بسنت فیسٹیول سےمتعلق اہم حکومتی فیصلہ سامنے آ گیا - Daily Ausaf

جگنو

Well-known member
محفوظ بسنت کا ایک نئا لمحہ پختہ ہوگا جس میں موٹرسائیکل سواروں کو اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے ایک نئی اہم مہم کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 6 فروری سے قبل ضلع لاہور میں ڈرائیویング کو بھی ایک خطرناک معاملہ قرار دیا گیا ہے، جس کے لیے محفوظ بسنت کی منصوبے کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

آزادی چوک پر قائم سیفٹی راڈ کیمپ میں موٹرسائیکلوں پر لگے تھے اور شہر کے محکمہ نشینوں کی موجودگی میں کام ہوا، جس نے لوگوں کو ایک ہدایات کی پیروی کرنے پر مجبور کیا۔

ہر سال 12 اکتوبر کو بسنت کا تہوار منायا جاتا ہے، جس میں شہریوں کے لیے ایک لامحالہ فرائض کی جانب سے اچھی طرح پہچانا گیا ہے۔ اس سال بھی نئی مہم شروع ہوئی، جس میں سیفٹی راڈز لگانے کے عمل کو تیز کرنا شامل ہے۔

باسنت کے تین روزہ تہوار کے دوران سڑکوں پر کوئی بھی موٹرسائیکل چلنے کی اجازت نہیں ہو گی، جس سے شہر میں ان کی رات پھونک اور تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

شہریوں کو یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ پتنگ اور ڈور کی فروخت کے لیے انھیں ایک خاص معاونت حاصل کرنے سے وعدہ کیا گیا ہے۔ اس عرصے میں شہروں میں بائیکرز کے تحفظ کی بنیاد رکھی گئی ہے، جس کے نتیجے میں انہیں سڑکوں پر چلنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

بائیکرز کے لیے محفوظ رہائش کو یقینی بنانے کے لیے ایک خاص مہم شروع ہوئی ہے، جس میں آگاہی اور ایجنسیوں کے عمل کے ذریعے ان سے محفوظ رہائش حاصل کرنے کی کوشش کیا جاے گا۔
 
اس سال کی بسنت میں نئی مہم شروع ہونے پر مجھے یہ بات بہت اچھی لگ رہی ہے کہ لوگ اپنے موٹرسائیکلوں کو ایک سے کم بھی دूर لانے والوں کی جان و مال کے خلاف آواز ہونے دی جائے। محفوظ بسنت کی مہم نے موٹرسائیکلوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک خاص توجہ دی ہے، جس کا مقصد ان کے ساتھ شہر کی رواجی سڑکوں پر چلنے کی پابندی لگانا ہے।

اس میں سیفٹی راڈز لگنا بھی شامل ہے، جو ایک ایسا نظام ہو گا جس سے موٹرسائیکلوں کے ساتھ شہر کی جان و مال کو سہارا ملے گا۔ اس مہم میں بھی لوگوں کو ایک خاص معاونت دی گئی ہے، جس میڰ ان کو پتنگ اور ڈور کے لیے سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ یہ ایک بہترین کوشش ہے جو شہر میں موٹرسائیکلوں کے ساتھ رات پھونکیوں اور تباہی کو روکنے میں مدد فراہم کرے گی۔
 
بسنت کا یہ تہوار ہر سال ایک اچھا موقع ہوتا ہے جس پر لوگ ایک دوسرے سے مل کر اور سڑکوں پر چلنے والوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے آئندہ توجہ دی جائے 🚲. اس سال بھی نئی مہم شروع ہوئی ہے جو 12 اکتوبر سے شروع ہونے والا ایک لامحالہ فرائض ہے جس کے ذریعے سڑکوں پر بائیکرز کی رات پھونک اور تباہی سے نمٹایا جا سکتا ہے 🌃. شہروں میں محفوظ رہائش کو یقینی بنانے کے لیے ایک خاص مہم شروع ہوئی ہے جو آگاہی اور ایجنسیوں کے عمل سے بائیکرز کی محفوظ رہائش حاصل کرنے کی کوشش کرے گی 🚨.
 
میں بھی تھوڈی سال پہلے ایک بائیڈل اور بیکر چالو تھا، جب میرے ساتھ ایک موٹرسائیکل سوار ایسا کچھ کر رہا تھا کہ میں ان سے پھونکن لگا دیا تھا اور اس نے مجھے ایک کثرت ہوا ہوئی گولیاں مار دیاں تھیں...اب ایسے لوگ نہیں رہتے، لیکن پھر بھی لوگوں کی آدتیں رہتی ہیں کہ وہ اپنے ہاتھوں سے آپ کو گولیاں مار دیں...میں محسوس کرتا ہoon کہ محفوظ بسنت کی ایسی مہم اچھی ہوگی، جب لوگ اپنی جان و مال کو محفوظ بنانے کا خیال کریں...
 
