امارات کی جانب سے فلسطینیوں کا حق غزہ میں حکمرانی ہے، اور ان کے لیے عارضی انتظامیہ نہیں ہے بلکہ ایک سماجی تحفظ کی پالیسی ہے۔ اماراتی وزیر ریم الہاشمی نے کہا کہ غزہ میں صرف انسانی امداد کے اقدامات کر رہے ہیں، انھوں نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں عارضی انتظامیہ کی بات کے لیے صرف مذاکرات تک محدود ہی رہی ہے اور بعد ازاں پوری طاقت پر قبضہ کرلی گئی ہو گی۔
امارات نے غزہ میں اپنی پالیسی کی واضحہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کچھ صرف ایک امن منصوبے میں شامل ہوگا، لیکن غزہ میں فلسطینیوں کو حکومت کی پالیسیوں سے نجات ملے گی۔
دوسری جانب اسرائیل کھول دی گئی رفح کراسنگ کے ذریعے 150 فلسطینیوں کو غزہ آنے جانے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے یہ بات پوری طور پر ٹھیل ہوگی کہ فلسطینیوں کا حق ہے ان کو اپنا گھر واپس جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
غزہ کی صورتحال کچھ اور دیکھنی پڑتی ہے... فلسطینیوں کو اپنا گھر واپس جانے کی اجازت دی جا رہی ہے تو یہ بھی بات کہی جاتی ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں نے اپنی خودمختاری کو محفوظ کیا ہے... امارات کی پالیسی کا واضحہ یہ ہے کہ ان پر کسی بھی نوعیت کا احتمل نہیں، لیکن فلسطینیوں کو اپنا گھر واپس جانے کے بعد ان کی تحفظ کی پالیسی ہی رہی ہے... یہ بات دیکھنی پڑتی ہے کہ فلسطینیوں کو اپنا گھر واپس جانے کی اجازت دی جا رہی ہے تو کیا انھیں اب بھی تحفظ کی پالیسی کا شکار ہونا پڑے گا؟
جب سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ میں اپنا گھر واپس جانے کی اجازت دی جا رہی ہے تو ایک بڑا सवाल اٹھتا ہے کہ یہ ان سے کیا مانگ رہا ہے؟ اس میں کوئی بات نہیں ہے جو فلسطینیوں کے حق میں ہو، لیکن یہ بھی ایک بات ہے کہ یہ ان کے لئے ایک معیار بن سکتا ہے۔
اس لئے کہ غزہ میں فلسطینیوں کو حکومت کی پالیسیوں سے نجات ملے گی تو انھیں یقین بھی ملے گا اور وہ اپنے گھر واپس جانے کا مطمئن ہون گے، لیکن یہ بھی بات ہے کہ ان کے لئے ابھی تک ایک اچھی governments نہیں رہی ہے، تو اس سے ان کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا؟
جب تاکفے اور ووٹنگ میں فلسطینی لوگوں کی جانچ پھانسی بھی دی جاتی ہے تو یہ بات کبھی بھی نہیں رہ سکتی کہ فلسطینیوں کو اپنا گھر واپس جانے میں کتنی چुनौतیاں کا سامنا کرنا پڑے گا؟
