بسنت تہوار کی خوشیاں امیر شوقین مزاج تک محدود، غریب محروم

جس جگہ اس سال بچنڈا بسن کیا گیا تھا وہیں آج ڈیرے نہیں تو پتنگوں نہیں خریدنے والے ملک میں غریب لوگوں کو بھی دکانداروں کا تناور تھا۔

انچارے اور گڈے کی قیمتوں میں بدلتے ہوئے معاشی حالات نے ملک بھر میں شہریوں کو اپنی جانب سے بلا و لہرے ہوئے فخر کا شکار کر دیا تھا۔ وہیں جس جگہ اس سال ڈیرے خریدنے والوں کو بچت کے ساتھ معاف چhodنا پڑا تھا، اسی طرح ایک ہزار سے پندرہ سو تک پتنہڈی گزرنے لگی اور اس کی باقی قیمتوں میں بھی بدلتے ہوئے معاشی حالات نے شہریوں کو اپنی جانب سے فخر کا شکار کر دیا تھا۔

شہر کی دکانداری نے ایسا ہی منظر پیش کیا جیسے اسی سال کچھ ڈیرے خریدنے والوں کو معاف چODنا پڑتا تھا اور اس طرح شہری ملک بھر کے غریب لوگوں کو بھی اس منظر سے محروم رہنے کی تشہیر دی جارہی ہے۔
 
یہ تو اچانک ہوا ہو گیا ہے کہ دیرے کھرے خریدنے والے ملک میں بھی غریب لوگوں کو ان کی جانب سے پتنگوں بھی خریدنا پڑ رہی ہیں 🤯 اور وہاں جس جگہ معاف چودنے والوں کے لیے بچت بھی ملتی تھی اب وہاں پتنے کی قیمتوں میں بھی بدلتے ہوئے معاشی حالات نے شہریوں کو اپنی جانب سے فخر کا شکار کر دیا تھا جیسا کہ اس سال دیرے خریدنے والوں کو بھی معاف چودنا پڑا تھا 🤑 مگر یہ کیسے ممکن ہو گا کہ شہر کی دکانداری نے ایسا منظر پیش کیا ہو جس سے غریب لوگوں کو بھی محروم رہنے کی تشہیر دی جا سکے؟ یہ تو بہت غیر معقول ہے
 
اس نئی دuniya میں یہ کہا جانا چاہیے کہ غریب لوگ اور فلاں پھلانے والے دکاندار بھی ایسے ہی ہوتے ہیں نہیں؟ یہ بھی کہا جانا چاہیے کہ غریب لوگ اپنی معیشت کی وکھ وکھ گلیوں سے نمٹاتے ہیں اور دکاندار بھی ایسے ہی ہوتے ہیں جو ان کے لئے فائدہ مند ہو۔ یہ وہ معاملہ نہیں کہ دکاندار کتنی زیادتی سے کام کر رہے ہیں یا کتنی قیمتوں میں بدلتے ہوئے معاشی حالات سے فخر کا شکار ہوگئے ہیں۔
 
🤯 یہ وہ صورتحال ہے جس نے مجھے بھی انچاہٹ سے لایا ہے، دکانداروں کی دیکھ بھال کا ایسا ماحول جو اس سے قبل ڈیرے خریدنے والوں کو معاف کر رہا تھا اب غریب لوگوں کے لئے اس طرح کا ہی منظر پیش کیا جارہا ہے۔ یہ ہمیں اپنی زندگی کی توقع سے پہلے کے بھرے رنگوں میں ڈوبنے پر مجبور کر رہا ہے، مجھے لگتا ہے کہ اس صورتحال نے دکانداروں کو ایسا سیکھنا ہی نہیں دیا ہے کہ وہ شہری فخر کی توقع سے زیادہ ہمیشہ اپنی جانب کھیلنے میں کامیاب رہیں، اور اب غریب لوگ اس طرح کا ایسا تجربہ کرنے کو مجبور ہو رہے ہیں جس سے وہ خود اپنی زندگی کی توقع سے پہلے کے بھرے رنگوں میں ڈوبتے دیکھ رہے ہیں۔
 
یہ گہری گaltiyan ہیں! پٹنگوں کی قیمتوں میں بدلتے ہوئے معاشی حالات سے شہروں میں دکانداروں کا تناور ہونے کا مظاہر ہوتا ہے. یہ بھی دیکھنے کو ملا ہے کہ ایسی طرح کی گaltiyan سے Poor اور فقرا لوگ بھی پتنگوں کی قیمتوں میں بدلتے ہوئے معاشی حالات سے محروم رہنے کی شراکت کر رہے ہیں. کیا ان کا فخر اس کی پٹنگوں پر لگتا ہے؟ ہمارے ملک میں غریب لوگوں کو بھی ایسی دکانداری کا شکار کرنا چاہیے? 🤦‍♂️
 
