تو بہت غریب ہے، ایسے میں یورپی ممالک پر قبضہ کرنا اور برطانیہ اور ڈنمارک کو نشانہ بنانا ایک بڑی گaltiyan کا کھیل ہوگا۔ دوسرے برائیں، جس کے نتیجے میں یورپی ممالک پر قبضہ ہوتا تو وہاں کی خودمختاری اور ایکناوالیٹی کو کیسے ساتھ دیکھیں گے؟
امریکہ کے صدر ٹرمپ نے اپنے منصوبے سے صرف ایسا مینے جو کہ یورپی ممالک کو واپس کیوۓ ، بھی اس میں ہوا نہیں گئی، لگتا ہے اور یہ انہیں پریشان کر رہا ہے کہ وہ اپنے کاروبار کو ملازمت دے سکیں تو کس ملک میں؟
میٹھے میٹھے، آمریکہ بھی بھرپور کچھ کر رہی ہے! وہ سارے یورپی ممالک پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، آزاد گرین لینڈ کو بھی اپنی طرف سے بلاکر دینا چاہتے ہیں... اچانک میں یوں سوچta ہے کہ وہ کیسے اس پر قبضہ کر سکتے ہیں؟
میری کھبھرکی ذہنی جگہ ہے، میں اس کے بارے میں پوچھتا ہوں کہ یہ آزاد گرین لینڈ کی وہ خود مختار حکومت نہیں تھی جو اب تک چلا رہی ہے؟ اور یہ کیسے ایسا کروں گا کہ وہ اس پر قبضہ کر سکتے ہیں؟
میں یوں کھیتوں میں بیٹھا رہتا ہوں اور اس جگہ پر ہونے والی باتوں کو پہچانتا ہوں... لیکن ابھی یہ کچھ بھی نہیں سمجھ سکا!
ایسا کیا ہو رہا ہے امریکہ کے صدر کو اپنے کاروبار کے لیے اور یورپ کی ملکیت پر قبضہ کرنا ہی پچتاوٹ ہے؟ وہ ملازمت دے رہے ہیں، لیکن کیا یہ آپسی معاملہ ہو گا؟
ایسا لگتا ہے کہ اس منصوبے سے یورپ کو بھوک نہیں پڑنی چاہئے، بلکہ اس کے لیے ایک آگہی پیدا کرنی چاہئی جو وہ خود ملازمت دیتے ہیں اور اپنے حق میں لڑتے ہیں۔
امریکہ کے صدر ٹرمپ کا منصوبہ بہت ہی خطرناک ہوگا. وہ یورپی ممالک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس سے ان کی معیشتوں میں گھسپھوس پڑے گی اور ان کی ایکٹریسیٹڈ کاروبار کی تباہی ہو جائےگی.
اس کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ برطانیہ اور ڈنمارک کو امریکہ نے خود پر قبضہ کر لیا ہوگا، جس سے ان کی سیاسی تسلط میں کمی آئے گی.
امرکہ کے اس منصوبے سے یورپ کو بھی ایسا محسوس ہونے والا ہوگا جیسے کہ وہ اپنے آخرے ماحول کی تباہی کا شکار ہو گئے ہیں، یہاں تک کہ ان کا ایکٹریسیٹڈ معاملہ بھی منعقد نہیں کر سکیں گے.