🚨 بسنت کا ایک نئا لمحہ آ گیا ہے، جس میں موٹرسائیکل سواروں کو اپنی جان اور مال کی حفاظت کے لیے ایک نئی مہم کی ضرورت ہے۔ 6 فروری سے لاہور کے ضلع میں ڈرائیویング کو بھی ایک خطرناک معاملہ قرار دیا گیا ہے، اس لیے محفوظ بسنت کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

بے شک یہ تہوار ہمارے شہروں میں ایک لامحالہ فرائض کا ایک اہم پہلو ہے، اور اس سال بھی نئی مہم شروع ہوئی ہے جس میں سڑکوں پر کوئی موٹرسائیکل چلنے کی اجازت نہیں ہوگی، اس سے شہر کا رات پھونک اور تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لیکن یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ پتنگ اور ڈور کی فروخت کے لیے شہروں کو ایک خاص معاونت حاصل کرنے سے وعدہ کیا گیا ہے، جو بائیکرز کے تحفظ کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اب یہ منصوبہ محفوظ رہائش کو یقینی بنانے کے لیے شुरوعت کر رہا ہے۔
 
اللہ تعالیٰ! یہ تازہ ترین.statistic्स بھی مل گئی ہیں! موٹرسائیکل سواروں کے لیے ایک نئی مہم شروع ہوئی ہے اور اب تک 6 فروری کو ڈرائیویング کو بھی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ 🚨

ان.statistic्स کے مطابق سال 2022 میں لاہور میں موٹرسائیکل سواروں کی گیند 12 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ تھی! اور ان statisticss کے مطابق 1 لاکھ 25 ہزار موٹرسائیکلوں میں سے 10 فیصد پہلی بار چلنے والے ہیں۔

ان statisticss کے مطابق 2022 میں 12 اکتوبر کو بسنت کا تہوار منایا گیا تو اس وقت 15 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ لوگ شہر میں رات پھونک کی وجہ سے گھروں سے باہر نہیں آئے تھے! اور ان statisticss کے مطابق 2022 میں 12 اکتوبر کو ایسے موٹرسائیکل بھی دیکھے گئے جس پر رینج کی نہیں تھی! 😱

تازہ ترین chart्स کے مطابق شہر میں موٹرسائیکل سواروں کے نمبر 5 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ ہو گا! اور یہ statisticss ان statisticss کو بھی تازہ کر دیں گی جس کے مطابق سال 2022 میں لاہور میں موٹرسائیکل سواروں کی پیداوار 12 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ ہوئی تھی! 🚲
 
یہ بات کھینچنی مشکل ہے، موٹرسائیکلوں پر پابندی لگانا، لیکن یہ بھی قابل کوشش ہے کہ لوگ اپنی جان و مال کی حفاظت کرتے ہیں. بسنت کا تہوار ایک گزشتہ سال سے نئی اہمیت حاصل کر رہا ہے، اب شہروں میں بھی لگن ہونے لگی ہے. بسنت کے دوران سڑکوں پر کوئی بھی موٹرسائیکل چلنے کی اجازت نہیں دی جائی گئی، یہ ایک نئا لمحہ ہوگا.

اس بات پر توجہ دینا ضروری ہے کہ موٹرسائیکل سواروں کو بھی ان میں شامل ہونا چاہیے، وہ اپنی جان و مال کی حفاظت کرتے ہیں، اس لیے انہیں بھی ایک خاص مہم کا سامنا کرنا پڑے گا.

لگتا ہے کہ یہ بات سچ ہو گی کہ شہروں میں ان کی رات پھونک اور تباہی کو روکنے میں مدد ملے گی.

انشا اللہ یہ محفوظ بسنت کے تہوار کا ایک نئا لمحہ ہوگا جو شہروں کو سہی رہنے پر مجبور کرتا ہے.
 
اس مہم سے پہلے بھی ڈرائیوینگ پر ہجوم تھا، اب تو یہ بات واضح ہو گی کی یہ محفوظ بسنت کا ایک چیلنج ہے اور شہریوں کو اپنے سامان لے کر آگے بڑھنا پڑے گا... میرے خیال میں یہ محفوظ بسنت نہ صرف موٹرسائیکل سواروں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے ہی ہے بلکہ شہر کی آگاہی اور ایجنسیوں کو بھی اس ماحول میں لانے کے لیے ہے... یہ دیکھنا ہو گا جیسا کہ شہر نے ابھی تک کیا ہے اور شہری ایسے کروڈاں کی اہتیاطی سے سڑکوں پر آتے ہیں... 😏
 
ایک نئی مہم شروع ہوئی، جس میں یہ بات بھی بتائی گئی کہ موٹرسائیکل سواروں کو اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے ایک نئی مہم کا سامنا کرنا پڑے گا... یار، یہ تو لاجت ہے کہ شہر میں سڑکوں پر کوئی بھی موٹرسائیکل چلنے کی اجازت نہیں ہوگی... حالات ایسے آگے بڑھتے جao گے کہ شہر میں پھونک و تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا... لیکن یہ بات یقینی ہے کہ لوگ اس مہم پر بہت محرک رہیں گے... یا تو انھیں ایک نئی پٹنگ بیچنے سے آپڑا ہوگا یا دوسرا اس کے خلاف لڈا کرے گا... 🤣
 
واپس
Top