غزہ میں فلسطینیوں کی حکمرانی کا حقدار ہونے کے معاملے پر اماراتی وزیر نے اپنی رائے بیان کی ہے، جس سے صاف پتھر کے طور پر بات چیت کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن اس پر غزہ والوں کی طرف سے اس پر جواب نہیں ملا ہے۔
اماراتی وزیر مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم بنت ابراہیم الہاشمی نے یہ بات بتाई ہے کہ غزہ میں صرف انسانی امداد کی پالیسی پر عمل اچھی طرح کرنے کے بعد، انھوں نے کہا ہے کہ غزہ میں عارضی انتظامیہ کو بے کار قرار دیا گیا تھا، ایسا یہ پتہ چلتا ہے کہ اس پر یقین نہیں رکھنا چاہئے اور اس کی طرف سے اس پر غزہ والوں کی جانب تو آغازی کی گئی تھی، لیکن اس پر ابھی تک جواب نہیں ملا ہے۔
غزہ میں امن منصوبے میں تبدیلی کے بعد ہی فلسطینیوں کو شامل کرنا چاہئے، یہ بات واضح طور پر ایک معراج پر پہنچائی گئی ہے اور اس پر غزہ والوں سے یہ بات کے لیے ایک ہتھیار ہوا ہوتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کو حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں گے اور انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی جانب سے اس منصوبے میں شامل ہونے کے لیے پوری کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے دو سال قبل رفح کراسنگ کھول دی تھی، جس پر غزہ سے مخصوص تعداد میں فلسطینیوں کو مصر تک پہنچانا چاہئے، اس پر مصری سرحدی حکام نے بتایا ہے کہ آج ایسا کرنا ہوا ہے، اور اب یہ پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے اس دن تک 150 فلسطینیوں کو مصر تک پہنچایا ہے۔
غزہ میں فلسطینیوں کی حکمرانی پر بات چیت کرنے کے دौर میں کسی بھی معاملے پر جواب نہ دینا پتہچلتا ہے... . اس کے پیچھے یہ سوال ہوتا ہے کہ غزہ والوں کی جانب سے اس پر کیا جواب دیا جا سکتا ہے؟ کیا وہ پوری طرح اپنے حقوق کو حاصل کرنے کی پوری کوشش نہیں کر رہے ہیں یا یہ معاملہ انہیں زیادہ ترپکراتا ہوا ہے؟
اس ماحول میں غزہ والوں کی طرف سے ایسی باتیں کر رہے ہیں کہ مجھے لگتا ہے کہ انھیں خود کو یقیناً ان اماراتی اور اسرائیلی کھلڑیوں سے ملا کر چاہئے جس پر انھیں اس بات پر غور نہیں ہوتا کہ وہ کیسے پھنس رہے ہیں۔
عمر بن زید سے زیادہ غیر میڈیٹڈ اور ناکارہ ہونے کی بات کرنا مुश्कل ہو جاتا ہے، یہ معاملہ ایسے کچھ سے لگ رہا ہے جیسے اس پر بات چیت نہیں ہونے دی کیونکہ وہاں غزہ والوں کا انہیں بھی جواب دینا مشکل ہے اور یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مملکت ریم نے اپنی پالیسی کو نئی ڈیرہ دیا ہے، لہٰذا ابھی تک انھوں نے غزہ والوں سے یہ بات کے لیے ایک ہتھیار ہوا ہوتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کو حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں گے، اور اب تک انھوں نے اس پر جواب دیا ہے تو یہ صرف ایک ایسا جواب ہی ہوا ہے جس کو کہنا مشکل ہوتا ہے، ابھی تک انھوں نے اپنی پوری کوشش کی ہے لیکن انھوں نے یہ جواب دیا ہے کہ وہ بھی یہی کوشش کر رہے ہیں، لہٰذا ابھی تک یہ معاملہ ایک اور ایسا ہے جیسا جب تک اس پر بات چیت نہیں ہو سکی تو وہی کچھ کیا جا سکتا ہے!