ناکام تھا یہ بات کہ امارات نے غزہ میں فلسطینیوں کو ایک عارضی انتظامیہ دئی اور انھیں کہا کہ وہ اپنی خودی کرتے ہیں، اور پھر بھی غزہ میں فلسطینیوں کو حکومت کی پالیسیوں سے نجات ملے گی۔ یہ بات تو پوری طور پر واضح ہوگئی کہ فلسطینیوں کو اپنا گھر واپس جانے کی اجازت دی جا رہی ہے، لیکن یہ دیکھا گیا کہ امارات نے صرف Humanitarian کمپین پر فокस کیا اور پھر بھی فلسطینیوں کو حکومت کی پالیسیوں سے نجات ملنے دی گئی ہے۔ یہ بات تو تو ہارمناک ہوگئی کہ اسرائیل نے رفح کراسنگ کے ذریعے فلسطینیوں کو غزہ آنے جانے کی اجازت دی، جو کہ فلسطینیوں کے حق میں تو ہے لیکن اسرائیل نے یہ بات بھی دکھائی کہ وہ غزہ آنے جانے والے فلسطینیوں کو چیک کرے گا۔
ایسا سچ مگر غزہ میں فلسطینیوں کے لیے آپنی حکومت کی بات کرنے سے پہلے کیا کھینچنا چاہتے ہیں؟ اب یہ بات بھی ٹھیل ہو گئی ہے کہ فلسطینیوں کو اپنے گھر واپس جانے کی اجازت دی جا رہی ہے، یارے آپ غزہ میں حکومت کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنی حکومت کی تصدیق کریو جیسا کہ امارات نے کیا ہے۔
عامن لوگوں کو پوچھو یہ پوری طرح واضح نہیں ہوتا کہ فلسطینیوں کے ساتھ کیا رکھنا پڑتا ہے؟ امارات کی ایسی پالیسی ہے جس میں غزہ میں فلسطینیوں کو حکومت کی پالیسیوں سے نجات ملے گی، لیکن اس سے واضح بات یہ نہیں ہوتی کہ انھیں اپنا گھر واپس جانے کی اجازت دेनے سے پہلے سچائی کا مظاہرہ کیا گیا ہے یا نہیں؟
ارام ہوا کیا یہ کیسے ہوسکے گا؟ امارات نے فلسطینیوں کو اپنا گھر واپس جانے کی اجازت دی رہی ہے تو پھر انہیں اچانک گورننس کے لیے بھی قید کرلیا جاسکتا ہے؟ یہ سڑک اور سڑکیں کی طرح کہیں ایسا نہیں ہوسکتا، فلسطینیوں کو اپنا گھر واپس جانے کی اجازت دی جائی رہی ہے تو ان کی صحت مدد اور زندگی کے مسائل کی پوری طرح سے توجہ دی جا سکتی ہے، یہ ایک بڑا قدم ہے جو دنیا کو دیکھ رہا ہے
امارات نے فلسطینیوں کے لیے کیا، یہ تو ایک اچھا کھیلا ہے کہ ان کو اپنا گھر واپس جانے کی اجازت دی گئی ہے، مگر یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ اس پر ایک معاہدہ کرنا پڑا ہوگا تاکہ وہ اپنے گھر کا رخ کرسکیں، اور کبھی بھی کوئی ان کے حقدار کو نقصان نہ پہنچای۔
غزہ میں فلسطینیوں کے لیے حکومت نہیں ہے بلکہ ایک سماجی تحفظ کی پالیسی ہے، یہ بات تو صاف ہو چکی ہے اور اس پر کوئی مناقشہ نہیں ہو سکا ۔
ماضتاً فلسطینیوں کا حق غزہ میں حکومت کرنا ہوتا تھا، لیکن اب یہ بات پوری طور پر ٹھیل ہوگئی ہے کہ انہیں اپنا گھر واپس جانے کی اجازت دی جا رہی ہے اور اسرائیل نے اس میں بھی مدد کی ہے، اس سے یہ بات بھی ٹھیل ہوگئی ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کو حکومت کی پالیسیوں سے نجات ملے گی۔
مگر ان ساتھ ساتھ یہ بات بھی لاحق ہے کہ اس معاملے میں ایک امن منصوبے کو شامل کرنا پوری ضرورتی کا حامل ہے، اس لیے کوئی نہ کوئی ایسا منصوبہ بنایا جائے گا جو غزہ میں فلسطینیوں اور اسرائیلی لوگوں دونوں کے لئے مفید ہو، اس سے ہی معاملے کی حل ہونے کی шانس ملے گی!