چلو چاہیئے ایسا منظر کس نے پیش کرایا ہو؟ پتنگوں اور ڈیرے دونوں خریدنے والوں کو معاف کر دیا گیا تھا، اب وہیں غریب لوگوں کو بھی یہ منظر پیش کیا جارہا ہے؟ جب تک کہ شہر کی دکانداری نے ایسا ہی منظر پیش کیا جیسے ایک ڈیرے خریدنے والوں کو معاف کرنا تھا، اب یہ ہمیشہ اسی طرح کا منظر پیش کرتا رہے گا؟ یہ بھی ایک چٹان ہے نا؟ 🤣
 
میں تو اس بات پر مکمل طور پر ایک ایم تھا کہ دکانداری میں کسی نہیں نظر آتا بلکہ پتنگوں کی قیمتوں میں بدلتے ہوئے معاشی حالات نے لوگوں کو بھرپور فخر کا شکار کر دیا تھا۔ اب جب دیرے خریدنے والوں کو ایک دفعہ معاف چODنا پڑتا ہے تو یہ تو دکانداری کی ایک نئی جانپھر ہے۔

مری opinion میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ شہر کی دکانداری کی دھول اچھی طرح پھیل گئی ہے اور اب غریب لوگ بھی اس منظر کو اپنی جانب سے محروم رہنے کی تشہیر کرنے والے تھے۔

میں یہ کہتا ہوں گا کہ جس طرح ڈیرے کے معاف ہونے سے شہر کی دکانداری کو ایک نئی جانپھر ملی ہے وہیں اس نئی جانپھری مگر دیکھنی کے لیے یوں ہੀ ہے کہ دیرے خریدنے والوں کو ایک دفعہ معاف کرنا پڑتا ہے۔
 
ایسا تو دیکھنا پڑا ہی کہ ماہرین معاشیات نے اس معاملے کو غلط سے سمجھ لیا ہے، شہریوں نے ڈیرے خریدنے والوں کے بعد بھی ملاپ سے محروم رہنے کی تشہیری دی اور اب غریب لوگوں کو بھی یہ معاملہ نظر نہیں آ رہا، دکانداروں کا تناور ہی ابھی ملاپ سے محروم شہروں میں دیکھنا پڑ رہا ہے۔
 
بلیو! یہ تو انساف نہیں ہوا، اس کے بجائے دکانداروں کو دیکھ کر میرا دل تو ڈرپ ڈرپ ہو رہا ہے. پتنہڈی بھی اب ایسے عالمی معاملے کی طرح ہو گئی ہے جیسے اس کے ساتھ بھی بہت سے لوگ دکانداری میں شامل ہونے کا مقصد رکھ رہے ہیں. میرے خیال میں اب یہ دیکھنا بہتر ہے کہ کسی نے بھی ایسا معاملہ نہیں کیا جس سے ان کا لاکھ پینس کیا۔
 
اس سال دیرے خریدنے والوں کو معاف چودنا پڑتا تھا اور اب وہیں لوگ نہیں دیکھ رہے؟ اس سے قبل غریب لوگ دیرے خریدتے ہیں، اب یہ دیکھنا کہ ان کو بھی معاف کر دیا جائے وہاں تک نہیں ہوا؟ اور پتنہڈی کی قیمتوں میں بدلتے ہوئے معاشی حالات کے ساتھ شہریوں کو فخر کا شکار کر دیا جارہا ہے، ایسا تو نہیں ہوا، یہ دیکھنا ان لوگوں کی حقیقت ہے جنہیں پورے ملک میں معاف کر دیا گیا ہے۔

دیرے خریدنے والوں کو معاف چودنے کے باوجود ابھی بھی لوگ اپنی جانب سے لہرے ہوئے فخر کا شکار ہیں، یہ کیسے ہوا؟ اس سال دیرے خریدنے والوں کو معاف چودنا پڑتا تھا اور اب وہیں نہیں ہیں؟ مگر ان کی حقیقت کیا ہے؟

اس سے قبل شہر کا ایک منظر جو دیکھنا پڑتا تھا، اب وہیں کچھ اور منظر پیش کیا جارہا ہے، اس سے غریب لوگوں کو بھی معاف کر دیا گیا ہے۔
 
بچنڈا یہیں تھا کہ اس سے پہلے بھی دکانداری کی دھول ہمेशہ بہت ہے ……🤑
اس سال تو یہ چٹان مچ گئی تھی …….
یہ سب اس لیے کہ ملک بھر میں معاشی حالات بدلتے رہے اور شہری اپنے فخر کا شکار ہو گئے …. ایسا تو دیکھنا ہی نہیں تھا ……
شہر کی دکانداری کے لیے یہ سب ایک بہت ہی جائیداد ہے …….
 
