ماہرین معاشیات اور بزنس کمیونٹی نے کہا ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال ایک ایسا منصرف کرنے والا ہو گیا ہے جو اسے ڈیفالٹ سے بچانے میں ناکامی دیکھائی دے رہا ہے، ٹیکس کی شرح زیادہ ہوتی گئی ہے اور یہاں کے لوگوں پر بھاری الزامات لگے ہوئے ہیں، مہنگی بجلی اور پیداواری لاگت اس معاشی صورتحال کی سب سے زیادہ ٹاقسپ کا باعث ہیں۔
ماہرین نے ایکسپریس فورم میں کہا کہ دنیا بھر میں زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد جبکہ پاکستان میں 55 سے 65 فیصد ہے، جو عظیم تر معاشی چیلنجوں کا باعث بن رہی ہے۔ ماہرین نے اس معاشرے کی مہنگی بجلی اور پیداواری لاگت کو بھی ٹاقسپ کا باعث بتایا جس سے Industries اپنی کارکردگی سے مچھلی ہو رہی ہیں، وہ بھی ملک سے باہر جا رہی ہیں اور کمپنیاں بند ہو رہی ہیں۔
ماہرین نے کہا کہ دنیا بھر میں ملکی معیشت پر پالسی مسائل کی وجہ سے Industries اپنی کارکردگی سے مچھلی ہو رہی ہیں، اس لیے یہ ملک بھی اپنے معاشی حالات کو تبدیل کرنا شروع کر رہا ہے، جو کہ اپنی معیشت کو بہتر بنانے کی ناکامی دیکھائی دے رہا ہے۔
ماہرین نے کہا کہ ملک میں بے روزگاری کا خطرہ ہے، جو کہ ایک ایسا معاشی حالہ ہے جو کہ لوگوں کو کھینچ رہا ہے اور ان سے ملک کی معیشت پر بھی نقصان پہنچایا جارہا ہے، یہ توہنہ دیکھائی دے رہا ہے کہ ملک کے ماہرین معاشیات اس معاشرے کی صورتحال سے نمٹ نہیں آ رہے ہیں۔
بڑی بڑی ٹیکس کی شرح، مہنگی بجلی اور پیداواری لاگت کا تنگنا تو ہمیشہ سے موجود رہا ہے لیکن اب یہ معاشی صورتحال ملک کے لیے بڑھ کر آ رہی ہے، دنیا میں 35 فیصد تک ٹیکس کی شرح ہو رہی ہے تو انٹرنیٹ پر بھی لوگ اس پر بات کرتے ہیں کہ یہ اچھا ہے یا نہیں؟ لیکن پاکستان میں 55 سے 65 فیصد تک ٹیکس کی شرح پہنچی ہے، اب بھی ان شعبوں میں لوگ مچھلی ہی رہتے ہیں جن میں کاروباری اور صنعتیں شامل ہیں، ایسی صورتحال کو دیکھ کر تو پورا ملک ڈر سا ہو جاتا ہے۔
ہمیشہ سمجھتا آیا ہے کہ حکومت کو ٹیکس کی شرحاں کم کرنا چاہیے لہذا ایک سے زیادہ معاشی جتنا ہوسکے کم کریں، میرا خیال ہے اس معاشرے میں یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو کہ اسے بھی بدلنا ہوگا ۔
یہ معاشی صورتحال تو بہت گھنٹی ہے، کچھ ماہرین کی بات تو سمجھ میں آتی ہے لیکن اس کی حل کی چار نہیں پاتیں . ٹیکس کی شرح بڑھائی گئی ہے، لوگوں پر زور دیا گیا ہے اور بجلی کی مہنگی سے کون فائدہ اٹھاتا ہے? یہ ٹاقسپ ہے نہیں تو کون؟
دنیا بھر میں زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح کیا دکھای رہی ہے، ہم جیسے ملک میں 55-65 فیصد ہے اور اب بھی یہ معاشی حالات سے نمٹ نہیں کر پائیں گی? مہنگی بجلی اور پیداواری لاگت ڈیرا دکھائی دے رہی ہے اور Industries بھی کچھ نہ کچھ ٹاقسپ کی وجہ سے ملک سے باہر جا رہی ہیں، یہ توہنہ دیکھا جاتا ہے اور ان ماہرین معاشیات کو بھی تلاش کیا جائے کہ اب کیا سोच رہے ہو؟
