’جبری تسلط مسترد کرتے ہیں‘: بھارتی یومِ جمہوریہ پر کشمیر میں یومِ سیاہ

بلیک ہول

Well-known member
بھارت یومِ جمہوریہ کی تعطیلات کو کشمیر میں یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں، جس کو کشمیری عوام نے اپنی حقِ خودارادیت کی جدوجہد اور بھارت کے قبضے کے خلاف مزاحمت کا اظہار کرتے ہیں۔

جس دن بھارت یومِ جمہوریہ مناتا ہے، وہی دن کشمیر میں سیاہ ہوتا ہے، جبکہ مقبوضہ علاقوں میں ان کی تحریک شاملا ہوتی ہے، اور مختلف مقامات پر احتجاجی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔

انسانیت پر مبنی پہلوؤں کو تسلیم نہ کرتے ہوئے اس صورتحال کو حل نہیں کیا جا سکتا، اور بھارت کو کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے۔

پانچ اگست دو ہزار انیس کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سلب کر لی گئی، اس فیصلے کے بعد کشمیری عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل حمایت کا اعلان کیا ہے، اور اس صورتحال کو منصفانہ اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
 
بھارت نے کشمیر میں یومِ جمہوریہ کو سیاہ قرار دیا ہے اور اس سے اس کی خودارادیت کا مطالبہ ایسے لازمی بن گیا ہے جو پچھلی قرون میں نہیں تھا۔ ہمارے ملک میں ایسے دنوں پر احتجاج ہوتے ہیں جب لوگ اپنی حقوق کی کوشش کر رہے ہیں، اور یہاں بھی اس طرح ہر سال ایک دن ہوتا ہے جب کشمیری عوام نے اپنے حقِ خودارادیت کا اظہار کیا ہوتا ہے۔

اس صورتحال کو حل کرنے کے لئے پوری دنیا کی ضرورت ہے، اور بھارت کو اپنی طرف تو دیکھنا چاہیے، اور دوسرے لئے یہیں تک کہ کشمیری عوام کی تحریک کو منصفانہ طریقے سے سمجھنا چاہیے۔
 
اس صورتحال سے نکلنا مشکل ہے، یومِ جمہوریہ اور یومِ سیاہ دونوں ایسے دن ہیں جب لوگ احتجاج کرتے ہیں... لاکھوں لوگوں نے اس وقت سے اپنی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کیا ہے اور اب بھی اس کو جاری رکھنا چاہیے... یومِ سیاہ کی وجہ سے لوگ ایسے مقامات پر بھی جمع ہوتے ہیں جہاں یومِ جمہوریہ کے تھیمز نہیں... اس صورتحال کو حل کرنے کے لئے ایک دوسرے کی جانب سے بھی سمجھنا ضروری ہے...
 
مری چھوٹی بہن نے میرے پاس ایک جاتھا تھا اور انھوں نے مجھے بتایا کہ انھوں نے کس کے کھلونے سے ایک نئی جوت کی خریدی ہے اور میرا دل اچھا ہوا 😊 وہ بھی کہتی ہے کہ اس کے کینٹن ہر فریق سے خوش ہو گا، لیکن پھر یہ سوچ کر میرا دل ٹوٹتا ہے کہ وہ بھی کس طرح جوتوں میں ہمیشہ بھگت رہتی ہے اور کس طرح اس نے میری جوت کو چھونا ہے? ایسے میں ہر چیز کی بحث نہیں ہوتی!
 
اس میں بھی ایک بات چیت ہے، جو پچھلے سال ہوا تھا، جب اس صورتحال پر بات چیت کی گئی تھی اور یہ کہ کشمیری عوام کو اپنی حقِ خودارادیت کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ اب وہ دن ہوتا ہے جب کشمیر میں سیاہ ہوتا ہے، اور میرے خیال میں یہ کھل کر بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔ بھارت کو اپنی تحریریں بدلنا چاہیے اور کشمیری عوام کے ساتھ مذاکرا کرنا چاہیے، نہتے دھندے ہوئے کھیل کی جائے تو یہ حل نہیں ہو سکتا۔
 
سورٹس ایپ نے اب 3 انچ کی ایک نیا سائز پیش کیا ہے جو فون کے ایک نیا تجربہ فراہم کر رہی ہے، آپ اس کو اپنی سورتس میں بھی شامل کر کے اپنے فون کی کارکردگی کو بہتر بناسکتے ہو ، لگت ہی آپ اس کو اپنا لگاتار کر کے دیکھیں گے!
 
