افغانستان نے اپنی طالبان رجیم کو دہشت گردوں کی ایک خطرناک فیکشنری کے طور پر کھیلنا ہوا ہے جو خطے اور دنیا بھر میں تباہی و جہیل نافذ کر رہا ہے۔
افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی کے لیے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کر رہے ہیں اور یہ دونوں ملک مابین ایک خطرناک بے پناہ ماحول پیدا کرتے ہیں جس کی سہولت کو کوئی ختم نہ کر سکتی۔
دنیا کے اہم ممالک جن میں ڈنمارک بھی شامل ہے، افغانستان کے بارے میں ایسی تشویش کر رہے ہیں کہ ان نے اس کی سرزمین پر خودکش حملوں سے منع کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن افغانستان کی طالبان رجیم اس بات کو توۓ کر رہی ہے کہ یہ ملک دہشت گردی کا مینٹر بن چکا ہے اور وہ دنیا کے لیے ایک خطرناک لہر بن چکا ہے۔
تاجکستان میں چینی انجینئرز پرโจ ایک ایسا حملہ تھا جس نے اس ملک کو افغانستان کی طالبان رجیم کے ساتھ جڑ دیا۔ افغانستان کے بارے میں پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے اہم ممالک بھی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں اور اس ملک کے بارے میں اپنی پوری طاقت کا ایک دھچکا ہے جس کے باعث وہ دنیا کے لیے ایک خطرناک لہر بن چکا ہے۔
افغانستان کی طالبان رجیم افغانستان کے باشندوں کی نمایندہ نہیں ہے کیونکہ یہ تمام قومیتوں کی نمایندگی نہیں کرتی اور اس کی حکومت نہ صرف پاکستان کو دہشت گردی کا شکار بنا رہی ہے بلکہ پوری دنیا کو بھی اپنے خطرناک لہر سے تباہ کر رہی ہے اور اس کے باوجود افغانستان کی طالبان رجیم نے اپنی حکومت میں یقین بھی نہیں کیا ہے۔
دنیا کے اہم ممالک نے افغانستان کی طالبان رجیم پر چینی انجینئرز پرโจ کے بعد اپنی توجہ کھنچ لی ہے اور اس ملک کے بارے میں ایسی تشویش کر رہے ہیں کہ ان نے اس کی سرزمین پر خودکش حملوں سے منع کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن افغانستان کی طالبان رجیم اس بات کو توۓ کر رہی ہے کہ یہ ملک دہشت گردی کا مینٹر بن چکا ہے اور وہ دنیا کے لیے ایک خطرناک لہر بن چکا ہے۔
افغانستان کی طالبان رجیم کا یہ طرز عمل پاکستان کو دہشت گردی سے نجات دینے میں بے فایद ہو رہا ہے اور اس ملک کے بارے میں دنیا کے اہم ممالک میں ایسی تشویش پیدا ہو رہی ہے جس کی وجہ سے افغانستان کی طالبان رجیم کو دہشت گردی کا مینٹر بننے کا فرصہ ملتا ہے اور اس نے ایک خطرناک لہر پیدا کر لی ہے جو کہ دنیا بھر میں تباہی اور جہیل پैदا کر رہی ہے۔
پاکستان کی حکومت اپنے دہشت گردوں پر ایک جامع معاملہ کے تحت کام کرتے ہوئے آوارہ ہے اور اس نے افغانستان کی طالبان رجیم سے متعلق اپنا موقف بھی یہی ہے جس میں اس نے اپنے ملک کے لیے ایک خطرناک لہر پیدا کرنی کی کوشش کی ہے اور اس کے لیے اپنا دہشت گردوں پر ایک جامع معاملہ کے تحت کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
افغانستان کی طالبان رجیم سے بھی پاکستان کے دہشت گردوں میں فرق نہیں پائے جس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کے پاس یک جیسے خطرات ہیں اور دنیا کو اسے موازنہ کرنا مشکل ہوگا
اس لیے، پاکستان کی حکومت کو اپنی توجہ ان کے برعکس افغانستان کی طالبان رجیم پر جما پہنا چاہیے، نہ کہ اس کی وجہ سے دہشت گردی کی سائینسی بن کر رہی ہے।
افغانستان کی طالبان رجیم کی یہ صورت حال ایک حیرت انگیز بات ہے! وہ اس بات کو توۓ کر رہی ہے کہ یہ ملک دہشت گردی کا مینٹر بن چکا ہے اور دنیا کے لیے ایک خطرناک لہر بن چکا ہے، لیکن اس کی حکومت میں اسے اپنی قومیت نہیں سمجھی جاتی! یہ بھی سوچنا مشکل ہے کہ پاکستان کی حکومت دہشت گردوں پر کام کرنے میں تاخت لے رہی ہے، اس سے پاکستان کو بھی خطرہ ہے!
