بساط پھر بچھ گئی، ایران، امریکا کے درمیان کل مسقط میں مذاکرات ہوں گے | Express News

اس جوہری مذاکرات کا یہ فیصلہ توجہ ہی تھا، لیکن اب یہ سوچنا مشکل ہو گیا ہے کہ اس پر کوئی بات چیت کس سے حاصل کرنے کے لئے کی جائے گی؟ دنیا میں توجہ اور دباؤ ہوتے ہی پھونکے ہو جاتے ہیں، اور اب یہ سوشل میڈیا پر بھی چل رہا ہے، تو ایسے میڈیا کے اس کے لئے بھی کوئی معقول explanations ہو سکتی ہیں؟
 
امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات تو بالکل تو جہل کی بات ہے ، وہ سب ایک دوسرے کے ساتھ بہت کچھ کر رہے ہیں ، اور اب یہ بتا دیا گیا ہے کہ ان کا مذاکرات عمان میں ہوگا تو میرا خیال ہے کہ ایران کی جانب سے ایسا کیا جانے والا ہوگا تھا کہ اب وہی گalti se nahi karega ، اور یہ بات بھی چیلنجنگ hai ki ایران نے ان مذاکرات میں کوئی Regional Partner nahi karna ہی، to bas America ko Iran ke saath talk karni chahiye toh bhi to ye kuch bhi nahi hai.
 
وہاں تو اگر ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات عمان میں ہون گے تو یہ بھی ممکن ہے کہ ان کی بات چیت سہولت پاتی رہے۔ تاہم، یہ بات کبھی کبھار ہو جاتی ہے کہ وہاں سے بچنے کے لیے جو کچھ بھی کیا جاتا ہے اسی کی برکتی ہوتی ہے، حالانکہ اس میں توجہ ڈالنے سے پہلے ہمیں یہ بات چھپائی رہی کہ اس صورتحال میں کیا کیا ہوتا ہے؟
 
اس صورتحال کا جواب دہی دے رہے ہیں کہ ایران اور امریکا کی جانب سے جوہری مذاکرات کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے، لیکن اس میں ایک بات کو یقینی بنانا مشکل ہو گا کہ ایران کی شرائط پر عمل کرے گا یا نہیں؟ اگر ایران کو جوہری معاملات سے منسلک کیا جائے تو اس کی اہمیت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے، لیکن اگر کسی Regional Power کو شامل کرنا پڑے گا تو اس کی توجہ کھونے والی خطرناک بات ہوگی।
 
وہ کچھ کچھ پڑتال کرنا چاہتا تھا اور اب وہ آرہا ہوا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات ایسا ہی کیسے ہو گئے؟ یہ تو دیکھیں پھر وہوں سے پورا کچھ نکل آیا اور اب ان دونوں کی طرف سے جو کچھ کہا گیا ہے وہ کیسے ہوا؟ ایک بار فوری ٹوئٹ کرنے والے آگے آتے تو پھر دوسرا بھی آتے اور آخر میں وہوں سے سارے تذکرے کا خاتمہ ہوتا ہے اور اب وہیں کچھ نئی معلومات ملیں اور پھر کچھ کھو دیتے رہتے۔

اب اگر جوہری مذاکرات کو 10 بجے مسقط میں کیا جائے تو ایسا تو کیسے ہوا گئے؟ اس پر کچھ تفصیلات نہیں دی گئیں تو پھر آس پاس سے جو کچھ بھی کہا گیا ہے وہ کیسے ہوا؟
 
ایسا کیا ہو رہا ہے? پہلے کہیں ٹوئٹ کیئے جا رہے تھے وہاں اب اچانک توجہ ہر رہی ہے! یہو۔ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کی مہم نہیں کہیں ٹھہرتی، وہاں اب سے توجہ ہر رہی ہے اور پوری دنیا میں ڈبلینٹس کے جیسے بھی ڈبلو کیئے جا رہے ہیں۔ تو یہی نہیں، ایران نے ایک شرط رکھی ہے کہ مذاکرات میں کسی علاقائی شراکت دار کو شامل نہ کیا جائے اور بات چیت صرف جوہری معاملات تک محدود رہے۔ حالانکہ، یہ حوالے سے بھی کوئی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آ سکتی ہیں تو وہی تھا!
 
واپس
Top