لاہور میں بسنت کی تیاریاں اپنے عروج پر، چار روز میں ایک رب 22 کروڑ سے زائد کی ڈور گڈی فروخت ہوچکی ہیں۔
مملکت فیضان احمد نے بتایا ہے کہ چوتھے روز میں مارکیٹس میں 68 کروڑ کی خرید و فروخت ہوئی، جس سے گزشتہ تین روزوں میں ایک رب 22 کروڑ کی ڈور گڈی فروخت ہوچکی ہے۔ اس طرح مارکیٹس میں 10 لاکھ سے زائدگڈے پتنگیں فروخت ہوئی ہیں اور چوتھے روز 20 ہزار سے زائد پنے بھی فروخت ہوئے۔
ترجمان کے مطابق ڈیڑھ تاوا گڈا 700روپے، ایک تاوا 400 روپے اور پونا تاوا 300 روپے میں فروخت ہوتے رہتے ہیں، جبکہ 2 پیس کاپنا 12 سے 15ہزار کا بھی فروخت ہو رہا ہے، چوتھے روز پتنگوں کے ریٹ میں اضافہ کیساتھ دستیابی بھی رہی۔
ایسے میں پہلے روز 16کروڑ روپے، دوسرے روز 18کروڑ روپے جبکہ تیسرے روز 20 کروڑ روپے، چوتھے روز 68 کروڑ کی خرید و فروخت ہوئی۔
اس سال فیضان احمد کا مہو ایسا لاکھ لاکھ روپے سے لے کر کر 22 روپے تک گڈی فری ہے، لیکن یہ بات تو نہیں کہ لوگ اس میں پیسے انkaar کیا رہتے ہیں… دوسری بات یہ کہ پچھلے عیسوی سال میں بھی دیکھا گیا تھا کہ کتنے نچکے گڈے پتنگوں کی فروخت ہوتی رہتی ہے، اور اب یہ بھی وہی معاملہ ہے۔
لاہور میں بسنت کی بہت ساری عجائب دکھائی دے رہی ہیں، چار روز میں ڈور گڈی فروخت ہونے کا یہ اہلقیت ہے، تو اس کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ بھی ہے جس کی وجہ سے لوگ پتنگوں کو بھی بہت زیادہ فروخت کر رہے ہیں، یہ بھی ایک گھناسٹی کی صورت ہے جو 10 لاکھ سے زائد گڈوں کی فروخت کر کے مارکیٹ کو پتنگوں میں اچانک دیرپا نقصان ہوا ہے، یہ بھی ایک نئی چوتھائی ہوگا جس سے گھر کی تلاقی کے لیے ایک نئی پٹنگوں کا رواج پیدا ہوگا۔
اس دuniya میں سب سے زبردست ایکسپریشن کیا گیا ہے؟ اس وقت کے بسنت کی تیاریاں بہت تیز ہو گئی ہیں، اور یہ 22 کروڑ روپے سے زیادہ کی ڈور گڈی فروخت ہونے کے بات چیت سے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ ایسی نہیں کہ لوگ بھاگ پہنچ رہے ہیں، بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ اس ماحول میں لوگوں کی اور اس کے ساتھ ملنے والی معیشت کا تعلق ہے۔
بسنت کی راتوں میں ڈور گڈی فروخت کرنے والوں کا یہ روپوشی اچھی طرح سے تازہ ہونے لگی ہے، لیکن اس کی سہولت سے گزشتہ ماہ میں بھی ایک چوٹی دیکھنے کو ملتی ہے کہ اس سے لوگ اپنی اچھی جائیداد بھی پتنگوں میں فروخت کر لیتے ہیں، ایسا تو کرو۔
لگتا ہے بے پناہ کہ لاہور میں بسنت کی فریڈوم لائیس سے زائد لوگ ایک رب 22 کروڑ کی ڈور گڈی خریدنے کی پھوری میں ڈوبتے ہیں، یوں تو یہ بھی بھرپور بات ہے لیکن جب بھی یہات ہوتا ہے تو ایک دوسرا اچھی طرح پتہ چلتا ہے کہ لوگ صرف اپنی لذت میں گاڑی خریدنے پر اس طرح کا تین دن کا کھیل کرتے ہیں، یوں کہ پہلے دن 16کروڑ روپے، دوسرے روز 18کروڒں روپے اور تیسرے دن 20کروڑ روپے کی خرید و فروخت ہوئی، اس کے بعد ایک رب 22 کروڑ کی فروخت ہوگئی، یہاں تک کہ چوتھے روز بھی 68کروڑ کی خرید و فروخت ہوئی، وہ لوگ جو بھاگتے ہیں انہیں پٹنگوں میں ایسا اچھا فائنڈ کرنا ہوتا ہے کہ یہی ان کے دہم کی بھرپور جگہ بن جائیں، مگر یہ بات تو ہمیں سب پرحضرت جانتی ہے...
