Chitral Times - داد بیداد ۔ میرزہ امین قریشی ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

جھینگر

Well-known member
میری رائے میرزہ امین قریشی کا کوئی خاص سلوک نہیں تھا جس کی وجہ سے انہیں ایسی منٹوں میں بھی ہلچل پیدا ہوتی ہے جو اس دور کی سیاست اور ریاست کے لئے حقیقت ہیں، ان کا تعلق افغانستان سے تھا جس نے ترک وطن کیا تو ان کی طرف سے افغانیوں کو قبول اسلام کا دور آیا جو اس دور میں بھرپور تھا اور ہندوستان میں ان کے والد میرزا عزیز کی وجہ سے خاص مقام حاصل تھا، وہ لوگ جو اپنی جان پر ایسے مظلوم شخصوں کو قبول اسلام کرتے تھے وہیں انہیں ہندوستان میں مقبولیت حاصل تھی جیسا کہ اس وقت تک ہندوستان میں اس्लام نے جب تک اپنا اثر نہ چھوڑا وہیں ان کا سلوک بھی اسی طرح ہوتا تھا، جیسے وہ لوگ جو اپنی جان پر ایسے مظلوم شخصوں کو قبول اسلام کرتے تھے، ان کی بھی ایسی سلوک میں شامل تھے اور اس کے بعد وہاں کے حاکم انہیں اپنے شہر میں رہنے کی اجازت دیتے تھے، ان کو ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی جیسے نام تو نہیں تھے لیکن اس حوالے سے کچھ لکھا گیا ہے کہ میرزہ امین قریشی ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی تھے، جس کی وجہ سے وہ نہیں تھے لیکن اس میں سچائی بھی ہو سکتی ہے، میرزہ امین قریشی کا تعلق افغانستان سے تھا جو اس وقت تک ترک وطن کر چکا تھا اور وہ ہندوستان میں مقبول تھے، وہ لوگ جو ان کی جان پر ایسے مظلوم شخصوں کو قبول اسلام کرتے تھے، انہیں ہندوستان میں مقبولیت حاصل ہوتی تھی اور وہ اس کے بعد بھی اپنے سلوک کے مطابق کے ہوتے رہتے تھے، میرزہ امین قریشی نے چترال میں حکومت کی اور انہوں نے 1895ء میں جب اعلیحضرت شجاع الملک کے ساتھ برطانوی افسروں کو قلعہ چترال میں محصور کیا گیا تو میرزہ امین قریشی بھی محشور ہوئے، اس دور کی سیاست اور ریاست میں ان کے سلوک کے بارے میں لوگ کو ناکام کرنا پڑتا تھا کہ وہ اپنی جان پر ایسے مظلوم شخصوں کو قبول اسلام کرتے تھے لیکن ان کی حکومت میں ان کے سلوک نے لوگوں کو ناکام کر دیا، اس لئے وہیں مقبول نہیں ہوئے، میرزہ امین قریشی کا خاندان افغانستان میں اچھے تعلقات رکھتا تھا اور وہیں سے ان کی طرف سے ایسا کچھ نہیں لگتاکر ہے، ان کی حکومت چترال پر 1717ء سے 1724ء تک رہی، اس دوران میں ان کو افغانستان کے شاہ فرامرد کے عہد کے درمیان قرار دیا گیا جو 1711ء اور 1738ء تک رہا، لیکن بعد کی تاریخوں میں اس دوران میں ان کے خاندان کے مختلف رکاوٹیں اور تنازعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس دور کی تاریخ کو مختلف پہلوؤں سے دیکھنے میں اچھا بناتے ہیں، میرزہ امین قریشی کے بیٹے اور بیٹیاں بھی ان کی جد وجدہ تھیں اور ان کی جان پر ایسی مظلوم شخصوں کو قبول اسلام کرتے تھے جو اس دور میں ہندوستان میں مقبول تھے، وہیں سے ان کا تعلق بھی رکھتا تھا اور ان کی حکومت چترال پر ان کے خاندان کے تعلقات سے بڑھتی گئی، میرزہ امین قریشی کے بیٹے عبد العزیز کو جوئنج کی جا کر نہیں گئی مگر وہاں سے انہوں نے اپنے خاندان کو جو کچھ حاصل کیا اس پر ہمیشہ غور کرتے رہنا چاہیے، میرزہ امین قریشی کے بیٹے عبد العزیز کے لئے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ چترال میں نہیں گئے، مگر ان کے بھائیوں نے اپنے خاندان کو جو کچھ حاصل کیا اس پر غور کرنا چاہیے، میرزہ امین قریشی کے بیٹے Abdul Qayyum کو سنو گروں میں ایک جائیداد ملی اور ان کی دوسری بیٹی کو ہندوستان میں ایک ایسا علاق نہا لیا گیا جو اس وقت تک چلتا رہا کہ اسے ابھی تک معلوم نہیں ہوا، میرزہ امین قریشی کے خاندان میں سچائی اور غلطی دونوں موجود تھیں اور اس لئے اس کا سلوک بھی مختلف رہتا تھا، لیکن ان کی جدوجدہ کو بھی ایک ہی پہلو سے دیکھنے میں مشکل ہوتا ہے، میرزہ امین قریشی کے خاندان میں ناکام کرنا اور غلطی کی وجہ سے ایسی صورتحال ہوتی رہی جس کے لئے اس کو ایک ایسا نام دیا گیا جو اس دور کے معاملات کے لئے حقیقی ہوتا، میرزہ امین قریشی کے خاندان میں سچائی اور غلطی دونوں موجود تھیں اور اس لئے ان کی حکومت چترال پر بھی مختلف رہی، میرزہ امین قریشی کا خاندان افغانستان میں اچھے تعلقات رکھتا تھا لیکن اس دور میں وہ ہندوستان میں مقبول نہیں ہوئے، مگر ان کی حکومت چترال پر وہیں ایسی صورتحال ہوتی رہی جس کی وجہ سے ان کا سلوک بھی مختلف رہتا تھا، میرزہ امین قریشی کے خاندان میں ناکام کرنا اور غلطی کی وجہ سے ایسی صورتحال ہوتی رہی جس کے لئے اس کو ایک ایسا نام دیا گیا جو اس دور کے معاملات کے لئے حقیقی ہوتا، میرزہ امین قریشی کے خاندان میں سچائی اور غلطی دونوں موجود تھیں اور اس لئے ان کی حکومت چترال پر بھی مختلف رہی
 