یاروں، ایسا بات کرنا بے مقصد ہوگا کہ غزہ میں فلسطینیوں کی حکمرانی کے معاملے پر اماراتی وزیر نے اپنی رائے بیان کی ہے اور وہ کہہ گئے ہیں کہ غزہ میں صرف انسانی امداد کی پالیسی پر عمل کرنے سے بعد میں فوجی احاطہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ بات واضح طور پر ایک معراج پر پہنچائی گئی ہے اور غزہ والوں کی جانب سے اس پر جواب نہیں ملا ہے، اور یہ بات واضح طور پر ایک جھاڑے کی طرح پہنچائی گئی ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ غزہ میں امن منصوبے میں تبدیلی کے بعد فلسطینیوں کو شامل کرنا چاہیے، لیکن اس پر غزہ والوں سے یہ بات کے لیے ایک ہتھیار ہوا ہوتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کو حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں گے، اور یہ بات تھوڑا سا خوشخیز بھی ہوگئی ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی جانب سے اس منصوبے میں شامل ہونے کے لیے پوری کوشش کی جا رہی ہے۔
مصر کی سرحدی حکام نے بتایا ہے کہ اسرائیل نے دو سال قبل Rifah Crossing کو کھولا تھا اور اب انھوں نے اس پر عمل کر دیا ہے، اور اب یہ پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے اس دن تک 150 فلسطینیوں کو مصر تک پہنچایا ہے، لیکن یہ بات ایک جھاڑے کی طرح پہنچائی گئی ہے۔
میں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ بات تھی کیونکہ اسرائیل نے Rifah Crossing کھولا تو غزہ والوں کو مصر تک جانے کی پوری جگہ مل جاتی اور ان کے حقوق کے بارے میں بھی بات ہوتی۔ اب یہ بات لازمی ہو گئی ہے کہ غزہ والوں کو اپنے حقوق کی راہ میں قدم رکھنا چاہئے اور مصری سرحد پر ایسے فلسطینیوں کو پہنچانا چاہئے جو اسرائیل کے جانب سے بھیجے گئے ہوتے ہیں اور مصری حکام نے بھی یہ بات کھول دی ہے کہ انہوں نے اس دن تک 150 فلسطینیوں کو مصر تک پہنچایا ہے۔ لیکن یہ تو غزہ والوں کی طرف سے ایسے جواب نہیں ملیں گے جتنی چاہئے، بھرے پتھروں کے طور پر بات چیت کی جا رہی ہے
ابھی تک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان یہ بات آسان نہیں لگ رہی جبکہ امارات کو یہ کام ہی کرنا پڑتا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کی۔ اس پر انھوں نے کہا ہے کہ صرف انسانی امداد پر عمل کرنے کے بعد تو یہ بات کے لیے کہیں پہنچ گئی اور اب وہ غزہ والوں سے اس پر جواب نہیں ملا، اور اگلی باری ایسا کیا جائے گا؟
