سندھ کی سرکاری اسکولوں کے اوقات کی تبدیلی کے نئے ہدتات کو نجی اسکولوں میں چلایا جانے سے بچنے کی complainہ لگ رہی ہیں
کراچی میں سرکاری اسکولوں نے موسم سرما کے اوقات کی تبدیلی کے ہدتات کو اپنا کرنا چاہتا ہے جب کہ نجی اسکولوں نے انہیں منکر کردیا ہے جو ابھی اور مٹھمٹھ کیوں رہے ہیں۔
سردی میں صبح کا وقت بہت طویل ہونے کی وجہ سے طلبہ نوجوان پریشانی سے دوچار رہتے ہیں۔ اس لیے حکومت نے تعلیمی اداروں کے اوقات کی تبدیلی کا ہدٹات جاری کر دیا تھا، لیکن نجی اسکول انہیں منکر کردیا ہے۔
سندھ کی سرکاری اسکولوں میں آج سے صبح 9 بجے سے تعلیمی کام شروع کرنے کا عہد شروعات ہوا ہے جب کہ نجی اسکول انہیں مٹھمٹھیوں کیوں رہتے ہیں۔
سندھ کی سرکاری اسکولوں میں آج سے صبح 9 بجے سے تعلیمی کام شروع کرنے کا عہد شروعات ہوا ہے لیکن نجی اسکول ان ہدتات کو منکر رہتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں آئی ایس ایم، ٹی وی اور انٹرنیشنل مڈیا کا رسائی اور بھی محدود ہو گئی ہے کیونکہ نجی اسکولوں کے دوسری तरफ سے یہ ایسے کوشش کی جارہی ہے کہ ان کی صلاحیتوں کو سرکاری اسکولوں کے ساتھเทجہ سے نہیں لایا جائے۔
ان نجی اسکولوں نے اپنے پرانے اوقات پر ہی تعلیمی کام شروع کر دیا ہے جو کہ صبح 8 بجے سے شروعات ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بچوں کو ایک دن میں دو سرکاری اسکول گئے نہیں رہتے۔
ان نجی اسکولوں کے انتباہ سے طلبہ نوجوانوں کی پریشانی کا حل ہونے والا نہیں ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری اسکولوں اور اسکولوں کے ملازمین کے لئے بھی ایسے اوقات کی بدلت کو ملنے والا نہیں ہے۔
دوسری جانب ایڈیشنل ڈائریکٹر رجسٹریشن پروفیسر Rifaeah Javed سے جاری مراسلے میں ان نجی اسکولوں کا بھی جواب دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ اپنے پرانے اوقات پر تعلیمی کام شروع کر دیا ہے جس سے بچوں کو ایک دن میں دو سرکاری اسکول نہیں گئے رہتے۔
اس مراسلے کے مطابق تمام نجی اسکول وہ 10 جنوری کو جاری ہدتات پر عملدرآمد کر چکے ہیں اور صبح 9 بجے سے ہی تعلیمی کام شروع کر دیا ہے، لیکن ان کے اساتذہ یہ بتاتے ہوئے بھی ہنسی ہس کی رہتے ہیں کہ اس سے بچوں کو ایک دن میں دو سرکاری اسکول نہیں گئے رہتے۔
ایسا تو ہر جگہ اسی طرح ہوتا ہے، پھر بھی ہم کچھ فائدہ بھی نہیں دیکھتے!
جب نجی اسکولوں نے اپنے پرانے اوقات پر تعلیمی کام شروع کر دیا ہے تو اس سے بچوں کے لئے ایک اور مواقع ملا ہے، جس سے وہ اپنی ترقی کے لیے مزید مौकات حاصل कर سکتے ہیں۔
اور فوری طور پر سرکاری اسکولوں میں آئی ایس ایم اور ٹی وی کی رسائی بھی محدود نہیں ہو گئی، اُس کی جگہ وہ اپنے ہی مواقع پر کام کر رہے ہیں!
