زندگی کے پیچیدہ اور غیر یقینی راستوں پر چلتے ہوئے ہر انسان کے دل میں ایک ہی بنیادی خواہش زندہ رہتی ہے کہ وہ خوش رہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ خوشی کسی حادثاتی لمحے یا بیرونی کامیابی سے نہیں ملا سکتی، بلکہ وہ اندر ہی سے پیدا ہوتی ہے۔ اس شعور کو سمجھنا اور اسے اپنے حیات میں لازمی بنانا، خوش رہنے کا سب سے اہم اصول ہے۔
حالانکہ دنیا بھر میں لوگ مختلف طریقوں سے خوشی کے حصول کی کوشش کرتے آئے ہیں، لیکن اس بات کو یقیناً سمجھنا چاہیے کہ ایسا نہیں کہ لوگ اپنی خوشیوں کو باہر تلاش کریں۔ حالات میں بھی، کامیابیوں میں بھی، دولت یا عہدے سے بھی نہیں، جو ماحولیات کو خوش رکھتی ہے۔
امید کی کوشिश کرنے والے لوگ ایسا نہیں سمجھتے کہ خوشی ان کے اندر موجود ہوتی ہے، اور اس کو پائنا چاہیے جس سے وہ اپنے جذبات کو سمجھ سکیں۔ دنیا کی تیز رفتار زندگی میں، انسان ایک موڑ سے دوسرے موڑ پر چلتا رہتا ہے اور اسے خوشی کا ذریعہ نہ سمجھنا آسان نہیں ہوتا ہے، لیکن اس بات کو یقیناً سمجھیے جس سے وہ اپنے حالات کو بڑھانے کے لیے محترمہ خوشی پر اہتمام کرنا ہوگا۔
زندگی کے دوسرے پہلوؤں کے علاوہ، ماحول کی سایہ و معاملات سے بھی نہ ہو، کیونکہ ان لوگوں کو خوش رہنے کا ذریعہ ایسے اور جہتمت دیتا ہے جو کہ اسی کے خلاف کام کرتا ہے۔
زندگی میں کچھ لوگ ایک حادثی کی وجہ سے ان کی زندگی میں آئی خوشی، لیکن ایسا ہونا نہیں پڑتا، بلکہ وہ شخص جو محض حالات کے شکار ہوتا ہو، اور وہی کامیاب ہوتا ہوا ایسا نہیں سمجھ سکتا کہ وہ کیسے اسی خوشی کو حاصل کر سکے جو اس کی زندگی میں آئی ہو گی۔
دنیا بھر کے نوجوان، جس طرح اپنے شعبے میں بھی کامیاب ہوئے، اسی حال میں اپنے مقاصد کو پہچانتے ہوئے، جو کہ وہ اس کی زندگی میں آئی ہوا تھی، نہ صرف خود کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے بھی ایسا ہی سمجھنے میں اچھا نہیں لگتا، حالانکہ اس کی وہ خوشی نہیں تھی جس سے دنیا میں اس کے نام کو مظہر دیکھنا پڑے گا۔
حالیہ برسوں میں ہندوستان اور افغانستان کے کئی نوجوان، جو ایک ساتھ چل کر ان لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کام کرتے تھے، وہاں جہاں ان کے حالات ناکام ہیں، وہاں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو حیرت انگیز کاروائیوں کی وجہ سے اپنی زندگی میں اچھی طرح خوش رہنے کے ذریعہ محترمہ زندگی کو بڑھاتے ہیں، جو کہ دنیا کو منظم کرنے کا کام نہیں کرتے۔
جس طرح وہ لوگ اور وہ قوم جن کی زندگی ان کے حالات پر بہت گہرا اثر پڑتے ہیں، ایک حادثے یا کامیابی کے بعد خوش رہنے کا اہتمام کرنے پر اس سے ان کے حالات کو بھی نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان کی زندگی کو بڑھانے کی وجہ سے خوش رہنے کا اہتمام کرنا ہوتا ہے۔
