اس وقت میں ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت پاکستان نے یہ غلطی کی ہے کہ وہ امریکی سامراج اور ٹرمپ حکومت سے بے پرواہ ہو کر فلسطینی قوم پرستانوں کی مدد کرتے رہے ہیں، جس نے کچھ عرصے پہلے واشنگٹن کی جانب سے پاکستان کو دھمکیاں دیں تھیں۔
آج ایک نئی تحریک تحفظ آئین پاکستان نے غزہ کے معاملے پر اپنی کانفرنس کا اعلان کیا ہے اور انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نام نہاد "بورڈ آف پیس" سے اپنی شمولیت فی الفور واپس لی جائے، یہ تحریک بھی ایسی ہے جو امریکی سامراج کی مخالفت کرتے رہی ہیں اور انہوں نے صوبائی اسمبلیوں اور جمہوری سیاسی جماعتوں کو اپنی تحریک میں شامل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
اس تحریک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ایک ایسے بلاک کی تشکیل کی حمایت کی جانی چاہیے جو عالمی سطح پر فلسطین کے لیے آزادی اور انصاف کے مقدمے کی قیادت کرے، یہ تحریک گلیوبل ساؤتھ کے تمام ممالک میں اپنی پالیسی کو بدلنے کا مطالبہ کرتے رہی ہے جس پر تمام ایسوسی ایٹڈ ممالک اس کی حمایت کریں۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے ملک میں ایک غیر جانب دار خارجہ پالیسی کا مطالبہ کیا ہے جو علاقائی امن سے وابستہ ہو اور مغرب کی پراکسی بننے سے اجتناب کرے، یہ تحریک وینزویلا کو بھی اپنے ساتھ شامل کرتے رہی ہے جسے امریکی جارحیت کا سامنا کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ایک ایسی واحد جہتی کا اظہار کیا گیا ہے۔
اس تحریک کی جانب سے بڑی سادغر غمزری اور جذبات کا اظہار ہوا ہے، یہ وہ تحریک ہے جو عامPeople کی صون و ساتھیوں کو اپنی پیروی کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ تحریک ایسا نہیں بنائی جا سکتی کہ وہ صرف ایک چھوٹی سے تحریک بھی نہیں بن سکتی بلکہ اس کو ملک میں وہ ماحول بنانے کا یقین دینی ہوگا جو پورے ملک میں اس کے ساتھ آئی۔
اس وقت میں بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ تحفظ آئین پاکستان نے دوسرے ممالک کی پالیسیوں پر بھی اپنا اثر و رسوخ چھوڑ دیا ہے، ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اس بات کو فوری طور پر توازن دیا ہو گا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پہلے سے ہی ایسے تھے جو اپنی تحریکوں میں امریکی جارحیت کی مخالفت کر رہے ہیں۔
یہ تھوڑی بھی گنجان ہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت کو اپنی شمولیت " بورڈ آف پیس" سے واپس لینی چاہیے، میں یہ سوچتا ہوں کہ اس پر انہوں نے گھنٹوں سے بات کروائی ہے اور اب وہ ایک معقود نتیجہ اخذ کر رہے ہیں، لگتا ہے کہ یہ تحریک بھی ایسا ہو گی جیسا پہلے سے تھا اور وہ نئی تحریک کی طرح ہی جھجوم میں دھل کر گئے ہیں، لیکن یہ بات بھی توہانہ نہیں کہ انہوں نے اپنی تحریک کو ایک ایسا ذریعہ بنایا ہے جو سرگرم عمل میں ہو رہا ہے اور اب وہ دوسرے تمام مواقع پر اپنا اثرات مرتب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ ایک غیر جانب دار جسمانی عمل ہو رہا ہے جو ہم سب کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیں گے۔
یہ ایک بڑی گنجائش کی بات ہے، غزہ میں امریکی جانب سے دھمکیاں دی جارہی ہیں تو اس لیے Pakistan کو اپنی سرگرمیوں پر ہی توجہ دینا چاہیے، حکومت کو ہمیشہ سے یہ سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس میں کسی ایسے معاملے میں شامل نہیں ہونا چاہیے جو انہوں نے اپنی حکومت کی جانب سے پیش کیے ہوتے ہیں اور وہ اس کا تعلق نہیں رکھتے۔
یہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے بھی ایسا لگ رہا ہے جیسا کہ وہ یہ کہہ رہی ہے کہ اسے بھی اپنے آپ کو یہ دکھانا چاہیے کہ وہ بھی فلسطینی قوم پرستوں کی مدد کرنے لگ رہے ہیں، لیکن یہ بات بھی اچھی طرح سے سنی جاتی ہے کہ وہ اس میں اس kadar کا حصہ نہیں لے گئے جو انہوں نے اپنے سامعین کی امید کو بھرنا چاہتے ہیں۔
