جماعت اسلامی کے رہنما احتجاجی ریلی کے دوران خطاب کرتے ہوئے انتقال کرگئے

حکمت والا

Well-known member
بنگلادیش میں جماعت اسلامی کے ضلعی امیر ابوالہیثم حلقہ کشتیا-3 سے امیدوار امیر حمزہ کی جان سے جس دھمکیوں پر ریلی ہوئی، انہیں شہر کے ایک نجی ہسپتال میں لایا گیا تھا جہاں ان کی طبیعت خراب ہو گئی اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔

ان کا انتقال شام تقریباً ساڑھے چار بجے ڈاکٹروں نے کردیا جس کے بعد ان کی جنازہ کو ضلع شہر میں ایک نجی ہسپتال سے لےایا گیا تھا۔

جماعت اسلامی کے رہنما شجاع الدین نے کہا، میرے پاس وہ بالکل پہلے ہی کھڑے تھے جب انہوں نے تقریر کرتے ہوئے ان کی جان سے دھمکیاں دیں، لہذا وہ مجھے ہاتھوں میں گिरتے تھے اور مجھے انہیں پھلائی جانے کی بھی ضرورت نہیں تھی، لیکن جب وہ تقریر کرتے ہوئے گر گئے تو ان کو فوری طور پر لےایا گیا اور وہ شام تقریباً ساڑھے چار بجے ڈاکٹروں نے مردہ قرار دے دیا تھا۔

یہ واقعہ کشتیا-3 حلقے سے جماعت اسلامی کے امیدوار امیر حمزہ کی جان سے جس دھمکیوں پر ہوئی، لیکن اب تک ان کی جان سے ہونے والی دھمکیوں پر سے کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا۔
 
اس کا واقعہ بہت گھنکے کا ہے، ایسے سے دھمکیاں دینے سے بہتر اسے چھوڑ کر جانا چاہیے، کبھی کبھار لوگ اپنی غلطی کی taraf جاتے ہیں اور ان پر ہونے والی پریشانی سے کوئی مدد نہیں ملتی تاکہ وہ اپنی جانوں کا خیز چھوڑ لین۔
 
امیر حمزہ کی جان سے جس دھمکیوں پر ریلی ہوئی، اس کے بعد اس کا حال بہت خراب ہو گئا 🤕। یہ واقعہ کشتیا-3 حلقے سے جماعت اسلامی کے امیدوار کی جان سے ہوا تھا اور اب تک کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے، لیکن یہ بات یقینی ہو گئی ہے کہ دھمکیوں پر ان کی جان سے ہونے والی صورت حال میں کسی کو بھی اچھا نتیجہ نہیں مل سکتا 😔

جماعت اسلامی کے رہنما شجاع الدین نے کہا ہیں کہ امیر حمزہ کی جان سے دھمکیاں دی جانے پہلے بھی اس کے پاس ہاتھوں میں گिरنے کی جگہ تھی، لیکن یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ دھمکیاں دی جانے پر وہ ایک نوجوان کے کٹے ہوئے جسم کو ملا کر رہ گئے! اس سے پتہ چلتا ہے کہ دھمکیوں پر ان کی جان سے ہونے والی صورت حال میں کسی کو بھی اچھا نتیجہ نہیں مل سکتا!

کسی کی جان سے دھمکیاں دی جانے پر اس کے بعد کی صورتحال ماحوول ہونے لگتی ہے اور یہ بات بہت زیادہ طاقتور ثابت ہوتی ہے! اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ دھمکیوں پر جان سے ہونے والی صورتحال ایک نوجوان کی جان کو لے کر رہ گئی ہے!

اس واقعے میں پھیلنے والی کثرت کی وجہ سے یہ بات اس وقت تک یقینی نہیں ہو سکتی تاکہ دھمکیاں دی جانے پر جواب مل جائے!
 
