defense minister reach morocco | Express News

کافی عاشق

Well-known member
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پاکستان کی انک لینس پر ڈپٹی سیکرٹری برائے قومی دفاعی انتظام عبد اللطیف لودیعی اور وزیر مملکت برائے قومی دفاعی انتظام مراکش سے ملاقات کی۔

وزیر دفاع کا استقبال مارشل جنرل احمد حطوطو، کمانڈر کاسابلانکا آرمی، اعلیٰ سرکاری حکام اور پاکستان کے سفیر سید عادل گیلانی نے کیا۔

انہوں نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی یोजनا بنائی ہے جس کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

وزیر دفاع مراکش کے وزیرِ مملket برائے قومی دفاعی انتظام سے ملاقات کریں گے اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے وفود کی سطح پر مذاکرات کی قیادت کریں گے۔

اس دورے سے پاکستان اور مراکش کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کا مظہر ہوگا جس سے دفاع، سلامتی اور دیگر مشترکہ دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ دونوں ممالک کو اپنی دفاعی حکام کی ایک نئی سطح پر تعاون کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان اور مراکش دونوں ملکوں میں دیرینہ دوستی کا مظہر پیدا ہوگا۔ یہ بات کھاتے ہوئے کہ یہ ملاقات صرف دوسروں سے ہٹائی نہیں جا سکتی، اس لیے اس میں کوئی سیاسی معاملات کی موجودگی کی صورت نہیں ہونی چاہیے۔
 
سفارے کی منصوبوں سے پہلے کیا کہیں؟ اس دورے سے ابھی ان کا تعاون بڑھانے کا کوئی معاملہ نہیں ہے، اور اب انسداد خوف اور بددل کی بات کرتے ہوئے پھر ایسی دوسری چٹان پر کھڑے ہو کر اس کا جائزہ لیتے ہیں؟
 
مراکش کی طرف سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسا کہ وہ 1947 سے ہی پاکستان کو اپنا دوست سمجھ رہا ہے اور اب وہ اس دوستی کی طرف بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن میں انسپائر کرنے والی بات یہ ہے کہ پہلے سے پاکستان اور مراکش کے درمیان دوستی کی طرف سے ایک دیرینہ تعلقات تھا، اس کے لیے اس دورے کی ضرورت نہیں ہوگئی تھی۔
 
ہمیشہ سے بھارت کی ایئر فائرنگوں پر غور کر رہا تھا… آج کی خبر تو جاننے کے لیے نہیں ، مگر پھر بھی ہندوستان کی ایئر فائروئنگ کی بات اٹھانے لگا ہے...

اس وقت کبھی بھی اچھے ساتھوں کو ملنا مشکل ہوتا ہے... میرے دل میں اس ٹوئٹر پر دیکھیں تھیں کہ شاہد کفAYی کا نئا فلم سیزن کب سے شروع ہو گا؟ تو وہ سب کچھ یاد آ گیا...
 
بھی کیا ہوگا؟ وزیر دیفنس کا دورہ اس وقت کے لیے اچھا ہے یا نہیں، ایسا لگتا ہے کہ وہ سچمنے سے معیار بنانے والے دفاعی تعاون کو اور بھی مضبوط کریں گے۔

مراکش کے وزیر مملکت سے ملنے کی یہ حقیقت بہت ہم دار ہے، پاکستان اور مراکش کے درمیان دوستی کو مزید مضبوط کرنا۔

یہ دورہ دیرینہ دوستی کا ایک اہم واقعہ ہے جس سے دفاع، سلامتی اور دیگر مشترکہ دلچسپیوں میں تعاون کی سطح بڑھ جائے گی

