Electrical scooty girl kiiled in accident islamabad | Express News

فری فائر کنگ

Well-known member
ایک تیز رفتار گاڑی نے ایران ایونیو پر سوار الیکٹریکل اسکوٹر پر دو لڑکیاں ٹکر دی جس کے بعد انھیں ایک دوسری زخمی ہونے کی خبر مل گئی۔

گاڑی کی ٹकर سے ایک لڑکی، عمerna کو شدید زخمیوں کی شہرت پہنچ گئی اور اسے اسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ جاتا ہے، اس طرح وہ نجاتِ حیات سے محروم ہو جاتا ہے۔ دوسری لڑکی فاطمہ کو بھی چوٹیں آئیں ہیں مگر ان کی حالات خطرے سے باہر ہیں۔
 
ہمیشہ کہتا کرتا ہوں کہ تیز رفتار گاڑیاں ان کس قدر خطرناک ہیں... اور اب ایک الیکٹریکل اسکوٹر پر سوار دو لڑکیاں ٹکر کر جاتی ہیں تو کیا آپ سوچتے ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ سافٹویئر اور لائسنسنگ کی باتوں پر بھی کوئی چکائی نہیں کرتا تو ان سافٹ ویئر کو بلاوٹ کرنے والے لوگ کیسے بنتے ہیں؟ اور اب یہ لڑکیاں زخمی ہوئی ہیں تو اس کی پلیٹ نہیں کی گئی؟ ایک ٹکر سے دم توڑ جاتا ہے تو پھر اس کا معائنہ کیسے کیا جاسکتا ہے؟ یہ سب کچھ لاکھ کر رہتا ہے اور لوگ بھاگتے ہیں...
 
ایسا توہین خیز ہوا ہے۔ گاڑی نہیں بلکہ اس کا سائق بھی ذمہ دار ہوگا، جو وہ تیزی سے چل رہی تھی۔ ٹکر کروانے والی لڑکی کی گئی زخمیوں کتنی اچھی تھیں؟ پوری دنیا ایسے واقعات کو سمجھ کر سکتا ہے، لیکن یہاں بھی صرف جانتے اور نہیں۔ اس سائق کے واجب کو کس پہچانتا ہے؟
 
یہ بات کے لئے گھنے لگ جاتی ہے کہ ایران ایونیو پر وہو چلوا ہوا ہے لیکن اس کا فائدہ نہیں آتا ، یہ دیکھنا میری خوفناک راتوں کی یاد دلاتا ہے جب میرے بچوں کے ساتھ گاڑی چلنے والا ایسا شخص تھا جو ان کے لئے نچوں سے پھنسا تو اس کے بعد وہ غصے میں ہوا اور وہی میری فوجیت کی راتوں کو یقینی بنانے والا تھا ، اب یہ دو لڑکیاں زخمیوں کا شکار ہوئی ہیں اور اس نئی گواہی سے مجھے یاد آگی ہے کہ اس جگہ پر یہ بہت ہی خطرناک اور انسانی محنتوں کی سہولت نہیں ہے تو کیسے! 😕
 
اس گاڑی والوں کا جواب دہ نہیں دیتا کہ وہ ایسی زحمتوں میں نہیں آتے جس پر انہیں چلنا پڑتا ہے، یہ گاڑیاں صرف صارفین کی خواہش کے مطابق چلاتی ہیں اور انہیں لگاتار نئی و новی سافٹ ویریجنز فراہم کی جاتی ہیں، اسی لیے بھی اس پر پابندی لگا دی جا سکتی ہے تاکہ ان کا استعمال صرف اُس شخص کو نہیں ہوتا جس کے پاس ٹرکنگ کی ذمہ داری ہو
 
ایسا کیا ہوتا ہے! تیز رفتار گاڑیوں کی وجہ سے ایسی ہالتوں میں لڑکیوں کو کیسے بچایا جاسکتا ہے؟ یہ دیکھنا ہی دکھتا ہے کہ فریڈم نہیں اور ایسا کیا ہوتا ہے!