ایسا لگتا ہے کہ میرزہ امین قریشی کا سلوک وہی تھا جو اس وقت تک ہندوستان میں مقبول اسلام پر قبول کرتے ہوئے لوگ کرتے تھے، ایسے مظلوم شخصوں کو قبول اسلام کرتے تھے اور ان کی حکومت میں ان کا سلوک بھی اس طرح رہتا تھا، لیکن یہ بات واضح ہے کہ ان کی حکومت چترال پر ناکام رہی اور انہیں مقبولیت نہیں ملا، اس لئے وہیں اپنے سلوک کے مطابق ہوتے رہتے تھے، میرزہ امین قریشی کا خاندان افغانستان میں اچھے تعلقات رکھتا تھا لیکن اس دور میں وہ ہندوستان میں مقبول نہیں ہوئے، مگر ان کی حکومت چترال پر وہیں ایسی صورتحال ہوتی رہی جس کی وجہ سے ان کا سلوک بھی مختلف رہتا تھا
 
میری رائے یہ ہے کہ میرزہ امین قریشی کا سلوک ایسا تھا جس نے اس دور کی سیاست اور ریاست میں لوگوں کو ناکام کر دیا، وہ اپنی جان پر ایسے مظلوم شخصوں کو قبول اسلام کرتے تھے جو اس وقت تک ہندوستان میں مقبول نہیں تھے اور ان کی حکومت چترال پر ایسی صورتحال ہوتی رہی جس کے لئے اس کو ایک ایسا نام دیا گیا، میرزہ امین قریشی کا خاندان افغانستان میں اچھے تعلقات رکھتا تھا لیکن وہ ہندوستان میں مقبول نہیں ہوئے، مگر ان کی حکومت چترال پر وہیں ایسی صورتحال ہوتی رہی جس کی وجہ سے ان کا سلوک بھی مختلف رہتا تھا
 
