کراچی کی گیس ترسیل میں پریشر کا تباہ کن اثر اور اسے برقرار رکھنے کے لیے سسٹم لائن کی ترقی ، یہاں تک کہ ایف ایف سی کی سپلائی کو معطل کرنا، اب ایس ایس جی سی نے اپنی جانب سے گریجویشن کی۔
ایک حقیقت کی بات یہ ہے کہ دونوں گیس فیلڈز سے 45 ملین مکعب فٹ یومیہ گیس کی ترسیل ہو رہی ہے اور ان حالات میں کراچی کے کچھ علاقوں میں پریشر کم ہو گیا تھا، لیکن اب اس میں بہتری آنے کی طرف قدم بڑھ رہی ہے۔
اس نئے دہائی کے ساتھ اس نئے چیلنج کو ایس ایس جی سی نے اپنی جانب سے لے کر گریجویشن کی۔ ایس ایس جی سی نے 28 ملاین میٹر کیوبک فٹ گیس فراہم کرنا شروع کیا ہے، جس سے فرنچائز علاقوں میں درجہ حرارت کم ہونے سے نظام لائن پاکیزہ بن رہی ہے۔
اس نئے کھیل میں ایس ایس جی سی کی جانب سے مختلف اقدامات بروئے کار کیے جا رہے ہیں، جو گھریلو صارفین کے لیے گیس کی ترسیل کو یقینی بنانے کیلئے ہیں۔ اس سلسلے میں مطلوبہ پریشر کے ساتھ گیس کی ترسیل میں بہتری کیلئے ایف ایف سی کی سپلائی معطل کردی گئی ہے، اور اتوار کو صنعتوں کو بھی گیس کی سپلائی معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس نئے چیلنج کے ساتھ ایس ایس جی سی نے اپنی جانب سے گریجویشن کی، اور میں اس پر یہی انٹیلی جے کا رکھتا ہوں ، ان حالات میں گیس ترسیل پریشر تباہ کن اثر دے رہا ہے اور ایس ایس جی سی کی جانب سے اس کا حل تلاش کرنا ضروری ہے، ایف ایف سی کی سپلائی معطل کرنے کی واضح بات ہوئی ہے، اب بھی پریشر کم ہونے پر میں یہی سوچتا ہوں، اور کراچی کو گیس کی ترسیل سے متعلق ایس ایس جی سی کی نئی پالیسی پر دیکھنا مہتڈپ ہوگا
اس نئے کھیل میں ایس ایس جی سی کی جانب سے پیش کی جانے والی پریشر کم کرنے کی کوششوں کو بھی اپنی طرف سے گریجویشن کیے جا رہے ہیں۔ میرے خیال میں، اس نئی ویزیشن کو برقرار رکھنے کے لیے، یہاں تک کہ ایف ایف سی کی گیس کی فراہمی کو معطل کرنا، ڈبلیو ایس ایس جی سی کو بھی اپنی جانب سے اس نئے چیلنج کو لینا ہوگا۔
اس نئے گیس ترسیل سسٹم میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے ، ایس ایس جی سی کی جانب سے اس کے لیے سسٹم لائن میں بہت سارے اقدامات ہو رہے ہیں
جب تک یوم ہی میں گیس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اس سے پہلے انفراسٹرکچر کی ایک بڑی تبدیلی آ رہی تھی ، اب یہ دیکھنا ہو گا کہ اس میں بڑھتے ہوئے پریشر سے کراچی کے علاقوں میں ٹیکنالوجی کی ترسیل بھی بڑھتی جا رہی ہے
اس نئے چیلنج کو ایس ایس جی سی نے ایک اچھا طریقہ سے حل کیا ہے ، اب یہ دیکھنا ہو گا کہ انفراسٹرکچر کی ایسی تبدیلیوں کے نتیجے میں انفراسٹرکچر کی ترسیل میں بھی بڑھتے ہوئے پریشر سے کوئی نقصان نہیں ٹھہرا گا
اللہ تعالیٰ کتنے لوگ اس کراچی پریشر کے حوالے سے دھونڈ رہے تھے ... اب وہ سب ٹھیک ہو گئے ہیں اور یہ بھی بھلایا گیا ہے کہ پریشر میں کمی سے ان لوگوں کی زندگی بھی بھلی گئی ہوگی ... حالانکہ اس کا معاملہ اب تک بھی طویل نہیں ہوا اور اس پر ایس ایس جی سی کا توازن کیسے برقرار رہا؟
اس وقت سسٹم لائن کی ترقی کچھ نہیں، اس لیے لوگ اس پر چلنا پڑ رہے ہیں۔ گیس کی کمी میں ایس ایس جی سی نے قدم بڑھا دیا ہے جس سے شہر کے لوگ بہتر ہیں، اب یہ سب ٹرانسپورٹ کو دیکھ رہے ہیں اور اس پر ایمتیاز کر رہے ہیڰ۔ گریجویشن کی پلیٹ فارم پر انکوائر لگا کر لوگ اپنی چاہئیں جگہوں کو ادراک کرسکتے ہیں اور یہ سب ایک بہتر گیس لائن کی طرف بڑھ رہی ہے۔
جی ہاں ان تمام کوششوں سے کراچی میں پریشر کم ہوتا رہا ، لیکن یہ بات بالکل اچھی نہیں ہے کہ وہ معیار گیس کی فراہمی کس حد تک ترمیم کر دی جائیگی۔ 28 ملین میٹر کی Kubik فٹ گیس کے ساتھ پریشر اور گیس کی ترسیل کو کنٹرول کیا جا رہا ہے تو یہ چیلنج کم نہیں بلکہ ایک واضح مہم بن گیا ہے۔
یہ پریشر اسٹرکچر کو دیکھتے ہیں کہ اب ایس ایس جی سی نے بھی گیس کی فراہمی میں قدم رکیا اور انفراسٹرکچر کو یقینی بنانے کیلئے مختلف اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ یہ بہت اچھا بھی ہے کہ ایس ایس جی سی نے یوٹیلیٹیز کو معطل کردیا ہے، حالانکہ گیس کی فراہمی میں کمی ہوئی ہے تو اس سے انفراسٹرکچر کے بارے میں یقین ملتا ہے۔ پریشر اسٹرکچر کو دیکھتے ہوئے اب ایس ایس جی سی کی جانب سے گیس کی فراہمی میں بہتری اور انفراسٹرکچر کو یقینی بنانے کیلئے زیادہ اقدامات کی ضرورت ہوگی...