اس معاشی صورتحال میں ایک بات یقینی ہے، مگر یہ بھی اچھا نہیں کہ لوگ اپنے معاملات پر نظر نہیں رکھتے ۔ 55 فیصد ٹیکس کی شرح ایسا ہیں جو کسی بھی ملکی معیشت کو توڑ دیتا ہے، اور یہاں تک کہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ کر انہیں پہچانتے ہیں۔ مگر اس پر فخر کیسے کی جائے؟
بھائیو اِس معاشی صورتحال میں پھنس کر پائے ہیں، ٹیکس کی شرح 65 فیصد تو تھی ہی نہیں بلکہ اب بھی ہے اور یہاں کے لوگوڰ کو بھی ٹیکس لگایا جارہا ہے، مہنگی بجلی اور پیداواری لاگت کی وہ توجہ مل رہی ہے جو پاکستان سے باہر کے ممالک کی نہیں بلکہ اپنی اپنی ملک کی توجہ کا معاملہ ہے، یہ توہنہ دیکھائی رہا ہے کہ کیسے لوگ اپنی اداروں کو بند کر دیا جارہا ہے اور پائے جائے گے؟ اَی وہاں کی معیشت کیا ہو رہی ہے؟
ارے یہ بہت گھبراہٹ پھیل رہی ہے، ملک کے معاشی حالات ایسے منصرف کر رہے ہیں جو سے بھاگ جائے تو آئے. ٹیکس کی شرح زیادہ ہو گئی ہے اور لوگوں پر یہ بھاری الزامات ہیں، مہنگی بجلی اور پیداواری لاگت کا بھی اثر ہے، Industries بند کر رہی ہیں، وہ سے باہر جا رہی ہیں، یہ توہنہ دیکھائی دیتے ہیں کہ ماہرین معاشیات کو ان حالات سے نمٹ نہیں آ سکتے ہیں.
میری رائے یہ ہے کہ پاکستان کی معاشی صورتحال بھی ٹاقسپ کا باعث بن رہی ہے اسے ڈیفالٹ سے بچانے میں ناکامی دیکھائی دے رہی ہے، میرا خیال ہے یہ ملک اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے پالسی کی ضرورت ہے۔
عوام کو یہ بات پتہ چل گئی ہوگی کہ ملک کی معاشی صورتحال اس قدر گریپ ہوئی ہو کہ ماہرین معاشیات نے ٹیکس کی شرح 65 فیصد لگا دی ہو۔ یہ تو بھی بات واضع ہے کہ ملک میں معیشت کی صورتحال ڈیفالٹ پر چل رہی ہو۔ لوگوں کو بھی یہ بات پتہ چلی گئی ہوگی کہ مہنگی بجلی اور پیداواری لاگت اس معاشی صورتحال کی سب سے زیادہ ٹاقسپ ہے۔
ماہرین کو یہ بھی بات پتہ چلی گئی ہوگی کہ ملک میں بے روزگاری کا خطرہ ہے، اور لوگوں پر یہ بھی زبانی الزام لگا دیا جارہا ہے۔ یہ سب معاشی صورتحال کی ناکامی کو دیکھنے کا ایک نازک ماحول ہے، اور اس سے صرف معاشیات کے ماہرین ہی نہیں بلکہ پوری جمہوریہ کو متاثر کر رہا ہے۔
یہ تو اچھا ہو گیا کہ ملک کے ماہرین معاشیات اس معاشرے کی صورتحال سے نمٹ نہیں آ رہے ہیں، یہ توہنہ دیکھائی دیتے ہیں، پھر ان کا مشورہ بھی توہنہ ہی ہوتا ہے اور ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی، 55 فیصد ٹیکس کی شرح کے باوجود بھی یہ ملک اس معاشی صورتحال سے نمٹ نہیں سکتا، انھیں سچائی کے سامنے ایک بات واضح ہونے چاہئے اور اس کی تجدید کرتے ہیں اور ملک کو اس معاشی حالات سے نکلنا شروع کر دیتے ہیں،
پاکستان کو ایسا معاشی منصرف کرنا پڑ رہا ہے کہ اسے دوسرے ممالک کی تقلبات سے باہر رہنا پڑ جائے, جبکہ ٹیکس کی شرح ایسی ہونے پر لوگ ناکام محسوس کر رہے ہیں. اس معاشی صورتحال میں وہ لوگ جو بھارت میں سے ہوتے ہیں ان کی قیمتی موثر کارکردگی کو بھی نافذ کرنا پڑ رہا ہے.