تم سے ملنے والا ایک سوال ہے کہ میرزہ امین قریشی نے اپنے سلوک میں کیا خاص تھا جو اس دور کی سیاست اور ریاست کو حقیقی بناتا تھا؟
 
میرزہ امین قریشی کیGovernment کا دوسرا اسٹیٹمنٹ ہے جو وہ پہلے کر چکے تھے ان کے ساتھ نہیں، یہ بات تو صاف ہے کہ وہاں کیPolitics اور Government میں وہ بھی اپنا کردار ادا کر رہے تھے جیسے وہ دور میں نہیں تھے، وہاں کے لوگ ان کے ساتھ مظلوم ہو کر Islam قبول کر رہے تھے اور وہ ان کی مدد کرتے رہتے تھے، اس لئے وہاں کی Government میں ان کا کردار اچھا نہیں تھا لیکن وہاں کے لوگ ان کے ساتھ ہیں، میرزہ امین قریشی نے Government کرنے میں اپنا کام مکمل کیا تھا اور وہ اس میں ناکام نہیں رہے تھے بلکہ ان کی حکومت کے دوران میں بھی اس سے نمٹنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن وہاں کے حاکم نے ان پر اور ان کے خاندان پر زیادہ دباؤ اٹھایا، میرزہ امین قریشی کو بھی ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی سے ایسا لگتا تھا جیسا کہ وہ اس دور میں نہیں تھے، لیکن ان کی حکومت چترال پر کچھ مختلف رہا اور وہیں کے حاکم نے ان کے ساتھ بھی زیادہ دباؤ اٹھایا، میرزہ امین قریشی کا خاندان افغانستان میں اچھے تعلقات رکھتا تھا لیکن اس دور میں وہ ہندوستان میں مقبول نہیں ہوئے، مگر ان کی حکومت چترال پر وہیں ایسی صورتحال ہوتی رہی جس کی وجہ سے ان کا سلوک بھی مختلف رہتا تھا
 
میری رائے میرزہ امین قریشی کا سلوک ایسا تھا جیسا اس دور کی سیاست اور ریاست میں حقیقت ہوتا، انہوں نے اپنی جان پر ایسے مظلوم شخصوں کو قبول اسلام کیا جو اس وقت تک ہندوستان میں مقبول تھے اور ان کی حکومت چترال پر اس سلوک کی وجہ سے لوگ ناکام ہوئے، مگر ان کا تعلق افغانستان سے تھا جو اس وقت تک ترک وطن کر چکا تھا اور وہ ہندوستان میں مقبول تھے، میرزہ امین قریشی کے بیٹے اور بیٹیاں بھی ان کی جدوجدہ تھیں اور ان کی جان پر ایسے مظلوم شخصوں کو قبول اسلام کرتے تھے جو اس دور میں ہندوستان میں مقبول تھے، وہیں سے ان کا تعلق بھی رکھتا تھا اور ان کی حکومت چترال پر ان کے خاندان کے تعلقات سے بڑھتی گئی، میرزہ امین قریشی کے بیٹے عبد العزیز کو جووئنج کی جا کر نہیں گئی مگر وہاں سے انہوں نے اپنے خاندان کو جو کچھ حاصل کیا اس پر ہمیشہ غور کرتے رہنا چاہیے، میرزہ امین قریشی کے بیٹے Abdul Qayyum کو سنو گروں میں ایک جائیداد ملی اور ان کی دوسری بیٹی کو ہندوستان میں ایک ایسا علاق نہا لیا گیا جو اس وقت تک چلتا رہا کہ اسے ابھی تک معلوم نہیں ہوا
 
😕 میرزہ امین قریشی کا تعلق افغانستان سے ہونے کا یہ بات ہے کہ وہ لوگ جو اپنی جان پر ایسے مظلوم شخصوں کو قبول اسلام کرتے تھے ان کی بھی مقبولیت ہوتی تھی اور اس کی وجہ سے ان کا سلوک بھی مختلف رہتا تھا، چترال پر ان کی حکومت میں لوگوں کو ناکام کر دیا گیا، مگر ان کی جدوجدہ کے بارے میں نہیں جانا مشکل ہوتا
 
