ججز کو قانون کی حکمرانی کیلیے کھڑا ہونا چاہیے، کسی دباؤ میں فیصلہ نہ کریں، جسٹس مندوخیل | Express News

وہیل

Well-known member
سپریم کورٹ میں جج جمال مندوخیل نے جوڈیشل اکیڈمی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہیں قانون کی حکمرانی کو بحال کرنا چاہیے، جس پر کسی دباؤ میں فیصلہ نہ کرنا چاہئے۔

اسکول آف لیگیسل کی جانب سے اس تقریب میں مندرج ذیل اہم باتوں پر توجہ دی گئی ہے:

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ججز کو قانون کی حکمرانی کے لئے ضروری طور پر کھڑے ہونا چاہئے، لیکن وہ کسی دباؤ میں آکر فیصلہ نہیں کر سکتے۔

یہاں ججز کو ایک اہم کام کے طور پر قانون کی حکمرانی کو دیکھنا چاہئے، نہ کہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے۔ وہ ہمیشہ صرف آئین کو بالادست قرار دینا چاہئیں، جس سے انصاف کی فراہمی حقق ہوسکے۔
 
آج کل سپریم کورٹ میں جوڈیشل اکیڈمی سے خطاب کرنے والوں کا بیان ہمیشہ ہی دلچسپی دیتا رہتا ہے … ان کی بات پر زور دیا جانا چاہئے … قانون کی حکمرانی کو بحال کرنا ایک بڑا کام ہے، اس میں کسی دباؤ کے تحت فیصلے نہیں لگنے چاہئے … ججز کو ایسا ہی سیکھنا چاہئے … آئین کی بنیاد پر اسے دیکھنا چاہئے …
 
اس کورٹ میں کسی بھی جج کو قانون کے بغیر فیصلہ لگانا تو بھی بدلے مظالم ہیں! وہ کھڑے ہو کر آئین کی حکمرانی کو دیکھیں، نہ یہیں تک کہ اپنے ذاتی مفادات کے لئے. وہ ہمیں دکھائیں کہ وہ کیسے سچائی کو آسانی اور ن्यایابادی बनا سکتی ہیں!
 
یہ سوچنا بہت اچھا ہے کہ سپریم کورٹ میں جوڈیشل اکیڈمی سے تقریب ہوئی تھی جہاں انہوں نے قانون کی حکمرانی کو بحال کرنے کی بات کیا ہے। اس بات پر بھی توجہ دی گئی ہے کہ ججز کو کوئی دباؤ میں آکر فیصلہ نہیں کر سکتے۔ وہ صرف قانون کی حکمرانی کا خیال رکھنا چاہئیں اور اپنے ذاتی مفادات کو قbilے میں لگایں۔ یہ لوگوں کی جانب سے بھی ایک اچھا سندेश ہے کہ قانون کی حکمرانی کو دیکھنا ضروری ہے۔
 
اس نئے پہلو کا کچھ میرے لئے بھی اہمیت ہے کہ ججز کو کیسے منظم کیا جائے؟ یہ بات بالکل واضح نہیں ہو رہی ہے، اور میرے خیال میں اس پر توجہ دی جانا چاہئے
 
ایسے کیسے ہوا دیا؟ اب جج اس طرح کھڑے نہیں ہوتے جو قانون کی حکمرانی کے لئے چلنا پڑتا ہے، اب وہ توجہ سے محسوس کر رہے ہیں، جس سے یہ بات کھل جاتی ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کی کوئی چیز نہیں بن گئے۔ اس لیے اب ایسا ہونا چاہیے، جس سے قانون کی حکمرانی کے لئے ایک اہم کام کے طور پر دیکھا جائے، نہ کہ اپنی جانب سے ایسا کیا گیا ہوا تو دیکھا جائے۔
 
بھائیو ! سپریم کورٹ کی وہ تقریب تو بہت اچھی تھی، جج جمال مندوخیل کی باتوں سے میں بھی متاثر ہوا 😊. وہیں قانون کی حکمرانی کو بحال کرنا چاہیے اور کسی دباؤ میں نہیں کھڑے ہونا چاہئے، یہ سب سے بڑی بات ہے 🙏. آج کل مگر ججز کو پچتاوٹ ڈالتے ہوئے دیکھتے تھے تو وہاں کچھ اچھا نہیں ہوتا 😔. قانون کی حکمرانی کے لئے جج جمال مندوخیل کی باتوں سے میں بھی متاثر ہوا، وہ ہمیشہ صرف آئین کو بالادست قرار دینا چاہئیں تاکہ انصاف کی فراہمی ہو سکے 💼.
 
اس نئے دھندلے نظام کے تحت جج لوگ فیصلے لینے سے ڈرتے ہیں تو قانون کی حکمرانی کو بحال کرنا چاہئیے? 🤔

جب تک انہوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے فیصلے نہیں لیے وہ کیا سکتے تھے؟ قانون کی حکمرانی کا کام ہمارے لئے ہے تاہم وہ کوئی بھی دباؤ میں نہ آ کرنے پر اس کا استعمال کیا جاسکتا تھا؟ یہ سب سوچنا مشکل ہو گا

ایک بار پھر مندرج ذیل باتوں پر توجہ دی گئی ہے اور یہ بات واضع ہے کہ ججز کو قانون کی حکمرانی کے لئے ضروری طور پر ہونا چاہئے: https://en.wikipedia.org/wiki/Judicial_review
 
