غزہ امن بورڈ نے دنیا کے ذرائع ابلاغ میں تبصرے اور تجزیات کا مظاہرہ کیا ہے جس کے بعد یہ سوال उठ رہا ہے کہ غزہ امن بورڈ میں شاملا تھی؟ اس پر ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہو سکا ہے جیسا کہ وہ چاہتا ہے اس لیے وہ اپنی سربراہی میں شاملا نہیں ہوا۔
ان امن بورڈ کی تشکیل سے قبل بھی اقوام متحدہ نے کیا تھا، جو ان کی اہمیت کو کم کرنے اور اس کی عالمگیرہ حیثیت کو زہر کرنے کے لیے تھا۔ ڈریفٹ ہی میں وہ امریکا اور دیگر عطیہ دار ممالک کو اقوام متحدہ کی طرف بڑھانے اور اسے اپنے دھاندی کھیل سے باہر ہونے پر مجبور کرنا چاہتے تھے۔
غزہ امن بورڈ میں تو پاکستان شامل ہو گیا لیکن اب صدر ٹرمپ نے جس منصوبہ بندی کی ہے اس پر عمل درآمد کرنا ہوگا اور اس کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ پاکستان کے دیرینہ اور اصولی موقف کے حامی ہیں یا نہیں?
امریکی صدر ٹرمپ کی منصوبہ بندی میں تنازعہ فلسطین کا حل صرف اسرائیل کے قبضے کو مستحکم کرنا اور عرب ممالک کو ’’ابراہیمی معاہدے‘‘ میں شامل ہونے پر مجبور کرنا ہے تاکہ وہ ’’گریٹر اسرائیل‘‘ منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں نہ کھڑی کریں۔
آج اس پر مبنی مقاصد کو یقینی بنانا، اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور مسلم ممالک کو باقاعدہ طور پر اسرائیل کی طرف متوجہ کرنا ہو گا۔
پاکستان کی حکومت کو اس مضمون میں صدر ٹرمپ کے موقف پر اپنی یقین دہانی حاصل کرنے اور اس کے بارے میں عوام سے بات چیت نہیں کرنی ہوگی اور انھوں نے ایسا ہی پہلے بھی کیا ہے۔
اسے دیکھتے ہی اس سے متعصبانہ موقف لینا مشکل ہوگا، کیونکہ پاکستان کے پاس ایسی نہیں ہے جو وہ چاہتا ہے اور اس لیے وہ اپنی سربراہی میں شاملا نہیں ہوا، یہاں تک کہ وہ اپنے موقف پر یقین رکھتے ہوئے ہیں اور انہوں نے ایسا ہی پہلے بھی کیا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ غزہ امن بورڈ میں پاکستان شامل تھا یا نہیں... اب جب صدر ٹرمپ کا منصوبہ بڑھ رہا ہے تو اس پر جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں وہ پاکستان کی حکومت کو ایسا دکھانے میں آئی نہیں کہ وہ کس طرح یہ منصوبہ اپنے اصولی موقف پر کامیاب کرتی ہے...
بچپن سے ہی میں سوچتا رہا ہوا کہ پاکستان کو اپنی آزادی اور تحریک کی آگ کو محفوظ رکھنا چاہئیے، اس لیے غزہ امن بورڈ میں بھی پاکستان کے احاطے ہونے کا یہ منظر خوش نہیں تھا۔ لگتا ہے کہ اقوام متحدہ نے اس صورتحال کو کمزور کرنے کی کوشش کی تھی اور اب بھی میں سوچتا رہا ہوں کہ یہ ایک سیاسی گہرائی ہے، جو کوئی اس پر غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔
ایسے میں یقین ہے کہ غزہ امن بورڈ کی تشکیل میں پاکستان کا کوئی خاص کردار نہیں ہوگا تھا کبھی انھوں نے ایسا بھی کیا ہوتا تو اس کی اہمیت ہمیں اپنی جگہ پر ہوتی۔ اور اب یہ سوال ہے کہ پچیس لاکھ ڈالر کی قیمتی ایسی سسٹم میں پاکستان کو شامل کرنا اور اس سے قبل انھوں نے جو کارروائیں کیں وہ تمام منصوبے کا حصہ ہیں تو یہ سب جب انھوں نے اسے پہلے ہی بنایا تھا تو.
اس پر مزید سوالات تھے اور اس پر جو جواب دیا گیا تو بھی ایک دوسرے کے جواب نہیں ہوا! غزہ امن بورڈ کی تشکیل سے قبل بھی وہی تھی جس کے لیے اسے تشکیل دیا گیا تھا۔ دیکھو کہ اقوام متحدہ نے ہی ایسی صورت حال کو پیدا کر دیا تھا جس سے پاکستان کو ان کی اہمیت کم کرنا پڑے گا، اور اب اس پر عمل درآمد کرنا ہوگا تو یہ ایک عجیب سا موقف ہی ہو گا!
