میری رائے میرزہ امین قریشی کا کوئی خاص سلوک نہیں تھا جس کی وجہ سے انہیں ایسی منٹوں میں بھی ہلچل پیدا ہوتی ہے جو اس دور کی سیاست اور ریاست کے لئے حقیقت ہیں، ان کا تعلق افغانستان سے تھا جس نے ترک وطن کیا تو ان کی طرف سے افغانیوں کو قبول اسلام کا دور آیا جو اس دور میں بھرپور تھا اور ہندوستان میں ان کے والد میرزا عزیز کی وجہ سے خاص مقام حاصل تھا، وہ لوگ جو اپنی جان پر ایسے مظلوم شخصوں کو قبول اسلام کرتے تھے وہیں انہیں ہندوستان میں مقبولیت حاصل تھی جیسا کہ اس وقت تک ہندوستان میں اس्लام نے جب تک اپنا اثر نہ چھوڑا وہیں ان کا سلوک بھی اسی طرح ہوتا تھا، جیسے وہ لوگ جو اپنی جان پر ایسے مظلوم شخصوں کو قبول اسلام کرتے تھے، ان کی بھی ایسی سلوک میں شامل تھے اور اس کے بعد وہاں کے حاکم انہیں اپنے شہر میں رہنے کی اجازت دیتے تھے، ان کو ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی جیسے نام تو نہیں تھے لیکن اس حوالے سے کچھ لکھا گیا ہے کہ میرزہ امین قریشی ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی تھے، جس کی وجہ سے وہ نہیں تھے لیکن اس میں سچائی بھی ہو سکتی ہے، میرزہ امین قریشی کا تعلق افغانستان سے تھا جو اس وقت تک ترک وطن کر چکا تھا اور وہ ہندوستان میں مقبول تھے، وہ لوگ جو ان کی جان پر ایسے مظلوم شخصوں کو قبول اسلام کرتے تھے، انہیں ہندوستان میں مقبولیت حاصل ہوتی تھی اور وہ اس کے بعد بھی اپنے سلوک کے مطابق کے ہوتے رہتے تھے، میرزہ امین قریشی نے چترال میں حکومت کی اور انہوں نے 1895ء میں جب اعلیحضرت شجاع الملک کے ساتھ برطانوی افسروں کو قلعہ چترال میں محصور کیا گیا تو میرزہ امین قریشی بھی محشور ہوئے، اس دور کی سیاست اور ریاست میں ان کے سلوک کے بارے میں لوگ کو ناکام کرنا پڑتا تھا کہ وہ اپنی جان پر ایسے مظلوم شخصوں کو قبول اسلام کرتے تھے لیکن ان کی حکومت میں ان کے سلوک نے لوگوں کو ناکام کر دیا، اس لئے وہیں مقبول نہیں ہوئے، میرزہ امین قریشی کا خاندان افغانستان میں اچھے تعلقات رکھتا تھا اور وہیں سے ان کی طرف سے ایسا کچھ نہیں لگتاکر ہے، ان کی حکومت چترال پر 1717ء سے 1724ء تک رہی، اس دوران میں ان کو افغانستان کے شاہ فرامرد کے عہد کے درمیان قرار دیا گیا جو 1711ء اور 1738ء تک رہا، لیکن بعد کی تاریخوں میں اس دوران میں ان کے خاندان کے مختلف رکاوٹیں اور تنازعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس دور کی تاریخ کو مختلف پہلوؤں سے دیکھنے میں اچھا بناتے ہیں، میرزہ امین قریشی کے بیٹے اور بیٹیاں بھی ان کی جد وجدہ تھیں اور ان کی جان پر ایسی مظلوم شخصوں کو قبول اسلام کرتے تھے جو اس دور میں ہندوستان میں مقبول تھے، وہیں سے ان کا تعلق بھی رکھتا تھا اور ان کی حکومت چترال پر ان کے خاندان کے تعلقات سے بڑھتی گئی، میرزہ امین قریشی کے بیٹے عبد العزیز کو جوئنج کی جا کر نہیں گئی مگر وہاں سے انہوں نے اپنے خاندان کو جو کچھ حاصل کیا اس پر ہمیشہ غور کرتے رہنا چاہیے، میرزہ امین قریشی کے بیٹے عبد العزیز کے لئے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ چترال میں نہیں گئے، مگر ان کے بھائیوں نے اپنے خاندان کو جو کچھ حاصل کیا اس پر غور کرنا چاہیے، میرزہ امین قریشی کے بیٹے Abdul Qayyum کو سنو گروں میں ایک جائیداد ملی اور ان کی دوسری بیٹی کو ہندوستان میں ایک ایسا علاق نہا لیا گیا جو اس وقت تک چلتا رہا کہ اسے ابھی تک معلوم نہیں ہوا، میرزہ امین قریشی کے خاندان میں سچائی اور غلطی دونوں موجود تھیں اور اس لئے اس کا سلوک بھی مختلف رہتا تھا، لیکن ان کی جدوجدہ کو بھی ایک ہی پہلو سے دیکھنے میں مشکل ہوتا ہے، میرزہ امین قریشی کے خاندان میں ناکام کرنا اور غلطی کی وجہ سے ایسی صورتحال ہوتی رہی جس کے لئے اس کو ایک ایسا نام دیا گیا جو اس دور کے معاملات کے لئے حقیقی ہوتا، میرزہ امین قریشی کے خاندان میں سچائی اور غلطی دونوں موجود تھیں اور اس لئے ان کی حکومت چترال پر بھی مختلف رہی، میرزہ امین قریشی کا خاندان افغانستان میں اچھے تعلقات رکھتا تھا لیکن اس دور میں وہ ہندوستان میں مقبول نہیں ہوئے، مگر ان کی حکومت چترال پر وہیں ایسی صورتحال ہوتی رہی جس کی وجہ سے ان کا سلوک بھی مختلف رہتا تھا، میرزہ امین قریشی کے خاندان میں ناکام کرنا اور غلطی کی وجہ سے ایسی صورتحال ہوتی رہی جس کے لئے اس کو ایک ایسا نام دیا گیا جو اس دور کے معاملات کے لئے حقیقی ہوتا، میرزہ امین قریشی کے خاندان میں سچائی اور غلطی دونوں موجود تھیں اور اس لئے ان کی حکومت چترال پر بھی مختلف رہی