فifa ورلڈ کپ 2026 شروع ہونے سے پہلے ہی، FIFA کو میگا ایونٹ کے لیے 50 کروڑ سے زیادہ ٹکٹوں کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ یہ دنیا بھر میں شائقین کا غیر معمولی جوش دیکھنے لگا ہے، اس سے قبل ایونٹ شروع ہونا 33 دن تک بھی نہ رہا تھا۔
فIFA کے مطابق ورلڈ کپ 2026 کے لیے رینڈم سلیکشن ڈرا مرحلہ 11 دسمبر سے 13 جنوری تک جاری رہا، اس دوران دنیا بھر سے 50 کروڑ سے زائد ٹکٹ درخواستیں جمع کرائی گئیں۔ یہ پہلا ورلڈ کپ ہوگا جو جس میں 48 ٹیمیں شرکت کریں گی اور اس میں تمام 211 FIFA رکن ممالک کے شائقین نے درخواستیں جمع کیں گے۔
انہوں نے یومیہ اوسطاً ڈیرھ کروڑ ٹکٹس کی درخواستیں موصول کیں جن کی تصدیق منفرد کریڈٹ کارڈ معلومات کے ذریعے کی گئیں، میزبان ممالک امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے علاوہ سب سے زیادہ درخواستیں جرمنی، انگلینڈ، برازیل، اسپین، پرتگال، ارجنٹائن اور کولمبیا سے موصول ہوئیں۔
شائقین کی انفرادی طرف سے 50 کروڑ سے زیادہ درخواستوں کے بعد یہ ریکارڈ بن گیا جس پر فیفا صدر جیانی انفانٹینو نے کہا کہ شائقین کی عدم موجودگی یا انki اور غیر موجودیت کو بھی اس ریکارڈ میں شامل کرنے ہیں، یہ ایک واضح پیغام ہے کہ فٹبال سے وابستگی عالمی سطح پر ماحولیت کا واضح پیغام دے رہا ہے۔
فifa نے کہا ہے کہ صرف ایک ماہ سے کچھ زائد عرصے میں نصف ارب ٹکٹ درخواستیں موصول ہونا محض مانگ نہیں بلکہ فٹبال سے وابستگی کا واضح پیغام ہے، شائقین کو شکریہ ادا کرنے والے انھوں نے کہا ہے کہ فیفا کا مقصد زیادہ سے زیادہ شائقین کو اس تاریخی ایونٹ کا حصہ بننے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
اس ریکارڈ سے قبل، ٹکٹTING سروس اب تمام درخواستوں کی جانچ کرے گی تاکہ قواعد اور فی گھرانہ حد پر عمل در آمد یقینی بنائے جائیں۔ جہاں ٹکٹوں کی طلب زیادہ ہوگی وہاں منصفانہ تقسیم کے لیے قرعہ اندازی کے ذریعے ٹکٹس دیے جائیں گے۔
شائقین کو 5 فروری سے قبل ای میل کے ذریعے درخواستوں کے نتائج سے آگاہ نہیں کیا جائے گا، لیکن کامیاب یا جزوی طور پر کامیاب درخواست دہندگان سے خودکار طور پر رقم وصول کر لی جائے گی۔
علاوہ یہ بھی کہ شائقین جو اس مرحلے میں ٹکٹس حاصل نہ کر سکئے انہیں آخری مرحلے میں فرسٹ کم، فرسٹ سرو کی بنیاد پر دوبارہ موقع دیا جائے گا۔
فیفا نے واضح کیا ہے کہ صرف ٹکٹ حاصل کرنا میزبان ممالک میں داخلے کی ضمانت نہیں، اس لیے شائقین کو ویزا کے لیے بروقت درخواست دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
فIFA کے مطابق ورلڈ کپ 2026 کے لیے رینڈم سلیکشن ڈرا مرحلہ 11 دسمبر سے 13 جنوری تک جاری رہا، اس دوران دنیا بھر سے 50 کروڑ سے زائد ٹکٹ درخواستیں جمع کرائی گئیں۔ یہ پہلا ورلڈ کپ ہوگا جو جس میں 48 ٹیمیں شرکت کریں گی اور اس میں تمام 211 FIFA رکن ممالک کے شائقین نے درخواستیں جمع کیں گے۔
انہوں نے یومیہ اوسطاً ڈیرھ کروڑ ٹکٹس کی درخواستیں موصول کیں جن کی تصدیق منفرد کریڈٹ کارڈ معلومات کے ذریعے کی گئیں، میزبان ممالک امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے علاوہ سب سے زیادہ درخواستیں جرمنی، انگلینڈ، برازیل، اسپین، پرتگال، ارجنٹائن اور کولمبیا سے موصول ہوئیں۔
شائقین کی انفرادی طرف سے 50 کروڑ سے زیادہ درخواستوں کے بعد یہ ریکارڈ بن گیا جس پر فیفا صدر جیانی انفانٹینو نے کہا کہ شائقین کی عدم موجودگی یا انki اور غیر موجودیت کو بھی اس ریکارڈ میں شامل کرنے ہیں، یہ ایک واضح پیغام ہے کہ فٹبال سے وابستگی عالمی سطح پر ماحولیت کا واضح پیغام دے رہا ہے۔
فifa نے کہا ہے کہ صرف ایک ماہ سے کچھ زائد عرصے میں نصف ارب ٹکٹ درخواستیں موصول ہونا محض مانگ نہیں بلکہ فٹبال سے وابستگی کا واضح پیغام ہے، شائقین کو شکریہ ادا کرنے والے انھوں نے کہا ہے کہ فیفا کا مقصد زیادہ سے زیادہ شائقین کو اس تاریخی ایونٹ کا حصہ بننے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
اس ریکارڈ سے قبل، ٹکٹTING سروس اب تمام درخواستوں کی جانچ کرے گی تاکہ قواعد اور فی گھرانہ حد پر عمل در آمد یقینی بنائے جائیں۔ جہاں ٹکٹوں کی طلب زیادہ ہوگی وہاں منصفانہ تقسیم کے لیے قرعہ اندازی کے ذریعے ٹکٹس دیے جائیں گے۔
شائقین کو 5 فروری سے قبل ای میل کے ذریعے درخواستوں کے نتائج سے آگاہ نہیں کیا جائے گا، لیکن کامیاب یا جزوی طور پر کامیاب درخواست دہندگان سے خودکار طور پر رقم وصول کر لی جائے گی۔
علاوہ یہ بھی کہ شائقین جو اس مرحلے میں ٹکٹس حاصل نہ کر سکئے انہیں آخری مرحلے میں فرسٹ کم، فرسٹ سرو کی بنیاد پر دوبارہ موقع دیا جائے گا۔
فیفا نے واضح کیا ہے کہ صرف ٹکٹ حاصل کرنا میزبان ممالک میں داخلے کی ضمانت نہیں، اس لیے شائقین کو ویزا کے لیے بروقت درخواست دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