جمہور | Express News

گول گپہ فین

Well-known member
جنرل ایوب نے عوامی رائے دہی سے الیکشن کروایا تھا جس کی واجہیت ہم بھی انکار کر چکے ہیں، اور جو آئین بنانے والی اتھارٹی ہے اس نے بھی کامیابی نہیں کھیل کی تھی۔ انھوں نے ہمیشا جس طبقے سے تعلق رکھتے ہوئے وہی آئین بنائیں جس کی بنیاد ان کے صلاحیت اور اسٹریٹجیز پر ہوتی ہے، مگر انھوں نے اپنے معاشرے میں اچھی ترمیم کرنے کی کوشش کی نہیں، جیسا کہ فاطما جناح نے 1949 میں کیا تھا وہی کامیابی سے نہیں کھیل سکی اور انھوں نے اپنے اتھارٹی کو ایسا محفوظ بنایا کہ یہ آئین میں ترمیم کرنے کے لیے جگہ دیتا تھا جو اسے پہلے تو ملک کی سول سوسائٹی کو سمجھ بوجھ نہیں آ رہا تھا، اور اسی طرح انھوں نے وہ ترمیم کی ہیں جو کہ فاطما جناح نے لائی تھیں۔

جنرل یحییٰ نے پہلی مرتبہ الیکشن کرائے اور اس الیکشن میں انھوں نے کامیابی حاصل کی، لیکن وہ بھی ایک ماجرا بن گئے جس سے اتھارٹی آئین میں بدلाव لائے اور اس طرح انھوں نے 1970 میں ہونے والے الیکشن کا بھی مظاہرہ کیا، جس سے لوگوں کو واضح ہوا کہ وہ الیکشن کی اتھارٹی پر تانبہ پڑھانے کے لیے آنے سے پہلے خود کو اپنی پارٹی میں شامل کر لینا چاہیے، جس نے اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ الیکشن کمیشن ایک اچھی طرح متعین قوت نہ ہوگی۔
 
تیری انٹرنیٹ پر دی گئی خبر کے بارے میں، جس میں جنرل ایوب نے عوامی رائے دہی سے الیکشن کرایا تھا اور وہ کامیاب نہیں ہوئے، یہ تو پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے خود کو اپنے معاشرے میں اچھی ترمیم کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ وہی آئین بنائیں جن کی بنیاد ان کے صلاحیت اور اسٹریٹجیز پر ہوتی ہے... اور جیسا کہ فاطما جناح نے 1949 میں کیا تھا وہی نہیں کھیل سکی، انھوں نے اپنی اتھارٹی کو محفوظ بنایا جو اسے آئین میں ترمیم کرنے کے لیے جگہ دیتی تھی... 👀
 
الیکشن میں جنرل ایوب کا کامیاب ہونا ابھی نہیں تھا، جس سے اس لیے آئین کو بنایا گیا تھا وہاں تک کہ اس کی واجیت کسے بھی انکار کرنی پڑتی تھی! اور جنرل ایوب نے الیکشن میں اپنے معاشرے کو واضح کیا کہ وہ خود کو پارٹی میں شامل کر لینا چاہیے، یہ تو پھر ان کی سوچ سے ہم کبھی بھی متاثر نہیں ہوئے! 🤔 https://www.thedawn.com/pk News24.pk پر 1949 میں فاطما جناح کی بات چیت کا مظاہرہ دیکھیئے، اور پھر ان سے متاثر ہو کر جنرل ایوب نے الیکشن کی اتھارٹی بنائی! 🙄
 