انہی تحریکیں واضح طور پر ایسے معاملات میں شامل رہتی ہیں جو Pakistan کے لیے ان کی جانب سے ایک خطرہ بن سکتے ہیں، مگر یہ بات بھی دھی نہیں پڑتی کہ اس میں وہ ایسا قدم رکھنا چاہتے ہیں جیسا کہ وہ اپنے آپ کو مزید خطرے سے گھروں۔
یہ بات بھی ٹھیک نہیں ہوگا کہ تحفظ آئین پاکستان کو ان تمام معاملات میں مدد ملے گی جس سے اس کی پالیسی پر حکومت کی طرف سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، ایسا نہیں لگتا کہ وہ اپنی پوری طاقت اور وسعت کو یہ فائصلہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ ایک ایسی توجہ سے کھینچ رہی ہے جس پر ملک کے مختلف حصوں میں بے پناہ مشغولت اور ایک دوسرے سے منسلک ہونے کی تلاش کرتا ہے۔
یہ واضع ہو چکا ہے کہ بڑا برتاؤ اور طاقت کے ساتھ گریٹ برٹین میں ہونے والے ایسے واقعات نہیں آئیں گے جیسے ایمریکہ نے کیا ہے، پاکستان کا اس سے مقابلہ کرنا اور فلسطین کی مدد دینا ایک بھرپور کاروائی ہوگا
بہت تھوڑی دیر پہلے میں امریکیوں نے پاکستان پر ایسا دھمکاوٹ دیا تھا جو اب ان کی سرنقسمی کا سبب بن رہا ہے، اور اب وہ اسے غلطی کہتے ہوئے فلسطین کی قوم پرستی کرتے جائیں گے؟ نا ہی یہ وہ سلوک ہے جو اچھا ہوگا، بلکہ انہیں اپنی دوسری غلطیوں کی طرف بھی اشارہ کیا جائے گا جو اب تک ایسے سلوکوں میں پائی جاتی رہی ہے جس سے پاکستان کی وطنیت کو دوسرے ممالک کے سامنے خطرے میں ڈال دیا جائے گا
یہ تحریک بہت اچھی ہے، پاکستان کو اپنی آزادی و انصاف کی جدوجہد میں ایسے ساتھیوں کی ضرورت ہے جو فلسطین کے ساتھ ہون۔ اس تحریک نے پاکستان میں ایک ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی ہے جہاں لोग اپنی اہلویت کی گنجائش کرتے ہیں اور ایک دوسرے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں. اس تحریک نے ان لوگوں کو بھی شامیل کیا ہے جو امریکی سامراج کی مخالفت کرتے رہے ہیں، ایک ایسا قوم پرست تحفظ جس سے اس نے اپنے ماحول کو بدلنا ہے۔
یہ معمر ہی نہیں تھا جب امریکا نے فلسطین پر دباؤ دیا، اور اب بھی یہ غلطی ہے کہ پاکستان اس کی مدد کر رہا ہے؟ اب یہ تحفظ آئین پاکستان کی ایک نئی گولیاں بھر دی جا رہی ہے، اور اب بھی انہوں نے کہا ہے کہ اس کے لئے وینزویلا کی جانب سے بھی مدد ملے گی؟ اب یہ بھی تھوڑا سا نوجوان جیسا لگ رہا ہے جو اپنے دوسرے خلاف کو انساف کہے گا، لیکن میں اس سے بھی زیادہ متعصب نہیں ہو سکتا!
یہ دیکھتے ہیں کوئی نئی تحریک ہار کر رہا ہے اور اس کے بعد تو یہ ناقدین بن جاتے ہیں، پہلے تھی ایسا ہی کیا، فلسطینی قوم پرستانوں کی مدد کرنا بھی ایک ایسا مقصد تھا جس کے بعد ناقدان بن گئے تھے، اور اب یہ نئی تحریک بھی ایسی ہی ہے؟ پھر یہ تحریک کیا فائدہ ہو گیا ہے کہ وہ امریکی سامراج کی مخالفت کر رہی ہے، یا تو اس کو بھی ناقدان بنایا جائے گا اور اس کے بعد تو یہ تحریک ایک ایسا مقصد چھوڑ دی جائے گا جو اس کے ساتھ آتا ہے؟
یہ غلطی نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان نے فلسطینیوں کی مدد کی ہے، یہ ایک بڑی غلطی ہے جس سے دوسرے ممالک پر تانہ بانہ ہوا ہو گی، لیکن اس نے ان لوگوں کی مدد کی جو حق میں ہیں۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کو سب کچھ سے تعاون دیا جائے چاہیے، اور وہ ایک بھائی چارہ کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو کہ سہولت کی بات نہیں کی جا سکتی، وہ اپنی مدد اور حمایت کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکا کا ایسا کیا جائے گا جس سے وہ فلسطینیوں کو ختم کروائیں؟ پاکستان کو اپنی سرCARی پالیسی بنانے کی خودازہاری کرنا چاہیے نہ کہ کسی دوسرے ممالک کی پیٹھ پر چلے گئے ہوئے ہوں۔