Chitral Times - کرپشن کے خلاف اپرچترال کے ویلج چیئرمینز اور عمائدین علاقہ بھی سراپا احتجاج، ڈیزاسٹرفنڈز کی تحقیقات کا مطالبہ

فٹبالر

Well-known member
اپرچترال کے ویلج چیئرمینز اور عمائدین نے بدھ کے روز اویر سے لیکر کشم تک کے علاقوں میں بدلیپن پر احتجاج کیا، جس میں کرپشن کے خلاف بھی بھری ہوئی تھی۔ انہوں نے علاقے میں ترقیاتی منصوبوں میں سنگین بے قاعدگیوں اور کرپشن پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، اور کہا کہ عوامی فلاح پر خرچ ہونے کے بجائے مافیا کے ہاتھوں ٹیکس ضائع ہوتے رہتے ہیں۔

اس موقع پر کرپشن کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی پر بھی سخت سوالات اٹھائے گئے، جس میں مقررین نے بتایا کہ کچھ اراکین خود کرپشن میں ملوث ہیں۔ ان کی یہ باتیں “بلی سے دودھ کی رکھوالی” کے مترادف سمجھی جائیں گی۔

شریکوں نے چیئرمین اور عمائدینوں کو بتایا کہ ان کے ساتھ نامناسب سلوک کیا گیا تھا، جس کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ وہ ڈی سی آofs اور پی ٹی آئی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہ کرپشن کے خلاف غیر جانبدار اور شفاف کمیٹی تشکیل دی جائے اور مکمل تحقیقات کی جائیں۔

شریکوں نے کہا کہ انہیں کروڑوں روپے کی کرپشن کے ٹھوس شواہد ہیں، اور وہ تازہ ثبوت کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ انہوں نے انتظامیہ اور حکومت کو بھی مطالبہ کیا کہ بغیر کام اور ورک ڈن کے جاری کی گئی رقوم کی تحقیقات کی جائیں، ادھورے منصوبوں مکمل کرائے جائیں، اور جن علاقوں میں ٹھیکیدار کام چھوڑ کر فرار ہوئے وہاں ویلج کونسل سطح پر انکوائری کی جائے۔
 
پھر یہ کام ہی کیا رہا؟ پہلے نوجوانوں کو سکنا ملا، اب اورڈرلیٹس اور ویلج چیئرمینز پر ڈباؤ کیا گیا! کروڑوں روپے کی کرپشن کے ٹھوس شواہد ان لوگوں میں ہیں، اور اب وہ اس کو لینے پر تیار ہیں? بھرپور تحقیقات اور جांچ سے پہلے نہیں چلو؟
 
اس میں تو یہ بات واضع ہے کہ ویلج چیئرمین اور عمائدین اس ملکی سسٹم میں بھی کچھ خرابیوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو سول سروسز کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور اس میں ڈی سی آفس اور پی ٹی آئی کے موقف بھی کچھ مندرک ہیں۔

اس کمیٹی کی قائمہ شدت یوں محسوس ہوتی ہے جیسے وہ لوگ جو اس میں رکن ہیں ان کا صرف ایک مقصد ہے کہ ان کو اپنے ملازمت میں کچھ بدلنا ہو، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر انہیں کرپشن کی تحقیقات میں دخل ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
 
اس سے پہلے جب ویلج چیئرمین اور عمائدین نے بدلیپن پر احتجاج کیا تو یہ ایک بڑا معاملہ تھا، اور اب جب انہوں نے کرپشن کے خلاف بھری ہوئی کوششوں کی طرف اشارہ کیا تو یہ ایک نئی آواذ ہے। لیکن مجھے یہ سوچنا مشکل لگ رہا ہے کہ انہوں نے صرف یہی نہیں کیا، پھر بھی ان کی یہ کوشش نہیں بدلیپن پر ہی ہی رہے گی، اور ان کے نئے قدم ہی ایک بدلیپن کا باعث بن سکتے ہیں۔
 