یہ بہت اچھا پہلو ہے کہ لاہور میں بسنت کی تیاریاں بڑھ رہی ہیں، مگر یہ بات کھل کر کہے جائیے کہ کس طرح ایک رب 22 کروڑ سے زائد گڈیاں ایک چوتہے روز میں فروخت ہوتی ہیں، یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس کی پچھلے تین روزوں میں فروخت کی تعداد بھی اچھی ہے مگر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے، کیا اس سے یہ منصوبہ ملک بھر میں دوسرے شہروں میں بھی اچھا کھل جائے گا یا نہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ ڈور گڈی فروخت کی بھرپور ترجاح نے اپنے بعدوں کو دیکھنا ہوگا۔ لیکن اگر میں اس بات پر پھیروں تو، کیا یہ صرف ایک عادت بن جائے گی جو چلتی رہے؟ کیا ہمیں اپنی ایسی آدٹوں کی طرف گنجایا گیا ہے جو ہماری زندگی کو اس مقام پر لے رہی ہیں جہاں ہمیں ایسے بھی چاہئے اور ایسے سے جینا چاہیں؟
ایسا لگتا ہے کہ بھارت کے ساتھ ہونے والے تجارتی معاملوں میں پاکستان کو ایک خاص فیصلہ دینے کی پوری تلاشی نہیں کررہا ہے۔ یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ اس معاملے میں پاکستان کا ایک خاص فیصلہ اٹھانا پورے ملک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
یہ دیکھنا میرا بہت خुश کرتا ہے کہ لاہور میں بسنت کے ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور لوگ اس معاملے میں دلچسپی لے رہے ہیں، ابھی تک گڈیاں نہیں تھیں تو اِدھر اُتھر سے لوگ ایک دوسرے کی پتنگی خریدنے لگپگ رہتے ہیں اور اب یہ 10 لاکھ سے زیادہ گڈیاں فروخت ہو چکی ہیں تو یہ بھی ایک جسمانی علامت ہے کہ میٹرو یا شہر کی ڈیزائن مینز نے اپنی نئی پالیسی سے لوگوں کو متاثر کیا ہے، میرے خیال میں یہ رائے تو خبث پر بھی لگتی ہو جس کی وجہ سے ان لوگوں نے ایک دوسرے کی پتنگی خریدنی لگپگ رہنا شروع کیا ہے حالانکہ میری یہ رائہ اس معاملے کے بارے میں ہی نہیں، لہذا یہ تو ایک خुश کن بات ہو گی اور وہ لوگ جو ابھی تک گڈیاں نہیں خریدتے تھے اُن کا دیر سے آ جानا چاہئے ۔
میں تین روزوں میں گڈی فروخت کرنے والے مارکیٹس سے اچھا لگ رہا ہے، 18 کروڑ روپے کے بعد دوسرے روز 20 کروڑ روپے خرید و فروخت کیا گئا تو میرا یہ محسوس ہوا کہ اس میں ایک اضافہ رہا ہے، اور اب 68 کروڹ روپوں کی خرید و فروخت ہونے سے گھننے والی بیداری ہوئی ہے، ایک رب 22 کروڑ سے زائد کی ڈور گڈی فروخت ہونے سے میں بھی اچھا محسوس کر رہا ہوں
[ਡਾਇاگرام: ہر روز کی ایک رب 22 کروڑ سے زیادہ ڈور گڈی فروخت ہو رہی ہے]
بیتے رہنے نہیں گا یہ بیکار چلائیں...! لاہور میں ایسے کھراب گڈی فروخت کی کوئی حد نہیں ہے، اب تک سترہ کروڑ روپے سے زیادہ ڈور گڈی فروخت ہوئی ہیں...! ایسا جیسا لوگ گڈی بھی بنائے تو اتنی آسانی سے بچنے کے لیے سافٹویئر میں اہلیت کا ساتھ نہیں ہوتا...!
[ਅਸੈمبل'd ڈور گڈی]
اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ گڈی کی دیکھ بھال کو لگاتار آہستہ آہستہ کم کر دیا جائے...! اور اب میں اس بات پر متفق ہو گیا ہوں کہ اگر کسی گڈی کی دیکھ بھال نہ کی گئی تو اس میں ساتھ ہی کروڑ روپے کی کھرابیاں رکھی جائیںگی...!
[ਕروڑ روپے کا نشان]
اس لیے، لوگوں کو اپنی گڈی دیکھ بھال کرنا چاہئے اور اس لیے ڈرائیونٹ میں سافٹویئر کو بھی دیکھ لینا چاہئے...!
