آفس کرسی پر مستقل بیٹھنا آپ کو کن کن بیماریوں میں مبتلا کرسکتا ہے

موسیقار

Well-known member
دورحاضر میں کرسی پر بیٹھنا ایسا عادت بن گیا ہے جس سے صحت کے لیے بڑی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ زیادہ تر لوگ اپنی workplace اور گھر میں ایک ہی جگہ پر کرسی پر بیٹھ کر کام کر رہتے ہیں، جو کوئی بھی عادت معترف کا باعث بن سکتا ہے لیکن اس کی نقصان دہ نتائج بھی پائی جاتی ہیں۔

اس میں یہ بات جاننا ضروری ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے صرف جم یا ورزش کرنا نہیں ہوتا بلکہ دن بھر جسم کو حرکت میں رکھنا اور اس کی ضروریات کو سمجھنا بھی بہت ضروری ہے۔

مستقل بیٹھے رہنے سے جسم کے پٹھے کمزور پڑتے ہیں، خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور ہڈیاں دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں، جو کئی مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
اگر آپ آہستہ آہستہ ایک ہی پوزیشن میں زیادے دیر بیٹھتے رہتے ہیں تو ریڑھ کی ہڈی پر منفی اثر پڑتا ہے اور جسم کا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے، جو اس سے وزن بڑھنے اور تھکن کے باعث دل کی خرابی تک پہنچ سکتا ہے۔

اس لیے ماہرین صحت ایک آسان اور عملی اصول تجویز کرتے ہیں جسے ’30 منٹ کا اصول‘ کہا جاتا ہے، جس سے آپ کو ہر 30 منٹ میں اٹھنا چاہیے۔ اس طریقے سے آپ خود کو متحرک رکھ سکتے ہیں، خون کی روانی بہتر ہو جاتی ہے اور پٹھوں کا دباؤ کم ہوتا ہے، جو صحت مند رہنے کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔

صرف دو منٹ کی ہلکی واک یا جسم کو اسٹریچ کرنا بھی آپ کی صحت کے لیے مفید ہے، جو خون کی روانی میں آئندہ تحول لائے اور پٹھوں اور گردن پر دباؤ کو کم کرتی ہے۔

اگر آپ روزمرہ زندگی میں باقاعدگی سے وقفے لے کر بیٹھتے رہتے ہیں تو اس کے صحت پر کئی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، جیسے پیٹھ اور گردن پر پڑنے والا دباؤ کم ہو جاتا ہے اور وزن بڑھنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے، خون میں شوگر کی سطح زیادہ مستحکم رہتی ہے اور کولیسٹرول بہتر کنٹرول میں آتا ہے۔
 
یہ تو ایک بھلے بات کا کہ لوگ 30 منٹ کا اصل ہے! 😂 مگر یہ بھی حقیقہ کہ اس سے پہلے کے لوگ ہیں جو کام کر رہتے ہیں وہ کرسی پر بیٹھ کر کام کرتے رہتے ہیں اور اب بھی یہی کہی جاتا ہے؟ کیا اس کی کوئی فوائد ہیں? 🤔 مگر ایسے میں ہونے والی فائدہ کو لوگ نہیں دیکھ رہے!
 
یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ جو لوگ اپنی workplace اور گھر میں ایک جگہ پر ہمیشہ بیٹھتے رہتے ہیں وہ صحت مند رہنے میں خاص طور پر ناکام ہوتے ہیں اور آپ کو کبھی بھی یہ بات محسوس ہونے کی صورت میں ان لوگوں پر توجہ دینی چاہیے کہ وہ اپنی سونے والی جگہ کیسے اور کیسے بیٹھتے رہتے ہیں۔ کبھی بھی آپ کو یہ بات محسوس ہوسکتی ہے کہ ایسی جگہ پر سونے والا شخص دوسرے لوگوں کی توقع کرتا ہے اور اس طرح وہ اپنی جگہ کو کھو دیتا ہے، لہذا یہ بات ضروری ہے کہ آپ سونے والی جگہ کو ایسے انتخاب کریں جو آپ پر بہترین اثر انداز ہو اور اس طرح وہ آپ کی صحت کو متاثر نہ کرے۔
 