دنیا کے اہم ممالک نے افغانستان کی طالبان رجیم پر ایسے حملوں کے بعد اپنی توجہ کھنچ لی ہے جو چینی انجینئرز پر ہوئے! یہ بات تو واضح ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم دہشت گردی کا مینٹر بن چکا ہے اور وہ دنیا کے لیے ایک خطرناک لہر بن چکا ہے!
میں سوچتا ہوں کہ افغانستان کی طالبان رجیم کو اس سے نجات ملنی چاہئے، اور اسے اپنی قومیت سمجھنے کی ضرورت ہے!
جب تک افغانستان کی طالبان رجیم کو اس شے میں یقین نہیں کیا جا سکے گا کہ وہ اپنی ملکیت اور عوام کو تباہ کر رہی ہے تو یہ خطے اور دنیا بھر میں خطرناک فیکشنری کی طرح کام نہیں کرسکی گا
ایسا لگتا ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم کو دہشت گردوں کی ایسی منگنی تو تھم دی جائے جو اسے اپنے ساتھ دے رہی ہے اور یہ لوگوں کے دلوں میں ایسی نفرت پیدا کر دے جو اسے دہشت گردوں کی حکومت سے باہر نہیں لے سکتی
افغانستان کی طالبان رجیم دہشت گردی کی ایک خطرناک فیکشنری ہے جو خطے اور دنیا بھر میں تباہی اور جہیل پैदا کر رہی ہے
کیوں؟ اسے دیکھو کہ افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ ایک خطرناک بے پناہ ماحول بنانے کا جوہر استعمال کر رہی ہے اور اس کے نتیجے میں دہشت گردی نے افغانستان کو بھی اپنے دائرے میں شامل کیا ہے، یہ تو ایک خطرناک منظر نہیں بلکہ یقینی طور پر تباہ کن ہوگا
اب وہ لوگ جو افغانستان کی طالبان رجیم کی حمایت کرتے ہیں، ان کو دیکھنا پورے دنیا کے لیے ایک خطرناک لہر بننے والے دہشت گردوں سے بچنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے، اس طرح افغانستان کی طالبان رجیم اپنی حکومت میں یقین کھو دے گی اور دنیا کو بھی ایک خطرناک لہر سے تباہ کر دی گئےگی۔
افغانستان کی طالبان رجیم نے ایسا ایک لاکھ روپے کرائے ہیں جس میں ایک چینی انجینئر کو قتل کیا گیا تھا اور اب وہ اپنی حکومت میں اس واقعے کو پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ بہت گندھی بات ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان کی طالبان رجیم اپنی حکومت میں ایسا نہ کر سکتی جب تک وہ دہشت گردوں کو روکنے کی کوشش نہیں کریں گی۔
افغانستان کی طالبان رجیم نے اپنی حکومت میں ایسی جھلکیاں پائی ہیں جو دنیا کے تمام ممالک کو متاثر کر رہی ہیں اور انہوں نے افغانستان سے پاکستان تک دہشت گردی کی لہر بھی پائی ہے جو دنیا کے تمام ممالک کو خطرے میں ڈالتا ہے
افغانستان کی طالبان رجیم کا یہ طرز عمل دوسرے ملکوں پر بھی اثر ڈال رہا ہے جو اس طرح کی تشویش سے متاثر ہو کر اپنے ملک میں دہشت گردی کے خلاف ایسے اقدامات کو قائم کرتے ہیں جس کا مقصد افغانستان کی طالبان رجیم کو دہشت گردی سے بھگتنا ہو گا اور انہوں نے اپنے ملک میں ایسی پالیسیوں کو قائم کیا ہے جو افغانستان کی طالبان رجیم کو دہشت گردی سے بھگتنا مشکل بنا رہی ہے