اس لئے اس دورے پر کامیاب ہونے کی امید ہے۔
 
ابھی تو پختہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پاکستان اور مراکش کے درمیان معاشرتی تعلقات بڑے پیمانے پر ترقی کر رہے ہیں... مگر لگتا ہے ان دونوں ممالک کی حکومت بھی ایسی دوسری کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوئی ہیں... ڈپٹی سیکرٹری برائے قومی دفاعی انتظام عبد اللطیف لودیعی اور وزیر مملکت برائے قومی defenseی انتظام مراکش کو مل کر ڈھانپ کر رکھنے کا منصوبہ بڑا خطرناک ہوگا... 🤔
 
مراکش کے وزیرِ مملکت برائے قومی دفاعی انتظام سے ملاقات کرنے والے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی یہ سفر ان دو ملکوں کے درمیان defence تعاون کو بڑھانے کی پہل ہوگئی۔ اور یہ بھی نیک بات ہے کہ انہوں نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی پہلی جانب سے یोजनائی ہوئی۔

اس دورے کے بعد پاکستان اور مراکش کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ Defence، سلامتی اور دیگر مشترکہ دلچسپیوں میں تعاون کو وسعت دی جا سکتی ہے۔

اس دورے سے یہ بات بھی سامنے آئے گی کہ پاکستان اور مراکش کی دو جانب Defence تعاون پر زیادہ توجہ دی گئی ہوگی۔ اس سے دوسرے شعبوں میں بھی تعاون کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔
 
اس دورے کی بڑی بات یہ ہے کہ پاکستان اور مراکش کی دوستی کا ایسا دورہ جو اس وقت ہو رہا ہے وہ سب سے اچھا ذریعہ ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکتی ہے، لگتا ہے یہی دوستی انہیں ایسے معاشرتی اور فوجی مسائل سے نجات دہنی میں آئے گی جو ابھی اس ممالک کے سامنے ہیں
 
یہ خبثی کھیل کھیلنے والوں کا ایک نیا سفر! وزیر دفاع کا مارشل جنرل احمد حطوطو سے ملاقات کرنا اور مملکت مراکش سے ملنے کی یہ وعدہ، پاکستان کو کیسے بھلایں گے؟ ڈپٹی سیکرٹری عبد اللطیف لودیعی نے کیا تعاون کے طور پر پیش کیا ہوگا؟ آج سے پہلے بھی اسے کیا کیا تھا؟
 
ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اور مراکش کی دوستانہ تعلقات سست ہو گئی ہیں، وہاں تک کہ وزیر دفاع کا استقبال مارشل جنرل Ahmed Hattou کیا گیا ہوا اس سے ہم نے محسوس کیا ہے کہ اچھی طرح سے لگنے والی کارروائیوں کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقاتFresh اور مضبوط بنائے جا सकें।
 
😊 مگر یہ دیکھو کیا ہوا ہوا ہے... وزیر دفاع کی مارشل جنرل سے ملاقات اور ایک نیا دور کے لئے دستخط کرنا! 📝

حال ہی میں اس پوسٹ کو دیکھا تھا جس پر انھوں نے مراکش کے وزیر دفاع سے ملنے کا اعلان کیا تھا... اور اب یہ منصوبہ مکمل ہوا ہے! 😊

مگر یہ بھی ایک سوچ میں ہے کہ کیا یہ سے دوسرے ملکوں کی طرف بھی توجہ ملے گی... یا کیا صرف مراکش پر اسے توجہ دی جا رہی ہے؟ 🤔

کچھDiagram bhi bana sakte hain...

+-----------------------+
| دوستانہ تعلقات |
| پاکستان اور مراکش |
| دیرینہ علاقات |
+-----------------------+
| |
| دفاعی تعاون
| سلامتی
| مشترکہ دلچسپی
v |
+-----------------------+
| |
| بڑھانے کی |
| ضرورت پوری ہوگئی
| |
v |
+-----------------------+

ہم دیکھیں کیا یہ منصوبہ کامیاب ہوگا... 🤞
 
بھائی تو یہ واضح ہو گیا ہے کہ وزیر دفاع کی یہ ملاقات کون سے اقدامات پر چلے گئیں وہ سب کچھ دیکھنے والے کو بھاگتے ہوئے گئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ تعاون ایک نئی اور بڑی ترقی کی پہلی ہوگی، لیکن یہ سچھا Question ہے کہ اس پر کیسے کام کیا جائے گا؟
 
