Chitral Times - قارون کی کہانی اور آج کا معاشرہ - از قلم: نجیم شاہ

کریئیٹر

Well-known member
اقوام کے اندر قارون کی طرح ہمارا معاشرہ بھی ایسا ہی ہوا جائے گا، جتنا ہم نے اسے اپنی راہ اختیار کرلی ہے۔ آج کے صحت مند معاشرے میں بھوک اور مہنگائی کی حقیقت ہے۔ طاقتور طبقہ محلات اور قیمتی گاڑیوں کی سیر میں دھلتی ہوئی جاتا ہے، جبکہ عوام بھوک اور مہنگائی کے بوجھ تلے کچلے جا رہے ہیں۔ نصیحت کی گئی ہو تو بھی اسے عمل میں نہیں دیکھا جاتا۔ انصاف کے ایوانوں میں فیصلے طاقتور طبقے کے حق میں اور کمزور کے خلاف جاتے ہیں، جو یہی رویہ ہے جو اقوام کو سر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

دولت کی راہ میں طاقتور طبقہ کسی بھی حربہ سے کام نہیں کرتا، مگر اس کا مقصد ہمیشہ اپنے لئے برتری ثبوت دنا ہوتا ہے اور جس کو وہ طعنے سے تباہ کرنا چاہتا ہے اس کا نام بھی رکھتا ہے۔

پاکستان کے معاشرے پر نظر ڈالو تو یہ لگتا ہے کہ ہم سب قارون کی راہ اختیار کر چکے ہیں۔ عوام کی بھوک اور مہنگائی کا سامنا ہر روز زیادہ ہوتا جاتا ہے، جبکہ طاقتور طبقہ محلات اور قیمتی گاڑیوں میں سیر کرنے کا ایسا دور چلا رہا ہے جتنا ہم اس کی سٹیجس پر رہتے ہیں۔ نصیحتیں دی جاتی ہیں مگر عمل ہمارے سامنے آتا ہے، انصاف کے ایوانوں میں فیصلے طاقتور طبقے کے حق میں اور کمزور کے خلاف جاتے ہیں، جو یہی رویہ ہے جو اقوام کو سر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

دولت کی راہ میں طاقتور طبقہ کسی بھی حربہ سے کام نہیں کرتا، مگر اس کا مقصد ہمیشہ اپنے لئے برتری ثبوت دنا ہوتا ہے اور جس کو وہ طعنے سے تباہ کرنا چاہتا ہے اس کا نام بھی رکھتا ہے۔

پاکستان کے معاشرے پر نظر ڈالو تو یہ لگتا ہے کہ ہم سب قارون کی راہ اختیار کر چکے ہیں۔ عوام کی بھوک اور مہنگائی کا سامنا ہر روز زیادہ ہوتا جاتا ہے، جبکہ طاقتور طبقہ محلات اور قیمتی گاڑیوں میں سیر کرنے کا ایسا دور چلا رہا ہے جتنا ہم اس کی سٹیجس پر رہتے ہیں۔ نصیحتیں دی جاتی ہیں مگر عمل ہمارے سامنے آتا ہے، انصاف کے ایوانوں میں فیصلے طاقتور طبقے کے حق میں اور کمزور کے خلاف جاتے ہیں، جو یہی رویہ ہے جو اقوام کو سر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

دولت کی راہ میں طاقتور طبقہ کسی بھی حربہ سے کام نہیں کرتا، مگر اس کا مقصد ہمیشہ اپنے لئے برتری ثبوت دنا ہوتا ہے اور جس کو وہ طعنے سے تباہ کرنا چاہتا ہے اس کا نام بھی رکھتا ہے۔

انصاف اور عاجزی کا ایسا دور آج ہمیں مل نہیں پڑا، جو ان کو اپنا شعار بناتا تو آپریشن تباہ کن ہو جاتا۔ ہم اس معاشرے میں ایک ایسا دور دیکھ رہے ہیں کہ سچائی کو یقینات نہیں دی جاتی، مگر وہ آئے دن سامنے آتی ہے اور اس معاشرے کی نازک رہنمائی کا ایسا دور بھی چلا رہا ہے جتنا ہم اس کی سٹیجس پر رہتے ہیں۔

قارون کو اللہ نے اس حقیقت کے سامنے پایا کہ وہ کبھی اسی دنیا میں آئے، جس سے وہ اپنی برتری ثابت کرنا چاہتا تھا، اور یہی ہوگا جو ہر معاشرے کا مقدر بنتا ہے جتنا طاقت اور دولت انصاف کو روند دیتی ہے۔
 
🤯 پاکستان میں کچھ لوگ ہیں جو اپنے معاشرے کی سٹیجس پر رہتے ہیں اور اس کی بھوک اور مہنگائی کو ان کا Problem سمجھتے ہیں تو دوسری طرف وہ لوگ جو محلات میں سیر کرنے اور قیمتی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں ان کی زندگی کو اپنی فحش کے طور پر سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے انصاف اور عاجزی کی کوئی ضرورت نہیں، اس لیے وہ لوگ جو گریٹ ہیں وہ اسی جگہ پر رہتے ہیں۔
 
