بھارت کی حکومت نے بنگلہ دیش کی مفرور سیاستدان حسینہ واجد کو عوامی تقریب میں جا کر تقریر کرنے کی اجازت دینے کی مذمت کی ہے اور اس حرکت پر بھارت سے احتجاج کیا ہے۔
بھارتی وزات خارجہ نے کہا ہے کہ یہ ایک خطرناک مثال ہے جس سے مستقبل کی منتخب قیادت کی جانب سے باہمی طور پر سودمند دوطرفہ تعلقات کو استوار کرنے اور آگے بڑھانے کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے
حسینہ واجد نے نئی دہلی میں ایک تقریب سے کھلے عام بنگلہ دیش کی حکومت کو ہٹانے کا مطالبہ کیا اور اپنے وفاداروں اور عام عوام کو اشتعال انگیز بیانات کرنے پر مجبور کیا تھا۔
بنگلہ دیشی وزات خارجہ نے کہا ہے کہ یہ بھارتی حکومت کی صریح توہین ہے اور عوام اور حکومت کو اس پر غور کرنا چاہیے۔
بھارتی وزات خارجہ نے کہا ہے کہ یہ ایک خطرناک مثال ہے جس سے مستقبل کی منتخب قیادت کی جانب سے باہمی طور پر سودمند دوطرفہ تعلقات کو استوار کرنے اور آگے بڑھانے کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے
حسینہ واجد نے نئی دہلی میں ایک تقریب سے کھلے عام بنگلہ دیش کی حکومت کو ہٹانے کا مطالبہ کیا اور اپنے وفاداروں اور عام عوام کو اشتعال انگیز بیانات کرنے پر مجبور کیا تھا۔
بنگلہ دیشی وزات خارجہ نے کہا ہے کہ یہ بھارتی حکومت کی صریح توہین ہے اور عوام اور حکومت کو اس پر غور کرنا چاہیے۔