جدید علوم کو قرآنی اخلاقیات سے جوڑنا ایک اہم موٹو ہے، جسے آج کے علماء نے ایک اہم کانفرنس میں اپنایا ہے۔ اور یہ بات پتہ چلتا ہے کہ جو شخص قرآن پاک کو پڑھتا ہے وہ اپنی زندگی بھی قرآن کی رہنمائی سے منسلک ہوتا ہے۔
اس کانفرنس میں شامیل علماء نے بات چیت کی اور یہ بات کو قائم کیا کہ قرآن ایک جامع اخلاقی اور فکری ڈھانچہ ہے جس سے انسان کو زندگی کی روحانی اور مادی دونوں جہتوں پر تشریف لانے میں مدد ملتی ہے۔
انہوں نے یہ بات بھی بتائی کہ ایک سائنسی، عقلی اور بین ضابطہ مکالمے کو فروغ دینا Quran aur Sainz k k satah ek scientific, rational and inter-relevant discussion ko viksit karne ka uddeshya hai۔
اس کانفرنس میں شامیل علماء نے یہ بات بھی بتائی کہ ایک اچھا انسان بننے کے لیے حسن سلوک، صبر اور اخلاقی دیانت جیسی خصوصیات پر زور دیا جاتا ہے جو Quran ki teachings ko pade se padi ke follow karte hain۔
اس کانفرنس کی کامیابی میں شامیل علماء نے ایک اہم کردار ادا کیا، اسے دیکھتے ہوئے یہ بات پتہ چلتا ہے کہ علماء کو Quran aur Sainz ki janganat bhi honi chahiye۔
اس کانفرنس میں شامیل علماء نے بات چیت کی اور یہ بات کو قائم کیا کہ قرآن ایک جامع اخلاقی اور فکری ڈھانچہ ہے جس سے انسان کو زندگی کی روحانی اور مادی دونوں جہتوں پر تشریف لانے میں مدد ملتی ہے۔
انہوں نے یہ بات بھی بتائی کہ ایک سائنسی، عقلی اور بین ضابطہ مکالمے کو فروغ دینا Quran aur Sainz k k satah ek scientific, rational and inter-relevant discussion ko viksit karne ka uddeshya hai۔
اس کانفرنس میں شامیل علماء نے یہ بات بھی بتائی کہ ایک اچھا انسان بننے کے لیے حسن سلوک، صبر اور اخلاقی دیانت جیسی خصوصیات پر زور دیا جاتا ہے جو Quran ki teachings ko pade se padi ke follow karte hain۔
اس کانفرنس کی کامیابی میں شامیل علماء نے ایک اہم کردار ادا کیا، اسے دیکھتے ہوئے یہ بات پتہ چلتا ہے کہ علماء کو Quran aur Sainz ki janganat bhi honi chahiye۔