امریکہ کے صدر ٹرمپ نے اس وقت تو یورپی ممالک پر قبضہ کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے جب ہم اس کی دھاری پالیسیوں پر گہرے رنج سے کے ہیں۔ ان کا یہ منصوبہ شائستہ اور ایمانت کے خلاف ہے۔ گرین لینڈ پر قبضے کے خلاف ڈنمارک اور برطانیہ کی بھرپور مخالفت ہی ان کی معاشی اور سیاسی عاقدات کو تھوکنے والا ہوگا، لہذا انھیں اس سے بھاگنا چاہیے۔
انگریز اور ڈینش میڈیا کی اس بات پر رہی توجہ ہے کہ ٹرمپ نے برطانیہ اور ڈنمارک کو 10 فیصد ٹیرف سے معاشرے میں ملازمت دیلینے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ ان کی معاشی اور سیاسی عاقدات کو تھوکنے والی ہے، لہذا انھیں اس سے بھاگنا چاہیے۔
انگریٹھیے میڈیا نے یہ بات بھی بتائی ہے کہ ٹرمپ نے یورپی ممالک کو غم و غضب سہارا ملنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ لیکن ان کی یہ پالیسی اتنے بھی مضر ہوگی کہ یورپی ممالک کو اس پر توازن بنانے میں ناکام رہے گی، لہذا انھیں اس سے بچنا چاہیے۔
اس پلیٹ فارم پر انگریٹھیے معاشی اور سیاسی عاقدات کو تھوکنے والی ہے جس پر ٹرمپ نے رکھا ہے، لہذا انھیں اس سے بچنا چاہیے۔
امریکے کے صدر نے یورپ پر قبضہ کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے؟ ابھی تک کچھ لوگ اس سے خوفزدہ ہیں لیکن میں سوچتا ہوں گا کہ یہ ایک بڑا فائدہ ہو گا! امریکہ کو اپنی ترقی کو یورپ میں روکنے کی پوری جگہ مل گئی ہے۔ اس سے برطانیہ اور ڈنمارک کو کمزور کیا گیا ہو گا اور وہ اپنی ترقی کے لئے ابھی بھی یورپ میں ہی رہن گے۔ اس منصوبے سے ایک نئی پلیٹ فارم بنانے کی کوشش ہو رہی ہے جس سے امریکہ اپنی ترقی کو مزید تیز کر سکتا ہے!
امریکہ کے صدر نے جو منصوبہ پیش کیا ہے وہ تو ہمیشہ سے خطرناک لگ رہا تھا... یہ تو یورپی ممالک کو اپنی خود ملازمت پر مجبور کر دے گا نہیں؟ برطانیہ اور ڈنمارک کو جانب سے 10 فیصد ٹیرف کے ساتھ ملازمت دی جائیگی تو یہ کتنے ممالک کو یقینی بنائے گا؟ گرین لینڈ پر قبضے کی بات کرنے والے امریکی صدر کو یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ یورپی ممالک میں بھی اپنی طاقت ظاہر کر رہے ہیں... لیکن یہ ان کی کھبے لینے کو نہیں آئیں گے...
امریکہ کے صدر ٹرمپ کو ایسا لگتا ہے کہ وہ اوروے یورپی ممالک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس سے پہلے وہ اپنے کاروبار کو ملازمت دینے کے لیے ایسا منصوبہ پیش کرتے ہیں جس سے یورپی ممالک کو ٹیرف پر لگایا جائے گا؟ یہ ایک نئی پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کر رہتے ہیں جس سے وہ اپنی معاشیات کو دروازہ سے بدلنا چاہتے ہیں، لیکن یہ ایک تھوڑا سا کچھ ہے؟
امریکہ اور اوروے کے مابین قائم کردہ تعلقات کا کوئی راز نہیں ہے، لیکن ٹرمپ کا منصوبہ ایسا لگتا ہے جیسے وہ یورپی ممالک کو ایک زبردست شہر بنانے کی کوشش کر رہتے ہیں جو انھیں اپنی خود مختاری سے محروم کر دے گا؟ اس کی پلیٹ فارم نہیں ہو سکی گے، یورپی ممالک کو ایسا لگنا پڑے گا کہ وہ اپنی اکائی میں رہ کر انھیں خوفناک نظر آئے گا۔
اکثر امریکہ کے صدر کو دیکھتے ہی یہ لگتا ہے کہ وہ ایک ایسا شخص ہیں جو لوگوں پر اپنی ترجیحات قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر اس نئے منصوبے سے یقین ہے کہ وہ یورپ کو ایک ایسا مقام پر لے جائے گا جہاں امریکہ کی ترجیح ہو گی۔ مگر یہ سچ ہے کہ پتا چلا ہے یہ منصوبہ کبھی بھی نافدہ ہونے والا ہو گا۔
امریکہ کے صدر بہت اچھی طرح توڑ رہے ہیں برطانیہ اور ڈنمارک کو ساتھ مل کر ہار کا نشان بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں। یوں یہ محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنے معاشی منصوبوں سے بچ نہیں سکیتے اور ان کے نتیجے میں یورپی ممالک کو نقصان پہنچتا ہے