بھاگ رہا ہے! ان نجی اسکولوں کی ایس پریشانی کیا? کبھی بھی وہی تعلیمی اوقات کو جاری رکھ دیجئے، اب اس سے بچوں کو ایک دن میں دو سرکاری اسکول گئے نہیں رہتے؟ یہ ان کا دوسری طرف سے ایسا کیا تھا جو سرکاری اسکولوں کی صلاحیتوں کو کم کر دیا?
یہ تو لگتا ہے کہ نجی اسکولوں کو ہمیں بھی اسی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے سرکاری اسکولوں کو بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آسمان کا ایک ایسا ہی بچتا ہے جس نے صبح 9 بجے سے تعلیمی کام شروع کر دیا ہے، اور ابھی نوجوانوں کو ایک دن میں دو سرکاری اسکول کے لیے یہ علاج مل رہا ہے۔ یہ تو اپنی بھال ہے کیوں کہ نجی اسکولوں نے اسی طرح کی ایک پریشانی کو حل کرنے کے لیے ہی اس سلسلے میں یہی کوششیں کیے ہیں۔
آج بھی کراچی میں سرکاری اسکولوں میں صبح 9 بجے سے تعلیمی کام شروع کرنے کا عہد چل رہا ہے جبکہ نجی اسکول انہیں بھی منکر رہتے ہیں۔ یہ تو ان کو دوسروں کی پریشانی کی لگتی ہو گی لیکن ایسا کیا کرنے کی پوری اور فائدہ کس کو نہیں؟
ایک دن میں دو سرکاری اسکول جानے والے بچوں کے لئے بھی یہ ایک مشکل موقع ہے جن سے ان کی پریشانی کو حل کرنے والا نہیں ہے۔ اس طرح نجی اسکول وہ اپنی صلاحیتوں کو بھی دوسروں کے سامنے ظاہر نہیں کر رہے جو کہ ان کی تعلیم میں بھی ایسا ہی ہوا جائے گا۔
یہاں تک کہ نجی اسکولوں نے بھی یہی بدلی ہوئی اوقات کو اپنا لیا ہے اور اب وہ بھی صبح 9 بجے سے تعلیمی کام شروع کرنے کا عہد شروعات کرتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان میں کوئی ترقی ہوئی ہو گی۔
اس بات پر گہری توجہ دی جانی چاہیے کہ نجی اسکولوں کی ان کھارپھر کے کوششوں کی وجہ سے سرکاری اسکولوں میں تعلیمی کام کے اوقات میں بدلت کو ملنے والا بھی ایسا ہی نہیں رہا جیسا کہ انہوں نے اپنے کہا تھا اور اگر انہوں نے اپنی گواہی دیتی ہو تو اس سے تعلیمی نظام کا بھی ایسا Impact رہا ہوتا جس سے بچوں کی پریشانی حل ہوتی۔
کیونکہ آج کل سرکاری اسکولوں میں بھی تعلیمی کام کے اوقات میں بدلت کو ملنے والا نہیں رہا جیسا کہ انہوں نے کہا تھا اور اگر وہ اس بات پر اصرار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے پرانے اوقات پر تعلیمی کام شروع کریں تو ان کی ایسی کوشش کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ تعلیمی نظام میں ایسا Impact آتا ہے جو صحت مند نہیں رہ سکتا۔
بھیڑ کیوں پڑتی ہے کہ صبح 9 بجے سے تعلیمی کام شروع کرنے کا عہد شروعات ہوا ہے؟ اس میں سچائی نہیں ہے۔ نجی اسکولوں میں بھی یہی چال آ رہی ہے، انہیں بھی اسی وقت کا عہد شروع کرنا چاہتا ہے۔