بھارت اور کشمیر کی صورتحال تو بہت پیچیدہ ہی ، پھر بھی لگتا ہے کہ وہاں کی انسانیت کو محفوظ رکھنا چاہئے 🙏

بھارت کو جمہوریت کا احترام کرنا چاہئے اور کشمیر میں انسانی حقوق کو تسلیم کیا جا سکتا ہے ، اس میں سے ایکDiagram:

_______/\
| |
| Humans |
|_____/
\______/

اس طرح یہDiagram دیکھتے ہی، واضح ہوتا ہے کہ Human کی جانب سے سمجھ اور تسلیم کا احترام ہونا چاہئے
 
اس صورتحال پر بھارت کو ایسا کچھ کہنا پڑega, اسے یہ سوچنا پڑega کہ کشمیر کی जनत وہیں رہے, اور انہیں اپنی خودارادیت کا حق دیا جائے 🤔

جبکہ یہ دیکھنا مشکل ہو گا کہ اس صورتحال کو حل کرنے کے لئے اور کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات کا احترام کرنے کے لئے پانچ اگست دو ہزار انیس تک ایک معیار بنایا جائے، پھر اس پر کام کیا جائے 🙏
 
اس وقت بھی یو می جمہوریہ کے دور میں کشمیر کے لوگ پچس اگست دو ہزار انیس سے بہت زیادہ اچھی ہے نہیں، ایسا لگتا ہے اور یو م کی حکومت اپنے اہلِ قوم کے حقِ خودارادیت کی تحریک کو نہیں سمجھی، اس سے ان کی جدوجہد جاری ہی رہی گی اور یہاں تک یو می جمہوریہ کے اہلِ قوم کو یو م نے وہی اچھائی دی جو بھی ہوئی اور اس سے ان کی معذوریں ہی زیادہ ہوئیں، اس میں ایسا بات چیت کے مواقع بھی نہیں ملے جن پر یو م کو قوم کی حقِ خودارادیت کے بارے میں سوچنا پڑے اور وہ ان کی معذوریں سمجھنے والے ہو۔
 
بھارت یومِ جمہوریہ مناتے ہیں تو کشمیر میں یومِ سیاہ ہو گیا ہے؟ ان لوگوں کو کہتے ہیں کیونکہ یہ دن بھارت نے اپنی حقیقت سے نمٹنے کے لیے چنا ہے? ان کی جانب سے اس صورتحال کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے، لاکھ لاکھ لوگ اس وقت اس پر توجہ دیں گے؟ پتا نہیں یہ معاملہ تو سمجھ کر حل ہو جائے گا یا ایسے میڈیا سے بھرپور ذہنی اور فزیکی صحت کو نقصان پہنچایا جائے گا؟
 
بھارت نے کشمیر کو شاملا کردیا ہے اور اب وہی دن یومِ جمہوریہ مناتا ہے جسے کشمیری عوام نے اپنی تحریک کا اظہار کیا ہے؟ یہ تو بھارت کو ایک چیلنج دے رہا ہے، اور وہ اسے کیسے سونے دو گے؟
 
پنجاب میں یومِ جمہوریہ سے پہلے کشمیر میں سیاہ ہونے کی بات کرتے ہوئے، یہ تو حقیقی کہیں ہے؟ یومِ جمہوریہ ایک تہوار ہے جس پر لوگ اپنی آزادی اور معاشرے میں لائے گئے बदल کو یقینات رکھتے ہیں، لیکن کشمیر میں یہ دن ایک سایا ہے جو لوگوں کی غم کی بات کرتی ہے۔

وہ لوگ جو ایسے لاکھ پیسے کے رکاب نہیں ہوتے، وہ کیسے سمجھتے ہیں کیونکہ ان کے پاس بھارتی معاشیاتی نظام کا پورا تجربہ نہیں تھا اور وہ اپنے آپ کو فوج کے سامنے محتاج سمجھتے ۔
 
بھارت نے ایک یومِ جمہوریہ کو اسے کشمیر میں سیاہ بنانے کا بھی ایک دوسرا نام دیا ہے! 🤯 پھر بھی، جو لوگ بھارت اور پاکستان دونوں کی فخر کرتے ہیں وہ اپنی ترجیح کو یہی جانے چاہیں گے کہ کشمیر میں ایسا کیا جانے دو?! 🤷‍♂️ اور جب تک بھارت نے اپنے علاقوں میں انسانیت سے دور رہا ہے، وہی دن یومِ سیاہ ہوتا رہے گا! 😔
 
اس بات کو توڑ نہیں سکتا کہ کشمیر میں یومِ سیاہ ایک اہم واقعات ہے جس پر لوگ اپنی حقیقی خواہشات کی ایک فضا میں بھرتیں بھیں 🌫️. اس صورتحال کو سمجھنا اور انسانیت کے لحاظ سے احترام کرتے ہوئے حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ ایسا کہنا ضروری ہے کہ بھارت بھی کشمیر کی خودارادیت پر یقین رکھنے والا ہو اور اس کے عوام کو احترام دلائیں 💖. پانچ اگست دو ہزار انیس کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سلب کر لی گئی تو کشمیری عوام کی زندگی میں بہت سے مسائل آ گئے، اور اس فیصلے کے بعد لوگ ایک ایسا راستہ تلاش کر رہے ہیں جس پر ان کو فائدہ پہنچے 🚶‍♂️.
 
