جاپان؛ خاتون فوجی افسر کیساتھ ساتھی اہلکاروں کی اجتماعی زیادتی؛ ہزاروں ڈالرز ہرجانہ | Express News

موتیا عاشق

Well-known member
جاپان میں ایک خواتون فوجی افسر رینا گونوئی نے اپنے ساتھیوں کے خلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ دائر کیا تھا جس پر ان्हوں نے دعویٰ کیا تھا کہ 2021 میں تربیتی مشق کے دوران تین مرد ساتھیوں نے ان پر جنسی حملہ کیا تھا۔

انھوں نے مزید بتایا تھا کہ سرکاری سطح پر شکایت کی گئی لیکن اعلیٰ حکام نے سنجیدگی سے نہیں لیا، جس سے انھیں اپنی شکایات کو سمجھنے میں مشکل ہو گیا۔

ان خواتین کے الزامات پر مبنی وائرل وिडیو 2022 میں یوٹیوب پر لاکے ہوئی، جس سے انھیں عوامی حمایت ملی اور احتجاجی مہم شروع ہوئی۔

سوشل میڈیا پر ان کو انصاف دلوانے کے لیے ایک پٹیشن پر لاکھوں سے زائد صارفین نے دستخط کیئے تھے، جس سے عوامی دباؤ واضح ہوا اور شدید احتجاج کا مظاہرہ ہوا۔

خاتون فوجی رینا گونوئی نے فوجی مرد اہلکاروں پر مقدمہ شروع کیا جس میں 3 فوجیوں کو Sexual Assault کے الزام میں سزا سنائی گئی، لیکن یہ سزا دو سال قید تھی جسے چار سال کی معطلی کے ساتھ معطل رکھا گیا جو عملی طور پر وہ جیل نہیں گئے۔

خاتون فوجی نے ساتھی فوجی اہلکاروں سمیت حکومت جاپان کو فریق بناتے ہوئے Collective Sexaul Assault کا مقدمہ Soll Court میں دائر کیا، جس پر حکومت نے ان معاملے کی ذمہ داری تسلیم کی اور متاثرہ خواتین کو مصالحت کی پیش کی تھی جو انھوں نے قبول کر لی تھی۔

جاپان کی حکومت کے ذریعے 1.6 ملین ین تقریباً 10 ہزار 400 ڈالرز بطور ہرجانہ دینے پر اتفاق ہوا، جس کے جواب میں ملزم فوجی اہلکار نہ تو متاثرہ خواتین کو معافی نامہ دیں گے اور نہ ہی انھیں ہرجانے کی رقم دیں گے۔
 
یہ واضح ہے کہ جاپان کی فوج میںSexual Assault کے مामलے کو لینے کا اہم کردار سوشل میڈیا کا ہے، پٹیشن پر 10 لاکھ سے زائد لوگ دستخط کرنے پر عوامی دباؤ زیادہ ہوا اور جاپانی حکومت کو ایسے مظاہرہ نہیں دینا چاہئیے، لیکن یہ بات بھی ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر دباؤ اور پریشر کیسے برقرار رہتا ہے؟
 
یہ بات تازہ ہے کہ جاپانی فوجی افسر رینا گونوئی نے اپنے ساتھیوں پرSexual Assault کا مقدمہ دائر کیا ہے جو ایک وائرل विडیو کی وجہ سے عوامی حمایت حاصل کر لی تھی. یہ بھی بات حیرت انگیز ہے کہ ان خواتین کی شکایات پر مبنی اس وائرل وڈیو نے ان کو عوام کی دباؤ میں پڑا ہے اور احتجاجی مہم کا آغاز کیا ہے.

جاپانی حکومت نے ان خواتین کو مصالحت کی پیش کی ہے اور ان معاملات کی ذمہ داری تسلیم کی ہے۔ لیکن یہ بات بھی تازہ ہے کہ ملزم فوجی اہلکار کو معافیت نامہ نہ دیا گیا ہے اور انھوں نے متاثرہ خواتین کو جو رکاب دنا تھا وہ بھی نہیں دیا گیا.
 
ایسا ہی کچھ ہوتا رہتا ہے جس سے عوام کو بھانپن پڑتا ہے، یوٹیوب پر وائرل وिडیو دیکھ کر صرف ایک فٹ پر لگا دیا جاتا ہے لیکن اچھی طرح سمجھنا مشکل ہوتا ہے
 
جاپان میں فوجیوں پر جنسی زیادتی کا مسئلہ بہت چیلنج ہے، لekin government ne bhi aik sahi tareeke se nahi hai apni side par. ye patthar khula hai ki jab tak hum apne aapko behtar banaate rahenge tab tak yeh samasya hal hogi 🤔

meina kehna chaahti hoon ki humein apni basi shanti aur sukh ka intezam karna chahiye, aur kisi bhi mushkil ko saaf karne ke liye social media par sabse zyada josh aayega to hi hum uski taraf khade ho sakte hain 🌟
 
یہ بات واضح ہے کہ جاپان میں بھی عالمی سطح پر پھیلے ہوئے مساوات کے لیے اٹھنا ضروری ہے، خاص طور پر فوجیوں کی صورت حال سے جس سے عوام کو بھی گمھور محسوس ہوتا ہے۔ ان خواتین کی شکایتوں پر مبنی وائرل وڈیوز نے بہت سی عوامی حمایتوں اور احتجاجی مہموں کو جنم دیا جو یہ بات ثابت کرتی ہیں کہ اس صورت حال میں عوام کی ایک بڑی تعداد بھاگتی ہوئی ہے۔
 
