پاکستان کا کون سا نمبر دنیا کے طاقتور پاسپورٹس کی فہرست میں 98 ویں پوزیشن پر ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس کی طاقت ابھی بھی نا کافی ہے۔
انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، سنگاپور کا پاسپورٹ دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ ہے جس کے حامل افراد 227 میں سے 192 ممالک اور علاقوں میں بغیر ویزا سفر کر سکتے ہیں۔ یہ درجہ بندی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سنگاپور کا پاسپورٹ دنیا بھر میں ایسا ہونے کے قابل ہے جو دیگر ممالک کے پاسپورٹوں کو پیچیدہ کردیتا ہے۔
دوسری جگہ پر جاپان اور جنوبی کوریا مشترکہ طور پر پھیلے ہوئے ہیں، جو اس کے شہریوں کو 188 ممالک میں ویزا فری رسائی حاصل کرتی ہے۔ یہ درجہ بندی یورپ اور ایشیاء کے بین الاقوامی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جس میں دو大 ممالک کو سہی ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔
دوسرے نمبر پر یورپ کے پانچ ممالک جو ڈنمارک، لکسمبرگ، اسپین، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ ہیں انھوں نے بھی اپنی شہریت کی طاقت کو ایسا منوا رکھا ہے کہ اس سے اسے 186 ممالک تک بغیر ویزا سفر کی سہولت حاصل ہوئی ہے۔
چوتھے نمبر پر تمام یورپی ممالک جو آسٹریا، بیلجیم، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، یونان، آئرلینڈ، اٹلی، نیدرلینڈز اور ناروے ہیں ان کے پاسپورٹوں کو بھی یہ سہولت حاصل ہوئی ہے۔
پانچویں نمبر پر ہنگری، پرتگال، سلوواکیہ، سلوینیا اور متحدہ عرب امارات ہیں جن کی شہریت کے پاسپورٹس نے بھی اپنا فائدہ اٹھایا ہے اور اس سے ان کے شہریوں کو 184 ممالک تک ویزا فری یا آسان رسائی حاصل ہوئی ہے۔
چھٹے نمبر پر کروشیا، چیک ری پبلک، ایسٹونیا، مالٹا، نیوزی لینڈ اور پولینڈ ہیں جن کی شہریت کے پاسپورٹوں نے بھی یہ سہولت حاصل کر لی ہے۔
ساتویں نمبر پر آسٹریلیا، لٹویا، لیختن اسٹائن اور برطانیہ ہیں جن کی شہریت کے پاسپورٹس کو بھی یہ فائدہ اٹھانا پڑا ہے اور ان سے 181 ممالک تک بغیر ویزا سفر کرنے کی سہولت حاصل ہوئی ہے۔
آٹھویں نمبر پر کینیڈا، آئس لینڈ اور لتھوانیا ہیں جن کی شہریت کے پاسپورٹس کو بھی یہ سہولت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
امریکا نے پچیس برسوں میں اپنی شہریت کی طاقت کا فائدہ اٹھایا ہے اور اس سے اس سے 149 نوئے ممالک تک ویزا فری رسائی حاصل ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں اس کی درجہ بندی میں بھی نمایاں تحول آئا ہے۔
ملائیشیا نویں نمبر پر ہے اور افغانستان وہ سب سے کمزور پاسپورٹس میں شامل ہیں جس کے حامل افراد صرف 24 ممالک تک بغیر ویزا سفر کر سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں دوہری شہریت کی مقبولیت ابھر رہی ہے اور امریکا کے شہریوں نے اس میں سب سے زیادہ حصہ لے رہے ہیں۔ تاہم یورپ کے کئی ممالک نے اس کی ساکھ کو چھوٹا کرنے کے لیے سرگرمیاں شروع کر دی ہیں اور یہ بات ابھر رہی ہے کہ وہ اپنی شہریت کی طاقت کو ایسا منو رہے ہیں کہ اس سے پورا عالمی نظام اچھی طرح متاثر ہوا جائے۔
انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، سنگاپور کا پاسپورٹ دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ ہے جس کے حامل افراد 227 میں سے 192 ممالک اور علاقوں میں بغیر ویزا سفر کر سکتے ہیں۔ یہ درجہ بندی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سنگاپور کا پاسپورٹ دنیا بھر میں ایسا ہونے کے قابل ہے جو دیگر ممالک کے پاسپورٹوں کو پیچیدہ کردیتا ہے۔
دوسری جگہ پر جاپان اور جنوبی کوریا مشترکہ طور پر پھیلے ہوئے ہیں، جو اس کے شہریوں کو 188 ممالک میں ویزا فری رسائی حاصل کرتی ہے۔ یہ درجہ بندی یورپ اور ایشیاء کے بین الاقوامی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جس میں دو大 ممالک کو سہی ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔
دوسرے نمبر پر یورپ کے پانچ ممالک جو ڈنمارک، لکسمبرگ، اسپین، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ ہیں انھوں نے بھی اپنی شہریت کی طاقت کو ایسا منوا رکھا ہے کہ اس سے اسے 186 ممالک تک بغیر ویزا سفر کی سہولت حاصل ہوئی ہے۔
چوتھے نمبر پر تمام یورپی ممالک جو آسٹریا، بیلجیم، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، یونان، آئرلینڈ، اٹلی، نیدرلینڈز اور ناروے ہیں ان کے پاسپورٹوں کو بھی یہ سہولت حاصل ہوئی ہے۔
پانچویں نمبر پر ہنگری، پرتگال، سلوواکیہ، سلوینیا اور متحدہ عرب امارات ہیں جن کی شہریت کے پاسپورٹس نے بھی اپنا فائدہ اٹھایا ہے اور اس سے ان کے شہریوں کو 184 ممالک تک ویزا فری یا آسان رسائی حاصل ہوئی ہے۔
چھٹے نمبر پر کروشیا، چیک ری پبلک، ایسٹونیا، مالٹا، نیوزی لینڈ اور پولینڈ ہیں جن کی شہریت کے پاسپورٹوں نے بھی یہ سہولت حاصل کر لی ہے۔
ساتویں نمبر پر آسٹریلیا، لٹویا، لیختن اسٹائن اور برطانیہ ہیں جن کی شہریت کے پاسپورٹس کو بھی یہ فائدہ اٹھانا پڑا ہے اور ان سے 181 ممالک تک بغیر ویزا سفر کرنے کی سہولت حاصل ہوئی ہے۔
آٹھویں نمبر پر کینیڈا، آئس لینڈ اور لتھوانیا ہیں جن کی شہریت کے پاسپورٹس کو بھی یہ سہولت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
امریکا نے پچیس برسوں میں اپنی شہریت کی طاقت کا فائدہ اٹھایا ہے اور اس سے اس سے 149 نوئے ممالک تک ویزا فری رسائی حاصل ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں اس کی درجہ بندی میں بھی نمایاں تحول آئا ہے۔
ملائیشیا نویں نمبر پر ہے اور افغانستان وہ سب سے کمزور پاسپورٹس میں شامل ہیں جس کے حامل افراد صرف 24 ممالک تک بغیر ویزا سفر کر سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں دوہری شہریت کی مقبولیت ابھر رہی ہے اور امریکا کے شہریوں نے اس میں سب سے زیادہ حصہ لے رہے ہیں۔ تاہم یورپ کے کئی ممالک نے اس کی ساکھ کو چھوٹا کرنے کے لیے سرگرمیاں شروع کر دی ہیں اور یہ بات ابھر رہی ہے کہ وہ اپنی شہریت کی طاقت کو ایسا منو رہے ہیں کہ اس سے پورا عالمی نظام اچھی طرح متاثر ہوا جائے۔