دودھ کی قیمتوں میں خودساختہ اضافہ، انتظامیہ خاموش - Daily Ausaf

ڈولفن

Well-known member
لاہور میں دودھ کے نتیجے میں شہر میں پھیل گئی تاریکیاں، جس کی وجہ سے لوگ غصہ اور چچکہ ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب دہی اور برائلر گوشت کی قیمتوں میں بھی شدید اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں عوام کو بڑی تنگی لگ رہی ہے۔

شہریوں کی پریشانی سے نمٹنے کے لیے حکومت کو کامیابی حاصل کرنا پڑے گی، جس میں دودھ اور دہی جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر کنٹرول لگایا جائے گا۔

اس وقت سے ہی اس وہ کئی روز ہو چکی ہیں جس میں ایسے نتیجے نکل رہے ہیں، جو کہ عوام کے لیے زیادہ تنگی لگائی گئی ہے۔

صوبائی دارالحکومت لاہور میں دودھ فروشوں نے سرکاری قیمتوں کی دھجیاں اڑا دیں، جس کے بعد شہر میں ایسی حالات سے سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے لوگ غصہ اور چچکہ ہو رہے ہیں، ان میں سے ایسا لگتا ہے کہ یہ ایسی بات ہے جس کے بعد عوام کو بھی تنگی لگ سکتی ہے۔

شہر میں دودھ اور دہی کی قیمتوں پر نئے پابندی سے ان لوگوں کو گھبراہٹ لگ رہی ہے جس کا مقصد اس نتیجے پر پہنچنا تھا کہ عوام کی پریشانی سے نمٹنے میں کامیابی حاصل کی جائے، لیکن یہ بات ایک کافی مشکل ہے۔

اس نئی دھجیاں اڑانے کا مقصد عوام کو کبھی بھی تنگی نہ لگنی پڑے۔ اس کی وجہ سے لوگ غصہ اور چچکہ ہو رہے ہیں، لیکن اس کا اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں لگتا جب تک دودھ اور دہی جیسی بنیادی ضروریات پر پابندی نہیں کی جا سکتی، جو کہ عوام کی اپنی ترجیح ہے۔
 
اس وقت یہ سوچنے سے اور اس نتیجے سے ہر کوئی دھمکی لگائی رہی ہے کہ یہاں پر پابندیاں بڑی تنگیوں میں تبدیل ہوجائیں گی۔

اس نئی پابندی سے عوام کی کوئی فائدہ نہیں لگ رہی، لیکن شہریوں کے لیے یہ ایک بڑا مسئلہ ہے جس کا حل governments ہی نہیں کر سکتی۔

شہر میں لوگوں کی غصہ اور چچکہ رہنے سے بھی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عوام کو ایسے پابندیاں نہیں لگنی چاہئیں جو ان کی زندگی کو آسانی سے ٹھوس کر دیں۔

اس وقت یہ بھی سوچنے کے ساتھ ہر کوئی ایسے نتیجے کو دیکھ رہا ہے جس کے بعد عوام پر زیادہ تنگی لگائی گئی ہو، لیکن اس کا کوئی حل ہمیں ملتا ہے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو اچھی طرح سوچنا پڑے گا، دودھ اور دہی جیسی ضروریات پر کنٹرول لگانا نہیں جیسا کہ شہریاں چاہتے ہیں کیونکہ وہ اپنی پریشانیوں سے نمٹنے کے لیے بھی ایسا کہتے ہیں جو اس وقت تک نہیں کر سکتی جب تک ان کی معیشتوں میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔

🤯
 
😊 یہ خبر تو بہت گھمंडی ہے! دودھ اور دہی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں عوام کو بڑی تنگی لگ رہی ہے۔

📈.stats: دہلی اور بریلینڈ میں دودھ کی کامیاب کمیٹی کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

📊چارٹ: دھلی اور بریلینڈ میں دودھ کی قیمتوں کا اضافہ ہے، جس کے نتیجے میں عوام کو تنگی لگ رہی ہے۔

😕 یہ بھی ایک اچھی بات ہے کہ عوام کی پریشانی سے نمٹنے کے لیے حکومت کو کامیابی حاصل کرنا پڑے گا، جس میں دودھ اور دہی جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر کنٹرول لگایا جائے گا۔

📊 تین ہفتوں کے اندر: عوام کی پریشانی سے نمٹنے کے لیے حکومت کو کامیابی حاصل کرنا پڑے گا، اور دودھ اور دہی جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر کنٹرول لگایا جائے گا۔
 
😐 یہ سچ ہے کہ دہی اور دودھ جیسی بنیادی ضروریات پر پابندی لگائی گئی تو عوام کو تنگی لگ سکتی ہے، لیکن یہ بھی یقینی نہیں کہ لوگوں کی قیمتوں میں اضافے سے صرف تنگی نہیں پڑے گی بلکہ اس سے کوئی معاشرتی مسائل بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔
 