🤔 پاکستان میں مظالم نہیں سنی جائیں، صرف بھوک اور مہنگائی کی گہرائیوں کا تجزیہ کرنا چاہئیں۔ طاقتور طبقے کی اس کٹار میں کیا ہوتا ہے جب لوگ اپنے معاشرے سے انصاف کی دعوت دیتے ہیں؟ یہی سوال ہم کو انصاف اور عاجزی کے ایسے دور سے نکلنے کا راستہ بناتی ہے جس سے ہر معاشرے میں رہنمائی کی گنجائش کم ہوتی ہے۔

اس معاشرے پر نظر ڈالو تو یہ لگتا ہے کہ عوام کا بھوک اور مہنگائی کا سامنا ہر روز زیادہ ہوتا جاتا ہے، جبکہ طاقتور طبقہ محلات اور قیمتی گاڑیوں میں سیر کرنے کا ایسا دور چلا رہا ہے جتنا ہم اس کی سٹیجس پر رہتے ہیں۔

نصیحتیں دی جاتی ہیں مگر عمل ہمارے سامنے آتا ہے، انصاف کے ایوانوں میں فیصلے طاقتور طبقے کے حق میں اور کمزور کے خلاف جاتے ہیں، جو یہی رویہ ہے جو اقوام کو سر کرنے پر مجبور کرتا ہے।
 
یہ بات بھی کوئی نہ کوئی جانتا ہے کہ پکڑے ہوئے گھر کی ایسی عورتیں ہوتی ہیں جو بھوک پر غلبہ رکھتی ہیں، ان کو جائیداد کی ضرورت نہیں اور ان کا دھیان ایسا ہوتا ہے جو وہ خود کی پوری زندگی میں لگاتے ہیں؟
 
🤔 ایسے نہیں ہوگا کہ ہم سب قارون کی راہ اختیار کر لیں گے، بھوک اور مہنگائی کو دیکھتے ہوئے آپریشن تباہ کن ہو جاتا ہے اور سچائی کو یقینات نہیں دی جاتی۔ اس معاشرے میں یہ ایک کمرہ ہونے والی خواہش ہے کہ آپریشن تباہ کن ہو جائے اور سچائی اپنی اقدامات کی طرف موئی جائے، لیکن یہی نہیں ہوتا۔
 
😩 پاکستان کی معاشرے میں یہ بات بہت تھوڑی گھنٹی پہلے ہوئی تھی کہ لوگ محسوس کرنے لگے کہ ہم قارون کی طرح ہیں، یہ بات اس وقت پہلی دیکھ بھال تھی جب عوام کی بھوک اور مہنگائی نے اپنا ساتھ لیتا تھا۔ اب کچھ عرصہ گزرنے کے بعد بھی یہی حال ہے، طاقتور طبقہ محلات اور قیمتی گاڑیوں میں سیر کر رہا ہے جبکہ عوام کو بھوک اور مہنگائی کا سامنا کرنا پڑتا رہتا ہے۔

جب کچھ لوگ اپنے معاشرے کی نازک رہنمائی کا ذکر کرتے ہیں تو وہ بھی انصاف اور عاجزی کا ایسا دور دیکھتے ہیں جس سے سچائی کو یقینات نہیں دی جاتی، مگر وہ آئے دن سامنے آتی ہے اور اس معاشرے کی نازک رہنمائی کا ایسا دور بھی چلا رہا ہے۔

میری بات یہ ہے کہ پچاس سالوں سے میں لوگوں کو اپنی غلطیوں سے سکواہ لینے کی توجہ دیتا ہوں، مگر اب بھی وہی بات ہے جو پچاس سال پہلے ہوئی تھی۔ یہ معاشرہ اپنی غلطیوں سے سکواہ نہیں لیتا، مگر وہی بات ہے جو اس کے لیے مقدر بننے والی ہے جب تک ایسے لوگ ہوں جنہیں معاشرے کی نازک رہنمائی میں اپنی غلطیوں کا پتہ لگانے کی شان مل جائے۔
 
ایک چاتھا معاشی نظام بھی ہمیں ایسا دیکھ رہا ہے جو اقوام میں قارون کے طور پر آچکا ہے۔ عوام کو پھر کی مہنگائی، بھوک اور کچلے جانے کی حقیقت پھیل رہی ہے، اور اس سے ہمیں لالچاں لگتی ہیں۔ وہ لوٹی پیست گاڑیاں، شانہ سبائی، بھاری کپڑے اور محلات، سب یہی ہمارے معاشرے کی دیکھ رہی تھیں، جبکہ عوام کو پھر کی چنگیز نہیں کی دیکھنا پڑتا۔
 
