کینیا سے تعلق رکھنے والی نوجوان ماحولیاتی کارکن ٹروفینا موتھونی نے درختوں سے لپٹ کر 72 گھنٹے کا عالمی ریکارڈ اپنایا ہے، جو اس وقت تک سب سے طویل میراتھن بنانے کی کوشش کرتے ہوئے یہ ریکارڈ توڑ چکی ہیں۔
انھوں نے پچیس گھنٹے سے زیادہ درخت سے لپٹ کر ایک ریکارڈ بنایا تھا جس کا مقصد زمین کو دوبارہ جوڑنا تھا، لیکن اس بار انھوں نے ایک مزید عالمی ریکارڈ اپنایا ہے جو گھانا سے تعلق رکھنے والے فریڈرک بوکائے کے بعد سب سے طویل میراتھن بنانے کی کوشش کرتے ہوئے یہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی انھوں نے ایک 48 گھنٹے کے میراتھن میں درخت سے لپٹ کر یہی ریکارڈ اپنایا تھا، لیکن اس بار انھوں نے اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بناتے ہوئے نیا عالمی سنگِ میل عبور کیا۔
انھوں نے بتایا کہ اس میراتھن میں انھیں ایک پیغام تھا، ایک سادہ اور قریبی عمل کے ذریعے انسانیت کو زمین سے دوبارہ جوڑنے کی کوشش کرنا تھا۔ انھوں نے کہا کہ دوسری بار یہ ریکارڈ بنانے کا مقصد محض علامت نہیں بلکہ عزم کا اظہار تھا۔
انھوں نے کہا کہ دنیا کو صرف علامتی اقدامات نہیں بلکہ ثابت قدمی، تسلسل اور اس بات کے ثبوت کی ضرورت ہے کہ زمین کی دیکھ بھال وقت نہیں بلکہ ایک مستقل ذمہ داری ہے جس کے لیے مسلسل جدوجہد ضروری ہے۔
بھائی یہ واضح ہوتا ہے کہ انھوں نے ایک عالمی ریکارڈ توڑنا ہی کچھ ہو گا؟ اور اس کا مقصد کیا تھا؟ یہی کہیں بھی لوگ علامتی میراتھن میں مصروف ہو جائیں اور اس بات کو بھول دے جو زمین پر فائدہ نہیں پہنچتا
مرحوم ٹروفینا موتھونی کی میراتھن میں ایک اور ریکارڈ توڑنا ہی نہیں بلکہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بات کہی جانی چاہیے کہ میراتھن کی دنیا بھر میں ایسے لوگوں کو متاثر کر رہی ہے جو زمین کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے میراتھن ایک اہم آہنیت بن گیا ہے۔
ان نوجوان ماحولیاتی کارکنوں کو بھی محض ایک کیمپین میں حصہ لینا نہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت لگانا چاہئے کہ وہ اپنے مقاصد کی طرفProgress kar rahe hain.
انھوں نے درخت سے لپٹ کر 72 گھنٹے کا ریکارڈ بنایا ہے، جو انھیں ایک عالمی سنگِ میل حاصل ہوا ہے اور اس کی واضح بات یہ ہے کہ انھوں نے اپنی کارکردگی کو بہتر بناتے ہوئے یہ ریکارڈ توڑ دیا ہے.
انھیں زمین کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کرنا ہوتا ہے اور اس لیے انھوں نے ایک پیغام بھی بنایا ہے جو انسانیت کو زمین سے دوبارہ جوڑنے کے لیے تشویق دے رہا ہے.
لیکن انھیں یہ بات بھی سمجھنی چاہئے کہ دنیا کو صرف علامتی اقدامات نہیں بلکہ اس بات کے ثبوت کی ضرورت ہے کہ زمین کی دیکھ بھال ایک مستقل ذمہ داری ہے جس کے لیے مسلسل جدوجہد ضروری ہے.