اچھا تو اچھا، لوگ اپنی خوشی کو بروئے کار لانے کی کیوشش کرتے ہوئے سچمنے نہیں آتے کہ وہ اپنے اندر رکھی ہوئی خوشی کو پائی جا سکتی ہے, دنیا میں سب کچھ اس کی وجہ سے کھل کر کروڈا ہوگا, نہیں تو لوگ اپنے حالات کو بڑھانے کے لیے خوش رہنے کی کوشش کریں گے اور وہ خوشی ان کے حوالے سے ہی بدل جائے گی
جو لوگ اپنی زندگی میں خوشی کا تعلق اپنے اندر سے لاتے ہوئے دیکھتے ہیں ان کی زندگی بہت اچھی ہوگی اور وہ ایسے لوگ ہوں گے جو دنیا کو منظم کرنے کا کام نہیں کریں گے بلکہ ایسے ہوں گے جو اپنی زندگی کو بڑھاتے ہوئے ہی خوش رہتے ہیں
خوشی کا سب سے اہم اصول یہ ہے کہ وہ اندر سے پیدا ہوتی ہے، اس کو سمجھنا اور اپنے حیات میں لازمی بنانا چاہیے #حسیات_خوشی
دنیا کی تیز رفتار زندگی میں، انسان ایک موڑ سے دوسرے موڑ پر چلتا رہتا ہے اور اس کو خوشی کا ذریعہ نہ سمجھنا آسان نہیں ہوتا ہے، لیکن خوشی کی وہ قیمتی پہچان بننی چاہیے #خुशی_کے_ذریعہ
ماحول کی سایہ و معاملات سے بھی نہ ہو، کیونکہ ان لوگوں کو خوش رہنے کا ذریعہ ایسے اور جہتمت دیتا ہے جو اس کے خلاف کام کرتا ہے #محبت_کی_صفتہ
جس طرح وہ لوگ اور وہ قوم جن کی زندگی ان کے حالات پر بہت گہرا اثر پڑتے ہیں، ایک حادثے یا کامیابی کے بعد خوش رہنے کا اہتمام کرنے پر اس سے ان کے حالات کو نہیں کیا جاسکتا بلکہ خوشی کی وہ قیمتی پہچان بننی چاہیے #جذبات_کی_صفتہ
Lifetime ke peechey aur asli tareekon par chalte hue har insaan ka ek hi basic maqsad hai ki vah khushi me rahna, lekin samay badhne ke saath humein ye bhaav hota hai ki khushi baahari khatarnashon ya baroi kamyabi se nahi milti, balki yeh andar hi padi hoti hai.
Yad rakhen ki sab logo ko alag-alag tareekon se khushi ke haasil karne ki koshish karni padti hai, lekin is baat ka ye samajhna zaroori hai ki log apni khushiyon ko bahari talas nahi karte.
Amad ki koshish krte huye logon ko ye samajhne mein mushkil hota hai ki khushi andar hi milti hai, aur isse pehchanna chahiye jisase voh apne bhaavon ko samjhein.
Duniya ki teez speed par rehte hue log ek nazar se dusa nazar se badalte rahte hain, aur khushi ka sahaara nahin samajhna asaan nahi hota, lekin ye bhi samajhna zaroori hai ki khushi ke liye humein apne halaton ko badhana chahiye.
Jaise hi zindagi ke dusre pehluon ko dekhkar aur mahaal ki saayeh se door rehte hue, koi bhi log khush rehne ka sahaara nahin mil sakta, kyunki yeh uske liye galat hai.
