چترال میں اسلام کی پہلی آگ دیکھی تھی، لیکن اس کے بعد نتیجہ دیکھنا ایک طویل اور مشکل سفر رہا۔ اس خطے نے صدیوں سے اپنی قدیم تاریخ و ثقافتوں کو محفوظ رکھا، لیکن جب اسلامی مہمات پہنچیں تو اُنہوں نے اس خطے کی سماجی و ثقافتی زندگی کو ایک نئی سمت عطا کی۔
اس کے علاوا، چترال میں اسلام کی آگ پھلنے سے پہلے اس خطے میں کبھیIslam نہیں تھا، بلکہ یہاں کے لوگ اپنی زبانوں اور رسم و رواج کے اعتبار سے برصغیر اور وسطی ایشیا دونوں سے مختلف تھے۔ یہی تنوع اس خطے کو ایک الگ تہذیبی و نسلی شناخت عطا کرتا ہے۔
اسلام کی پہلی آگ چترال میں نگرشو نامی کالاشہ سردار کے خلاف تھی، جسے اخوند سالاک نے جہادی مہمات کے ذریعے غیر مسلم قبائل کو اسلام سے روشناس کرایا اور اس اتحاد کا نتیجہ قلعہ راہلی کوٹ کی فتح تھی۔
اخوند سالاک نے صرف چترال ہی نہیں بلکہ کوہ سیاہ کے مقام پر ڈوما کافر کو شکست دی اور بریکوٹ گاؤں کے مشرقی ڈھلوان پر موجود بیرا کافر کے قلعے کے آثار آج بھی اس تاریخ کی گواہی دیتے ہیں۔
اسلامی مہمات کے نتیجے میں اُس کی بصیرت اور روحانی معاونت پر ایسا گرویدہ ہوا کہ ہر سال اُنہیں خالص دیسی گھی بطور نذرانہ روانہ کرتا رہا، جو اخوند سالاک نے فتح، بصیرت اور دعوت کے میدان میں عطا کیا۔
چترال کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کس طرح ایک قدیم تہذیبی و نسلی خطہ اسلام کی روشنی سے منور ہوا، اور اخوند سالاک کی خدمات نہ صرف مذہبی بلکہ تاریخی اعتبار سے بھی ناقابلِ فراموش ہیں۔
اُنہوں نے قبائل کو اسلام سے روشناس کرایا اور اُن کی سماجی و ثقافتی زندگی کو نئی سمت عطا کی، اور اس تبدیلی نے چترال، دیر اور گردونواح کو ایک نئی روحانی شناخت بخشی۔
اس کے علاوا، چترال میں اسلام کی آگ پھلنے سے پہلے اس خطے میں کبھیIslam نہیں تھا، بلکہ یہاں کے لوگ اپنی زبانوں اور رسم و رواج کے اعتبار سے برصغیر اور وسطی ایشیا دونوں سے مختلف تھے۔ یہی تنوع اس خطے کو ایک الگ تہذیبی و نسلی شناخت عطا کرتا ہے۔
اسلام کی پہلی آگ چترال میں نگرشو نامی کالاشہ سردار کے خلاف تھی، جسے اخوند سالاک نے جہادی مہمات کے ذریعے غیر مسلم قبائل کو اسلام سے روشناس کرایا اور اس اتحاد کا نتیجہ قلعہ راہلی کوٹ کی فتح تھی۔
اخوند سالاک نے صرف چترال ہی نہیں بلکہ کوہ سیاہ کے مقام پر ڈوما کافر کو شکست دی اور بریکوٹ گاؤں کے مشرقی ڈھلوان پر موجود بیرا کافر کے قلعے کے آثار آج بھی اس تاریخ کی گواہی دیتے ہیں۔
اسلامی مہمات کے نتیجے میں اُس کی بصیرت اور روحانی معاونت پر ایسا گرویدہ ہوا کہ ہر سال اُنہیں خالص دیسی گھی بطور نذرانہ روانہ کرتا رہا، جو اخوند سالاک نے فتح، بصیرت اور دعوت کے میدان میں عطا کیا۔
چترال کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کس طرح ایک قدیم تہذیبی و نسلی خطہ اسلام کی روشنی سے منور ہوا، اور اخوند سالاک کی خدمات نہ صرف مذہبی بلکہ تاریخی اعتبار سے بھی ناقابلِ فراموش ہیں۔
اُنہوں نے قبائل کو اسلام سے روشناس کرایا اور اُن کی سماجی و ثقافتی زندگی کو نئی سمت عطا کی، اور اس تبدیلی نے چترال، دیر اور گردونواح کو ایک نئی روحانی شناخت بخشی۔