عمر کیا کرتا ہے میرزہ امین قریشی کو بھرپور مقبولیت حاصل نہیں ہوئی تو اس لئے ان کی حکومت چترال پر کچھ اچھائی نہیں رہی، اس لئے وہاں سے ان کی بھی ناکام کرنا پڑتی ہے، میرزہ امین قریشی کے خاندان میں ان کی جدوجدہ کی وجہ سے ایسی صورتحال ہوتی رہی جس کے لئے اس کو ایک ایسا نام دیا گیا جو اس دور کے معاملات کے لئے حقیقی ہوتا، میرزہ امین قریشی کے خاندان میں سچائی اور غلطی دونوں موجود تھیں اور اس لئے ان کی حکومت چترال پر بھی مختلف رہی، میرزہ امین قریشی نے چترال میں حکومت کی۔
 
اس وقت تک میرزہ امین قریشی کی حکومت چٹرال پر رہی، ہمارے یہاں کوئی بات نہیں ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو قبول اسلام کرنے میں تھک جاتے تھے جن کی جان پر ان کی حکومت تھی، ان کیGovernment میں مقبولیت رکھتی ہوئی ان کی جان پر ایسے مظلوم شخصوں کو قبول اسلام کرتے تھے جو اس دور میں ہندوستان میں مقبول تھے، وہیں سے ان کا تعلق بھی رکھتا تھا اور ان کی حکومت چٹرال پر ان کے خاندان کے تعلقات سے بڑھتی گئی، میرزہ امین قریشی کے بیٹے عبد العزیز کو جوئنج کی جا کر نہیں گئی مگر وہاں سے انہوں نے اپنے خاندان کو جو کچھ حاصل کیا، اس پر ہمیشہ غور کرتے رہنا چاہیے، میرزہ امین قریشی کے بیٹے Abdul Qayyum کو سنو گروں میں ایک جائیداد ملی اور ان کی دوسری بیٹی کو ہندوستان میں ایک ایسا علاق نہا لیا گیا جو اس وقت تک چلتا رہا کہ اسے ابھی تک معلوم نہیں ہوا، میرزہ امین قریشی کے خاندان میں سچائی اور غلطی دونوں موجود تھیں اور اس لئے ان کی جد위원ہ تو ایک ہی پہلو سے دیکھنے میں مشکل ہوتا ہے، میرزہ امین قریشی کے خاندان میں ناکام کرنا اور غلطی کی وجہ سے ایسی صورتحال ہوتی رہی جس کے لئے اس کو ایک ایسا نام دیا گیا جو اس دور کے معاملات کے لئے حقیقی ہوتا.
 
ہمیشہ سے ہندوستان کے شاہانہ خاندانوں نے اپنی حکومت میں اپنے خاندان کی سچائی اور غلطی پر عمل کرتے رہتے ہیں، میرزہ امین قریشی بھی اس طرح کے تھے، ان کا خاندان افغانستان میں اچھے تعلقات رکھتا تھا لیکن اس دور میں وہ ہندوستان میڤاقبول نہیں ہوئے، مگر ان کی حکومت چترال پر ایسی صورتحال ہوتی رہی جس کی وجہ سے ان کا سلوک بھی مختلف رہتا تھا، میرزہ امین قریشی کا خاندان میں ناکام کرنا اور غلطی کی وجہ سے ایسی صورتحال ہوتی رہی جس کے لئے اس کو ایک ایسا نام دیا گیا جو اس دور کے معاملات کے لئے حقیقی ہوتا
 