دنیا بھر میں ایسے لوگوں نے اپنے ملک میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات کیے ہیں جنہوں نے افغانستان کی طالبان رجیم کو توۓ کرنا ہے اور انہوں نے اپنے ملک میں ایسی پالیسیوں کو قائم کیا ہے جو دوسرے ملکوں سے مل کر دہشت گردی کے خلاف ایسے اقدامات کو اترچاہتے ہیں
یہ بات بھی محض نہیں ہے بلکہ افغانستان کی طالبان رجیم کو دہشت گردی سے بھگتنا مشکل بنانے کا یہ طرز عمل دنیا کے تمام ممالک کو ایسی صورت میں لے جاتا ہے جس میں افغانستان کی طالبان رجیم کے خلاف دہشت گردی کے خلاف اقدامات کرنا مشکل ہو جاتا ہے
افغانستان کی طالبان رجیم اور پاکستان میں دہشت گردی کے بीच لگتے ہوئے ريلوں کی پھیک۔ یہ ایک خطرناک چکر ہے جو کہ دنیا بھر میں تباہی اور جہیل پैदا کر رہا ہے। میرا خیال ہے کہ اس میں کسی ایسے حل کی ضرورت ہے جو کہ دوسرے ملک نہیں بنائے، یہ ایک پاکستان کے لیے ہونا چاہیے جہاں کسی بھی دہشت گرد کو کوئی لہر ملاس نہ ہو۔
دنیا کے اہم ممالک نے افغانستان کو دہشت گردی سے نجات دینے کی کوشش کی، لیکن یہ سوال ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم اس کوشش کو کتنی پیاری کرتی ہے؟ ہم نے مشاہدات کیں تو پتہ چل گیا کہ افغانستان کی طالبان رجیم دہشت گردی سے نجات دینے کے لیے ایک اچھے موقع پر آئی ہے، اس لیے انہوں نے دوسرے لوگوں کو دہشت گردی کی طرف متوجہ کیا ہے تاہم، یہ سوال ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم کی اس پالیسی سے ملک کے بھائیوں کو فائدہ ہوا یا نا ہوا؟
یہ بات کوئی بھی سمجھ سکتا ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم نے خطے اور دنیا بھر میں تباہی اور جہیل پैदا کرنے کے لیے ایک خطرناک فیکشنری کے طور پر کام کیا ہے لیکن یہ بات بھی کوئی نہ کوئی اقدامات کر رہے ہیں انھیں روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جیسے افغانستان سے پاکستان میں بھی ایسی تشویش کی صورت ہوئی کہ یہ دونوں ملک مابین ایک خطرناک بے پناہ ماحول پیدا کر رہے ہیں۔
دنیا کے اہم ممالک نے اپنی توجہ اس صورت حال پر مرکوز کی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کسی بھی طرح سے افغانستان پر تشدد کر رہے ہیں بلکہ وہ اس ملک میں دہشت گردی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انھوں نے اپنی بھی ایسی قوتیں استعمال کی ہیں جس سے افغانستان کی طالبان رجیم کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس صورت حال کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لیے اپنی تمام قوتیں استعمال کر رہے ہیں جس سے افغانستان میں دہشت گردی کو روکنے کی کوشش کرنے کا ایک بھرپور موقف پیدا ہو سکتا ہے اور اس صورت حال سے دنیا بھر میں دہشت گردی کو روکنے کی کوشش کرنے والے ملوث ہونے کا ایک اچھا موقع پیدا ہو سکتا ہے۔
افغانستان کی طالبان رجیم ایک خطرناک صورتحال بن رہی ہے اور اس پر دنیا کے تمام ملک تشویش کرتے ہیں ... Pakistan government doston se baat karta hai lekin Taliban ko pak ki zindagi ke liye ek bada risk hain ...
