Chitral Times - دھڑکنوں کی زبان - "سارے رشتے خراج مانگتے ہیں". - محمد جاوید حیات

شبنمکیبوند

Well-known member
دھڑکنوں کی زبان میں صاف و شہر سے بھی بات نہیں، رشتے سب کچھ خراج مانگتے ہیں، انس سے Nikala hai, اور Ins ka maana Mohabbat hai, ایک مخلوق jo Akhtah rahae, Akapss me taalqajoo joda aur mohabbat se rehane.
 
دھڑکنوں کی زبان سے بات کرنا تو ہمیشہ محنت کا مظاہر ہوتا ہے، لہٰذا جو شخص بھی صاف و شہر ہو، وہ اپنے رشتے پر توجہ دیتا ہے اور ہمیشہ کچھ خراج مانگتا ہے، لیکن جب یہ بات دھنیں سے نکلتی ہے تو وہی چھپ گئے ہوتے ہیں، یہ بتاتا ہے کہ رشتے ہی سب کچھ ہے اور اس کے بغیر بھی زندگی نہیں ہوتی، مگر جیسے یوں انس سے Nikala hai تو وہی بتاتا ہے کہ محبت ہی ایک مخلوق ہے جو اچھے رشتے سے باہر بھی نہیں ہوتی، یہ تعلقات تالق اور محبت سے بھرپور ہوتے ہیں
 
اس نئی پریشانی کی بات کرنے کا منظر دیکھتے ہوئے، مجھے لگتا ہے کہ یہ سچ ہے کہ رشتے ہر صورت میں سب کچھ خراج مانگتے ہیں... (sigh) میرا اور میری بہن کی یہ بات ہے، ڈائریکٹر سے بھی کچھ نہ کچھ پوچھنا پڑتا ہے، لیکن اب وہ بتاتے تھے کہ انس کی جگہ پر اور بھی کچھ کرنا پڑے گا... 🤔 میرے لئے یہ ایک بڑا خطرہ ہے، ہمیں ابھی تو انس کی جگہ پر بننے والی شخص کو ایسے سے پہچانا جائے کہ یہ جواب نہیں دے... 🤷‍♀️
 
🤔 یہ میرا خیال ہے کہ یہ ہمیں آگے بڑھنے سے روک رہی ہے، ہم ایسے منصوبوں پر جود نہیں کر رہے جو صاف اور شہر کی زندگی کو آسان بناتے ہیں بلکہ ہمیں اپنے رشتوں کا لینا پڑتا ہے، ہم ہمیشہ ان کے ساتھ رہتے چلتے ہیں اور ان کی ضرورت ہی ہوتے ہیں۔

اس وقت بھی یہ دیکھا جا رہا ہے کہ ہمیں اپنی انٹرنٹ سروسز چھوڑنا پڑ رہی ہیں اور اس کی بجائے ہمیں ایسے ساتھیوں کی ضرورت ہے جو ہمارے لیے محبت کرنے اور اسے یقینی بنانے کا انحصار رکھتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ انسفرچر ایک حقیقت ہے لیکن میں اسے ایسی بات کی نہیں سمجھتا جو کہ ہم اسے اپنے آپ کو محنت سے بنانے کے بجائے معاشرے میں یقینی بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
 
🤔 yeh to log kyu khayal nahi karte ki duniya mein bahut si sachai bhi hoti hai? yeh sab cheezon ko darwaza band karke rahne ke bajay, humein un par charcha karni chahiye. aaj kal jeevan mein ek single life bhi acchi nahi lagta, lekin humein khud par zikr karna chahiye.

duniya mein kai log milte to milte hi cheezon ko samajhte hain, unse pata chalta hai ki wo kaun se insaan hai, kis tarha hai uska man, aur kis tarah ke sapne ho sakte hain. yeh sab zaroori hai kyunki ek single life bhi apna ek ajandha hai.
 
