Chitral Times - چترال میں اسلام کی آمد اور اخوند سالاکؒ کی جدوجہد - تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

سموسہ فین

Well-known member
چترال میں اسلام کی پہلی آگ دیکھی تھی، لیکن اس کے بعد نتیجہ دیکھنا ایک طویل اور مشکل سفر رہا۔ اس خطے نے صدیوں سے اپنی قدیم تاریخ و ثقافتوں کو محفوظ رکھا، لیکن جب اسلامی مہمات پہنچیں تو اُنہوں نے اس خطے کی سماجی و ثقافتی زندگی کو ایک نئی سمت عطا کی۔

اس کے علاوا، چترال میں اسلام کی آگ پھلنے سے پہلے اس خطے میں کبھیIslam نہیں تھا، بلکہ یہاں کے لوگ اپنی زبانوں اور رسم و رواج کے اعتبار سے برصغیر اور وسطی ایشیا دونوں سے مختلف تھے۔ یہی تنوع اس خطے کو ایک الگ تہذیبی و نسلی شناخت عطا کرتا ہے۔

اسلام کی پہلی آگ چترال میں نگرشو نامی کالاشہ سردار کے خلاف تھی، جسے اخوند سالاک نے جہادی مہمات کے ذریعے غیر مسلم قبائل کو اسلام سے روشناس کرایا اور اس اتحاد کا نتیجہ قلعہ راہلی کوٹ کی فتح تھی۔

اخوند سالاک نے صرف چترال ہی نہیں بلکہ کوہ سیاہ کے مقام پر ڈوما کافر کو شکست دی اور بریکوٹ گاؤں کے مشرقی ڈھلوان پر موجود بیرا کافر کے قلعے کے آثار آج بھی اس تاریخ کی گواہی دیتے ہیں۔

اسلامی مہمات کے نتیجے میں اُس کی بصیرت اور روحانی معاونت پر ایسا گرویدہ ہوا کہ ہر سال اُنہیں خالص دیسی گھی بطور نذرانہ روانہ کرتا رہا، جو اخوند سالاک نے فتح، بصیرت اور دعوت کے میدان میں عطا کیا۔

چترال کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کس طرح ایک قدیم تہذیبی و نسلی خطہ اسلام کی روشنی سے منور ہوا، اور اخوند سالاک کی خدمات نہ صرف مذہبی بلکہ تاریخی اعتبار سے بھی ناقابلِ فراموش ہیں۔

اُنہوں نے قبائل کو اسلام سے روشناس کرایا اور اُن کی سماجی و ثقافتی زندگی کو نئی سمت عطا کی، اور اس تبدیلی نے چترال، دیر اور گردونواح کو ایک نئی روحانی شناخت بخشی۔
 
چترال میں اسلام کے پہلے ہفتے سے پہلے یہاں کے لوگ دوسرے علاقوں کی تھیاری نہیں کرتے تھے، لہٰذا اسلام کے آج تک کے ہفتے میں اس خطے کی سماجی زندگی کو بہت ہیPositive چھپا ہوا ہے۔

اخوند سالاک کی جانب سے مقامی قبائل کو اسلام سے روشناس کرایا گیا اور انہوں نے اپنے ماحول میںIslam کی دھار کے پہلے ہفتے سے بھی واضح اثر دکھایا، جس کے نتیجے میں قلعہ راہلی کوٹ کی فتح اور ان کے لئے ایک نئی روحانی شناخت ہوئی۔
 
اسلامی مہمات کا یہ دور بھرپور تھا، آج بھی اس کی یاد بھی اچھی ہوتی ہے … کبھی نہیں کہ چترال میں کوئیIslam نہیں تھا، اور اب اس خطے کی ثقافت اور زبان بھی اسی سے وابستہ ہو گئی ہے … اخوند سالاک کا یہ کردار ایک قابلِ ذکر ہے، وہ چترال میں جہادی مہمات کی شروعات کرکے اُس خطے کو اسلام سے روشناس کیا تھا … اور اُن کی یہ خدمات اب بھی تاریخ کی پہلی گواہ ہیں
 
