دنیا کا انتشار زدہ مستقبل | Express News

شیف

Well-known member
امریکا نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی 66 تنظیموں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے جس میں دنیا کے عالمی نظام، امن اور جمہوریت پر مبنی تعاون شامل ہیں۔

امریکا کی جانب سے یہ فیصلہ طاقت کے نام پر کام کرنے کی پالیسی سے منسوب ہے، جس میں دنیا کو ایک بار پھر طاقت کے قانون کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔ اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ عالمی ادارے نہ صرف کمزور ممالک پر بھی ماحوز ہوتے رہتے ہیں بلکہ ان سے بھی معاشی پابندیاں لگائی جائیں گی اور دنیا کو ایک غیر یقینی، خطرناک اور انتشار زدہ مستقبل کی طرف لے جایا جائے گا۔

دنیا کے طاقرانہ نظام میں ہر صدر کو اپنا استحکام برقرار رکھنے اور دنیا کو اپنے شان کے مطابق پیش کیںے کے لیے ایک نئی پالیسی تیار کرنی پڑتی ہے، جو کہ طاقت پر مبنی پالیسیوں سے خالی ہونے کی بجائے تعاون اور اصولوں پر مبنی بنائی جانی چاہیے۔

دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی، انسانی حقوق، صحت اور ترقی کے لیے تعاون کو فروغ دینا عالمی نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔

امریکا نے روس کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا ہے، جس کی نگرانی ایک روسی آبدوز کر رہی تھی۔ یہ کارروائی عالمی قانون کے خلاف ہے اور اس سے دنیا کو ایک خطرناک دور کی طرف لے جایا جائے گا۔
 
amerika ki is nahi policy se mera bhi bura hissa hoga 🤕 yeh policy kai duniya ke logon ko naaf kar degi aur ek din dunia ko ek dangerous situation mein pahuncha de gi. america ka apna isthamal karne wala faisla duniya ki safalta ki kahani ko barbaad kar dega 😒 yeh kaisi policy hai jo duniya ko ek peaceful future se door kar degi.
 
امریکا کی یہ پالیسی تو پریشانی دے رہی ہے، لیکن میرے خیال میں دنیا کے ماحولیاتی Problem ko حل کرنے پر توجہ نہیں دی جاسکتی ہے, سب کچھ طاقت کی بات کر رہا ہے اور دنیا کو ایک خطرناک دور میں پھنسایا جا رہا ہے 🌎😔

اب میرے پاس گاڑی چلوں تو کیا دیکھوں گی, یار, لازمی نہیں کہ وہ گاڑی سونپ دی جائے, تاکہ وہ ٹکڑو ٹکڑی ہو کر رہے ہوں تو یار, میرا پتھر بھی انہیں ڈال دیتا ہوں 🤣
 
امریکا کی اس پالیسی سے میں خوفزدہ ہوں 🤕، یہ طاقت کے نام پر کام کرنے کی پالیسی سے منسوب ہے جو دنیا کو ایک خطرناک اور انتشار زدہ مستقبل کی طرف لے جائے گا۔ دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی، انسانی حقوق، صحت اور ترقی کے لیے تعاون کو فروغ دینا عالمی نظام کی بنیادی ضرورت ہے، نہیں تو یہ سب معاشی پابندیوں سے بھر جائے گا؟

اور وہ اس کے لیے روس پر آبادوز کر رہی تھی… انکار ختم ہونے والی دنیا کو ہی نہیں بلکہ خود آم سے بھی خطرا ہے، دنیا کو یہ سچائی سننا چاہیے کہ طاقت کے نام پر کام کرنے کی پالیسی سے نہیں بلکہ تعاون اور اصولوں پر مبنی پالیسی سے یہ دنیا کو بھلائی کی طرف لے جایا جائے گا ❤️
 
