Karachi میں ایک نوجوان کے گھر میں آگ لگنے کی وجہ سے ایک 80 سالہ شہری جاں بحق ہوگیا تھا جسے اس وقت میڈیکل BOARD کے ذریعے علاج کیا جارہا تھا۔
ان کا نام قمر الدین ولد سیف اللہ تھا جو اپنے گھر میں دہنی پین اور سگریٹ کے شوقی تھے۔ اس نے رات کا کھانا کھانے کے بعد اپنے کمرے میں جاکر سگریٹ پی رہے تھے۔
جب کمرے سے دھواں بھرنے پر ان کی آگ لگ گئی تو ان کو شدید زخمی ہوگیا تھا۔ اس پھینک مچانے والوں نے ان کے آپ کے اندر جانے کے بعد ان کی تشویشناک حالت میں اسپتال لے جानے کی کوشش کی تھی لیکن وہ راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
اس ایسے حالات میں جنم لینے والوں نے ان کے جسم کو پھنسی ہوئی چارپائی اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا لیکن اس کے بعد بھی اہل خانہ نے پولیس سے ان کی تفصیلات حاصل کرنے پر زور دیا ہے۔
یہ واقعتا ایک دریڈرننگ واقعہ ہے جو کراچی میں ہوا تھا۔ کیسے لوگ اپنی زندگی کو ایسے طریقوں سے بھر دیتے ہیں جس کی وجہ سے آگ لگتی ہے اور انہیں پھانسی میں مٹا دیا جاتا ہے؟ اس واقعے سے کچھ سکھنا چاہئے تو یہ ہے کہ اپنی زندگی کو ایسے طریقوں سے بھرنا پورے لیبر کے بعد بھی آپ کو جسمانی زخمی نہیں پہنچا دیتا ہے، لیکن ذہنی زخموں سے بھرپور نقصان ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ بھی ایک بات ہے جو ان کے آپ کے اندر لگنے سے پہلے ہوسکتی ہے کہ وہ شخص اپنی زندگی کو دھووانے کی چیزوں کو پھنچ کر دھوٹا رہتا ہو اور اس سے ایسا نہ ہونے پر ان کی جان سچمنہ بھی نہیں لگتی۔
اس دuniya میں لوگ ایسے لوگوں کو جھٹکے کے طور پر دیکھتے ہیں جو اپنی دuniya کی پوری کوشش کر رہے ہوتے ہیں اور ان کا ایسا ہی ہونا چاہیے۔ اس نوجوان کو گھر میں پین اور سگریٹ کی لالچ نہیں تھی بلکہ وہ صرف اپنا کھانا کھانے کے بعد رات کے وقت بیدار ہونے اور ایسے کچھ کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو اس کو محفوظ رکھے۔ ایسا تو انھیں نہیں ملتا تھا لیکن اب وہ آگ لگنے پر 80 سال کی عمر میں دم توڑ دیتے ہیں۔ مگر یہ سچ ہے کہ ایسے لوگوں کو جنت بھی نہیں مل سکتی.
اس دuniya میں ایسے ہی سادے گھروں کی بات کرنا چاہئے جہاں لوگ ایسی آپ کی زندگی کرتے ہیں جس کو دیکھنا بھی نہیں آتا، اس دuniya میں کتنے بھی گھروں سے کتنے بھی رشتے چلتے ہیں۔
اس دuniya میں جس لوگ ایک دوسرے کی نیند پر غور کرتے ہیں وہ ایسی آپ کی زندگی کو کتنے بھی سچا سمجھتے ہیں، لیکن وہی لوگ انہیں دیکھنا نہیں چاہتے جو ان کی آپ کی زندگی کرتے ہیں۔
کیا یہی ناامیدیں ہوتی رہیں گے؟ ایک نوجوان جو اس دنیا کا حصہ بننا چاہتا تھا اور اب وہی مٹھی میں پینے والے سگریٹ کی شوق کا شکار ہو گیا تو اسے آگ لگنے لگی تو اسے ایسے حالات میں جانے لگے جیسے اسے کچھ نہیں سمجھنے والا دنیا ہے… اور اب ان کی کتنے بھی کوئی دخل ہو گا؟ ایسے لوگوں کے لئے جو یہ سڑک پر چل رہے ہوتے ہیں تو انہیں ایسی جگہ آتھو، اس گھر میں مٹھی پی کے بچے کو ایسا ہونے دو!
اس گریوز سے پوچھتے ہی اس کا جواب نہیں ملتا. تو کیوں?
ایک ایسے شہر میں یہ ہوا جہاں دہنی پین اور سگریٹ پیانے والے لوگ جینے کا انتہائی آسان راستہ لیتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ایسے ہیں جو دیکھنے کے لئے نہیں تھے. اس کیوں ہوا؟
یہ جانتے ہیں ان پھینک مچانے والوں نے ایسا کیا تھا کہ آگ لگنے سے پہلے ان کی زندگی کو پوری طرح ٹھوس کر دیا ہے۔ ایک شخص اپنی رات کا کھانا کھاتے ہوئے اس جگہ پر فاضلانہ سگریٹ پی رہے تھے جو یہاں کے جسم کو ایسا ہی پھنسی ہوا چارپائی دیتا ہے۔ اور ان نئے دور میں بھی مٹھی مٹھی سگریٹ کی آگ لگنے سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
تحریر کاروں کی بات نہیں یہ ایک گھر ایسا تھا جہاں آگ لگی تو ان کا بچپن اور پریشانی کھل کر سامنے آ گیا ہے، ایک نوجوان جو آگ کے ذریعے اپنے 80 سالہ شہر کو اپنا خوف بنانے کی کوشش کرتا تھا وہ یہ نہیں سمجھتا تھا کہ اپنی آگ ایسے ساتھ لے جائے گی جو اسے ہر دھندلے اور ناکارہ کی زندگی ہو ۔
اس نوجوان کے ہنسی خندلی اور زبردست اچھوتھی اور اس کے پریشانی کو سنجیدگی کا ایک ساتھ ساتھ لے کر رہنا ایسے حالات میں بہت مشکل ہے جہاں کسی کی زندگی کی ناقصیں اس سے زیادہ ہی گہرائیوں تک پہنچتی ہے۔
یہ دیکھنا کہ ایسے حالات میں زخمی ہونے والے کو بھی ہمیشہ سے آگ لگنے کا شکار ہو گیا ہے تو یہ سچ ہی نہیں کہ اس گھر میں دھونے اور سگریٹ کی پریشانی تھی؟ میڈیکل بورڈ نے اس پھینک مچانے والے کو علاج کیا تو یہ کس بات ہے؟ آگ لگنے کا آئین اور دھواں بھرنے کی نالیوں کی چیک کرلیں تو اس گھر میں کون سا منصوبہ تھا۔
ایسے حالات میں جب دہنی پین اور سگریٹ کا شوقی رات کے کھانے کے بعد گھر میں آگ لگتی ہے تو یہ ایک طارکال کی بات نہیں ہے ، اس کی پھینک مچانیے والوں کو بھی علاج کیا جانا چاہیے لیکن اس کے بعد بھی اہل خانہ کے ایسے hànhکش نہیں ہوتے جنہیں اپنی معاشرے کے ریکارڈ کا خوف ہو۔ وہاں سے اس سے متعلق شعبے کو بھی سمجھنا چاہیے۔