اس کہنے کی ضرورت نہیں کہ صاف و شہر لوگ بھی دھڑکنوں جیسے ہی منظر پیش کرتے ہیں، تو یہ بات کبھی تو یقینی نہیں ہوتی کہ ان میں رشتے کی گہریت کا کوئی جائزہ لیا جاسکے۔ واضح طور پر، جیسے جو لوگ رشتوں سے متعلق بات کرنے پر توجہ دیتے ہیں تو وہ کچھ اور کہتے ہیں، لیکن اس میں ایک جال پڑتا ہے، جس سے ان کا جذبہ اپنی رشتوں کے بارے میں بھرپور نہیں ہوسکتا۔ وہ لوگ جو ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہوں کو ان سے الگ ہونا پڑتا ہے، ان کے لیے یہ بات بہت مشکل ہوسکتی ہے۔
 
ਇس نئیوں خبر کے بارے میں سوچ رہا ہوں، کیا یہ سچ ہے کہ لوگ صرف دوسروں کی باتوں پر ہی پہنچتے ہیں نہ؟ وہ سادہ شہر والے بھی، جو کبھی اپنی زندگی کا تجربہ کرنے کی کوشش نہیں کرتے، ان کی زبان میں ایسے بات چیت کا جوش ہے؟ وہ صرف اپنے رشتوں کا احترام اور محبت سے بھرپور تعلقات کے لئے ہی دھڑکنوں کی زبان بولتے ہیں...
 
Maine dekha hai ki logon ko dosti ke liye bahut kuch bhi dil se nahi dein, sabhi chup ke rehte hain, koi bhi galti karne ka mauka na deke. Lekin mujhe laga ki ye toh sach mein thoda mushkil hai, kyonki kisi ko bhi dosti ko pehchanane ki zaroorat nahi padti. Mere dadajee ne mujhe bataaya tha ki jaisa aap logon ke saath khel rahe ho, wo hi aapke liye dosti hogi. Lekin main sochta hoon ki yeh toh sirf ek baar kuchh nahi hai, bas phir se woh bhi musibat ka karan ban jata hai. Mere doston ke liye main khud hi musibat ka karan ban gaya hoon 🤷‍♂️
 
بہت کچھ ہوتا ہے جو شہر سے نکل کر بھی پوری تاری کی رات میں بات چیت کرتے ہیں، ان کی زبان ہمیں ایسی لگتی ہے جیسے اس کا مقصد صرف ہی سے بھی نکل کر ہی یہ بات چیت کر رہے ہوں، پھر ان کی ایک ایسی بات جو ہمیں دوسری کو محسوس ہوتی ہے وہ کہ وہ ہمیشہ رشتے پر بھی بنتے ہیں، اس طرح سے ہی انہیں اپنے رشتے کو جاری رکھنے کا موقع ملتا ہے اور یہ بات نہیں ہو سکتی کہ وہ بے مanners کی طرح نکل کر بھی انہیں محبت سے ہٹنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ محبت ایک ایسا وجود ہوتا ہے جس کے قریب ہو رہنا ہی یہی ہے، لہذا جیسا کہ لوگ کہتے ہیں "جب دل ٹھوسا تو محبت کی گہرائی بڑھتی ہے"
 
بھول جاتا ہے کہ اس کون سی دھڑکنوں کو بھی سادغر زبان میں بات کی جا سکتی ہے؟ رشتے لوگ صرف تماشا ڈالتے ہیں، چاہتے ہیں کہ دوسرا شریک حيات ولوग ان کا ساتھ دے، ایک اور بھی شریک حیات اور محبت کا قائل ہوجائے۔ وہ لوگ جو صاف و شہر سے بات نہیں کرپاتے، ان کا خیال ہوتا ہے کہ یہی حقیقت ہے۔ پھر بھی ان کی بات پر غور کرنا ضروری نہیں کہنے کے لیے?
 
یہ خبر سنی تو میں انس کا کیا خیال کر سکتا ہوں؟ میرا خیال ہے کہ یہ ایک بڑا پچھا ہے۔ وہ لوگ جو انس کو خراج دیتے ہیں، انہیں پتہ نہیں چلتا کہ انس کی دنیا میں بھی تو خوف اور عدم یقین ہوتا ہے۔ ایک ہی دیر کی لٹیری ماحول میں وہ لوگ جو انس کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں، ان کے لئے بھی یہی صورتحال ہوتی ہے۔

اب جب انس نے اس معاشرتی نظام میں مٹی پھیلائی ہے، تو وہ لوگ جو اسے خراج دیتے ہیں، اب ان کا ساتھ چھوڑ کر جانے والے ہیں۔ اور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ انس میں محبت کا خیال نہیں کر سکتے، اور وہ انس کو پتہ نہیں چلتا کہ وہ بھی اس معاشرتی نظام کی وجہ سے مٹی پھیلائے ہوئے ہیں۔
 
واپس
Top