اقوام کے اندر قارون کی طرح ہمارا معاشرہ بھی ایسا ہی ہوا جائے گا، جتنا ہم نے اسے اپنی راہ اختیار کرلی ہے۔ آج کے صحت مند معاشرے میں بھوک اور مہنگائی کی حقیقت ہے۔ طاقتور طبقہ محلات اور قیمتی گاڑیوں کی سیر میں دھلتی ہوئی جاتا ہے، جبکہ عوام بھوک اور مہنگائی کے بوجھ تلے کچلے جا رہے ہیں۔ نصیحت کی گئی ہو تو بھی اسے عمل میں نہیں دیکھا جاتا۔ انصاف کے ایوانوں میں فیصلے طاقتور طبقے کے حق میں اور کمزور کے خلاف جاتے ہیں، جو یہی رویہ ہے جو اقوام کو سر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
دولت کی راہ میں طاقتور طبقہ کسی بھی حربہ سے کام نہیں کرتا، مگر اس کا مقصد ہمیشہ اپنے لئے برتری ثبوت دنا ہوتا ہے اور جس کو وہ طعنے سے تباہ کرنا چاہتا ہے اس کا نام بھی رکھتا ہے۔
پاکستان کے معاشرے پر نظر ڈالو تو یہ لگتا ہے کہ ہم سب قارون کی راہ اختیار کر چکے ہیں۔ عوام کی بھوک اور مہنگائی کا سامنا ہر روز زیادہ ہوتا جاتا ہے، جبکہ طاقتور طبقہ محلات اور قیمتی گاڑیوں میں سیر کرنے کا ایسا دور چلا رہا ہے جتنا ہم اس کی سٹیجس پر رہتے ہیں۔ نصیحتیں دی جاتی ہیں مگر عمل ہمارے سامنے آتا ہے، انصاف کے ایوانوں میں فیصلے طاقتور طبقے کے حق میں اور کمزور کے خلاف جاتے ہیں، جو یہی رویہ ہے جو اقوام کو سر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
دولت کی راہ میں طاقتور طبقہ کسی بھی حربہ سے کام نہیں کرتا، مگر اس کا مقصد ہمیشہ اپنے لئے برتری ثبوت دنا ہوتا ہے اور جس کو وہ طعنے سے تباہ کرنا چاہتا ہے اس کا نام بھی رکھتا ہے۔
پاکستان کے معاشرے پر نظر ڈالو تو یہ لگتا ہے کہ ہم سب قارون کی راہ اختیار کر چکے ہیں۔ عوام کی بھوک اور مہنگائی کا سامنا ہر روز زیادہ ہوتا جاتا ہے، جبکہ طاقتور طبقہ محلات اور قیمتی گاڑیوں میں سیر کرنے کا ایسا دور چلا رہا ہے جتنا ہم اس کی سٹیجس پر رہتے ہیں۔ نصیحتیں دی جاتی ہیں مگر عمل ہمارے سامنے آتا ہے، انصاف کے ایوانوں میں فیصلے طاقتور طبقے کے حق میں اور کمزور کے خلاف جاتے ہیں، جو یہی رویہ ہے جو اقوام کو سر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
دولت کی راہ میں طاقتور طبقہ کسی بھی حربہ سے کام نہیں کرتا، مگر اس کا مقصد ہمیشہ اپنے لئے برتری ثبوت دنا ہوتا ہے اور جس کو وہ طعنے سے تباہ کرنا چاہتا ہے اس کا نام بھی رکھتا ہے۔
انصاف اور عاجزی کا ایسا دور آج ہمیں مل نہیں پڑا، جو ان کو اپنا شعار بناتا تو آپریشن تباہ کن ہو جاتا۔ ہم اس معاشرے میں ایک ایسا دور دیکھ رہے ہیں کہ سچائی کو یقینات نہیں دی جاتی، مگر وہ آئے دن سامنے آتی ہے اور اس معاشرے کی نازک رہنمائی کا ایسا دور بھی چلا رہا ہے جتنا ہم اس کی سٹیجس پر رہتے ہیں۔