امریکا نے ہیں وہ دنیا کو ایک بار پھر طاقت کے قانون کے سامنے چھوڑ دیتا ہے، اس سے یہ بات لگنائی جائے گی کہ دنیا ایک خطرناک مقام پر پہنچ گئی ہے۔ ماحوز ادارے کمزور ممالک کو لگاتے رہتے ہیں اور ان سے معاشی پابندیاں لگائی جائیں گی، یہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ دنیا کسی خطرناک مقام پر آئے۔

میں سوچتا ہوں کہ دنیا میں تعاون اور اصولوں پر مبنی پالیسی کی ضرورت ہے، جس سے یہ بات چلتے ہیں کہ دنیا ایک محبت رازہ والی مقام پر آئے ہیں نہیں کہ دنیا کو ایک خطرناک دور کی طرف لے جانا چاہیے۔
 
🤔 america ki pehli baat yeh hai ki woh apni takat ke naam par kaam karte hain, aur ab wo duniya ko ek naya rasta chuna hai jo hume ek bar phir takat ke qanun ki taraf le jayega... 🚨 toh isse kaisa ho sakta hai? america ki policy se zindagi kaafi kamzor hoga, aur woh bhi kisi cheez ke liye... khud ko majboot banane ki cheez nahi! 💪🏽 jo baat safaayi hai toh duniya bhar ke logon ko ek dusre ki madad karni chahiye, na ki America ki takat par depend karna... 🤝
 
اس کا یہ بھی نہیں کہ کہا جاتا کہ دنیا میں ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ جو لوگ طاقت پر مبنی پالیسیوں سے کام کرنے کی اور دنیا کو ایک خطرناک دور کی طرف لے جاتے ہیں وہ صرف امریکا ہی نہیں بلکہ دیگر طاقت پر مبنی ممالک بھی ہوتے ہیں۔ اس کے لیے ہمہ خیر و خوف کو دور کرنے کی ضرورت ہے اور تعاون اور اصولوں پر مبنی پالیسیوں سے کام کرنا چاہئے۔
 
امریکا کی یہ پالیسی ایسے وقت میں بھی ضروری نہیں کہی جو دنیا میں طاقت کی طاقت کو ابھار دے رہی ہے، دنیا ایک غیر یقینی اور خطرناک روپ میں چلی جا رہی ہے، اس وقت کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ دنیا کے صدر اپنی پالیسیوں کو ایسے بنائیں جو تعاون اور اصولوں پر مبنی ہوں، ماحولیاتی تبدیلی، انسانی حقوق، صحت اور ترقی کے لیے اس کا نتیجہ عالمی نظام کی بھرپور فائدہ اٹھانے میں ہو گا 🌎💪
 
amerika ko lagta hai ki ve aik satah khade ho kar duniya ke logon ko koi nahi samjhti. wah log bhi soch rahe hain ki agar ve satah khade rehenge to wo humesha kisi bhi cheez ka saamna nahin kar payenge... to kaisa karengi? 🤔💭
 
امریکا کا یہ فیصلہ تو ڈرامائی ہوا ہوگا، چاہے وہ اپنی طاقت کو بھی سچ رکھے یا نہیں پہلی جگہ پر۔ دنیا کے تانے منہaniوں کو ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ صرف امریکا کی جانب سے کرنے والے فیصلوں پر انھوں نہیں منحوت ہوتے لیکن اپنی صلاحیتوں کو بھی ظاہر کروائیں جو دنیا میں تو بھی آج تک موجود تھیں۔ ماحولیاتی تبدیلی، انسانی حقوق اور ترقی جیسے معاملات میں تعاون ایک عالمی نظام کی ضرورت ہے نہ کہ طاقت کا نام انھوں نے پہلی بار رکھ دیا ہو۔
 
امریکا نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی 66 تنظیموں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے، لاکین یہ بات تو صاف ہے کہ دنیا کو ایک بار پھر طاقت کے قانون کی طرف دھکیل دیا گیا ہے... 😬 فوری طور پر عالمی اداروں پر معاشی پابندیاں لگائی جائیں گی، یہ رائے ایک نئی عالمی نظام کی ضرورت کے بارے میں ہے جس میں تعاون اور اصولوں پر مبنی بنایا جائے... 🤝 ماحولیاتی تبدیلی، انسانی حقوق، صحت اور ترقی کے لیے تعاون کو فروغ دینا عالمی نظام کی بنیادی ضرورت ہے... 💚
 