عزیز، یہ ماحول معاشی میں ہوا ہوئی ہے، لوگ کیسے رہتے ہیں؟ دوسرے ممالک میں بھی سے زیادہ ٹیکس کی شرح ہوتی ہے تو کیا پاکستان کو اپنی معیشت پر ناکام رہنا چاہیے؟ پیداواری لاگت اور بجلی کے زریعے ملک کی معاشی صورتحال مچھلی ہو رہی ہے، یہاں کے لوگوں پر بھی ناقابل استقبال زور دیا جاتا چلا گیا ہے...
چلے تم کو پتہ چل گیا ہوگا کہ جیسا ہوا ہوا اس معاشی صورتحال کی وہی بھینٹ چلی گئی ہے جو 90ء کی دہائی میں دیکھنے آئی تھی، تو اسی طرح ہمیں اب بھی ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے۔ کبھی ہم نے وائٹ لیگس کو جیتا تھا اور اب وہی سیلولر پروپلشن اور بجلی کی کمی کی وجہ سے ہمیں پچھوڑ دیا جا رہا ہے۔
یہ دیکھنا مشکل ہے كہ کیا آپ کو بھی لگتا ہے كہ ملک میں معاشی صورتحال اس پر پھیل گئی ہے جو کیے گئے کوئی کام سے نجات دہندہ ہو رہا ہے? ٹیکس کی شرح زیادہ ہونے اور مہنگی بجلی اور پیداواری لاگت کے باعث Industries بند ہو رہی ہیں، یہ سب کچھ توہنہ دکھائی دے رہا ہے کہ ماہرین معاشیات کو اس معاشرے کی صورتحال سے نمٹنا مشکل ہو رہا ہے
یہ بھی محض ایک ذریعہ سے جاننا مشکل ہوتا ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال اس اچھے انداز میں نہیں ہے جیسا کہ لوگ سوچتے ہیں، ٹیکس کی شرح اتنا زیادہ نہیں ہونی چاہئیے اور بجلی کی مہنگی و پیداواری لاگت اس لیے ہوتی ہے کہ لوگ کچھ بھی نہیں کرتے ہیں، اب یہ لوگوں کو بھرپور بوجھ ڈالتا ہے اور وہ ساتھ ہی کمپنیاں بند کر دیتے ہیں جس سے ملک کی معیشت پر بھی نقصان پہنچتا ہے۔ یہ تو ایسی صورتحال ہے جو کہ اب بھی ماہرین معاشیات کے پاس حل نہیں ہے اور وہ ہمیشہ ساتھ ہی یہ معاشرے کی صورتحال کو بھی حل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
اس معاشی صورتحال سے بچنے کے لیے پیداوار کو बढایا جائے گا؟ یا ہم یہی معاملہ اس لیے بناتے ہیں کہ ہمیں اور ہمیں سوجھی چلی بھی! ملک کی معیشت کو تبدیل کرنا آسان نہیں ہوگا، اس لیے ہم یہی کچلنا شروع کریں گے۔
ایسا لگتا ہے کہ ملک میں معاشی صورتحال کچھ اور بھی چلنے کی ضرورت ہے، ٹیکس کی شرح کو منظم کرنا بہت اہم ہوگا، مہنگی بجلی اور پیداواری لاگت کو کم کرنا ہوگا، اس کے علاوہ لوگوں کو بھی ایسے منصوبوں میں شامل ہونا چاہئے جو وہ اپنی روزمرہ زندگی سے مل کر اچھی طرح جانتے ہوں، اس کے لیے ہم انسداد بے روزگاری کی ناکام یاجوں پر کام کرنا چاہیں گے
یہ تو دوسرا عرصہ ہو گیا ہے جب پاکستان کو کھینچنا پڑے ہے، ٹیکس کی شرح بڑھتی چلی گئی ہے اور یہاں کے لوگوں پر بھاری زحمت ہوئی ہے۔ میرے ایک دوست نے بتایا تھا کہ اس نے کچھ دنوں سے بجلی کی Bill پہیں رکھنا پڑا تھا اور انہیں یہی سمجھ نہی ہو سکا کہ وہ ڈسکاؤنٹ پر کیسے لگائیں؟ اب وہ ایک بھرپور مشوار کے ساتھ Bill دیتا ہے اور اس لیے اسے بھی پتہ چلتا ہے کہ معاشی حالات بدل رہے ہیں۔ یہ بھی بات تھی کہ جب تک ماہرین نہیں آئے، وہ لوگ اپنی کارکردگی سے مچھلی ہو کر باہر جا رہے تھے اور اب تو یہاں کے Industries ہمیشہ کی طرح کمزور ہیں۔