diagram:
+---------------+
| فلسطینی |
| اور اسرائیل |
| دونوں |
| لئے مفید |
| منصوبہ |
+---------------+
فلسطینیوں کو اپنے گھروں واپس جانے کا حق کہا جاتا ہے، لیکن اب تک یہ کتنے فیصلے ہوئے ہیں؟ پہلے تو فلسطینیوں نے اپنے گھروں سے باہر جانا شروع کر دیا، اور اب وہ ان کے گھروں میں واپس آ رہے ہیں۔ یہ کیا بہت اچھا نتیجہ ہے؟ اور آمریٹیوں نے یہ کہا کہ فلسطینیوں کو اپنے گھروں واپس جانے کی اجازت دی جا رہی ہے، لیکن انھوں نے آپنی حکومت کی پالیسیوں سے نجات کا وعدہ نہیں کیا ہے۔ یہ بھی ایک معمہ ہے، اس سے کون فائدہ ہو گا؟
بہت ایک چیز بتایا گیا ہے امارات کا غزہ میں فلسطینیوں کو حکومت دینے کا یہ عارضی انتظامیہ کہلائی گئی ہے؟ سچ مین تو یہ ایک نئی پالیسی ہوگی یا تو یہ سب کو گھساتی ہوئی ایک وغیرہ۔
جیسا کہ امارات نے بتایا ہے کہ غزہ میں صرف انسانی امداد ہی کیے جارہے ہیں تو فہم مین بھی نہیں کہ آج انھوں نے یہ کیا کہنے والا ہے ایک سماجی تحفظ کی پالیسی یا تو یہ صرف ایک امن منصوبے میں شامل ہونے کو ہتھیار ڈال رہے ہیں؟
دوسری جانب اسرائیل کھول کر Rafah Crossing سے 150 فلسطینیوں کی اجازت دی گئی تو یہ بھی ایک چیز کو دیکھنا پڑا اور یہ بھی بتایا گیا ہے انھیں اپنے گھر واپس جانے کی اجازت دی جا رہی ہے تو یہ تو فلسطینیوں کے حق کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی اور انھیں بھی یہ بات پوری طور پر ٹھیل ہوجائے گی.
میری یہ سنی بھائیں، آج Emirates کی پالیسی پر بات کر رہے ہوں اور میں تو اس پر کچھ سوچا ہوا ہوں... غزہ میں فلسطینیوں کو حکومت سے نجات ملنے کی بات بہت کئی بار آ رہی ہے، لیکن ابھی تک یہ بات نہیں پوری ہوئی...
میری نظر میں Emirates کی پالیسی تو ایک حل نہیں بلکہ ایک نئی problem ہے... انھوں نے غزہ میں فلسطینیوں کو حکومت سے نجات ملنے کا وعدہ دیا ہے، لیکن پوری طاقت پر قبضہ کرلی گئی ہوگی... یہ بھی بات پوری طور پر ٹھیل ہے کہ فلسطینیوں کو اپنا گھر واپس جانے کی اجازت دی جا رہی ہے، لیکن کیا یہ کوئی نئا معاملہ ہے؟
جب کہ غزہ میں انسانی امداد اور ایمرفنسی کے اقدامات ہو رہے ہیں تو اس پر بھی پوری دیکھ بھال نہیں کی جا رہی... یہ بھی بات پوری طور پر ٹھیل ہے کہ فلسطینیوں کو اپنا گھر واپس جانے کی اجازت دی جا رہی ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایک امن منصوبے میں فلسطینیوں کو حکومت کی پالیسیوں سے نجات ملے گی...
ابھی تو امارات کی پالیسی پر بات کر رہے ہیں، لیکن یہ سوال نہیں اٹھایا جاسکتا کہ ایسا کیسے کرنے دوں؟
ماحول بھی تبدیل ہوتا جاتا ہے، یہ سچ ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کو حکومت کی پالیسیوں سے نجات ملے گی، لیکن یہ بھی توجہ دیتا ہو کہ ان کے لیے گھر واپس جانا ایک مشکل کाम ہے، مگر اس سے بڑی بات ہے کہ ان کو وہ فرصا ملے جو ان کو اپنے پچھلے ہفتوں سے ملی نہیں رہی، مگر آج بھی غزہ میڰ فلسطینیوں کا حال بہت جھک्कم سے زیادہ خراب ہو گیا ہے
لگتا ہے کہ یہ ایک نئی پالیسی ہو رہی ہے جس سے فلسطینیوں کو اپنا گھر واپس جانے کی اجازت دی جا رہی ہے، اور یہ بھی بات کہی گئی ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کو حکومت کی پالیسیوں سے نجات ملے گی۔ لیکن یہ سوچنا مشکل ہوتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ اس پر کوئی معقول Agreement نہیں ہوسکتا، اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امارات کے ساتھ Israel کے ساتھ Talks ہو رہے ہیں، لیکن اس پر کوئی result ہوسکتا ہی نہیں۔