اسلام کی پہلی آگ چترال میں پھلنے کا یہ رہسما کہ اس خطے میں اسلام ہی نہیں تھا، بلکہ یہاں کے لوگ اپنی زبانوں اور رسم و رواج کے اعتبار سے برصغیر اور وسطی ایشیا دونوں سے مختلف تھے ، میں یاد آتا ہوں کہ میری والدات کی پیداوار کی تقریban 5 سال پہلے تو پہلی بار ڈسکونٹ لگائی گئی thi , اور وہ چھیننے میں ناکام رہی .اس کا معاملہ ابھی تو میں سمجھ رہا ہوں اور اس کی جگہ یہ بات بھی میرے ذہن میں آئی ، کہ کیا ابھی انیس وٹس نہیں ہو سکتا تھا ?
 
چترال میں اسلام کی پہلی آگ کے بعد، شہر کا معاشیات میں بھی بہت زیادہ بدلाव آیا تھا. چٹھول 2019ء سے 2022ء تک اس شہر کی ٹیکس ڈپوٹ میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے। اور یہ سب اسلامی مہمات کے نتیجے میں ہوا تھا!

اسلامی مہمات سے قبل، چترال کی آبادی تقریباً 70 فیصد سے کم تھی۔ لیکن جب اسلامی مہمات پہنچیں تو اُنہوں نے شہر کی آبادی میں تقریباً 10 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اس کے علاوا، چترال کی معیشت کو بھیIslam کی روشنی سے منور کیا گیا تھا.

اسلامی مہمات کے نتیجے میں، شہر کی ٹیکس ڈپوٹ میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ہوا تھا. اور یہ سب اخوند سالاک کی خدمات پر مشتمل ہیں!

اسلامی مہمات سے قبل، چترال کے شہریوں میں تقریباً 80 فیصد لوگ حدیث اور قرآن کو نہیں جانتے تھے۔ لیکن جب اسلامی مہمات پہنچیں تو اُنہوں نے شہر کی سماجی و ثقافتی زندگی کو ایک نئی سمت عطا کیا تھا!

اسلامی مہمات کے نتیجے میں، چترال کے شہریوں میں تقریباً 90 فیصد لوگ حدیث اور قرآن کو جانتے ہیں!

اسلامی مہمات سے قبل، چترال کی معیشت تقریباً 30 فیصد تھی۔ لیکن جب اسلامی مہمات پہنچیں تو اُنہوں نے شہر کی معیشت کو ایک نئی سمت عطا کیا تھا!

اسلامی مہمات کے نتیجے میں، چترال کی معیشت تقریباً 50 فیصد ہو گئی تھی! 💸🚀
 
اس اسلام کی پہلی آگ میں کچھ interessing باتوں کا جिकر کرنا چاہوں گا. پہلی آگ نگرشو نامی کالاشہ سردار کے خلاف تھی، جو کہ اسلام سے ناواقف تھا۔ اس لئےIslam کی پہلی آگ ایک اچھی بات ہوگئی. لेकن اس کے بعد جس نتیجے پر ملا، وہ بالکل مختلف ہوا. اُس خطے میں جو انصاف، سماجیت اور ثقافت کا مظاہرہ ہوگا وہ ابھی بھی وہیں موجود ہے.Islam کی پہلی آگ کے بعد ایک نئی تہذیبی زندگی کا آغاز ہوا، لیکن اس سے پہلے کے لوگوں کو بھی اپنی قدیمTraditions اور ثقافتوں کی لاشوں پر گریبوں کی تھی.
 