اس ماحولیاتی کارکن کی اور اس کے مقصد کو پورا کرنے کی طاقت کا ایک نہیں دوں، وہ سب سے طویل میراتھن بنانے کی کوشش کرتے ہوئے یہ ریکارڈ توڑ چکی ہیں. یہ ان کے لئے ایک ناچوں سے بھرپور فائدہ ہوگا، اور دنیا کو اس بات کا پتہ چلے گا کہ انسان کے لئے یہ کیا ہے؟
ابھی اس ریکارڈ کو توڑنے والا بھی نئی چيز بن گئے! ٽروفینا موتھونی نے ایسا کیا کہ لوگ ان کی کارکردگی سے متاثر ہوئے لیکن دوسری بار اس جیسے ریکارڈ بنانے کا مقصد تو چھوٹا چھوٹا کر دیا گیا! یہ سب کچھ سوشل میڈیا پر لگتا ہے، ماحولیاتی کارکنوں کو اپنی کارکردگی کی پرامنری کرتے ہوئے اس طرح اور عالمی ریکارڈ بنانے کی چاہن لگائی جاتی ہے لیکن یہ کیا حاصل ہو گا؟
اس میراتھن میں انھوں نے ایک پیغام دیا ہے، جو کہ انسانیت کو زمین سے دوبارہ جوڑنے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہی میراتھن میں انھوں نے اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا ہے اور نیا عالمی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ کچھ لوگ ایسے سافٹ باؤنڈ کے ساتھ میرتھنز رن کرتے ہیں، جیسے کہ پرانا فون ساتھ میرتھن رن کرنا، اور ان کی ترغیب اس وجہ سے بڑھتی ہے کہ وہیں اپنے نئے فون کو استعمال کر سکتے ہیں، یہ نہیں کہ انھوں نے اس میراتھن میں ایسا کیا ہو۔
اس ماحولیاتی کارکن کی بات سے متاثر ہوا ہے، نہ کہ وہ ایک انفورمٹिव اسٹریٹیجز میسٹر ہے، لیکن ایک ماڈل بنانے والا جو لوگوں کو ماحولیاتی ذمہ داریوں کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے… اس سے سیکھنا چاہیے کہ میراتھن کی نہایت مختلف formas میں لوگ اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کر رہے ہیں اور اس کے بعد آپ کس طرح ان کے مقاصد سے متاثر ہوتے ہیں…
یہ سچ میں جاننے کو ایک بڑا شوق ہے، 72 گھنٹوں تک درختوں سے لپٹنا وہی کیا کر رہا تھا جو لوگ اپنی زندگی کے عہدے کو ایک اعزاز سمجھتے ہیں۔ جب تک دنیا میں کچھ نہیں، یہ ریکارڈ توڑنا صرف ایک چال اور اس وقت کی گھنٹوں کو کم کرنا ہے۔
یہ میراتھن کا مقصد انسانیت کو زمین سے دوبارہ جوڑنا تھا، لیکن یہی وجہ ہے کہ اس میں اس وقت کی گھنٹوں کو کم کرنا پڑا۔ لوگ نہیں سوچتے کہ زمین کی دیکھ بھال کے لیے یہ کام کیا جائے گا، اور اس لیے دنیا ایک ساتھ نہیں آئی ہے۔
تروفینا موتھونی کی یہ میراتھن دنیا بھر میں دیکھنا پڑی، اور یہ ایک بڑا پیغام ہے کہ ہم زمین کو دوبارہ جوڑنا چاہتے ہیں، لیکن ہمیں صرف علامت بننے کے بجائے ہمیں اس بات کو ثبوت دینا چاہیے کہ ہم زمین کی دیکھ بھال کی وعدے پر عمل اور مسلسل جدوجہد کرتے ہیں۔
انھوں نے ایک سادہ اور قریبی عمل میں انسانیت کو زمین سے دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی، جو یہ ریکارڈ توڑ کر بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک گھنٹہ بھی کام نہیں ہوتا!
ٹروفینا موتھونی کی گہری متاثریت سے بہت متاثر ہونے والے لوگ ہیں، لیکن میں اس ریکارڈ کو توڑنا کیا انھوں نے اپنی زندگی کو کام پر لگایا؟ یہ سچا معجزہ ہے یا پھر وہ کافی عزم رکھ چکی ہیں؟