یہ طویل بیٹھنا کچھ لوگوں کے لیے ایک عادت بن گیا ہے جس سے صحت کے نقصان بھی ہوتے ہیں۔ اس پر توجہ دینا اچھا ہو گا، چاہے آپ کاروباری فیلڈ میں کام کر رہتے ہیں یا ایک سٹرن بہت پرانا فلم ہاؤس بنائے ہوا ہو جس کے پاس انہیں کام کرنے کا ایک اچھا ماحول ہے تو یہ رکھنا اچھا نہیں ہو گا۔ اس لیے آج کل جس کے پاس کرسٹل پر بیٹھ کر کام کرنا ہے وہ اپنے وقت کو ایک دیر کے لئے کم کرکے نہیں رکھتے، جیسے بھوت پتھر یا سندھی پر بیٹھ کر اور اسے سٹریچ کرکے کام کرتے ہیں۔
 
یہ کچھ عادت نہیں، یہ اپنے جسم کی ضروریات کو سمجھنا ہے۔ وقت آتا ہے اور 30 منٹ کا اصول پورا کرنا بہت ضروری ہے، لہذا اس پر توجہ دیجئے۔

:
 
تین دیر بیٹھنا تو ایسا معیار نہیں جو انسان کو اپنے جسم کی صحت کے لیے کمزور بنانے والا ہے۔ آج کلEverybody۔ sitting kar raha hai office me ya ghar me ek hi jagah par. ye kaam bhi karna hai apne jism ko acchi tarha se maintain karne ke liye.
 
بہت ضروری hai ki hum apne daily routine mein movement aur physical activity ko include karein, nahi toh sirf exercise hi bhi nahi, thodi der se walking ya stretching bhi zaruri hai. mere fitbody ke liye 30 minute tak usthak kiya jata hai lekin yeh koshish karni chahiye ki har 10-15 minute mein usthak aur movement ko include kar dein.

agrar aap kafi der se ek hi position mein baithte rahen toh aapki body ko darr ki zarurat ho sakti hai, jisse aapko weight gain bhi ho sakta hai aur thik ho sakta hai. isliye apni daily routine mein movement ko include karna chahiye.

aur yeh bhi zaruri hai ki apne desk par baith kar kuch der tak usthak naa dein. yeh 2-3 minute ke liye bhi hi hai, aur phir aapko 10-15 minute ka break de sakte hain.
 
یہ بات تو واضع ہے کہ ماہرین صحت کے ایک نئے اور موثر طریقے کو لیے سارے لोग ایک دوسری جانب کی نظر انداز کر رہے ہیں... ہم سب جانتے ہیں کہ 30 منٹ کا اصول چھوٹا وقت ہے لیکن ماہرین صحت کے مطابق اس سے ہمیں اپنی صحت کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے... لیکن یہ تو سمجھنے کی जरور ہے کہ اس مقصد پر چل کر یہ اچھی طرح سے نہیں کाम کرتا... ایسا لگتا ہے کہ ماہرین صحت کو ان تمام لوگوں کو آگہ کرنا ہوتا ہے جو اپنی صحت کو دیکھنے میں ناکام رہتے ہیں...
 