اسلامی مہمات کے بعد ڈھائی سو سال گزر गए ہیں اور اُس خطے کی سماجی زندگی بھی تبدیل ہو چکی ہے جو صدیوں سے اپنی قدیم تاریخ و ثقافتوں کو محفوظ رکھتی تھی। 🤔

ان کا یہ راستہ ہمیں ایسا لگتا ہے جیسے اُنہوں نے اپنی سماجی زندگی میں ایک نئی روشنی کی کھوج کرلی ہو۔ اُس کے بعد چترال، دیر اور گردونواح کو ایک نئی روحانی شناخت ملی ہو گی۔

اس کے علاوہ ڈوما کافر کو شکست دینے اور بیرا کaffer کے قلعے کی فتح اُنہیں اتناCredit دیا ہوگا کہ اب انہیں ایک نئی سماجی زندگی میں بدلنا پڑا۔ 😊
 
اسلامی مہمات سے کچھ لگت پھرنے کے بعد ہمیں یہاں تک پہنچا کہ اس خطے نے اپنی قدیم تاریخ اور ثقافتوں کو محفوظ رکھا، لیکن کیا کبھی یہ سمجھا تھا کہ انہیں بھی ایک نئی سمت دی جائے؟ آج کچھ لوگ دیکھتے ہیں کہ اس خطے کی سماجی زندگی پہلے سے زیادہ ترقی پائی، لیکن یہ بات صاف نہیں کہ چترال میں اسلام کی آگ جس طرح ایک نئی زندگی بڑھا دی ، یا اس میں کسی نے اپنی سمجھ اور رویہ کو تبدیل کرنا پڑا ?
 
اسلام کی پہلی آگ کی وقیعت کو سوچ رہا ہوں تو کیا یہ بھی وہی بات نہیں ہے جو ہم انیسویں صدی میں پہلی بار سمجھ رہے تھے؟ چترال کی تاریخ ایک اسی طرح کی ہے جس طرح ہمارے ہیں، مگر یہاں تک کہ وہ لوگ جو اس خطے کو اپنی ملکیت سمجھتے تھے، انہوں نے بھی ایسے ہی سچائیوں کی جھلکیاں لگیں ہیں جو اُنہیں آج تک بدلنا پڑتے رہے ہیں۔

اکھوند سالاک کے مظاہرے سے پہلے اس خطے میں اسی طرح کی روایات نہیں تھیں، مگر یہی وہی بات ہے جو ہم دوسری بار اور پھر تیسری بار سمجھتے ہیں اور آخرکار ایک اسی بات پر بات کرنے کو مجبور ہوتے ہیں۔

اسلامی مہمات کا یہ سدباب جو اس خطے نے دیکھا، ابھی بھی وہی بتاتا ہے کہ کس طرح ایک قدیم تہذیبی و نسلی خطہ کو اُس کی سماجی و ثقافتی زندگی میں ایک نئی سمت دی جاسکی۔
 
اسلامی مہمات کے بعد چٹral میں لاکھوں لوگ آئے اور اب وہاں کی زبان ہر عام تھی جو اب تک نہیں تھی... یہ کبھی بھی دیکھا نہیں کہ ایک خطے میں ایسی تبدیلی آئے جس کے بعد اس کی ثقافت اور زبان کچھ دنوں میں نئی ہو جائیے
 
اسلامی مہمات کے بعد چترال میں سارے لوگ ایک ہی مذہب پر ٹھہر کر گئے؟ اس کی آس پہچانے میں کتنا difficulty ہوا؟

اس خطے کی قدیم تاریخ اور ثقافتوں کو محفوظ رکھنے کا یہ نئی رواج بہت problem ہے।

اکثر لوگ ان سلوکوں پر توجہ نہیں دیتے جو اخوند سالاک اور اس کی شاگردوں نے کئے تھے، بلکہ انہیں صرف ایک جہادی مہمات کا ہی نتیجہ سمجھتے ہیں۔

اسلام کی روشنی سے منور ہونے والے یہ خطہ دنیا بھر میں ایک اچھی مثال ہے، لیکن اس کا پوری تاریخ پر فہم کرنا اور اسے سمجھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

اسلام کی پہلی آگ چترال میں ہوئی؟ اس کے بعد کیا نتیجہ نکلا?
 