عرب دنیا کے ایک اور پرانے معاملے کا سامنا کر رہے ہیں جس پر کسی کی بھی طرف سے بات چیت نہیں ہو رہی ۔ غزہ میں فلسطینیوں کی حکمرانی کا معاملہ ایک گہرا مسئلہ ہے اور اس پر حل دینے کے لیے کوئی سست حل نہیں آ سکتا۔ اماراتی وزیر کی بات یہ بتانے کے لیے تھی کہ غزہ میں انسانی امداد کی پالیسی پر عمل کرنے کے بعد، وہاں کے عارضی انتظامیہ کو بھی ختم کر دیا گیا ہے اور اس پر یقین نہ رکھنا چاہئے۔ لیکن ابھی تک غزہ والوں کی جانب سے اس پر جواب نہیں ملا ہے۔ اس پر یہ بات بھی تھی کہ غزہ میں امن منصوبے میں تبدیلی کے بعد فلسطینیوں کو شامل کرنا چاہئے لیکن ابھی تک نتیجہ نہیں مل سکا ہے۔ ان تمام باتوں پر غزہ والوں کی جانب سے جواب نہ ملا تو اس پر ایسا لگتا ہے جیسے وہ اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لیے ایک ساتھ ہی رہ سکتے ہیں۔
اماراتی وزیر کی بات سے اچھی طرح پرھنا ہوتا ہے، غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ یہ معاملہ ایک ایسا معراج پر پہنچایا جا رہا ہے جس پر دوسری جانب اسرائیل بھی اپنی بات کہتی ہو گی، اگر وہ فلسطینیوں کی جانب سے اس معاملے میں شامل نہیں ہوتا تو یہ ایک معذور معاملہ بن جاتا ہے، میرا خیال ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی جانب سے اس معاملے میں شامل ہونے کی پوری کوشش کرنی چاہئے।
اس کی پوری بات سے متعلق ہے، غزہ میں فلسطینیوں کے حقوق پر غور کرنا چاہیے، وہاں کیسے ان کے حق کیا جائے گا؟
اس سے پتہ چلتا ہے کہ فلسطینیوں نے اپنے حقوق کو حاصل کرنے کی واضح کوشش کی ہے، لیکن ابھی تک کسی بھی رہنمائی سے کام نہیں کیا گیا، یہ بات واضح طور پر ایک معراج پر پہنچائی گئی ہے اور اس پر غزہ والوں سے یہ بات کے لیے ایک ہتھیار ہوا ہوتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کو حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں گے
دوسری جانب اسرائیل نے دو سال قبل Rifah Crossing کھول دی تھی، جس پر غزہ سے مخصوص تعداد میں فلسطینیوں کو مصر تک پہنچانا چاہئے ، لیکن ابھی تک اس پر کوئی جواب نہیں ملا ہے، مصری سرحدی حکام نے بتایا ہے کہ آج ایسا کرنا ہوا ہے ، اور اب یہ پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے اس دن تک 150 فلسطینیوں کو مصر تک پہنچایا ہے
یہ بات واضح طور پر ایک معراج پر پہنچائی گئی ہے اور غزہ میں امن منصوبے میں تبدیلی کے بعد فلسطینیوں کو شامل کرنا چاہئے
یہاں سے یہ بات بہت چلچل کے طور پر اٹھ رہی ہے کہ غزہ والوں کو ان سب پالیسیوں پر عمل کرنا ہوتا ہے جس کی وہ اپنے مفادات کے مطابق لگائیں اور وہی کامیابی حاصل کریں گے، تو یہ کیسے ہوگا؟
عرب میڈیا میں بہت سارے خبردار تعلیقات دیکھتے رہتے ہیں، یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ غزہ والوں نے واپس جانے پر کچھ بھی کہا نہیں، انھوں نے یقین سے کہا ہے کہ وہ اپنے حقوق کو حاصل کرن گے لیکن انھوں نے کچھ کام کرنے کا بھی منصوبہ بنا رکھا ہے اور اب یہ پتہ چلتا ہے کہ غزہ سے 150 فلسطینیوں کو مصر تک پہنچانا شروع کر دیا گیا ہے، مگر یہ بات تو ایک بار پھر دھیل کی گئی ہے!