یہ بات پتہ چل رہی ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم ایک خطرناک ماحول بنانے کے لیے پاکستان سے بھی اچھی طرح سے مدد لے رہی ہے؟ یہ سوال اپنی توجہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے جس کا جواب اس حقیقت سے ملتا ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم دوسرے تمام ممالک میں بھی اپنی مصلحتوں کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا فیکشنری کا استعمال کر رہی ہے، اس کی وجہ سے دنیا کو افغانستان کی طالبان رجیم سے نجات نہ مل سکتی۔
افغانستان کی طالiban رجیم کے اور دوسرے ممالک کے بھی ایسا ہی طرز عمل ہو رہا ہے جس سے دنیا کو تباہی اور جہیل پڑتی ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے ممالک کی ایسی حکومتوں سے دور رہیں جو دہشت گردی کو اپنی مصلحت بناتے ہیں اور اس طرح دوسروں کو تباہی اور جہیل کا شکار کرتے ہیں۔
افغانستان کی طالبان رجیم کو پورا ملک دہشت گردوں سے لپٹا ہوا ہے اور اس طرح اس کے شہر اور آبادیات پر بھی تباہی پڑ رہی ہے **** ایسے میں حکومت افغانستان کو یہ سچائی سمیٹنی چاہئے کہ اس کی طالبان رجیم مہذب اور مسلم نہیں بلکہ دہشت گردوں کی ایک خطرناک فیکشنری ہے۔
افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی کے لیے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کر رہے ہیں اور یہ دونوں ملک مابین ایک خطرناک بے پناہ ماحول پیدا کرتے ہیں جس کی سہولت کو کوئی ختم نہ کر سکتی۔ ****
یہ طالبان کی فیکشنری اس لیے خطرناک ہے کہ وہ افغانستان میں پھیل رہی ہے اور اس سے پاکستان تک بھی فائدہ ہو رہا ہے اگرچہ یہ ایک خطرناک ماحول پیدا کررہا ہے لیکن وہ اس کا فیصلہ نہیں کرتا کیونکہ یہ پوری دنیا کے لئے ایک خطرناک لہر بن چکا ہے اور اس کے ساتھ اس کا دھمکی بھی نہیں پھیل رہی ہوں گے لیکن یہ فیکشنری ایک خطرناک بات ہے کیونکہ وہ افغانستان میں پھیل رہی ہے اور اس سے پاکستان تک بھی فائدہ ہو رہا ہے
دنیا میں ہونے والی ان ماحولات کو جسم کی گھریلو وہ پیٹرے سے بہت زیادہ خطرناک سمجھو تو افغانستان کی طالبان رجیم کو ایک خطرناک لہر کی طرح دیکھنا پڑتا ہے جس سے دنیا بھر میں تباہی اور جہیل پیدا ہوئی ہے اور یہ دیکھ کر آپ کو انڈیا کے شہزادہ کو دیکھنا پڑتا ہے جو اس لڑائی میں اپنی فوج کی ایک جھاڑی کے طور پر اٹھ کر اپنے ملک کے لیے جان لڑ رہا ہے، یہ دیکھ کر آپ کو پریشان ہوتا ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم اس طرح دہشت گردی کی عکاسی کرتے ہوئے دنیا بھر میں تباہی اور جہیل پैदا کر رہی ہے اور اگر یہ لڑائی ہار جاتی تو یہ دنیا بھر کے لیے ایک خطرناک لہر بن سکتا ہے۔