بہت ضروری ہے اپنی workspace aur ghar mein bhi ek-alag jagah par nahi baith kar kam karein, thoda aaraam se bhi sahi hai. mujhe bilkul pasand hai Pepsi ka refreshment, sabse acchi cheezen peeps ke saath share karna hota hai! :D
 
اس دن تک کرسی پر بیٹھ کر کام کرنا ایسا عادت بن گیا ہے جو اپنی صحت کے لیے نुकसानदہ ہو سکتا ہے۔ لگتا ہے ہم سب کو پتہ چل گیا ہے کہ کھانا بنانے کی دہائی میں ہر گھر سے ایک شخص کرسی پر بیٹھ کر کام کرتا ہے، جس سے صحت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

ابھی چند دینوں میں ہمیں یہ بات جان کر بہت مشورہ کیا گیا ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے صرف جم یا ورزش نہیں، بلکہ دن بھر جسم کو movement میں رکھنا اور اس کی ضروریات سمجھنا بھی ہی ہوتا ہے۔

میں سچ مین کہتا ہوں، اگر آپ آہستہ آہستہ ایک ہی پوزیشن میں زیادے دیر بیٹھتے رہتے ہیں تو آپ کی ریڑھ کی ہڈی پر ناکام اثر پڑتا ہے اور آپ کا میٹابولزم سست ہوتا ہے، جو اس سے وزن بڑھنے اور تھکن کے باعث دل کی خرابی تک پہنچ سکتا ہۈ۔
 
یہ عادت سے ناکام رہتے ہیں جو حال ہی میں پھیل رہی ہے، لالچی کا احساس دیتا ہے اور آپ کو کمزور اور بے پابندی محسوس کراتا ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی یہ عادت کو ترک کریں اور اپنے جسم کی متحرک رہنمائی کے لیے ایک معیار اپنائیں، جس میں آپ کو ہر 30 منٹ میں اٹھنا چاہیے۔

لگتا ہے کہ یہ ایک آسان اور عملی طریقہ ہے، لیکن اس کے ساتھ انکی بہت بھرپور فوائد ہیں جو آپ کی صحت کو بہت فائدہ پہنچائیں گی
 
یہ بہت حقیقی بات ہے کہ جسم کی movement سے ہم خود کو صحت مند رکھنے کے لیے بہتر طریقوں سے اپنی ضروریات پورہ کرنا چاہتے ہیں، لہٰذا وقت کی معیار سے کم نہیں رہنا چاہئے۔ اگر آپ کٹھ پھرنے سے بھگڑ کرتے رہتے ہیں تو یہ کہلاؤ اور آزاد زندگی کی حقداری کا باعث بن سکتا ہے، لیکن جس سے صحت کے حوالے بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
 
یہ بات یقیناً چینیوں کو پھنسائی گئی ہے کہ صحت برقرار رکھنے کا ایسا طریقہ ہے جس میں بھی کچھ مزید کام کہنا نہیں چاہیے۔ سبسکرائیب کرلو 🤯
 
یہ بات یقیناً صحیح ہوگی کہ زیادہ تر لوگ اپنے کام کے لیے ایک ہی جگہ پر بیٹھتے رہتے ہیں، لेकिन یہ بات یقیناً جاننا ضروری ہے کہ یہ صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ میرے خیال میں اس سے یہ بات یقیناً ثابت ہوگی کہ آج کی زندگی میں زیادہ تر لوگ اپنے وقت پر مبنی نہیں رہتے، جو صحت مند رہنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

اس لیے یہ واضح طور پر دیکھنا ضروری ہے کہ اپنے دن میں مختلف کاموں کو تقسیم کرنا اور ہر کام کے لیے ایک ہی جگہ پر بیٹھنا سے صحت مند رہنا بہت ضروری ہے۔

مفید ہو گی! 💪
 
یہ کس قدر ضروری ہے کہ ہم اپنے جسم کو منتقل اور متحرک رکھیں! آجکل سب اس عادت پر پھنسے ہوئے ہیں کہیں پر بیٹھ کر کام کرتے ہیں، جس سے صحت کا بہت واضح نقصان پڑتا ہے 🤕. یہی وجہ ہے کہ ماہرین صحت نے ’30 منٹ کاinciple‘ تجویز کیا ہے جس سے آپ اپنے جسم کو متحرک رکھ سکتے ہیں، خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور پٹھوں کا دباؤ کم ہوتا ہے، جو صحت مند رہنے کے لیے بہت فائدہ مند ہے 😊. آہستہ آہستہ ایک ہی پوزیشن میں زیادے دیر بیٹھنا تو ریڑھ کی ہڈی پر منفی اثر پڑتا ہے اور جسم کا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے، جو اس سے وزن بڑھنے اور تھکن کے باعث دل کی خرابی تک پہنچ سکتا ہے.
 
