دورحاضر میں کرسی پر بیٹھنا ایسا عادت بن گیا ہے جس سے صحت کے لیے بڑی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ زیادہ تر لوگ اپنی workplace اور گھر میں ایک ہی جگہ پر کرسی پر بیٹھ کر کام کر رہتے ہیں، جو کوئی بھی عادت معترف کا باعث بن سکتا ہے لیکن اس کی نقصان دہ نتائج بھی پائی جاتی ہیں۔
اس میں یہ بات جاننا ضروری ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے صرف جم یا ورزش کرنا نہیں ہوتا بلکہ دن بھر جسم کو حرکت میں رکھنا اور اس کی ضروریات کو سمجھنا بھی بہت ضروری ہے۔
مستقل بیٹھے رہنے سے جسم کے پٹھے کمزور پڑتے ہیں، خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور ہڈیاں دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں، جو کئی مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
اگر آپ آہستہ آہستہ ایک ہی پوزیشن میں زیادے دیر بیٹھتے رہتے ہیں تو ریڑھ کی ہڈی پر منفی اثر پڑتا ہے اور جسم کا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے، جو اس سے وزن بڑھنے اور تھکن کے باعث دل کی خرابی تک پہنچ سکتا ہے۔
اس لیے ماہرین صحت ایک آسان اور عملی اصول تجویز کرتے ہیں جسے ’30 منٹ کا اصول‘ کہا جاتا ہے، جس سے آپ کو ہر 30 منٹ میں اٹھنا چاہیے۔ اس طریقے سے آپ خود کو متحرک رکھ سکتے ہیں، خون کی روانی بہتر ہو جاتی ہے اور پٹھوں کا دباؤ کم ہوتا ہے، جو صحت مند رہنے کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔
صرف دو منٹ کی ہلکی واک یا جسم کو اسٹریچ کرنا بھی آپ کی صحت کے لیے مفید ہے، جو خون کی روانی میں آئندہ تحول لائے اور پٹھوں اور گردن پر دباؤ کو کم کرتی ہے۔
اگر آپ روزمرہ زندگی میں باقاعدگی سے وقفے لے کر بیٹھتے رہتے ہیں تو اس کے صحت پر کئی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، جیسے پیٹھ اور گردن پر پڑنے والا دباؤ کم ہو جاتا ہے اور وزن بڑھنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے، خون میں شوگر کی سطح زیادہ مستحکم رہتی ہے اور کولیسٹرول بہتر کنٹرول میں آتا ہے۔
اس میں یہ بات جاننا ضروری ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے صرف جم یا ورزش کرنا نہیں ہوتا بلکہ دن بھر جسم کو حرکت میں رکھنا اور اس کی ضروریات کو سمجھنا بھی بہت ضروری ہے۔
مستقل بیٹھے رہنے سے جسم کے پٹھے کمزور پڑتے ہیں، خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور ہڈیاں دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں، جو کئی مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
اگر آپ آہستہ آہستہ ایک ہی پوزیشن میں زیادے دیر بیٹھتے رہتے ہیں تو ریڑھ کی ہڈی پر منفی اثر پڑتا ہے اور جسم کا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے، جو اس سے وزن بڑھنے اور تھکن کے باعث دل کی خرابی تک پہنچ سکتا ہے۔
اس لیے ماہرین صحت ایک آسان اور عملی اصول تجویز کرتے ہیں جسے ’30 منٹ کا اصول‘ کہا جاتا ہے، جس سے آپ کو ہر 30 منٹ میں اٹھنا چاہیے۔ اس طریقے سے آپ خود کو متحرک رکھ سکتے ہیں، خون کی روانی بہتر ہو جاتی ہے اور پٹھوں کا دباؤ کم ہوتا ہے، جو صحت مند رہنے کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔
صرف دو منٹ کی ہلکی واک یا جسم کو اسٹریچ کرنا بھی آپ کی صحت کے لیے مفید ہے، جو خون کی روانی میں آئندہ تحول لائے اور پٹھوں اور گردن پر دباؤ کو کم کرتی ہے۔
اگر آپ روزمرہ زندگی میں باقاعدگی سے وقفے لے کر بیٹھتے رہتے ہیں تو اس کے صحت پر کئی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، جیسے پیٹھ اور گردن پر پڑنے والا دباؤ کم ہو جاتا ہے اور وزن بڑھنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے، خون میں شوگر کی سطح زیادہ مستحکم رہتی ہے اور کولیسٹرول بہتر کنٹرول میں آتا ہے۔