اماراتی وزیر کی بات سے متصادم ہونے والا یہ معاملہ بہت گہرا اور انتہائی کٹھرتازگا ہو رہا ہے، غزہ میں فلسطینیوں کی حکمرانی کا حقدار ہونے کے معاملے پر یہ بات تیزی سے صاف پتھر پر آ رہی ہے کہ فلسطینیوں کو ان کے حقوق حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں گے، مگر ایسا نہ ہونے پر غزہ والوں کی طرف سے جواب نہیں آ رہا ہے، یہ بھی بات واضح ہے کہ غزہ میں امن منصوبے میں تبدیلی کرنے کے بعد فلسطینیوں کو شامل کرنا چاہئے لیکن یہ معاملہ بھی ہمیشہ ایک آغاز پر رہتا ہے، اس میں اور غزہ والوں کی جانب سے پوری کوشش کی جا رہی ہے مگر انھوں نے ابھی تک جواب نہیں دیا ہے، دوسری جانب اسرائیل نے Rifah Crossing کھول دی تھی اور اس پر غزہ سے مخصوص تعداد میں فلسطینیوں کو مصر تک پہنچانا چاہئے لیکن مصری سرحدی حکام نے بتایا ہے کہ آج اس دن ایسا کرنا ہوا ہے اور اب یہ پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے 150 فلسطینیوں کو مصر تک پہنچایا ہے، یہ سب ایک معراج پر پہنچانے کا ایک واضح سائن ہے
سچائی کی تلاش میں، جب لوگ حقیقت سے بات چیت کرتے ہیں تو کسی نہ کسی صورت حال پر غور و فکر کرتی ہیں؟ غزہ والوں نے یہ بات کہی ہے کہ ان کو اپنے حق میں شامل ہونے کی کوشش کرنا چاہئے، اور اگر اماراتی وزیر نے بھی یہی بات کہی ہے تو یہ صرف ایک معراج پر پہنچائی گئی ہے؟ کیا وہ اس پر یقین رکھتے ہیں کہ غزہ والوں کو اپنا حق حاصل ہو جائے گا؟
یہ بات تو واضح ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی حکمرانی کا حقدار ہونے کے معاملے پر زور دلا رہے ہیں، لیکن اس پر جواب نہیں ملا تو انھیں اپنی بات سے پچت کرنا چاہئے اور دوسروں کے مرغی کی بات کریں۔
دوسری طرف غزہ میں امن منصوبے میں تبدیلی کے بعد فلسطینیوں کو شامل کرنا ہونا چاہیے اور انھیں اپنے حقوق پر یقین رکھنا چاہئے، یہ بات تو صاف پتھر کی طرح سنی جا سکتی ہے اور اس پر غزہ والوں کو کافی توجہ دی جانی چاہیے۔
لہذا، غزہ میں فلسطینیوں کی حکمرانی کا حقدار ہونے کے معاملے پر ایک نئی پالیسی تیار کرنی چاہئے جس پر اپنے حقوق پر یقین رکھنے اور امن کی راہ میں قدم رہنے کی کوشش کریں۔
جی ہां یہ بات غزہ میں فلسطینیوں کے لیے ایک بھارپور مظالم کی صورتحال ہے، مملکت برائے بین الاقوامی تعاون نے کہا ہے کہ غزہ میں صرف انسانی امداد کی پالیسی پر عمل کرنے کے بعد عارضی انتظامیہ کو بے کار قرار دیا گیا تھا، لیکن یہ بات واضح طور پر اس پر غزہ والوں سے جواب نہیں ملا ہے، میرے خیال میں اگر انھوں نے پوری کوشش کی تو آسانی سے یہ بات سامنے لی جا سکتی۔
اماراتی وزیر کی بات پر غزہ والوں سے جواب نہیں ملا تو یہ بھی طاقت کا معاملہ ہے، ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی باتوں پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم اس پر غزہ والوں سے یقین نہیں رکھنا چاہئے، یہ ان کے لئے ایک معراج ہے، اور انھوں نے بھی بتایا ہے کہ وہ اپنے حقوق کو حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں گے
یہ بات بہुत سچ ہے کہ غزہ میں امن منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے، فلسطینیوں کو شامل کرنا ایک اہم پوسٹولم یہی نہیں ہے بلکہ انھیں اپنے حقوق کی طرف بڑھانے کا موقع بھی ہے، اگر وہ اس منصوبے میں شامل ہوتے ہیں تو وہ ایک معراج پر پہنچتے ہیں، لیکن اگر ان کا حقدار نہیں مانیا جاتا تو وہ اپنا راستہ خود چلتے ہیں اور اس میں کس کو بھی پچتا ہو۔
یہ رائے بہت صاف ہے، لیکن غزہ والوں کی جانب سے جواب نہیں ملا تو یہ کچھ گھنٹے بعد مل جاتا ہے؟ ابھی تک انہیں اس پر جواب نہیں دے رہے، اور مملکت ریم کو یہ بات بتانے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے یہ کیسے جانا، اور ابھی تک یہ کس طرح ممکن ہوا؟ فلسطینیوں کی جانب سے جو ان منصوبوں میں شامل ہونے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے، اس پر ایک بھی دیکھا نہیں جاتا؟