حضرت محمد ﷺ کی معراج کے سفر نے انبیاء کے سفر میں سب سے عظیم مقام حاصل کر لیا ہے، آپ ﷺ کو جس طاقت اور جگہ پر پہنچایا گیا وہی اِس دُنيا میں بھی کائنات کو محفوظ رکھنا ہے۔
جب شہر عرش کی طرف سفر کیا گیا تو ایسے اہل خلوص کے عذریوں نے ہجوم میں اپنے مقام پر فائز ہونے کی دعا کی جس کی مقامی حوالہ کی گئی تھی وہی حوالہ ہیں جو اِس عرش کی تعمیر کا باعث بن رہے ہیں۔
جہاں کائنات کو محفوظ رکھنی کی طاقت حاصل ہو سکتی ہے وہی مقام وہی جگہ ہوتا ہے اِس لئے اس عرش پر سرتاج الانبیا ﷺ کو تنہا داخل کر دیا گیا تھا، جبکہ کائنات کی محفوظ رکھنے کی طاقت بھی وہی مقام پر حاصل ہوتی ہے جہاں اُسے پہنچایا گیا ہو۔
عشقِ ذات ﷺ کی عجائب و تجلیات کے لیے ایک تخت بھیجا گیا جو اس عرش کو تھام دیتا تھا اور اس پر سرتاج الانبیا ﷺ کا سفر ہوتا تھا۔
سیدالملائکہ اور انبیاء کے ساتھ مل کر اس کے سامنے قدم رکھتے تو اس کی عرصہ و خواہش کو پورا کرنے والی طاقت میں ہوتا تھا، جیسے کہ اِس عرش سے ملازمت میں رکھے جانے کے بعد یہ کائنات کو محفوظ رکھنا اور اس کی رکھوائی کے لیے ایسی طاقت حاصل کر لیتا ہے، جس سے وہی مقام اِس دُنيا میں بھی استعمال کرتا ہے۔
سرتاج الانبیا ﷺ کو آگے اٹھایا گیا تو دوسرے آسمان پر پہنچ کر ایک نبی سے ملاقات کی گئی، جسے انبیاء کے سردار کہتے ہیں اور اس میں سے حضرت یحییٰ بن ذکریا اور حضرت عیسی بن مریم بھی شامل تھے۔
دوسرے آسمان پر سرتاج الانبیا ﷺ کی یہ ملاقات جس کے بعد نبی کریم ﷺ کو اِس آسمان سے لے کر تیسرے آسمان میں بھیجا گیا، جہاں ایک نبی سے ملاقات ہوئی جسے آپ ﷺ نے بھی سلام کیا اور ان کی نبوت کا اقرار کیا اور اس کے بعد اسے چوتھے آسمان پر لے جایا گیا جہاں ایک نبی سے ملاقات ہوئی اور آپ ﷺ نے ان کی بھی سلام کیا اور ان کی نبوت کا اقرار کیا۔
ترکیبِ انبیاء اور انبیاء کے سردار نے ایسا سفر کیا جس سے انبیاء کو محفوظ رکھنے کی طاقت حاصل ہوئی اور اس کی رکھائی میں بھی وہی قوت استعمال کی گئی، جو آج بھی کائنات کو محفوظ رکھتی ہے۔
اس سفر نے انبیاء کے سفر میں سب سے عظیم مقام حاصل کر لیا اور آپ ﷺ کو جس طاقت اور جگہ پر پہنچایا گیا وہی اِس دُنيا میں بھی کائنات کو محفوظ رکھنا ہے۔
جب شہر عرش کی طرف سفر کیا گیا تو ایسے اہل خلوص کے عذریوں نے ہجوم میں اپنے مقام پر فائز ہونے کی دعا کی جس کی مقامی حوالہ کی گئی تھی وہی حوالہ ہیں جو اِس عرش کی تعمیر کا باعث بن رہے ہیں۔
جہاں کائنات کو محفوظ رکھنی کی طاقت حاصل ہو سکتی ہے وہی مقام وہی جگہ ہوتا ہے اِس لئے اس عرش پر سرتاج الانبیا ﷺ کو تنہا داخل کر دیا گیا تھا، جبکہ کائنات کی محفوظ رکھنے کی طاقت بھی وہی مقام پر حاصل ہوتی ہے جہاں اُسے پہنچایا گیا ہو۔
عشقِ ذات ﷺ کی عجائب و تجلیات کے لیے ایک تخت بھیجا گیا جو اس عرش کو تھام دیتا تھا اور اس پر سرتاج الانبیا ﷺ کا سفر ہوتا تھا۔
سیدالملائکہ اور انبیاء کے ساتھ مل کر اس کے سامنے قدم رکھتے تو اس کی عرصہ و خواہش کو پورا کرنے والی طاقت میں ہوتا تھا، جیسے کہ اِس عرش سے ملازمت میں رکھے جانے کے بعد یہ کائنات کو محفوظ رکھنا اور اس کی رکھوائی کے لیے ایسی طاقت حاصل کر لیتا ہے، جس سے وہی مقام اِس دُنيا میں بھی استعمال کرتا ہے۔
سرتاج الانبیا ﷺ کو آگے اٹھایا گیا تو دوسرے آسمان پر پہنچ کر ایک نبی سے ملاقات کی گئی، جسے انبیاء کے سردار کہتے ہیں اور اس میں سے حضرت یحییٰ بن ذکریا اور حضرت عیسی بن مریم بھی شامل تھے۔
دوسرے آسمان پر سرتاج الانبیا ﷺ کی یہ ملاقات جس کے بعد نبی کریم ﷺ کو اِس آسمان سے لے کر تیسرے آسمان میں بھیجا گیا، جہاں ایک نبی سے ملاقات ہوئی جسے آپ ﷺ نے بھی سلام کیا اور ان کی نبوت کا اقرار کیا اور اس کے بعد اسے چوتھے آسمان پر لے جایا گیا جہاں ایک نبی سے ملاقات ہوئی اور آپ ﷺ نے ان کی بھی سلام کیا اور ان کی نبوت کا اقرار کیا۔
ترکیبِ انبیاء اور انبیاء کے سردار نے ایسا سفر کیا جس سے انبیاء کو محفوظ رکھنے کی طاقت حاصل ہوئی اور اس کی رکھائی میں بھی وہی قوت استعمال کی گئی، جو آج بھی کائنات کو محفوظ رکھتی ہے۔
اس سفر نے انبیاء کے سفر میں سب سے عظیم مقام حاصل کر لیا اور آپ ﷺ کو جس طاقت اور جگہ پر پہنچایا گیا وہی اِس دُنيا میں بھی کائنات کو محفوظ رکھنا ہے۔