🤔 یہ تو بہت Problem ہو رہا ہے، شہر میں تاریکیاں پھیل گئی ہیں اور عوام کو غصہ اور چچکہ ہونے کے سامنے ہیں। اور وہی نہیں، دہلی اور برلعہ کے گوشت کی قیمتوں میں بھی شدید اضافہ ہوا ہے، جو عوام کو تنگی لگا رہا ہے۔

شہریوں کی پریشانی سے نمٹنے کے لیے اس وقت تک حکومت کو کامیابی حاصل کرنا پڑے گا جب تک انہیں دودھ اور دہی جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر کنٹرول لگایا جائے گا۔ یہ تو Fair Deal ہونا چاہئے، عوام کو تنگی نہ لگنی پڑے۔

سارے اس کھیل میں شہریوں کی پریشانی ہی سب سے اہم ہے، اسے حل کرنا پڑے گا تاکہ عوام کو ان کے لیے ساسرہ نہ لگ۔
 
اس نئی پریشانی سے کوئی توازن لگا نہیں سکا ، جس میں لوگ دودھ اور دہی جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر یقین کرتے ہیں، پھر بھی شہریوں کو غصہ اور چچکہ ہونا پڑ رہا ہے . اس طرح کی نئی دھجیاں اڑانے سے کوئی فائدہ نہیں لگ رہا ، صرف تنگی لگائی جارہی ہے.
 
یہ سب بھرپور شہرت حاصل کرنے والا دودھ اور دہی کا معاملہ ہو رہا ہے، جس سے عوام کو زیادہ تنگی لگ رہی ہے، مگر یہ بات سمجھنی چاہئی کہ دودھ اور دہی جیسی بنیادی ضروریات پر پابندی لگائی جائے تو عوام کی پریشانی سے نمٹنے میں کامیابی حاصل کرلی جائے گی۔
لہذا، ہمیں یہ اچھا دیکھنا چاہئی کہ وہ لوگ جو دودھ اور دہی جیسی بنیادی ضروریات پر پابندی لگایا ہے، ان کی مدد سے عوام کو تنگی نہ لگنی پڑے اور عوام کے لیے ایسے معاملات میں بھی مدد مل سکے جس میں دودھ اور دہی جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر پابندی لگائی جائے۔

ایک نئے معاملے میں، شہریوں کا جذبہ ہر وقت عوام کی مدد سے نمٹنے میں مدد ملے اور عوام کو تنگی لگ سکتی ہے۔
 
عوام کو بہت تنگی لگ رہی ہے کیونکہ دودھ اور دہی جیسی بنیادی ضروریات پر پابندی لگی ہوئی ہے، اس سے لوگ غصہ اور چچکہ ہو رہے ہیں 🤕। اس کے علاوہ دہلی اور برائیلر گوشت کی قیمتوں میں بھی ایسا ہی اضافہ ہوا ہے جو عوام کے لیے بہت تنگینہ لگ رہا ہے، اس پر حکومت کو کامیابی حاصل کرنا پڑے گا۔
 
ایسا لگتا ہے کہ یہ تو وہی سلسلہ ہے جس نے دوسرے دن اور اس نے بھی تنگی لگائی ہو گئی۔ پہلے ہی لوگوں نے دودھ کی قیمتوں پر احتجاج کیا تھا، اور اب دہی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ عوام کو اس پر تنگی لگ سکتی ہے، لیکن اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عوام کی پریشانی سے نمٹنے میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے کیسے عمل کیا جائے گا؟
:confused:
 
ایسا لگتا ہے کہ یہ بھارپور منصوبہ تھوڑا سا چل رہا ہے، لیکن اس میں اچھی طرح سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ عوام کی زندگی میں اس پر کس طرح اثر پڑے گا। شہر میں تاریکیاں پڑتی ہیں، لوگ غصہ اور چچکہ ہو رہے ہیں، یہ سب دودھ کی قیمتوں پر پابندی کے نتیجے میں نکل رہا ہے۔ دہلی اور برائے تانے بhana ایسی حالات میں دیکھتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ تنگی لگ رہے ہیں، پھر یہ دودھ اور دہی جیسی بنیادی ضروریات پر پابندی لگا کر کیسے کامیابی حاصل کی جائے گی؟ اس کو سمجھنا بھی مشکل ہے۔
 
آج وہ صورت حال ہو رہی ہے جس سے لوگ دھونے اور دھونے کے بعد بھی لاوٹ مہسوس کر رہے ہیں ، آج وہ شخص جو نائلی پانی کو چکنا چاہتا ہے، اس کی زندگی کی تنگی لگ سکتی ہے، کبھی دودھ اور دہی پر ایسی پابندی کی جا سکتی ہے جو عوام کو دھونے سے بھی کچھ فائدہ نہ دے .
 