جنرل ایوب کو پورے ملک میں شہرت حاصل تھی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی رائے دہی سے الیکشن کرائیے جانے کا کوئی महत्व ہے، کیونکہ جو لوگ سیاسی حقیقتوں کے ساتھ پوچھتے ہیں وہ صرف ایک گزشتہ دور کی خبرنہ دہی کو انکار کر رہے ہیں، جنرل ایوب نے الیکشن کروائیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ انھیں ملک میں اپنی پارٹی کی انتظام و ترمیم کرنے کی آزادی حاصل تھی، لیکن اس نے جس ہدایت نامہ سے الیکشن کروائے انھوں نے بھی اس کا پورا فائدہ اٹھایا اور یہ نہیں تھا کہ ملک کے عوام کو اپنے معاشرے میں ترمیم کرنے کی صلاحیت حاصل ہو، جنرل ایوب نے جس ہدایت نامہ سے الیکشن کروائیے اس پر فاطما جناح کا منظر دیکھنا توجہ دیتا ہے جو ملک کی ترمیم اور عوام کے حقوق کے حوالے سے سب سے بڑی رائے رکھتی ہیں، مگر اس نے اس پر کامیابی حاصل نہ کی اور وہ ایسا سستا نتیجہ دیکھنا پڑا جو انھوں نے پہلے بھی کیا تھا، اور اب وہ دوسرا ماجرا بن چکے ہیں جنرل ایوب نے اپنی پارٹی میں لوگوں کو خود سے شامل کرنا پڑا اور انھوں نے الیکشن کمیشن کی بھی کامیابی نہ دیکھی، یہ سب کچھ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ جنرل ایوب کا اس سے متعلق معاملہ صرف ایک پرانے دور کی خبرنہ دہی اور انکار کا حوالہ ہے، جس کے نتیجے میں ملک کو ابھی بھی ان معاملوں سے دوچار کیا جا رہا ہے جنہیں اس وقت ملک کی عوام نے اپنی رائے دہی کرائی۔
 
اکثریت کے حوالے سے الیکشن کرنا آسان ہوتا ہے، لیکن واضح نہیں ہوتا کہ اس طرح سے الیکشن کی اتھارٹی کو کیسے محفوظ بنایا جا سکتا ہے؟ فاطما جناح کے اقدامات نہیں دیکھے گئے تھے، جس سے عوام کو واضح ہوا کہ الیکشن میں بھاگتے ہوئے لوگ ایسی پوزیشن پر پہنچتے ہیں جو انھیں آئین بنانے والی اتھارٹی سے نہایت ہی معروف ہوجاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگ واضح نہیں ہوتے کہ انھوں نے الیکشن میں کیے گئے اقدامات سے عوام کا کیا لाभ ہوا ہے؟ 💔
 
اس ماجدے کی پوری تاریخ پڑھتے ہی سوچتی ہوں کہ آئین بنانے والی اتھارٹی کو اس میں ترمیم کرنے کی اجازت نہ دی جائے تو اس کا کام بھی ٹکڑا ٹکڑا ہو جاتا، فاطما جناح نے 1949 میں اسی بات کو پہچان کر کوشش کی تھی اور اب تک اتھارٹی اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ آئین کو اس طرح ترمیم کر سکے جس سے ملک کی سول سوسائٹی کو محفوظ رکھا جا سکتا ہو 🤔
 
بزورت اس وقت کی سٹری میں واپس آگیا ہے کہ جنرل ایوب نے عوامی رائے دہی سے الیکشن کروایا تھا اور وہ کامیاب ہو گیا تھا، لیکن یہ بات کوں کے ساتھ بھی اٹھلی نہیں۔ انھوں نے اپنے معاشرے میں ترمیم کرنے کی کوشش کی نہیں، جیسا کہ فاطما جناح نے 1949 میں کیا تھا وہی کامیابی سے نہیں کھیل سکی۔ اس وقت تک بھی اتھارٹی آئین میں ترمیم کرنے کے لیے جگہ نہیں دیتا تھا، یہی وجہ ہے کہ وہ اس وقت تک بھی نہیں ہو سکا کہ وہ معاشرے کو سمجھ بوجھ کر آئین کی ترمیم کر سکے۔
 