یہ کچھ دیکھتے ہیں، اور سچ میں ہوگئیے۔ جب ایسے لوگ ویلج چیئرمینز اور عمائدین بنتے ہیں تو ان کا کام ساتھیوں پر دبا کر کرپشن کی ریکارڈ پانے کو ہوتا ہے، اس گھنٹے میں بھی نہیں چلاگے اور وہ لوگ کروڑوں روپے ایک ساتھ لاکھتے رہتے ہیں، یہ سب کچھ دیکھنے میں آ گئے ہیں اور اب جس بات ہو رہی ہے وہ بھی سچ تھی کوئی بھی چیئرمین اور عمید نہیں ہوتا جو ایک ہی دن میں کرپشن کا پہلو ہوجائے، اس لئے ان لوگوں پر مظالم کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
 
یہ بات حتمی ہو گئی ہے کہ جو لوگ معیشت کا نئا تجدید کیا، اب اس کے ساتھ ہیں۔ کرپشن کی جال میں پھنسنے والے اپنا گھروں اور معائنوں کو بھی گرباز کردیا ہیں۔ عوام کو یہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔ اب جب شریکین نے اپنی بات کے ساتھ ثبوت لائے ہیں تو بھی ان پر اس قدر توجہ نہیں دی گئی جس کی وہ مطالبہ کر رہے تھے۔ یہ کام ان کی ذمہ داریوں کا ہیڈ لینا چاہیے، یا پھر انہیں یہ سمجھائی گئی کہ ان کے تحفظ پر بھی کوئی دباؤ نہیں اور اس لیے وہ اپنی بات کرنے کی اجازت نہیں دے رہے۔
 
🤔 یہ بات بہت گھنکے والی ہے کہ کرپشن کے ذریعے لوگوں کو چوری ہوئی رکھائی جاتی ہے، اور ان لوگوں کی شغلت میں بھرپور بدلت وہاں جاتے ہیں کہ انہوں نے ٹیکس ڈال دیے تو ان پر بھی چوری کر لی جاتی ہے! یہ مظالم لوگوں کی ایمانت اور تحفظ سے منسلک ہیں، اور ان کے لئے یہ صرف ایک معاملہ ہے جو پورا کرنا ہوتا ہے۔
 
یہ ماحول بہت خوفناک ہے، جس میں لاکھوں لوگ اپنی زندگیوں کا استحالہ کرتے رہتے ہیں کرپشن کی اٹھلنی کے لئے 🤯۔ میرا خیال ہے کہ اگر ڈی سی آفز اور پی ٹی آئی حکومت نے تیز رفتار اور شفاف کام کیا تو اس صورتحال سے نکلنا ممکن ہوگا۔ یہ مضمون چھپنے پر بھی چھپنا ہی نہیں، اگر انسداد کرپشن کی لڑائی میں سمجھدے ہیں تو نہیں سمجھ سکتے ہیں۔
 
یہ تو عجیب بات ہے! اپرچترال کے ویلج چیئرمینز اور عمائدین نے بدھ کو کیسے جھانک دیا؟ ان کی یہ تحریبات سے کس طرح عوام کو فائدہ ہو گا؟ ان کا بے قاعدگیوں پر احتجاج تو سمجھیے گا لیکن وہ کیسے کروڑوں روپے کی شواہد لائے گا؟ جب تک حکومت نہیں اچھی طرح سوچتی ہے تو یہ تمام چلنے والی باتوں میں تبدیل ہوجائیں گی۔
 
اس وقت دکھائی دیتے ہیں کہ کرپشن کو چھیننے کے لیے کیا جان سکتا ہے اور جسے کیا جانا چاہیے، یہ بات ضروری ہے کہ ہر جگہ بڑھتی ہوئی تیزابیت کو کم کرنا ہو جیسا کہ میرے سامعین نے کہا ہے۔ اگر ہم ایسی کمیٹی کی تشکیل کرتے ہیں جو انصاف اور شفافیت پر زور دے، تو آئے دراز ہو جائیں گے.
 