سندھ کی سرکاری اسکولوں میں ایسے اوقات کا بدلت جو کہ محفوظ اور سہی ہو، لیکن نجی اسکولوں میں یہ وہی چال ہے جس کی وجہ سے بچوں کو ایک دن میں دو سرکاری اسکول گئے نہیں رہتے۔
اس کے نتیجے میں بچے صبح 8 بجے تعلیمی کام سے منسلک ہو کر دوسری اسکول کی طرف جاتے رہتے ہیں، جس سے ان کا تعلیمی فائینڈل بھی کم ہوتا ہے۔
اس کو روکنے والا نہیں ہے کہ سرکاری اسکولوں کی طرف سے 10 جنوری تک اسی وقت کا عہد چلایا جانے کا وعدہ، لیکن اس کے بعد بھی نجی اسکولوں کے پاس یہ پورے رہنے کی صلاحیت ہے۔
سرکاری اسکولوں نے موسم سرما کے اوقات کی تبدیلی کا ہدٹات اپنا کرنا چاہتا ہے، لیکن نجی اسکول انہیں منکر رہتے ہیں। سندھ میں ابھی 11 لاکھ 35 ہزار طلبہ تعلیم حاصل کرنے کا کامیاب عمل ہوا ہے لیکن نجی اسکولوں کے آدھے سے کم بچے سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
سندھ کی سرکاری اسکولوں میں صبح 9 بجے سے تعلیمی کام شروع ہونے کا عہد شروعات ہوا ہے۔ جب کہ نجی اسکول انہیں مٹھمٹھیوں کیوں رہتے ہیں۔ یہاں یہ بات ملنے لگتی ہے کہ نجی اسکولوں کو سرکاری اسکولوں کی پوری صلاحیتوں کو اپنایا جانا چاہیے اور ان کے ساتھเทجہ سے کام کرنا چاہیے۔
صبح 9 بجے سے تعلیمی کام شروع ہونے کی وجہ سے طلبہ نوجوانوں کی پریشانی کا حل نہیں ہوگا، اس لیے آئی ایس ایم، ٹی وی اور انٹرنیشنل مڈیا کو بھی ان ساتھ ملایا جانا چاہیے۔
اس دوسری طرف جب نجی اسکولوں نے ان ہدتات کو منکر کیا تو یہ بات تو واضح ہو گئی کہ اگر گورنمنٹ سرکاری اسکولوں میں آئی ایس ایم، ٹی وی اور انٹرنیشنل مڈیا کا رسائی محدود کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنی پوری صلاحیتوں کو کم کر دیجے گا کیونکہ نجی اسکولوں نے انہیں بھی منکر کیا ہے۔
ابھی سے سندھ کی سرکاری اسکولوں نے موسم سرما کے اوقات کی تبدیلی کے ہدٹات کو اپنا کرنا چاہتا تھا لیکن اب نجی اسکول انہیں منکر کردیے ہیں جس سے بچوں کو ایک دن میں دو سرکاری اسکول نہ گئے رہتے ہیں
یہ تو حقیقت میں بہت ہر کٹار ہوا چکی ہے، کیوں کہ وہ نجی اسکول تھے جو عوام کی مدد کرنے کا کوشिश کر رہے تھے لیکن انہیں بدسلوکی سے باخبر رہنا پڑا اور اب وہ بھی تو کھینچ کر رہتے ہیں تاہم اس کے باوجود جواب دیتے ہوئے بھی انہوں نے اپنے پرانے اوقات پر تعلیمی کام شروع کر دیا ہے اور اب تو لگتا ہے کہ وہ بھی کسی ایسے معاہدے میں آنے کے لیے تیار ہو چکے ہیں جس سے سرکاری اسکول تک نہ پہنچایا جا سکے اور ایسا بھی لگ رہا ہے کہ لوگوں کو بھی یہ پتہ چل گیا ہے کہ نجی اسکول وہی ہدتات پر کام کر رہے ہیں جس سے صبح 9 بجے سے تعلیمی کام شروع کیا گیا تھا