دہلی میں قاتل حسینہ واجد کے اشتعال انگیز خطاب پربنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ کی مذمت

کاکروچ

Well-known member
بھارت میں ایک عوامی تقریب میں پرفنگلہ دیشی وزیر خارجہ نے دہلی میں قاتل حسینہ واجد کو جلاس کرنے کی مذمت کی ہے اور اس حرکت پر بھارت کی حکومت سے احتجاج کیا ہے۔

پرفنگلہ دیشی وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو عوامی تقریب سے خطاب کرنے کی اجازت دی، جو واضح طور پر جمہوری منتقلی، امن اور سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔

بھارت نے اس کے بعد کہا کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے عوام کے قتل عام کی مجرم قرار دیا تھا اور حسینہ واجد اپنے مظالم کے خلاف عوامی احتجاج کو کچلنے کے لئے اندھا دھند طاقت استعمال کرنے کے دوران قتل عام کی مرتکب قرار دی گئی تھیں۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا ہے کہ بھارتی دارالحکومت میں اس تقریب کے انعقاد کی اجازت دینا اور قاتل حسینہ کو کھلے عام نفرت انگیز تقریر کرنے دینا بنگلا دیش کے عوام اور حکومت کی صریح توہین ہے۔
 
یارے، میری ایسے لاکھ لاکھ सवال ہیں... پرفنگلہ دیش کی وزیر خارجہ نے کیا یہ سچ ہو گا؟ بھارت کی حکومت ان کے خلاف کیا کر رہی ہے؟ لاکھ لاکھ سوال... اور یہ بات بھی تو یہی ہے کہ جلاس کرنا کیا ہو گا? میں ایسے ٹیلی ویژن پر دیکھا ہوا ہے مگر وہاں کوئی بات نہیں کی گئی تھی... اب یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے؟
 
یہ سب ایک بدقسمتی کہ بھارت نے پرفิงلہ دیش کو اس تقریب میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہو تو بھی وہی یہ تقریب منع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دوسری جانب بھارت کو انہوں نے ان معاملات میں مداخلت کی تو انہوں نے بھی ناکام ہونے کا چہرہ پہنا دیا ہے۔ اور اب جلاس کرنے کی مہم پر توجہ دی گئی تو بھارتی حکومت نے اپنی طرف سے توہین رسانی کا ایک دوسرا طریقہ اختیار کیا ہو۔ یہ سب ایک کتنے حد تک اس وقت کی سیاسی گاڑی کی ہے جس میں بھی اچانک سٹاپ نہیں ہوا ہے۔
 
🤔 یہ بات ایک بار پھر سامنے آئی ہے کہ تفرقے کی بھارتی حکومت نے اپنی سستی اور لچک کو کبھی نہیں سمجھا۔ کیا انہوں نے اس بات پر گہرا خیال رکھا ہوتا تھا کہ وہ بھارتی عوام کی سستی پر دھلنے والے ایسے شخص کو ان کے لئے ایک معیار بناتے ہیں؟

انہوں نے پرفنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی بات پر اچھا خیال نہیں لیا ہوتا تھا کہ وہ اپنی سرورست قوتوں کی مدد سے اپنے مظالم کے لئے بے حرمت سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں اور ان کا یہ طریقہ سانس لینے کی آواز دیتا ہے کہ اسے بھی نہیں روکایا جا سکتا ہے۔
 
یہ دیکھنا کہ عوامی تقریب میں ایک شخص کو قتل کے لئے انعام دیا جائے، یہ توہین اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایسا نہیں سمجھا جاسکتا کہ اس شخص کو قتل کرنا اس کی قاتل کو انعام دینے سے زیادہ عاجزगiri hai.

جب ہم انہی matters ko dekhne ke liye thak jate hain, to humein apni aawaaz uthani chahiye aur yah sawal karna chahiye ki aapki society mein kya ho raha hai? Aaj ke time mein humari soch bhi is tarah hi nahi hai, humari soch main thoda different hai. Hum apne doston ko milane ke liye ek place choose karte hain, lekin yeh jaanen to ki woh bhi ek risk hai.

Lekin yah sawal unki zaroorat hai ki kya humein khud par socheni chahiye? Kya hum apne aap ko thoda safe rakhte hain, ya toh humari society mein bhi safri nahi ho sakti.

Mujhe lagta hai ki humein apni thoughts ko dekhna chahiye aur apni actions ko socheni chahiye.
 
یہ بات تو واضع ہے کہ دھارچر حسینہ واجد کے مظالم کو سمجھنا بھی مشکل ہے، ایسا محسوس کرتا ہوں گے جیسا کہ وہ عوام کی طرف سے قتل عام اور توہین دھندوں پر مجرم قرار دیا گیا تھا، لیکن اب جب انہیں جلاس کرنے کے لئے تقریب میں بھی شامل کیا گیا ہے تو ایساFeels کچھ نہ کچھ ہی دیکھ کے سچائی کی سگائی ہوگی، پھر اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ بھارتی حکومت نے انہیں جلاس کرنے کا وعدہ کیا تھا تو ایسا کچھ یقینی نہیں کہ اس کی جگہ اور وقت پر یہ کیا ہو گا?
 
واپس
Top