اس کے بعد جب بھی کچھ لگتے تو ایک اور پھر کچھ ہوتی، یہ رائے میں یہ بات کوئی نہیں چاہتا لیکن وہ حلقہ کشتیا-3 سے جانے والی دھمکیوں کی وارنسی کا خوف بڑھ رہا ہے، اس حلقے میں کچھ لوگ چتائی چتائی ایک تازہ مرگیا ہوا اور وہ اپنی جان سے دھمکی دیا کروں گے تو یہی نہیں ہو گیا، اس جیسا یہ کچھ ہوتا رہتا ہے۔
 
یہ گھنے تار کا سفر ہے، جس میں شام کی ایک بستی میں ایک شخص کی جان سے دھمکیں ڈال کر ان کو کئی دنوں تک نجات نہیں مل سکتی اور آخر کار وہ اپنی زندگی ختم کر لیتا ہے... مگر یہ کس بات کہلاتی ہے کہ شام کی ایک نجی hospital میں 4 بجے تک بھی کوئی طبیعت پالنا چاہتا ہے? 🤔
 
اس واقعے پر غور کر رہا ہوں، جس نے انہیں شام لے جایا اور بعد میں بے ہوش ہو کر گر پڑنا پڑا تو یہ دیکھا جانے کے لیے بہت ہی خوفناک ہے کہ جماعت اسلامی کے رہنما شجاع الدین نے کیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ ان کے پاس وہ بالکل پہلے ہی کھڑے تھے جب انہوں نے دھمکیاں دیں، لیکن یہ بات بھی کہنے کی ضرورت ہے کہ ایسا کرنا تو قابل احترام نہیں تھا اور انہیں بھی فوری طور پر لے لیا جاتا۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کی جان سے ہونے والی دھمکیوں پر کوئی جواب نہیں دیا گیا تو کیا یہ بات تصدیق ہوتی ہے؟
 
امیر حمزہ کی جان سے جس دھمکیوں پر ریلی ہوئی، ان کے انتقال کے بعد اب بھی یہ سوال درمیان ہے کہ کسی نے ان کا کیا راستہ دیا تھا؟ وہ ساتھ انہیں کی جانے سے پہلے اس حلقے میں رہتے تھے جسے انہوں نے جماعت اسلامی کے امیدوار بننے پر ایک پہلو چھوڑ دیا تھا۔ میرا خیال ہے اس واقعے کو دیکھتے ہوئے، یہ بات بھی ضروری ہے کہ لوگ اپنے حلقوں میں ایسے شخصوں کی جانب سے دھمکیاں نہیں دیں جس کا انتقال ہو جائے اور اس کے بعد بھی یہ سوال ہے کہ شجاع الدین نے کیوں انہیں پہلے ہی خود میں گिरایا تھا؟
 
اس واقعے پر بات کرتے وقت پتا چalta ہے کہ جماعت اسلامی کی یہ طاقت اور ان کے رہنما شجاع الدین کی یہ ایسی قوت ہے جس سے وہ تقریر کرتے ہوئے دھمکیاں بھی دی جا سکتی ہیں اور کسی کو بھی نہ رکھا جا سکتا ہے، یہ ایسی صورتحال ہے جس سے politics of fear ko handlet karna padta hai.
 
تمام لوگ یہ سمجھنے میں کامیاب نہیں ہوئے کہ دھمکیوں سے بھی اچھے رشتہ داروں کو جواب دینا پڑتا ہے نہیں? امیر حمزہ کی جان کیسے بچائی جا سکتی تھی، مگر شجاع الدین کی ذمہ داری میں یہ کام شامل نہیں تھا، ان سے پوچھنا چاہئے کیا یہ ایک بہت ہی خطرناک واضح دھمکی تھی؟
 
یہ کچھ بھی بات نہیں کہ ایسے واقعات ہوتے تو لاکھوں لوگ گنجشеп پھیلتے ہیں... اور پھر اس پر کیا کرو؟ یہ دیکھنا مشکل ہے کہ کس سے بھی اچھا مشورہ لانا پڑتا ہے، وہ لوگ جو شام میں یہ کہیں تھے وہ ایک پہلے سے ہی پریشان تھے، اور وہ دو بہت سے دھمکیاں دیں تھیں... لاکھوں لوگوں کو یہ معلوم کرنے کے بعد کیا کرنا ہے؟
 
اس واقعے پر بھیڑ میں آگ لگی ہے، مگر یہ بات پہلے سے خود واضح ہے کہ جان کی قیمتی نہیں لے سکتے ہیں۔ شجاع الدین کو بھی تھوڑا تو سمچھنے والا جواب دینا چاہئے، لیکن مجھے دیکھنا مگر ایسا نہیں ہوا کہ وہ یہ بات بھی کوئی کہے کہ ان کی جان سے دھمکیاں ڈالنے کی حاقدیت کے متعلق سچائی سے بات کر سکتے ہیں۔
 
واپس
Top