امریکا نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی 66 تنظیموں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے اور یہ پھر ایک نئی طاقت کے نام پر کام کرنے کی پالیسی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس طرح دنیا کو ایک بار پھر معاشی پابندیاں لگائی جائیں گی اور دنیا کو ایک خطرناک دور کی طرف لے جایا جائے گا۔

اس لیے ہمیں اپنی پالیسیوں میں تعاون اور اصولوں پر تبدیل کرنا چاہیے تاکہ دنیا کو ایک مستحکم اور بہتر مستقبل کی طرف لے جا سکے۔ ماحولیاتی تبدیلی، انسانی حقوق، صحت اور ترقی کے لیے تعاون کو فروغ دینا عالمی نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔
 
ایسا کیا کرتا ہے؟ "دنیا کی چراغیں بھگت گئیں، اور اس میں سے صرف ایک چراغ باقی رہ گیا ہے...اور اس چراغ کو بھی اس نے ختم کر دیا ہے"
 
امریکا کی جانب سے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی علیحدگی کا اعلان کرنا ایک خطرناک پالیسی ہے جو دنیا کو ایک غیر یقینی اور انتشار زدہ مستقبل کی طرف لے جائے گا۔ دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی، انسانی حقوق، صحت اور ترقی کے لیے تعاون کو فروغ دینا عالمی نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔

اس پالیسی سے دنیا کو ایک ایسا مقام پر لے جایا جائے گا جہاں کسی بھی طاقت اپنے مطلوبہ استحکام کے لیے ہر چیز کو اپنا کر رہی ہو، اور دنیا کو ایک خطرناک اور انتشار زدہ مقام پر لے جایا جائے گا۔

یہ پالیسی نہ صرف عالمی اداروں کے لیے بھرپور نقصان ہوگئے ہوتے ہیں بلکہ دنیا کو ایک خطرناک مقام پر لے جایا جائے گا جو اس کے مستقبل کے لیے نہایت منفی ہوگا۔
 
ایسا نہیں ہوگا کہ امریکا نے پوری دنیا کو اپنی طاقت کے تحت لے لیا ہوگا، وہ بھی ایک عالمی نظام کی بنائی ہوئی پالیسیوں پر مبنی ہیں جو ماحولیاتی تبدیلی، انسانی حقوق اور صحت کے لیے تعاون کو فروغ دیتی ہے۔ روس کا ایک آئل ٹینکر قبضہ کرنا بھی ایک عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے، امریکا نے اس کی جانب سے ایک خطرناک دور کی طرف جاتے ہوئے لیکن دنیا کو اس پہلے سے ہی خود ایسا ہی بنایا ہوا تھا کہ وہ امریکا کی طاقت پر بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
 
America apni is kshamta ki nazariya se kaam karne ki niyasi sambhita hai jissey duniya ko fir se shaktiyon ke qanun ke taraf dhakela gaya hai. Yeh niti humein ek bar phir shaktiyon ke law ke taraf dhala degi. Isse dunia kaa ek asafal aur hatraaspadh aage badega.

America apni is niyasi se aapki duniya ko ek bekhudah aur hatraspadh aage badhane ki tarah de rahi hai. Yeh paryaanshi ke liye hi nahi, balki yeh hamare aage badhne ki tarah bhi hai.

America apni is niyasi se duniya kaa ek bekhudah aur hatraspadh aage badhane ki tarah de rahi hai. Yeh paryaanshi ke liye hi nahi, balki yeh hamare aage badhne ki tarah bhi hai.

Main sochta hoon ki America ko apni is niyasi se peeche le jaana chahiye.
 
واپس
Top