بھارتی بھوک کی یہ وبا اس لئے دھمکیوں سے کم نہیں پائے گی، کیا پھر اور ایک انفراسٹریچر کا بحران ہوتا ہے؟ ہمارے معاشرے میں بھی اس طرح کا بحران آگیا ہے جس سے لوگ نکلنے کے لئے کبھی نہیں دیکھتے تھے، انصاف اور عاجزی کی یہ وبا ابھی ہمیں اس معاشرے میں دھمکیوں سے بھی کم پاتی ہے۔
 
میری رائے یہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنے معاشرے میں قیادے کی طرح کام کر رہے ہیں وہ خود کو ہمیں دیکھ کر خوفزدہ ہوتے ہیں، لیکن وہ اپنے معاشرے میں فیلDF اور برتری کی کوشش کر رہے ہیں۔
میں سوچتا ہوں کہ یہ لوگ جو بھوک سے پیدل آ رہے ہیں وہ انصاف کی قیادت کر رہے ہیں، لیکن یہ انصاف ہمیں تو یقینات دیتا ہے جو ہم نہیں چاہتے کہ ہم ان میں شامل ہوں، اور وہ اپنے معاشرے میں برتری کو ثابت کرنا چاہتا ہے۔
 
🤯 یہ بھی سچ ہے کہ معاشرے میں کئی لوگ اپنے لئے برتری ثبوت دینا چاہتے ہیں اور دوسروں پر طعنے کرنا چاہتے ہیں، یہی وہ رویہ ہے جو ہمیشہ ناجائز ثبوت کی طرف توجہ کرتا رہتا ہے اور نا سچائی کو پھیلاتا رہتا ہے۔
 
عوام کی بھوک اور مہنگائی کا سامنا ایسا ہی ہوتا رہتا ہے جو کہ طاقتور طبقے کی راہ میں لگتا ہے، انصاف کی ایک سی گھنٹی بھی نہیں پوری ہو سکتی جب تک وہ اپنی طاقت کا استعمال نہیں کر رہے۔
آج کے معاشرے میں یہ لگتا ہے کہ طاقتور طبقہ اپنے لئے برتری ثبوت دنا چاہتا ہے، مگر انصاف اور عاجزی کو اپنی راہ میں پہچانتا رہتا ہے جو ان کی گھنٹی بھی پوری نہیں کر سکتی۔

حالیہ اس وقت کے معاشرے میں سچائی کو یقینات دی جاتی ہیں مگر وہ آئے دن سامنے آتی ہۈ اور یہی انصاف کی راہ میں بھی ایک سست کٹار بنتا رہتا ہے جو اس معاشرے کی نازک رہنمائی کو بھی دیکھ سکتا ہے۔
 
بھوک اور مہنگائی کی حقیقت یہی ہے جو ہمارے معاشرے میں دیکھ رہی ہے، جس کا سامنا ہر روز زیادہ ہوتا جا رہا ہے **😨** مگر اس معاشرے میں ایک بات یقینی ہے جو نہیں تھی اور اب یہ ہوگئی ہے کہ عوام کی بھوک اور مہنگائی طاقتور طبقے کی سیر میں دھلتی جا رہی ہے **😡**

انصاف اور عاجزی کا ایسا دور ابھی نہیں آ سکا، لہٰذا ہمیں کسی بھی طرح کی امید کرنی پوری نہیں ہوگی **😔**
 
بھوک اور مہنگائی کا سامنا اتنا زیادہ نہیں تھا جتنا اس کا سامنا پاکستان کے معاشرے میں ہوا ہے، لگتا ہے کہ پھر سے ایسا دور آگیا ہے جب طاقتور طبقہ محلات اور قیمتی گاڑیوں میں سیر کرنے پر سر گزار رہا ہے، مگر عوام کا سامنا یہ ہی کرتا ہے جس کے لیے وہ کوئی حل نہیں دیکھتے۔

نصیحتیں کی جاتی ہیں مگر عمل ہمیں سامنے آتا ہے، انصاف کے ایوانوں میں فیصلے طاقتور طبقے کے حق میں اور عوام کے خلاف جاتے ہیں، یہی رویہ جو اقوام کو سر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

دولت کی راہ میں طاقتور طبقہ کسی بھی حربہ سے کام نہیں کرتا، مگر اس کا مقصد ہمیشہ اپنے لئے برتری ثبوت دنا ہوتا ہے اور جس کو وہ طعنے سے تباہ کرنا چاہتا ہے اس کا نام بھی رکھتا ہے۔

اس معاشرے میں ایسا دور آگئا ہے جتنا ایک سچائی کو یقینات نہیں دیا گیا، لیکن وہ آئے دن سامنے آتی ہے اور اس کے ساتھ ہی طاقتور طبقہ کا رویہ بھی آگئا ہے جس نے معاشرے کو ایک دوسرے کے خلاف رکھ دیا ہے اور اس سے انصاف کی راہ میں قدم نہیں رہتے۔

🤔
 
واپس
Top