جنرل ایوب کی پالیسی کی جانب سے وہ چیلنجز جو لائیں انہیں محض ایک دھمپ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، مگر وہ فاطما جناح کی پالیسیوں کو جو پہلی بار لائیں اس پر توجہ نہیں دی گئی، اور جب انھوں نے الیکشن کا مظاہرہ کیا تو وہ سب سے زیادہ ترمیم کی ہوئی پالیسیوں پر توجہ دیتے تھے، اس لئے انھوں نے اپنی پالیسیوں میں فاطما جناح کے تجربات کو شامل کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ جس معاشرے میں آئیں اس معاشرے کی موجودہ صورت حال کو دیکھ کر وہ ایسی پالیسیاں نہیں لائیں جو فاطما جناح نے 1949 میں لائیں تھیں، اور اس لیے انھوڰ نے الیکشن کمیشن کو بھی ایسا محفوظ بنایا جس سے وہ الیکشن کی ترمیم کرنے کے لیے یقین کر سکیں
 
جنرل ایوب کی وہ رائے دہی جو اس نے کروائی تھی تو وہ ابھی بھی سوشل میڈیا پر پچلیں ہیں، اور لوگ ان کی کامیابی پر مبنی ہو کر انھیں الیکشن کو ایک ملازمت بناتے ہیں 🤦‍♂️، لیکن وہ کہتے ہیں کہ فاطما جناح نے بھی اسی طرح کی رائے دہی کی تھی اور اس سے 1949 میں کیا کچھ فرق تھا؟ انھوں نے اپنے معاشرے کو سمجھنا بھول دیا تھا اور ابھی وہ لوگ ان کی بات پر چلتے ہیں؟ 🤔
 
Wow 😮 فاطما جناح کی پہلی خواتین پارٹی نے ملک کو کتنی ترقی دی! interesting وہ بات جو انہوں نے اپنے معاشرے میں اچھی ترمیم کرنے کی کوشش کی تھی وہی ہے جسے جنرل ایوب نے اپنی اتھارٹی میں محفوظ بنایا تھا...
 
جس سے انٹرنیٹ تھا جن میں بھارتی اور پاکستانی لوگ اپنے خیالات کو بھی گزار رہے تھے وہ اب بھی مازوں ہیں۔ جنرل ایوب کی پارٹی نے عوامی رائے دہی سے الیکشن کروایا اور اس کی وجہ بھی انکار کر دی جانی چاہیے تاکہ لوگوں کو اس بات کو محسوس ہو سکے کہ وہ اپنے لیے جو چاہتے ہیں وہ حاصل کرسکتے ہیں یا نہیں۔ اور دیکھتے ہیں انہوں نے ملک کو ایسا ہی بنایا ہے جہاں وہ الیکشن کمیشن بھی ایک ماجرا بن گیا ہے اور اب لوگ اسے جھٹے ہی سمجھتے ہیں۔
 
اس ٹوئٹ پر کیا کہنا چاہئیں؟ جنرل ایوب کی الیکشن سسٹم کو دیکھتے ہیں تو میرے خیال میں یہ ان کے معاشرے کی اس وقت کی ضرورت تھی اور اب بھی ہے، لیکن وہ الیکشن میں سوشل میڈیا کو شامل کرنے والے پہلے شخص ہیں جو ایسا کیا! 🤖

لیکن یہ بات تو نہ دیکھو کہ ان्हوں نے الیکشن میں سوشل میڈیا کو شامل کرنے سے پہلے فاطما جناح کی پالیسیوں پر اسٹینڈ آئیں ہیں، اور وہیں انھوں نے اس وقت بھی اپنی پارٹی میں لوگوں کے لیے آسان پلیٹ فارم بنا دیا ہے جس سے وہ الیکشن میں ان کی پارٹی کی ترمیم کرنے کے لیے ایک اچھی طرح محفوظ سسٹم تیار کیا ہے!

اس لئے بہت سے لوگ جو الیکشن سے متعلق اپنی رائے دہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہی فاشلٹ میں پڑ رہے ہیں، کھلاسہ اس بات کو نہ آسان بنائیں!

اس طرح سے یقیناً 2026 کی الیکشنوں میں نوجوانوں کی participation زیادہ ہو گی اور وہی فاشلٹ میں پڑ رہے ہوں گے جس کے لیے اس لئے کھلاسہ!
 
واپس
Top