اس دuniya mein kitni baatein hain jiske peechhe se humein sachay ka faisla karna padta hai, aur yah kehna mushkil hai ki kahan par hum apne maqasid ko poora kar sakte hain? tabhi wahan humein apne khud ke haqikat ko dekhana chahiye. aaj kal duniya mein dukaano ka manoranjan karti hai, lekin uss manoranjan se kya milya hai? agar log dukaanon par jaakar kitni maangs kar rahe hain, toh wahan se koi bhi maqasid nahi mil rahi. yah ek achi baat hai ki shaharon mein choti choti cheezon ki zaroorat ho, lekin ussar ke peeche se humein sachay ka faisla karna chahiye.
 
اس وقت پتنے کی قیمتوں میں ایسا تبدیلی ہو رہی ہے کہ یہ شہر میں بھی اس طرح ہو رہا ہے جیسا کہ پچھلے سال ڈیرے کی خریداری سے محروم ہونے والوں کو اب بھی یہ شہر میں دکانداروں کا تناور مل رہا ہے۔

اس لیے میں اس بات پر疑ہ خیز ہوں گا کہ ڈیرے خریدنے والوں کو معاف چھوڑنے والے شہر کی دکانداری میں ایسا منظر پیش کیا جارہا ہے جو اس بات کی اشارہ دیتا ہے کہ اب بھی شہری غریب لوگوں کو بھی دکانداروں کا تناور لگ رہا ہے۔
 
اسے دیکھنا بھی گھبرا ہوا ہے کہ ایک ہزار سے پندرہ سو تک پتنہڈی کی قیمتوں میں ایسے کچھ بدلتے ہوئے معاشی حالات نے شہریوں کو اپنی جانب سے فخر کا شکار کر دیا ہے جو اس سال بچنڈا تھا اور ایسا ہی دیکھ رہے ہیں کہ غریب لوگوں کو بھی یہ فخر نہ مل پائے گا۔

ماں جب وہ اس سال ڈیرے خریدنے والوں کو بچت کے ساتھ معاف چودتی تھیں تو اس دوسری جانب غریب لوگوں کی ایسی منظر پائی گئی جیسے وہ دوسرے سال اسی طرح معاف نہ ہون۔

یہ دیکھنا بھی کچھ تھاڑا اچھا نہیں، یہ شہری جو ایسے معاشی حالات سے فخر کر رہے ہیں وہ پتنگوں کی خریداری کے لئے پتنہڈی میں بھی تناور ہیں۔
 
بھول نہیں جائے کہ ڈیرے خریدتے ہوئے لوگ ایسے جگہوں پر بھی رہتے تھے جنہیں اس سال ڈیرے پاتا تھا اور اب وہاں کبھی کبھر پتنہڈی بھی نہیں ملتی۔ یہ ایک بدتے معاشی حالات کی بات ہے جس میں لوگ اپنی جانب سے فخر کر رہے ہوں اور اب وہاں کبھی پتنہڈی بھی نہیں ملتی۔ یہ ایک دکانداری کا منظر ہے جو لوگوں کو محروم رہنے کی تشہیر دی رہی ہے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ شہر کی دکانداری میں ایک طرح کا فرق نہیں ہوا ہے۔ جس جگہ پتنے خریدنے والوں کو معاف چودنا پڑتا تھا، اسی طرح دوسری جگہ غریب لوگوں کو بھی معاف نہیں کیا گیا ہے۔ یہ ایک دھارمک عمل ہو رہا ہے جس سے شہری ایک طرف فخر کرتے ہوئے دوسری طرف گریبان ہیں۔
 
اس وقت کچھ لگتا ہے جیسے کہ دکانداری میں کچھ بدلتا ہے، پتنہڈیاں اور دیرے کی قیمتوں میں معاشی حالات کے تانے بانے پر غلبہ رکھیں ہوئی ہیں اور غریب لوگ بھی اس نئی شہر کا حصہ بننا چاہتے ہیں لیکن یہ دیکھنے میں ہمت نہیں ہو رہی...
 
واپس
Top