لندن یا لاہور میں بھی ایسا ہی ہوگا کہ لوگ اپنے گاڑی چاہتے رہتے ہیں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ چاہتے ہوئے گاڑیوں کو خریدتے ہیں اور پھر وہ کس قیمت پر فروخت کر رہے ہیں، یہ بھی ایک ایسی صورتحال ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ لوگ اپنے پیٹوں پر گاڑیاں چاہتے رہتے ہیں اور اس کے علاوہ کچھ نہیں، یہ سب میڈیا کے ذریعے بھی ظاہر ہوتا ہے جو لوگوں کی پیٹ پر گاڑی چاہنے کی وہ عادت کو دکھاتا ہے، یہ ایک بے حیرانی کن بات ہے نا کہ لاکھوں لوگ اپنی جائیدادوں میں گاڑی چھپای رکھتے ہیں اور اس لیے وہ پہلے روز سے بڑھ کر آج تک کروڑوں روپے میں ایک رب 22 کروڑ کی گاڑیاں بھی فروخت ہوئی ہیں، یہ بھی بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس پوسٹ پر کوئی سواہ کہی نہیں گی۔
اس نئے سال سے بھرپور اچھائیاں ملا رہی ہیں! لاکھوں لوگ ان نئے سال کے عروج میں رہنے والے پتangiں ڈور گڈی کی خرید و فروخت کر رہے ہیں، یہ بھی آباڑی کا ایک اچھا سینیما ہے! 10 لاکھ سے زائد گڈے پتنگوں کی فروخت ہوئی ہیں، یہ تو اس نئے سال کو اچھا کہلا رہا ہے! اب تک کے ماحول میں ایک ٹن گڈا بھی فروخت ہوا ہوگا، یہ واضح طور پر اس نئے سال کی بھرپور اچھائیاں ہیں!
اس میں یہ بات کا کوئی نتیجہ نہیں چلتا کہ لاہور میں لوگ اتنا پیار کر رہے ہیں کروڈ روپوں میں ڈور گڈی؟ یا تو یہ ایک پورے عہد کی بدطرفیت ہے اور یا تو اس نے لوگوں کو ساچ کہنا ہوگا کہ ہمیں ایسے معاملات میں وقت دेनا چاہیے جیسا کہ ڈرامے اور فلمز میں پریشان کیوں نہیں ہوتی؟
اس وقت گڈیاں بھی ایسے بہت سارے لوگوں کو مل رہی ہیں جیسے میٹرو یا ٹیکسی کے چاہنے والے اس سے محفوظ اور فوری ہونے کی وجہ سے، مگر یہ بات بھی دکھائی دیتی ہے کہ ایسے گڈیاں جو پچیس روپے میں فروخت ہوتی ہیں وہ اب بھی زیادہ معیشت کی مدد کر رہی ہیں، اس کا مطلب ہوتا ہے کہ جس گھر میں 5 روپے سے 15 ہزار کے گڈے مل رہے ہیں وہ گھروں کے لیے یہ ایک بڑا معاشی حقدار تھا، اب یہ گڈے اور معیشت دونوں کی طرف سے کئی لاکھ روپوں میں مینج ہوئی رہتی ہیں۔
سکوا 22 لاکھ پر اس پلیٹ نہیں بیت رہی! مینے دیکھا ہے گڈیاں ایک روز میں تین کروڑ کی اور اگلے دن سات کروڑ کی فروخت ہوتی ہیں، چوتھے روز 68 لاکھ کو بھی ملا رہا ہے! پتنگوں کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا تو یہ کیسے ممکن ہو گا؟ پنا اور گڈیاں میں اضافی فیشنل ایکسٹینشنز، مینے دیکھا ہے ان میں بھی اضافہ رہا ہے!
بسنت سے قبل گڈیوں کی فروخت میں تقریباً ایک رب 22 کروڑ تھا اور اب یہ تعداد چار روز میں ایکرب 22 کروڹ سے زیادھی ہو چکی ہے، اس طرح مارکیٹس میں 10 لاکھ گڈے بھی پتنگیں فروخت ہوئی ہیں اور چوتھے روز 20 ہزار سے زیادھ پنے بھی فروخت ہوئے، یہ بات نچوڑنے والی ہے کہ مارکیٹس میں ایک روپے سے لے کر دو لاکھ رupoں تک گڈیوں کی فروخت ہوتی رہتی ہے، آج بھی پتنگوں کے ریٹ میں اضافہ ہوا اور دستیابی ہوئی۔
ایکرب 22 کروڑ کی فروخت ایسی بات ہے جس سے گاڑی دوسرے شہروں میں بھی مارکیٹز پر فोकس دیا جائے گا اور یہ تعداد آگے بڑھنے کی prospects ہیں!
میں توجہ رکھتا ہوں کہ یہ چار گڈی فروخت کی روزگار نہیں لیکن کیا اس میں کس کو فیصلہ ہوا کہ پتنگوں کی کمی کیسے توڑ دی جائے؟ اب 10 لاکھ سے زائد گڈی پتangiں فروخت ہوئیں اور چوتھے روز 20 ہزار سے زائد پنے بھی فروخت ہوئے! یہ کہنے کا کام ہے کہ پتنگوں کی قیمتیں تیزی سے Badh rahi hain, kya yeh safalta hai?