یہ ماجا کیا ہو رہا ہے؟ دودھ اور دہی کی قیمتوں پر پابندی تو ایک بات ہے، لیکن یہ کیسے کرنا پڑے گا? لوگ اس کو پہلے ہی کیا نہیں کھاتے تھے؟ اب بھی ہمیں دودھ اور دہی کی قیمتوں پر پابندی لگانا پڑے گا? یہ تو ایک جسمانی ضرورت ہے، نہیں؟ 😕
 
اس وقت سے کئی روز گزر چکے ہیں اور یہ بات بھی پتہ چلی گئی ہے کہ دودھ اور دہی کی قیمتوں پر کنٹرول نہیں لگایا جا سکتا، ان کو ایک بنیادی ضرورت بناتے ہوئے عوام کی تنگی لگائی گئی ہے، میری بھی یہ سچائی ہو گئی ہے کہ شہریوں کو پریشانی سے نمٹنے کا ایک طریقہ اس کے لیے ضروری ہے کہ اسے دھجیاں اڑانے سے بچایا جائے۔
 
اس وقت سے ہی یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ لاہور میں دودھ کی قیمتوں پر پابندی لگا دی جائے تو کیا ایسا ہوا کراے گا؟ عوام کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ لوگوں کو ایسے کیجئے اس پر ان میں سے کسی نے بھی خیال نہیں کیا تاکہ لوگ غصہ اور چچکہ ہو کر گول ہو جائیں۔

شاہدین کو یہ واضح ہونا چاہیے کہ دودھ اور دہی جیسی بنیادی ضروریات پر پابندی لگایا جانے سے عوام کی زندگی میں تنگی آ گئی ہے، اس کے لیے حکومت کو ایسا نہیں کرنا چاہیے جس سے عوام کو زیادہ تنگی لگ سکے۔

اس صورت حال کو حل کرنے کے لیے انھیں یہ سوچنا ہو گا کہ دودھ اور دہی جیسی بنیادی ضروریات پر پابندی لگا دی جائے تو عوام کی زندگی میں تنگی آ گئی ہے، اس لیے انھیں ایسا کرنا چاہیے جو عوام کے لیے بہتر ہو اور انھیں یہ سوچنا ہو کہ لوگ غصہ اور چچکہ ہونے سے بھی کئی فائدہ لگ سکتا ہے۔
 
ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ دودھ اور دہی کی قیمتوں پر کنٹرول نہ کرنے سے شہریوں کو بڑی تنگی لگ رہی ہے، کیا اس میں کسی حد تک ایک حل نہیں ملتا جس کی وہ پوری صاف کر سکے؟
 
اس وقت سے ہی یہ بات غلط نہیں ہو سکتی کہ ڈھاکہ اور کراچی میں پتھر کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے لوگ دھونے کی کوشش نہیں کر سکیں۔ لاکھوں پیسے خرچ کرتے ہوئے بھی یہ بات پتہ چلی گئی ہے کہ ڈھاکہ اور کراچی میں ایسی ہائی وے بنائے نہیں ہیں جس پر لوگ آسانی سے رات پھر کر سکیں۔

اس نئی قیمتوں کی وجہ سے لوگ دھونے کی چال چلتا ہے، اور ان میں سے ایک شخص کو بھی یہ بات پتہ چلی گئی ہے کہ وہ رات کو 20 گیلن کھانے کے بعد بھی نیند نہیں اٹھا سکیں۔

اس وقت تک عوام کے لیے یہ بات پتہ نہیں چلیگی ہو گی کہ ایسے لوگ کیونکہ اس نئی قیمتوں کی وجہ سے ان کو دھونے کی اور رات کی تین لگتی گئی ہے۔
 
میں سمجھتا ہوں کہ یہ دوسری جانب کے ماحول میں بھی تنگ لگ رہی ہے، بریola گوشت کی قیمتوں میں اضافہ تو عوام کو بہت تنگی لگ رہی ہے لیکن دوسری جانب کا یہ اضافہ بھی ایک گہرے مظالم پر نظر ڈالا جارہا ہے۔
 
اس وبا میں ہوتے ہوئے لوگ تنگ آ رہے ہیں تو شہر میں بھی ایسا ہی حال ہو رہا ہے جیسا کہ لاہور کی دودھ کے نتیجے سے ملا رہا ہے، دوسری جانب بھی دہی اور گوشت کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، یہ سب عوام کے لیے تنگی لگائی گئی ہے۔

اس پر پابندی لگا کر لوگوں کو تنگ نہیں لگنی چاہیے، اس کا مقصد عوام کی پریشانی سے نمٹنا ہو گا لیکن یہ بھی بات ہے کہ لوگوں کو اچھی طرح سمجھانا پڑے گا۔
 
واپس
Top