یہ واضح طور پر بات ہے کہ خوشی کو باہر تلاش نہیں کیاجاسکتا بلکہ اپنے اندر سے پائیا جاتا ہے، لیکن کبھی کبھار لوگ اسے سمجھنے میں بھی مشکل دیکھتے ہیں، وہ لوگ جو اپنی خوشی کو باہر تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ خوش رہنا نہیں سکتی ہیں اور ان کا خوشی کے حصول کے لیے بھاگتے چلتے ہوئے جسے اس کے اندر موجود جذبات کو پورا کرنا ہوتا ہے، حالانکہ دنیا کے ساتھ یہ تعلق نہیں ہوتا بلکہ وہ لوگ جو اپنی خوشی کو باہر تلاش کرتے ہوئے خوش رہتے ہیں ان کی زندگی میں کچھ اچانکی واقعات آتے ہیں، یا وہ لوگ جو دوسروں سے محبوس ہوکر اپنے اندر سے خوش رہتے ہیں ان کی زندگی بھی کوئی خاص اچانکی واقعات کے بغیر آتی ہے، اس لیے یہ بات واضح طور پر ہوتی ہے کہ خوشی کو باہر تلاش کرنا نہیں بلکہ اپنے اندر سے پانا چاہیے۔
زندگی میں کچھ لوگ محض حالات کے شکار ہوتے ہیں، لیکن وہی Persons جو کامیاب ہوتے ہوئے خوش رہنے کی کوئی مہارت نہیں سمجھتے۔
مگر اس بات پر یقیناً اچھا لگتا ہے کہ دنیا کی تیز رفتار زندگی میں، انسان ایک موڑ سے دوسرے موڑ پر چلتا رہتا ہے اور خوشی کا ذریعہ نہ سمجھنا آسان نہیں ہوتا۔
حالیہ برسوں میں ہندوستان اور افغانستان کے کئی نوجوان، جو ایک ساتھ چل کر ان لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کام کرتے تھے، وہاں جہاں ان کے حالات ناکام ہیں، وہاں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو حیرت انگیز کاروائیوں کی وجہ سے اپنی زندگی میں خوش رہنے کے ذریعہ محترمہ زندگی کو بڑھاتے ہیں۔
یہ بات کبھی نہیں کہ لوگ اپنی خوشیوں کو باہر تلاش کریں گے... دنیا میں اس کی وجہ سے زیادہ لوگ خوش رہتے ہیں جس کے لیے وہ آپریشنز کرنا چاہتے ہیں نہیں? جو لوگ حیرت انگیز کاروائیوں میں دلیڈل پڑتے ہیں، وہ کئی بار ایسے کام کرنے پر مشغول ہوتے ہیں جو ان کی زندگی کو بڑھانے کے لیے نہیں...
یہ تو سب کچھ بہت حقیقی ہے، مگر یہ بات بھی تو لگتا ہے کہ اکیلے خوش رہنا کافی مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب لوگوں کے سامنے حقیقی چیلنجز آتے ہیں اور آپ کو دوسروں کی.compare karna پڑتی ہے تو آپ میں بھی ان کا compare nahi ho سکتا ، لیکن یہ سب کچنا ضروری نہیں ہے، اس لئے آپ کو اسی خوشی پر اہتمام کرنا چاہیے جو آپ میں ہو ، یہ تو آپ کی زندگی کو بڑھانے کے لیے ایک اور اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہ رونق بے معنی ہو گا! اگر ہم اپنی خوشی کو اندر سے پیدا کردیں تو کیا کوئی حادثے یا بیرونی کامیابی کی ضرورت ہوتی؟ دنیا میں لوگ اچھی ناجی دونوں کا انعام لیتے رہتے ہیں، لیکن خوش رہنا اس سے زیادہ بڑی چIZ نہیں ہوتا.
لوگ اپنی زندگی میں خوشی نہیں ملا سکتی یہ سمجھتے ہیں جس کا نتیجہ وہی ہوتا ہے کہ دنیا کی تیز رفتار زندگی میں وہ محو اہمیت ہوجاتے ہیں اور اپنے حالات کو بڑھانے سے ناکام رہتے ہیں.
یے تو! یہ بات کچھ نوجوانوں کے لیے مشکل ہو سکتی ہے کہ خوشی کو اپنے اندر سمجھنا اور اس کی وajah se apna jeevan badhane ka matlab kyun nahi hai? میری mehnat se ek company ka logo ko sahi dhamaka mila hai! جب کہ میرا logo khud bhi samajhta hai ki uski life mein kuch aur hai jo ehsaas ke sath poori karne ke liye zaroori hai. علاوہ بھی، mera motto hai: "Agar aapko khushi mile to yeh sab theek hai, lekin agar aapko khushi nahi mile toh kaise ho sakta hai?" jo jo logo ko happy karne ka matlab hai usse hi humari company ka logo samajta hai.
میں سوچتا ہوں کہ یہ بات بہت سارے لوگوں کے لئے حقیقی ہے کہ وہ اپنی خوشی کو باہر تلاش کریں، لیکن میں نے اپنے جونکوں سے پوچھا ہوں اور انہوں نے بتایا کہ وہ سب اپنی خوشی کو اندر کی تلاش کر رہے ہیں، لیکن شام ہونے پر کہتے ہیں کہ وہ انکی پوری کوشش کا بدلہ لینے میں ناکام ہوتے ہیں، جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی خوشی کو ایک حادثے یا بیرونی کامیابی سے نہیں ملا سکتی بلکہ وہ اندر ہی سے پیدا ہوتی ہے۔