امارات کی پالیسی بہت غلط ہے، انھوں نے فلسطینیوں کو اپنے گھر واپس جانے کی اجازت دی رہی ہے تو کیا یہ وہی پالیسی ہے جس سے انھیں حکومت میں شامل کرایا جا رہا ہے؟ یہ غزہ میں فلسطینیوں کی آزادی کی کوشش نہیں، اس کی بجائے انھیں اپنی خود مختاریت سے محروم کررہے ہیں۔ اور یہ بتائیں وہاں کو کیے گئے انسانی امداد کے بعد بھی فلسطینیوں نے اپنے حقوق کو حاصل نہیں کرپائے، صرف ایک امن منصوبے میں شامل ہونے والے لئے۔
تمام دیکھ رہے تھے یہ کہ غزہ میں فلسطینیوں کو کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا، اب یہ بات صاف ٹھیل ہوگئی ہے کہ فلسطینیوں کو اپنا گھر واپس جانے کی اجازت دی جا رہی ہے، تو اس پر دیکھو کہ وہ اپنے گھروں میں کیسے لانے میں کامیاب ہوں گے؟ اور وہاں کے ساتھ اس ماحول کو اچھی طرح جانتے ہوئے کیسے آگے بڑھائی جا سکتی ہے؟
اس نئے معاملے پر توجہ دیو ! آج تک میں سمجھا کہ غزہ پر فلسطینیوں کی حکومت ہوگی، لیکن اب یہ بات پوری طور پر ٹھیل ہوگئی ہے کہ یہ ان کے لیے صرف ایک سماجی تحفظ کی پالیسی ہے اور واضح ہوگئی ہے کہ اس میں政府 کی حکومت نہیں۔ میں تو یہ سोचتا تھا کہ غزہ میں فلسطینیوں کو اپنا گھر واپس جانے کی اجازت دی جا رہی ہے، لیکن اب جب عرب معاہدات اور صلح کے ذریعے 150 فلسطینیوں کو غزہ آنے جانے کی اجازت دی گئی ہے تو یہ بات پوری طور پر ٹھیل ہوگئی ہے کہ فلسطینیوں کا حق ہے ان کو اپنا گھر واپس جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ یہ بھی محض ایک امن منصوبے میں شامل ہونا پڑوگا تو یہ بات بھی پوری طور پر ٹھیل ہوجائے گی کہ فلسطینیوں کو حکومت کی پالیسیوں سے نجات ملےگی۔
امارات کی پالیسی پر غور کرتے ہوئے، یہ بات بہت اچھی لگ رہی ہے کہ انھوں نے فلسطینیوں کوGovernance کا حق دیا ہے، اس سے ان کی زندگی میں ایک Change آ سکتا ہے!
ماہرین کے مطابق ، غزہ میں فلسطینیوں کوGovernment کا حق دیا جانے سے پوری دنیا میں Human Rights کی بات چلنی ہوگی!
امارات کی پالیسی کے تحت، فلسطینیوں کوGovernance کا حق دیا جانے سے انھیںSelf-Reliance ملے گا ، اس سے انھوں نہیں ہی فاسٹ ٹرک پر چلنا پڑے گا، بلکہ Self-Empowerment کا راستہ اختیار کر پائیں گے!
اس سے Israel کی Rafah Crossings پر انحصار کم ہوگا اور فلسطینیوں کوGovernance کا حق دیا جانے سے وہ اپنا Future Build Karna Sakte Hain!
اس غزہ میں فلسطینیوں کی ساتھی دیکھ بھال کی بات کرتے ہوئے، یہاں تک کہ عرب عہد خلافت اور برطانوی افواج کی ہند فوج کے درمیان ایک طویل تنازعے کے بعد، اس وقت تک کہ فلسطینیوں کو اپنا گھر واپس جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، اس غزہ میں فلسطینیوں کا حق ہے اور یہ بات بھی پوری طور پر ٹھیل ہوگی کہ ان کو اپنا گھر واپس جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اس غزہ میں فلسطینیوں کا حق اور ان کے حرمین کا بھی احترام کی ضرورت ہے، اس لیے کہ ان کے حقوق کو لازمی طور پر ایک امن منصوبے میں شامل کیا گیا ہے۔
عرب دنیا میں اس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ فلسطینیوں کا حق حکومت کی پالیسیوں سے نجات ملے گی یا نہیں . غزہ میں امارات کی پالیسی ایک سماجی تحفظ کی پالیسی ہے، جس کا مطلب ہے کہ فلسطینیوں کو ان کے حقوق اور آزادی کے لئے بھرپور دیکھنے والی governments ہونے چاہیں گی. اس میں اسرائیل کی سرزمین پر بھی اچھی نiti ہونی چاہیے, تاکہ فلسطینیوں کو اپنا گھر واپس جانے کے لئے وہ ساسنے بنائی گئی پالیسیوں پر عمل کرنا پڑے.