ایمیں تھوڑی سے گپ شپ کرتے ہوئے اس بات پر بات کی کہ ان لڑکیوں کے والدین کو کس طرح مدد مل سکتی ہے؟ آج یہ ان کی پھرتی وہانی ہے، لیکن کچھ دن بعد میں وہیں ان کا بھی ہاتھ ہو جائے گا!

اس وقت پوری دنیا میں یہ بات کوئی نہ کوئی سونے لگائی دیتی ہے، لیکن اس معاملے کی تاریکTruth اب تک نہیں آئی ہے!
 
ایسا کیا ہوا تھا؟ ایک چلچلتا گاڑی نے دو لڑکیوں کو ایسی جگہ پر ٹکر دی جیسے وہاں سے جانا بھی مشکل ہو جائے۔ عمerna کی حقیقت اتنی غریب کیا تھی کہ اسے دم توڑنے کا بھی عارضہ موصول ہوتا ہے، یہ دیکھتے ہی دل کو ایسا لگتا ہے جیسے سچمچ سچمچ ٹوٹ رہا ہے. اور فاطمہ کی صورت پہلی کے مقابلے میں بہت زیادہ مہربانی تھی. اس دuniya میں ایسے حالات بڑی کم ملتے ہیں.
 
یہ بات ایسے میں پڑتی ہے کہ جب ہم دوسروں پر توجہ مرکوز کر لیتے ہیں تو ایسی صورتحالوں میں ہماہ بھی شکار ہوجاتے ہیں۔ اگر عمerna کو جسٹس سے محروم ہونے پر توجہ دی گئی تو اس صورتحال کو روکنا ممکن تھا، لیکن ہم سب نے ان کے لئے وقت اور سنسensitivity کی کمی کی۔ یہ lesson ہے کہ جب ہم دوسروں کی problems پر توجہ مرکوز کر لیتے ہیں تو ہماری اپنی problemz بھی پوری ہوجاتی ہیں۔
 
ایسے نہ ہونے دے! یہ گاڑی چلنے والوں کے لئے بہت خطرناک ہے، ایسی پریشانیوں سے ناتھے ہیں جو بھارت میں آوارہ ریلوے اسٹیشنوں پر موجود ہوتے ہیں! وہ لوگ جو الیکٹریکل اسکوٹر سے سفر کرتے ہیں، انھیں نئی دہلی سے لے کر ملک بھر میں بہت سا خطراں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ گاڑی ریلوے اسٹیشن پر موجود ایسی ڈرائیونگ سسٹم کی طرح ہے جس میں بھی بہت سے خطرے ہیں!
 
اس وقت ایسے incidents کا دور لگ رہا ہے جیسا کہ پچھلے صدیوں میں ہوا کرتا تھا۔ فہرست میں سے کسی بھی اور، ایک ٹکر دیکھ کر میرا دل ڈونگا، لگتا ہے کہ اس وقت کچھ نہیں بدل رہا۔ ایسے ہی ہوا تو سڑک پر چلنے والی گاڑیاں ان بچوں کو کیسے نظر آ سکیں؟ میری ایسے لڑکیوں کی ذھکی پر ایک ٹرولر فون ہے جو سب کو پہچانتی اور جاتا ہے، لیکن کچھ وہی تو پرانے ٹرولرز کے ساتھ رہتے ہیں... (😔)
 
یہ دکھ سا رہا ہے کہ اس وقت نہیں وہ بچیا ہوا ہے جب سڑکوں پر ٹریکر ایٹس چلائے جاتے ہیں اور لوگ اپنے سفر کے لئے زیادہ ذیادہ دکھاوٹ کرنے لگتے ہیں، اس سے انسان کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ٹرافیک بھی اچانک موت کی طرف کھینچ رہا ہو! :( :( یہ لڑکیوں پر ان سے ہونے والے نقصان سے کیا کہنا جائے؟ ان سب سے ہاتھ ڈالنے کی واجبیت نہیں اور ان سے ہونے والے نقصان کو پورا کرنا بھی اس وقت کے لئے مشکل ہے جب کہ ان کی زندگی قیمتی ہو رہی ہے۔
 
واپس
Top