تخفیف کی بھی نہیں ملنے پر خوفزدہ ہونے کا سب سے یوں طریقہ ہے کہ پتہ چلے گا کہ جس سے ان صارفین نے دستخط کیے تھے ان کی بھی بات نہیں دیتی ہے 🤷‍♂️😔

آج کے سامعین کو یہ معلوم ہو گا کہ جب آپ اپنی بھावनات کو سامنے لاتے ہیں تو ایسے situations پیدا ہوتے ہیں جو آپ کے دلوں سے لگتے ہیں 💔😩

آج جاپانی معاملے کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو کہ وائرل ہو گئے تھے، لیکن اس سے پتہ چلتا ہے کہ جب آپ انصاف کی بات کرتے ہیں تو دوسروں کو بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے 💬👍
 
اس سے کچھ پہلے میں یوٹیوب پر ایک وائرل وڈیو دیکھا تھا جس پر ان خواتین نے اپنے مظالم کو سامنے لایا تھا اور اس کے بعد سوشل میڈیا پر ڈیزائن کریٹ وغیرہ پتیشن شروع کیئے تھے۔ اب تک یوں تو ان خواتین نے کافیProgress کر لیا ہے، اگرچہ 3 سے زیادہ فوجی کو سزا دی گئی ہے لیکن اس صورتحال میں بھی ان کی آواز ہنسی نہیں ہوئی کہیں تاکہ جاپانی سرکار کو یہ سمجھنا پڑے کہ وہ ملزم فوجیوں پر اچھی طرح سے انٹرن ہونے کی ضرورت ہے اور انھیں جیل بھی اٹھانے پر مجبور کر دیا جائے
 
جاپان میں خواتین فوجی رینا گونوئی کی شکایات پر مبنی وائرل وڈیو نے عوامی دباؤ پیدا کیا اور حکومت کو ایک خطرناک موقع کھینچ دیا ہے۔ ان خواتین کی شکایات پر جس سے ملزم فوجی افسروں کو सजा مل رہی ہے وہ بھی یہ نہیں بلکہ یہ ایک اعلانہ معافیت ہے۔

خواتین فوجی کا یہ اقدام ان کی شکایات کو سمجھنے میں مشکل ہوا اور اس لیے عوامی دباؤ سے بچ کر ملزم افسروں کو सजा دی گئی ہے۔ مگر یہ سب کچھ ایک معاملہ ہی نہیں بلکہ یہ سب کچھ ایک اعلانہ معافیت کا ایک مظاہرہ ہے جس سے ملزم افسر بھی اپنی معافیت کا فائدہ اٹھایں گے۔
 
انخود آلا غطاسہ جس سے یہ ہوا کہ 3 فوجیوں کو دو سال کی جیل کی سزا ملگئی، انھیں چار سال کی معطلی دے کر معطل رکھ دیا گیا۔ معاف کی گئی یہ خواتین ابھی بھی اپنی شادیوں کو ہٹانے والی ہیں؟

سوشل میڈیا پر لاکھوں سے صارفین نے اس پٹیشن پر دستخط کیے، لیکن یہ بھی پتا چلا کہ ان خواتین کو اپنی شکایات کو سمجھنے کے لئے ایک جگہ تک پہنچانے میں بھی مشکل ہوئی تھی اور یہ تو ایک بہت ہی معقول عید۔

یہ وائرل وڈیو جو 2022 میں لاکے ہوئی، ابھی تک کچھ نئی پٹیشن بنانے والے لوگوں کو بھی ایسی ہی معقول غطاسہ کا شکار ہو گیا ہے۔
 
جب کہ خواتین نے اپنے حق میں لڑا ہوا ہے تو یہ بھی اچھا ہے، لیکن ان کی شکایت پر مبنی وائرل وڈیو سے پوری دیکھا گیا کہ وہ 2021 میں تربیتی مشق کے دوران تین فوجی ساتھیوں نے ان پر جنسی حملہ کیا تھا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ سرکاری سطح پر شکایت کی گئی لیکن اعلیٰ حکام نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔

اس کی وجہ سے ان خواتین کو اپنی شکایات سمجھنے میں مشکل ہوئی، لیکن عوامی دباؤ اور ایک پٹیشن پر لاکھوں صارفین نے دستخط کیئے تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ انھیں انصاف مل سکتا ہے۔
 
اس فوری کے بعد جاپان میں ایسی صورتحالوں کو دیکھنا بھی بہت غمزناک ہے، ایسا لگتا ہے جیسا کہ جاپانی فوجیوں نے خواتین پر sexual Assault کر رکھے ہیں اور ان کی شکایت سنیٹ نہیں ہوئی، یہ سب کو دیکھتے ہوئے بھارتی فوج کا اس بات پر اعلان ہوا تھا کہ وہ اس معاملے میں مدد کی پیش کرنے کے لیے तैयار ہیں، حالانکہ انہوں نے کچھ کام بھی کیا تو ہمیں ابھی تک یہ بات سمجھنی پائی تھی کہ جاپانی فوجیوں کو اس معاملے میں سزا دی گئی ہے، لیکن یہ سزا ایسی تھی جو وہ جیل نہیں گئے اور ان کو صرف معطلی دی گئی تھی۔
 
بہت حیران کنیں یہ کہ جاپانی فوجیوں کے بھراوٹ کو جاپان کا قانون اس طرح نہیں پکڑتا جو ملک میں بھرے ہیں، ایسے حالات کی وائرل وڈیوز دیکھتے ہیں تو سچائی کا احساس ہوتا ہے، لیکن یہ دیکھنا بھی تنگنہ کنیں اور یہ جاپانی حکومت کی پابندیوں سے بھی کہیں نہیں ہے کہ خواتین کو ہرجانہ دینا چاہئے یا نہیں؟
 
واپس
Top