اس دورے کا مقصد ہی نہیں پھنسیو، یہ کہ اس کے ذریعے پاکستان اور مراکش کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں مزید اضافہ ہونے والا ہے... 🤔 سچ کی بات یہ ہوگی کہ اس دورے میں پاکستان کو مراکش کی طرف سے-defense اور سلامتی کے منصوبے بنانے کے لیے انعام دیا جا رہا ہے... مگر کیا یہ انصاف ہوگا؟
 
مراکش کے وزیر مملکت سے ملنے کی یہ وعدہ سے پہلے، کیا یہ صرف ایک آڈیو آف دباؤ ہو گا؟ اس دورے کے نتیجے میں پاکستان اور مراکش کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کی پھر سے واپسی نہیں، بلکہ ایک نیا منظر بننا ہو گا؟
 
یہ ایک بہت اچھا move ہوگا لیکن یہی بات جو پہلے سے آ رہی ہے کہ کیا یہ صرف تعاون کی بات ہوگی یا اس میں کسی بھی معاملے پر انفرادی لینس ڈالنے کا امکان بھی ہوگا؟

بھارتی افواج نے مہاراشٹر میں ایک سیکڑوں میلوں کشمshaw کی سٹریٹیجیز پر پہل کر لی ہے اور اب وہاں کسی بھی کوئی افواہ ہونے والی دوسرے ملک کی کچھ نہ کچھ کوشش کر رہے ہوں گے تو پورا یہ شعبہ ایک بھارتی مارشن میں تبدیل ہوگا!

میں تو سکیورٹی کو سمجھ نہیں پاتا...
 
ایمٹی آف ایسپیشل اسٹینٹ لیفٹی اینن (ڈپٹی سیکرٹری برائے قومی دفاعی انتظام) کا یہ کامیاب ماحول تو ہے، لیکن اچھا بھی تو ہوگا؟ ساتھ ایک ممتاز مارشل جنرل جسے لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں؟ میثاق کی کپنی کرتے ہوئے دو ممالک کے درمیان تعاون کو بڑھاتے ہوئے، یہ صرف پاکستان اور مراکش کا شکار نہیں تھا، اس بات پر کابینہ سے بات چیت کی جاسکتی ہے کہ یہ ملک کی سلامتی کے لیے نہیں، لیکن دوسرے ملکوں میں بھی اچھا تعاون کیا جا سکتا ہے؟
 
مراکش کی اس دورے نے مجھے اس بات پر توجہ دینا چاہیے کہ پاکستان اور مراکش کے درمیان defense ki zindagi mein kis tarhai ka kadam uthaya jayega? Pakistan ko lagta hai ki defence cooperation unki security ke liye zaroori hai, lekin Morocco bhi isko sahi tarike se poora kar sakta hai.

Mujhe yeh sochna pasand aata hai ki defense par koi bhi cooperation kamzoriyon se bahar nikalne mein madadgar ho sakta hai, lekin yeh asliyat yeh hai ki dono countries ko apni khud ki priority rakhein aur dusre ke saath samjhauta karein.
 
🤔 Pakistan aur Morocco ke beech defense mein kuch achha nahi ho raha hai, ab woh doh country defense shareer ko mazboot karne ki planning kar rahe hain. 🤑

Merakish defence minister ka Pakistan aayega aur unka meeting hota hai, phir unhoney plan banaya hai ki dono countries ke beech defense mein kuch more help karega. 🤝

Ab Pakistan aur Morocco ke beech doosre bhi countries se jo milta hai use unki planning me include karenge. 📚

Pakistan Defence Minister ko Merakish defence minister ke saath meeting kiya gaya, phir woh meratba dilchaspai ka mazaam lekar doh countries ke beech defense shareer ko mazboot karne ki plan banayenge.
 
واپس
Top