میٹھے موہ سے، یہ واضح ہے کہ غزہ امن بورڈ کی تشکیل کے بعد اور اس کے بعد کیا ہوا ہے ان کے منصوبوں نے دھanda تو کھیلا ہی ہے، لیکن اس پر عمل درآمد کرنا بھی جاتا ہے اور ان کو یہ پتا ہوتا ہے کہ وہ کس بات میں فخر محسوس کریں گے؟ صدر ٹرمپ کے منصوبوں سے فلسطین کا حل صرف اسرائیل کی طرف لے کر جاتا ہے اور عرب ممالک کو اس طرح بھگتایا گیا ہے تاکہ وہ اپنی اہمییت کو کم کرنے پر مجبور ہو سکیں، یہ تو ایک ہی چال ہے جو کہیں بھی جاتا ہے…
عقیدہ ہے کہ غزہ امن بورڈ میں شاملا تھی؟ یہ سوال ہجوم پر لگ رہا ہے کہ پاکستان کی حکومت کو اسपर اچھی طرح سوالات کرنا چاہیے۔ اس منصوبہ نے بہت سے لوگوں میں غور و فکر پیدا کیا ہے، خاص طور پر فلسطین کی واضح جگہ پر اس کےImpact کی وجہ سے۔
اس منصوبہ کے تحت اسرائیل کو مزید طاقت ملاتی ہے، جو اس کے حامیوں کے لیے بھی ہٹا دیکھای گئی ہے۔
یہ یقیناً ایک معقد مسئلہ ہے اور اس پر کچھ نہ ہو سکا ہے مگر ہم کو پتہ چلتا ہے کہ اسے سمجھنے کے لیے ہمیں اپنی تاریخ کو دیکھنا ہو گا اور وہ کس طرح امریکہ کی رائے پر آچکی ہے? اب یہ پتہ چلتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک منصوبہ بندی کی ہے اور اس کو پھیلانے کے لیے انڈسٹریل ماحولیت کا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو یہ اس وقت تک سست نہیں ہو گا جب تھرڈ ورلڈ نے اپنے موقف کو ایک اور مقام پر لے لیا ہوگا...
بھول جائیں کہ غزہ امن بورڈ میں کوئی شاملا نہیں تھی؟ اس بات پر ایسا مظاہرہ کر رہا ہے جو یہ ڈرامہ بھی بن سکتا ہے کہ دھوکہ دیا گیا ہو گا؟ پوری دنیا میں انسداد تحریک، فلسطینی قومی تحریک اور اسرائیل کی حامی تحریک کی سرگرمیوں نے شاملا کی بات کرنے کے ساتھ ساتھ غزہ امن بورڈ کے قیام سے قبل ہی یہ مظاہرہ کیا تھا اور اس وقت بھی اس کا مظاہرہ جاری ہے۔
اس امریکی منصوبے سے پاکستان کو بچنا نہیں چاہئے بلکہ اس کی بنیادی جڑوں کو سمجھنا چاہئے... اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور فلسطین کے مुदde پر ان کے موقف سے بہت پہلے ہی اس کچھ بات کی جا چکی ہے جو وہ نہیں کرنا چاہتے... ان کے منصوبے سے ایسا لگتا ہے جیسے وہ فلسطین کو بھولنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور اس میں یقینی طور پر ان کے باور جیتنا چاہئے...
یہ تو ایک بڑا معمہ ہے! وہ امریکا کی طرف سے یہ کہیں تک جواب نہیں دے گا، اور پاکستان کا لئے اس پر عمل درآمد کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا, پلیٹ فارم پر شاملا کی بات تو ایسا ہی ہوتی ہے...
اس امن بورڈ کی شکل میں پاکستان نے ایک اعلیٰ مقام حاصل کر لی ہے لیکن انفرادی طور پر شاملا نہیں رہی ہوگی اور وہاں سے ہونے والی سوالات کو توڑنا پاکستان کی حکومت کا فراہم کردہ تصور نہیں ہوسکتی ۔
کوئی بھی اہم مضمون پر مبنی تبصرے یا تجزیات کرنے سے پہلے عوام کو اس کی واضح رہنمائی کریں جس سے وہ اپنے تعامل سے بھرپور طور پر انFORMیڈ ہوں، اور ان کے منظر نامے کو بھی سمجھ سکیں
نظریات ہیں جن کو جانتے رہو اور دوسروں سے یہ سوچنا ہی نہیں چاہئے کہ پاکستان میں شاملا تھی وغیرہ۔ یہ سب کو بہت غور سے سمجھنی چاہئے کہ ڈیپلومیٹی میں کس طرح تجزیات کی جا سکتے ہیں اور دنیا میں اسے کیسے نافذ کرنا پڑتا ہے؟
اس گزہ امن بورڈ کو اس وقت یہ سوچنا ہے کہ وہ شاملا نہیں تھی، مگر بہت سے لوگ اس پر یقین رکھتے ہیں... اس کی اہمیت کو کم کرنے اور اس کی عالمگیرہ حیثیت کو زہر کرنے کا ایسا ہی پچھواہا تھا جو دنیا بھر میں ہوا...