یہ تو بھرپور خوفناک بات ہے! آدھا سے ادھر منصوبوں میں کرپشن ہونے کے بات چیت کر رہتے ہیں، ٹیکس وغیرہ کو کئے کروڑ روپے کا مافیا میں ضائع کرتے رہتے ہیں اور عوامی فلاح پر خرچ کرنے کے بجائے! یہ بھی کہیں تک تو صہبائی کہتا ہے اور عوام سے دودھ کی رکھوالی کرتا ہے لیکن وہیں اس کی چھٹی نہیں ہوتی! یہ بات بھی پورے عزم پر ہے کہ انہیں انتھرنی کمیٹی کے ساتھ گول ہونا چاہیے، لہذا ڈی سی اور پی ٹی آئی کو یہ کام کرنا چاہیے کیونکہ عوام اس کی خواہش کرتے ہیں۔
 
اس نئی پالیسی سے میرے خیال میں، شہر کو ایک ایسا مقام بنانے میں مدد مل گیے گی جو کروڑوں روپوں پر مبنی چٹچوتے اور وادی کھنے والوں کو اپنا شکار نہیں بنائے۔

اسٹاک مارکیٹ میں بھی ایسی نئی پالیسی کی ضرورت ہے جو عام لوگوں کو مافیہ کے ہاتھوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ہار نہیں جانے دیتی۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ڈی سی آف اور پی ٹی آئی کی ایسی پالیسی بنائی جائے جو مافیا کے ہاتھوں سے ملازم ہونے والے اراکین کو توڑ دیتی ہے اور انہیں عذربان کرتی ہے۔
 
بھلے ! یہ تو بالکل نایاب بات ہے کہ کس طرح معاونین اور چیئرمین ایک ڈرامے میں بھاگ رہے ہیں۔ ان کی جانب سے کوئی جانتا ہے کہ کس وقت اور کس مقام پر انھوں نے کیا؟ ان کا تعلقات مافیا سے تو بھرپور ہے، لेकिन اس میں انھیں اچھے نام کا لطف اندوز کرنا پڑتا ہے۔

جب تک انھوں نے یہ بات تو چھپائی رکھی ہے کہ وہ کتنے ٹیکس ضائع کیے ہیں، اور کیسے انھوں نے معاملات میں ڈرامہ بنایا ہے وہ تو انھیں ہی دکھائی دو گا۔

اور یہ بھی بات قابل ذکر ہے کہ جس وقت مافیا کی جانب سے پچھلے معاملات کا مطالعہ کیا جا رہا ہے تو وہ انھیں تو کیسے بھرپور جانتے ہیں؟

<em>حوالہ:</em> ہم کو یہ بات یقینی تھی کہ ان معاونین اور چیئرمین کا ایک ڈرامہ ہی ہو گا، لےکن اب تو یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ ہم نے بھی اچھی طرح ان کے ساتھ بات کھیلی ہے۔
 
کرپشن پر احتجاج اور شریکوں کی شدید مذمت سے پتا چalta ہے کہ عوامی فلاح پر خرچ ہونے کے بجائے مافیا کے ہاتھوں ٹیکس ضائع ہوتے رہتے ہیں! اس وقت تک نہیں پہنچ سکا جوسے یہ منصوبوں میں سنگین بے قاعدگیاں اور کرپشن کے خلاف تیزاب سے لڑنا ہو رہا ہے!

اس کمیٹی کی تحقیقات میں اس بات کی ضرورت ہے کہ ٹیکس کی گھنی ناکامیت پر پھانسی دی جائے اور مافیا کے ذریعے بدلے جانے والے پیسے واپس لائے جائیں!

شریکوں کو بھرپور مدد ملے اور ان کی تحقیقات میں ٹیکسٹ کافی موثر رہی ہے!
 
واپس
Top