یہ تو بالکل سچ ہے، میرے لئے سبسکرائیب کرنا چاہئے اس پوسٹ کی جو کہ صحت کو بہتر بنانے کے لئے آسان طریقوں کو دیکھتی ہے، اور میرے لئے ایسے ٹیکنالوجیز کو پروموشل کرنا چاہئے جس سے آپ اپنی صحت کو بہتر بناسکتے ہیں۔

ایک بار پھر، انٹرنیٹ پر سب سے سچائیوں اور نئے پلیگاڈ سے آگاہ رہنا چاہئے، یہ ایسا لگتا ہے جیسے آپ اپنی صحت کا خیال رکھ سکتے ہیں اور نا ہیں اس پوسٹ کی کوئی نئی ٹچ نہیں تھی، لیکن یہ واضح ہے کہ جسم کو کیسے متحرک رکھنا چاہئے اور آپ کیا کر سکتے ہیں اپنی صحت کو بہتر بنانے کے لئے۔
 
جب سے ماہرین صحت نے اس ’30 منٹ کے اصولو‘ کو سامنے لایا ہے، میرے خیال میں یہ ایک اچھی بات ہے کیونکہ ہم اپنے کام میں بہت کم وقت وقفہ کرتے رہتے ہیں، جو صحت کے لیے ایسی ناکام ہے۔ اس سے آہستہ آہستہ جسم کو حرکت میں رکھنا اور انٹرول کرنا ضروری ہوتا ہے، جو صرف دو منٹ کی واک یا جسم کو اسٹریچ کرنا بھی کافی فائدہ دیتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم اپنے دن میں بہت زیادہ وقت وقفہ لینا چاہتے رہتے ہیں، اور اس سے صحت پر نئے اثرات مرتب ہوتے ہیں جیسے وزن بڑھنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے اور خون میں شوگر کی سطح زیادہ مستحکم رہتی ہے۔
 
یہ ٹrend Watcher کا انشورنس کے نئے پلیٹ فارمز پر جارہا ہے! دیکھو کس طرح صحت کی پابندی کو بڑھانے کے لیے آسان اور عملی طریقوں کو اپنایا جا رہا ہے، خاص طور پر "30 منٹ کا اصول" جو کام کر رہا ہے! اب یہی نہیں بلکہ 2 منٹ کی واک یا جسم کو اسٹریچ کرنا بھی آئیندہ بن گیا ہے۔ لوگ اپنے دن میں وقفے لے کر بیٹھتے رہتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ صحت بہتر ہونے لگتی ہے! 🤯💪
 
یہ عادت تو لاجو ہی نہیں تھی، اب یہ ایک عادت بن گیا ہے جس سے صحت کا بھی کچھ نقصان پڑتا ہے۔ لوگ ہر طرح کی بیماریوں سے بھی گزر چکے ہیں اور اب یہ کہتے ہیں کہ جسم کو حرکت میں رکھنا اور اس کی ضروریات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ لیکن پہلے سے ہی یہ بات پتہ چلتا تھا کہ جسم بھی ایسا ہی ہوتا ہے، پٹھوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے ہر گھंटے میں اٹھنا چاہیے۔
 
اس وقت ہمیں دورہ دیکھنے کے دوران خود کو محفوظ رکھنا بہت ضروری ہے، جب آپ ہمیشہ ایک ہی پوزیشن میں بیٹھتے رہتے ہیں تو اس سے پٹھوں کی صحت بھی نقصان پاتے ہیں، جس سے آپ کو بچا سکتے ہیں تو یہاں تک کہ 30 منٹ کا عادت بنانا کافی اچھا ہوگا۔
 
واپس
Top