مندرج ذیل باتوں پر مشتمل اس تقریب میں جانے کے بعد، مجھے یہ بات غalt ہے کہ ججز کو قانون کی حکمرانی کا بہترین نمونہ بننا چاہئیں۔ وہ ایسی صورتحال میں کھڑے نہیں ہو سکتے جو ان کے ذاتی مفادات پر مبنی ہو جس سے قانون کی حکمرانی متاثر ہوسکتی ہے۔ اس لیے، یہ ضروری ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کے لئے ایک اہم کام کے طور پر دیکھیں جو انصاف کی فراہمی کرتا ہو۔
 
یہی بات ہی ہوگی کہ سپریم کورٹ میں جج کی جانب سے ایسا بیان لگ رہا ہے جو قانون کے حامیوں کو دلچسپی دے گا اور انصاف کی طرف بڑھانے والی وعدے پر توجہ دی جائے گی. لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جج کا بیان ایک اچھی چیز ہوگی، لیکن اس کو کچھ لہراتے وقت سماجی میڈیا کی طرف بھی توجہ دی جائے گے.
 
یہ بہت اچھی بات ہے کہ جج جمال مندوخیل نے ایسے حالات میں قانون کی حکمرانی کو بحال کرنے پر زور دیا ہے۔ میرے خیال میں یہی بات ہے جو ہم سب کے لئے ضروری ہے۔ لگتا ہے کہ جج اپنی نجی دلچسپیوں کو فراموش کرکے قانون کی حکمرانی کے لئے کام کرنا چاہئیں، اس سے انصاف کی ترسیمت ہوسکتی ہے اور معاشرے میں ایک نئی راہ وار ہو سکتی ہے۔
 
بھائی ابھی کچھ ہوا پریٹنشن میں جوڈیشل اکیڈمی کی جانب سے وہیں سپریم کورٹ میں جج جمال مندوخیل نے انصاف کو دیکھا، وہ یہ ہی بات کہتا ہے جو چلنے والوں کو آپنی حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے۔
 
اس کورٹ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ قانون کی حکمرانی کو بحال کرنا اور ججز کو ایسے لوگوں پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہئے جو ایسا کرنے سے انصاف حاصل ہوسکتا ہے۔ یہ کافی اہم بات ہے کیونکہ اکیلے قانون کی حکمرانی کو دیکھنا نہیں تو جسمانی قانون کے بارے میں بھی فیکٹ فائنڈنگ کر لیا جا سکتا ہے۔
 
man ye to jese kahein koi aik cheez hoti jo aisa hai ki agar hum us par dhyan na de, toh uska result bhi khatam hota hai. yeh Supreme Court ke case mein hai, jo aik bahut big deal hai 🤔. mujhe lagta hai ki yeh sab kuch to sahi hai, jese court ko law and order ka samna karna chahiye, aur woh apne personal interests par dhyan na de. yeh ek achchi cheez hai, kyunki agar hum all laws and regulations follow karte hain toh humari society bhi theek se chalti hai 🙏.
 
تمام یہ دیکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں یہ بات پڑھائی جا رہی ہے کہ قانون کی حکمرانی کو بحال کرنا چاہئے، لیکن اس میں سے کچھ لوگ اس پر کامیاب نہیں ہو سکتیں 🤦‍♂️ #کہاؤ_کہ_میں_ریاست_کی_صلاحیت_کو_کئے_رکھنا_چاہاتا_ہوں۔

جاجے کے کام میں ایسا ہی آتا ہے، جب وہ قانون کی حکمرانی کو دیکھتے ہیں، نہ کہ اپنے ذاتی مفادات کو 🤑 #کام_میں_راج۔

جاجے کا یہ بات بھی بتایا ہے کہ انہیں قانون کی حکمرانی کے لئے آگے آنا چاہئے، نہ کہ اپنے ذاتی مفادات کو فائدہ اٹھانے کے لئے 🙅‍♂️ #کولégے_میں_دیکھو۔
 
ایسا لگتا ہے کہ یہ دیکھنا مشکل ہو گا کہ کوئی بھی جج اپنے ذاتی مفادات کے بدلے قانون کی حکمرانی میں کھڑے نہ ہون۔ آخری بار آپ جسٹس ایبھی اور جاجو دھیرو نے یہی بات کہی تھی، اسی طرح مندرج جج بھی قانون کی حکمرانی پر زور دیتے ہیں। میرے خیال میں انہوں نے کچھ نقطہ عطاف حوالے کر کے آئین کو بالادست قرار دینا ہوتا تھا، لیکن اس کی وجہ سے دیکھتے ہیں کہ قانون کی حکمرانی وہ ہمیشہ نہیں ہوتی۔
 
اس کا ایک بھی کچھ بات نہیں ہو گا یہ سڑکوں پر جوڈیشل اکیڈمی کی وہیں ہوگی چلا چلا، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی اور قانون کی حکمرانی کو بحال کرنا بھی اس طرح ہی چلا جائے گا ، یہ تو کچھ نہ کچھ ہو گا
 
بہت غبretaں ہیں کہ شپروں کو قانون کی حکمرانی میں ایسے دباؤ کا موضع بننا چاہئے تاکہ وہ فیصلہ کر سکیں? لیکن یہ بات تو صاف ہے کہ شپروں کو اپنے ذاتی مفادات کے باوجود قانون کی حکمرانی کا خیال رکھنا چاہئے۔
 
Wow 😮 ایسی بات یہی کہنا مشکل ہے جاجوں کو آئین کی حکمرانی پر توجہ دینی چاہئے، لیکن وہ اپنی ذاتی دلچسپی کے ساتھ کام نہیں کر سکتے
 
واپس
Top