اسلامی مہمات کے بعد چترال میں ہونے والی تبدیلیوں سے پہلے اس خطے میںIslam کا کوئی موجودہ نہیں تھا، لہذا یہاں کی لوگ اپنی زبانوں اور رسم و رواج کے اعتبار سے برصغیر اور وسطی ایشیا دونوں سے مختلف ہیں۔ ان تنوع میں سے ایک یہ ہے کہ چترال کو ایک الگ تہذیبی و نسلی شناخت ملے گی۔

مگر ان تبدیلیوں نے اس خطے کی سماجی زندگی کو ایک نئی سمت دی اور یہاں کے لوگوں کے خیالات، عادات اور روایات میں بھی تبدیلی आئی۔Islam کی پہلی آگ چترال میں نگرشو نامی کالاشہ سردار کے خلاف تھی جو اخوند سالاک نے جہادی مہمات کے ذریعے شروع کی۔

اُنہوں نے قلعہ راہلی کوٹ کی فتح اورIslam کی پہلی آگ میں ہونے والی تبدیلیوں سے لے کر ان کے بعد کی مختلف ایام تک گئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر سال اُنہیں خالص دیسی گھی بطور نذرانہ روانہ کرتا رہا۔
 
اسلامی مہمات کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ اسلام کی پہلی آگ چترال میں نگرشو نامی کالاشہ سردار کے خلاف تھی؟ تو اس پر بات کرنا مشکل ہوتا ہے، کیا یہ سچ ہو گا کہ اس خطے میں پہلے اسلام نہیں تھا؟

اسلام کی پہلی آگ چترال میڰ کچھ نہ کچھ منظر نامہ ہوا تھی، لیکن یہ کہ اس خطے میں قبل از اسلام کے لوگ اپنی زبانوں اور رسم و رواج کے اعتبار سے مختلف تھے، ایسا کیا صوفی دار्शन نے ان تنوع کو elimin کر دیا ہو گا?
 
اسIslam ki pehli aag ko dekha tha, lekin uske baad natejha dikhna ek lamba aur mushkil saafar raha. Yeh kshetr ne shadiyan se apni purani tezi aur sanskriti ko mahfooz rakha, lekin jab Islamic mehemat pahinayi to unhonein is kshetr ki samajhi aur sanskriti jeevan ko ek nai سمت pradaan ki.

Main sochta hoon ki chitrall mein Islam ki aag pehle se hi tha, bas ye aas-paas ke logon ki zaban aur ritaawat ke maqaabe se alag the. Yehi tanvaay is kshetr ko ek alag tahdeeni aur naslee shanakht ko pradaan karta hai.

Islam ki pehli aag chitrall mein naghsho naam ki kalashah saradar ke khilaf thi, jise akhoond salaak ne jehadi mehemat ka zahir ehsaas karake ghair muslimeen qabaail ko Islam se roshe nas karaya aur is saath ki ek jahaad ki wajah se khaal raheli ko jeet liya.

Main sochta hoon ki yeh safar kisi bhi tarh ki nahin tha, bas ek naye samay mein ek nayi shuruaat thi. Ek baar is jahaad ke baad, sabko khushi aur shanti mil gayi.
 
چترال میں اسلام کی پہلی آگ دیکھنے کا واقعہ آج بھی اپنی ادراکات کو باقی رکھتا ہے۔ اس خطے نے اپنی قدیم تاریخ و ثقافتوں کو محفوظ رکھا، لیکن اسلام کی آمد سے ان کی سماجی و ثقافتی زندگی میں ایک نئی تبدیلی آئی #چترال_کہانی۔

اسلام کی پہلی آگ چترال میں اسلام کی جذبیت کا ایک اہم موقع تھا، جس سے ان قبائل کو Islam کی روشنی عطا کی گئی جو اس خطے سے متعلق نہیں تھے۔ یہ تنوع اس خطے کو ایک الگ تہذیبی و نسلی شناخت عطا کرتا ہے #تنوع_سٹری.

اخوند سالاک کی خدمات نے نئی تاریخ لگाई اور اس خطے کی سماجی و ثقافتی زندگی کو ایک نئی سمت عطا کی۔ ان کی بصیرت اور روحانی معاونت نے قبائل کے جھگڑوں کو ختم کر دیا اور انہیں اسلام سے روشناس کرایا #اخوند_صالح.

اسلامی مہمات نے اس خطے کی تاریخ کو ایک نئی طرف لے گئے اور اسے ایک نئی روحانی شناخت بخشی۔ #چترال_کے_تاریخ.
 
واپس
Top