قارون کو اللہ نے اس حقیقت کے سامنے پایا کہ وہ کبھی اسی دنیا میں آئے، جس سے وہ اپنی برتری ثابت کرنا چاہتا تھا، اور یہی ہوگا جو ہر معاشرے کا مقدر بنتا ہے جتنا طاقت اور دولت انصاف کو روند دیتی ہے۔
دولت کی راہ میں طاقتور طبقہ کسی بھی حربہ سے کام نہیں کرتا، مگر اس کا مقصد ہمیشہ اپنے لئے برتری ثبوت دنا ہوتا ہے اور جس کو وہ طعنے سے تباہ کرنا چاہتا ہے اس کا نام بھی رکھتا ہے۔
پاکستان کے معاشرے پر نظر ڈالو تو یہ لگتا ہے کہ ہم سب قارون کی راہ اختیار کر چکے ہیں۔ عوام کی بھوک اور مہنگائی کا سامنا ہر روز زیادہ ہوتا جاتا ہے، جبکہ طاقتور طبقہ محلات اور قیمتی گاڑیوں میں سیر کرنے کا ایسا دور چلا رہا ہے جتنا ہم اس کی سٹیجس پر رہتے ہیں۔ نصیحتیں دی جاتی ہیں مگر عمل ہمارے سامنے آتا ہے، انصاف کے ایوانوں میں فیصلے طاقتور طبقے کے حق میں اور کمزور کے خلاف جاتے ہیں، جو یہی رویہ ہے جو اقوام کو سر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
دولت کی راہ میں طاقتور طبقہ کسی بھی حربہ سے کام نہیں کرتا، مگر اس کا مقصد ہمیشہ اپنے لئے برتری ثبوت دنا ہوتا ہے اور جس کو وہ طعنے سے تباہ کرنا چاہتا ہے اس کا نام بھی رکھتا ہے۔
پاکستان کے معاشرے پر نظر ڈالو تو یہ لگتا ہے کہ ہم سب قارون کی راہ اختیار کر چکے ہیں۔ عوام کی بھوک اور مہنگائی کا سامنا ہر روز زیادہ ہوتا جاتا ہے، جبکہ طاقتور طبقہ محلات اور قیمتی گاڑیوں میں سیر کرنے کا ایسا دور چلا رہا ہے جتنا ہم اس کی سٹیجس پر رہتے ہیں۔ نصیحتیں دی جاتی ہیں مگر عمل ہمارے سامنے آتا ہے، انصاف کے ایوانوں میں فیصلے طاقتور طبقے کے حق میں اور کمزور کے خلاف جاتے ہیں، جو یہی رویہ ہے جو اقوام کو سر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
دولت کی راہ میں طاقتور طبقہ کسی بھی حربہ سے کام نہیں کرتا، مگر اس کا مقصد ہمیشہ اپنے لئے برتری ثبوت دنا ہوتا ہے اور جس کو وہ طعنے سے تباہ کرنا چاہتا ہے اس کا نام بھی رکھتا ہے۔
انصاف اور عاجزی کا ایسا دور آج ہمیں مل نہیں پڑا، جو ان کو اپنا شعار بناتا تو آپریشن تباہ کن ہو جاتا۔ ہم اس معاشرے میں ایک ایسا دور دیکھ رہے ہیں کہ سچائی کو یقینات نہیں دی جاتی، مگر وہ آئے دن سامنے آتی ہے اور اس معاشرے کی نازک رہنمائی کا ایسا دور بھی چلا رہا ہے جتنا ہم اس کی سٹیجس پر رہتے ہیں۔
قارون کو اللہ نے اس حقیقت کے سامنے پایا کہ وہ کبھی اسی دنیا میں آئے، جس سے وہ اپنی برتری ثابت کرنا چاہتا تھا، اور یہی ہوگا جو ہر معاشرے کا مقدر بنتا ہے جتنا طاقت اور دولت انصاف کو روند دیتی ہے۔