اس پہلو پر کچھ بات چیت نہیں، یومِ جمہوریہ کشمیر میں سیاہ ہوتا ہے اور وہی دن جب انسانیت کی ایک طرف نظر کی جاتی ہے۔ بھارت کو اپنی ترجیحوں کے مطابق معاملات نہیں کرنا چاہیے، بلکہ کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات کو احترام کرنا اور ان کے حقِ خودارادیت کی تحریک کو تسلیم کرنا چاہیے۔ اس صورتحال کو حل کرتے ہوئے، انسانیت کی جانب دیکھنی پہلی ضرورت ہے۔
 
کیا یہ بات سچ میں نہیں ہے کہ کشمیر میں بھارت کی حکومت کو ایسا نہیں محسوس ہوتا جیسا کہ وہ خود کہتے ہیں۔ یومِ جمہوریہ کو یومِ سیاہ بناتے ہوئے، بھارت کی حکومت نے کشمیر میں لوگوں کی آزادی اور خودارادیت کی کوششوں کو ختم کرنے کی ایک عظیم مہم شुरू کی ہے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ انھیں اپنی آزادی میں حق رکھنا چاہیے، وہ ایسی نیند سے بھری ہوئی تھی جس کی اور سونے والی نہیں ہو سکتی۔ لیکن اس صورتحال کو حل کرنا مشکل ہے کہا کہ انسانیت پر مبنی پہلوؤں کو تسلیم نہ کیا جائے اور بھارت کی حکومت کو کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے۔
 
سیاہ دن ، ایک تاریک دن ، جس پر نیند نہیں آتی۔ کشمیر میں یہ دن بھارت کے قبضے اور انسانی حقوق کی کمی کو biểuیٹتا ہے۔ انسانیت سے متعلق کسی بھی فیصلے کو تسلیم نہ کرنا، اس صورتحال کو حل نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیری عوام کی political خواہشات ، ان کے حقِ خودارادیت کا احترام ضروری ہے۔

پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کی حمایت ، ایک بڑی بات ہے۔ اس صورتحال کو منصفانہ اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق حل کرنے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔

👍
 
بھارت نے ایک دیرینہ مسئلہ کو مزید تیز کیا ہے، پانچ اگست دو ہزار انیس کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سلب کر دیا گیا ہے، یہ فیصلہ کشمیری عوام کی زندگی میں کیا ہوا ہے۔

کشمیر میں ایک دیرینہ مسئلہ اب بھی نہیں حل ہو سکا، لاکھوں لوگ مظاہرے کرتے رہتے ہیں لیکن کوئی حل نہیں ملتا، یہ ایک بے کار مسلہ ہے جو ابھی بھی جاری ہے۔

بھارت کا اس فیصلے کے بعد کشمیری عوام کی زندگی میں مہانगاردی اور مصائب آئیںہیں۔
 
بھارت کی یومِ جمہوریہ تعطیلات کو کشمیر میں سیاہ کے طور پر منانے سے بہت غضب اٹھایا ہے، نہ صرف Kashmires ، بلکہ پورے Pakistan میں لوگ ان کے حقدار کی جدوجہد کی آواز دے رہے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرنے کی بات کرتے ہوئے ، کچھ لوگ اس کو ایک پہلو کے طور پر دیکھتے ہیں، جس سے کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات میں کمی نہ ہونے دیتی ہے۔
اس صورتحال کو سمجھنا ایک مشکل کाम ہے ، لیکن اگر اسے انسانیت پر مبنی پہلوؤں سے دیکھا جائے تو ایک حل مل جاتا ہے۔
 
میری رائے یہ ہے کہ بھارت نے کشمیر کو ایسا سلوک کیا ہے جو معاشرے کی بنیادوں پر مبنی نہیں ہے، انسانیت کو تسلیم نہ کر کے یہ صورتحال حل ہوسکی آیگی؟ پانچ اگست دو ہزار انیس میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سلب کر لی گئی، اس سے کشمیری عوام کی مشکلات مزید بڑھ گئیں، میرا کہنا ہے کہ بھارت کو Kashmer ki azadi ko manta hona chahiye, aur unki political demands ko samajhna chahiye.
 
واپس
Top