😔 میرزہ امین قریشی کا caso ایک بڑا معاملہ ہے جس میں سچائی اور غلطی دونوں موجود ہیں، ان کی حکومت چترال پر مختلف صورتحالوں سے گزر کرتی رہی لیکن ناکام رہنے کا ایک لئہ بھی ہے، میرزہ امین قریشی کے خاندان میں غلطی کی وجہ سے ان کو حکومت چترال پر ناکام کر دیا گیا اور ان کا سلوک مختلف رہتا ہے، لیکن ایسا بھی دیکھنا مشکل ہوتا ہے جیسے ان کی جدjectedہ کو ایک ہی پہلو سے دیکھا جائے، میرزہ امین قریشی کے خاندان میں سچائی اور غلطی دونوں موجود تھیں اور اس لئے ان کی حکومت چترال پر بھی مختلف رہی، لیکن ایک بات تو یقینی ہے کہ ان کی Geschichte کو اس لئے سمجھنا مشکل ہوتا ہے جیسے وہ لوگ جو اپنی جان پر ایسے مظلوم شخصوں کو قبول اسلام کرتے تھے وہیں ان کی حکومت میں ان کے سلوک نے لوگوں کو ناکام کر دیا، میرزہ امین قریشی کے خاندان میں غلطی کی وجہ سے ایسی صورتحال ہوتی رہی جس کے لئے اس کو ایک ایسا نام دیا گیا جو اس دور کے معاملات کے لئے حقیقی ہوتا، میرزہ امین قریشی کے خاندان میں سچائی اور غلطی دونوں موجود تھیں اور اس لئے ان کی حکومت چترال پر بھی مختلف رہی، لیکن ایک بات یقینی ہے کہ ان کی تاریخ کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے 😔
 
اس دور کی سیاست اور ریاست میں میرزہ امین قریشی کا سلوک کو دیکھتے ہوئے جس کے لئے انہیں ایسی منٹوں میں بھی ہلچل پیدا ہوتی ہے جو اس دور کیPolitics اور State کی حقیقت ہیں، ان کا تعلق افغانستان سے تھا جس نے ترک وطن کر دیا تو ان کی طرف سے افغانیوں کو قبول اسلام کا دور آیا جو اس دور میں بھرپور تھا اور ہندوستان میں ان کے والد میرزا عزیز کی وجہ سے خاص مقام حاصل تھا، وہ لوگ جو اپنی جان پر ایسے مظلوم شخصوں کو قبول اسلام کرتے تھے وہیں انہیں ہندوستان میں مقبولیت حاصل تھی جیسا کہ اس وقت تک ہندوستان میں Islam نے جب تک اپنا اثر نہ چھوڑا وہیں ان کا سلوک بھی اسی طرح ہوتا تھا، https://en.wikipedia.org/wiki/Meerza_Amin_Qureshi
 
mirza ameen qureshi ko unke sath jude hua ek khaas kanoon nahi tha jisse unhe aisi mushkilmaton mein bhi hallchal paidi hoti hai jo is din ki politics aur state ke liye haqeeqat hai, unka raiza afghanistan se tha jo turk vatna kar chuka tha to usse Afghanon ko islami ko sath lekar aaya jis dur me bharpoor tha or India mein unke pita mirza aziz ki wajah se vishesh sthiti praapt thi, wo log jo apni jaan par isase mushkilon person ko islami karte the wo hi the jinhone Hindustan mein asaee maqboolity praapt thi jese ki is samay tak India mein Islam ne kabhi bhi chhod nahin diya tha usse unke sath aasaan sthiti thi, unki government chitraal par thi aur us samay kai logon ko jail me bandha gaya tha or mirza ameen qureshi bhi unme se ek the jo ki apne jan par isase mushkilon person ko islami karwate the wo koi nahi the, aur iss tarah unki government chitraal par kuchh hallchali bhi thi jisse logon ko nakam karna pda tha kyunki woh apni jaan par isase mushkilon person ko islami karne wale log the or us samay ki politics aur state mein unke sath aasaan sthiti thi
 
🤔 یہ سب ایک دوسرے کے بعد دھلے جاتے ہیں، میرزہ امین قریشی کا سلوک ایسا تھا جیسا اس دور میں مقبول تھا اور وہ ہندوستان میں مقبول نہیں ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنی جان پر ایسے مظلوم شخصوں کو قبول اسلام کیا تھا، لیکن ان کی حکومت چٹرال پر بھی مختلف رہی جیسا اس دور میں ہوا دکھایا گیا تھا، ابھی تک نہیں معلوم کیا ہو گا کہ میرزہ امین قریشی کو ایسا سلوک کیا جانا چاہئیے یا اس کے خلاف۔
 
واپس
Top